Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 98)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 98)
Junoniyat By Areej Shah
ان دونوں نے پولیس میں رپورٹ کروائی تھی۔اس نے پولیس کو یہ بھی بتایا تھا کہ اسی شخص نے برسوں پہلے اس کے ماں باپ کا بھی قتل کیا تھا
لیکن اس وقت اس کی عمر بہت کم تھی اسی لیے پولیس کو اس کی باتوں پر کچھ خاص یقین نہیں تھا لیکن اب ہوئے اس حملے کی وہ بھرپور کاروائی کرنے والے تھے ۔
پولیس نے بہت غور سے اس کی باتیں سن کر رپورٹ لکھ لی تھی اور اس پر کام بھی شروع کردیا تھا جبکہ شائزم اسے اپنے ساتھ لے آیا تھا ایک ہوٹل میں لنچ کرنے کے بعد وہ اسے ہوٹل واپس لے جانے کے بجائے پتا نہیں کہاں لے کر جانے لگا ۔
ہم کہاں جا رہے ہیں تم تو کہہ رہے تھے کہ ہوٹل واپس چلیں گے اسے کسی اور ہی سفر کی طرف رواں دواں دیکھ کر اس نے پوچھ ہی لیا تھا ۔
نہیں ہم واپس ہوٹل نہیں آرہے ہیں مجھے ایک اور بہت ضروری جگہ پر جانا ہے اسی لئے ہم وہاں جا رہے ہیں ۔
تو تم مجھے اپنے ساتھ لے کر کیوں جا رہے ہو مجھے ہوٹل میں ہی چھوڑ دو ۔اور اپنا ضروری کام کرکے واپس آ جانا ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی شاید وہ اس وقت میں کہیں پر بھی نہیں جانا چاہتی تھی ۔
نہیں جہاں میں جا رہا ہوں وہاں تمہارا جانابہت ضروری ہے اور اگر وہاں تمہارا جانا ضروری نہیں بھی ہوتا پھر بھی میں تمہیں اپنے ساتھ ضرور لے کر جاتا ۔
وہ ہوٹل تمہارے لیے سیف ہر گز نہیں ہے ریدم ایک بار تم پر حملہ ہو چکا ہے میں نہیں چاہتا کہ دوبارہ ایسا کچھ بھی ہو اور تب تک تو بالکل بھی نہیں جب تک وہ مجرم گرفتار نہیں ہو جاتا ۔
وہ آدمی آزاد ہو رہا ہے اور میں تمہاری جان پر بالکل رسک نہیں لے سکتا اسی لئے جہاں میں جارہا ہوں چپ چاپ میرے ساتھ چلو ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تو ریدم خاموشی سے ہاں میں سر ہلا کر اس کا پیچھے رکھا جیکٹ خود پر ڈالتے آنکھیں بند کر گئی تھی۔
تمہیں نیند آ رہی ہے کیا ۔۔۔۔؟ویسے میں نے رات کو تمہیں اتنا بھی نہیں جگایا تھا ۔کہ تم سوتی ہی رہو اٹھو مجھ سے باتیں کرو سفر کافی لمبا ہے میں بورہرگز نہیں ہونا چاہتا ۔
یہ سفر تم نے شروع کیا ہے تم بور ہو یا نہ ہو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں مجھے نیند آرہی ہے اور میں سونا چاہتی ہوں تو جب تمہاری منزل آ جائے مجھے تنگ کرنے کی ضرورت نہیں ۔
مجھے سچ میں اندازہ نہیں تھا کہ تم اتنی بری بیوی ثابت ہونے والی ہو ۔اسے افسوس ہو رہا تھا
اگر اندازہ ہوتا تو کیا تم مجھ سے شادی نہیں کرتے ۔وہ چہرے سے جیکٹ ہٹا کر اس سے پوچھنے لگی تھی ۔
نہیں اگر مجھے پتا ہوتا تو میں ماریہ سے شادی کرتا نہ سوتی اور نہ سونے دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بول ہی رہا تھا جب ریدم کی گھوری نے اس کا منہ بند کروا دیا۔
اچھا سوری تم سو جاو میں تنگ نہیں کرتا وہ کان پکڑکربولا تو ریدم نے جیکٹ واپس چہرے پر ڈال دیا جبکہ وہ شائزم دلکشی سے مسکرایا
°°°°°°°
حرم جان اور کتنا سونا ہے اب بس بھی کرو اٹھ جاؤ واپس گھر نہیں چلنا کیا ۔۔۔۔۔؟وہ بے حد محبت سے اس کے چہرے پر سے بال ہٹاتے ہوئے اس کے چہرے پر جھکانرمی سے پوچھ رہا تھا ۔
آئی لو یو شوہر سر آپ بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔وہ نیند سے بوجھل آنکھیں کھولتے اس کے گرد اپنی باہوں کے حصار تنگ کرتی اس کے سینے سے لگتے ہوئے بولی تھی ۔
آئی لو یو ٹو میری جان لیکن بس اب اور نہیں سونا گھر واپس چلنا ہے بہت وقت ہو گیا ہے ۔تمہارے گھر والے بھی پریشان ہو رہے ہوں گے ۔
آپ کو ان کی پریشانی کی اتنی فکر کیوں ہے ۔شوہر سر آپ کو تو ان سے کوئی محبت نہیں تو پھر وہ پریشان ہوں یا نہ ہوں آپ اتنی فکر کیوں کرتے ہیں ۔
مجھے اپنی وجہ سے نہیں تمہاری وجہ سے پریشانی ہے وہ تمہیں لے کر پریشان ہو رہے ہوں گے ۔میرے لیے نہ سہی تمہارے لیے تو عزیز ہیں نا وہ لوگ۔۔۔۔۔۔؟وہ اسے دیکھتے ہوئے بات ختم کر رہا تھا ۔
کاش میں دادا جان کا خواب پورا کر پاتی۔ لیکن سچ ہے کسی کے دل میں زبردستی محبت نہیں جگائی جاسکتی ۔
وہ لوگ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں آپ کو بے انتہا چاہتے ہیں ۔اس دن جب آپ مجھے دادا جان سے ملوانے کے لیے اسپتال لے کر گئے تھے نا تو میں نے دادا جان سے کہا تھا کہ مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا میں کسی طرح کے زبردستی کے رشتے کو نہیں نبھانا چاہتی ۔
تو پتہ دادا جان نے کیا کیا انہوں نے میرےسامنے ہاتھ جوڑ دیے انہوں نے کہا کہ حرم تم ہی ہو جو میرےپوتے کا خیال رکھ سکتی ہو اسے رشتوں سے محبت کرنے پر مجبور کر سکتی ہو اسے اس کے اپنوں کے پاس واپس آ سکتی ہو۔
انہوں نے مجھ سے کہا حرم میں جانتا ہوں میں تمہارے ساتھ نا انصافی کر رہا ہوں۔تمہیں ایک زبردستی کا رشتہ نبھانے پر مجبور کر رہا ہوں ۔لیکن مجھے معاف کر دینا ۔
لیکن میرے پوتے سے نفرت مت کرنا بے شک تم مجھ سے نفرت کر لینا لیکن میرے پوتے سے نفرت مت کرنا اس نے بہت کچھ سہا ہے۔اب اسے محبت کی ضرورت ہے ۔جاؤ میں تمہیں اپنے پوتے کے ساتھ عزت اور مان سے رحضت کرتا ہوں ۔
اس کا بہت خیال رکھنا اور واپس لے آنا ۔میں آپ کو واپس لانے میں تو کامیاب ہو گئی ۔لیکن آپ کو آپ کے رشتے نہ دے سکی میں دادا جان کا وعدہ نہیں نبھا سکی۔
میں بھی کن باتوں میں لگ گئی نا ویسے آپ سوچ رہےہوں گے میں کتنی بُورنگ باتیں کرتی ہوں ویسے میں بالکل بھی بورنگ نہیں ہوں چلے اب بہت لیٹ ہو رہا ہے ہمیں چلنا چاہیے ۔وہ جلدی سے اس کی قریب سے اٹھ گئی تھی جب کہ وہ کتنی ہی دیر اس کی باتوں کو سوچتا رہا
°°°°°°°
یہ کس کا گھر ہے شائزم۔۔۔۔۔۔۔؟گاڑی ایک بے حد خوبصورت سے گھر کے باہر کی تھی ۔اس کی آنکھ کھولی تھوڑی دیر پہلے ہی کھلی تھی۔ایک بجے سے شروع ہوا یہ سفر اب شام کے ساڑھے سات بجے ختم ہوا تھا ۔
اخر وہ لوگ اس مقام تک آ گئے تھے جہاں شائزم اسے لے کر جانا چاہتا تھا ۔وہ وادیِ کلام کی حدود سے بہت پہلے ہی باہر نکل آئے تھے اس کے یہاں آنے کا کیا مقصد تھا وہ سمجھ نہیں پائی تھی لیکن اتنے دور وہ آیا تھا تو ضرور کوئی وجہ نہیں تھی
یہ میرے بہت ہی پیارے دوست کا گھر ہے آ جاؤ باہر وہ لوگ کب سے ہمارے آنے کا انتظار کر رہے ہیں میں نے انہیں وہاں سے نکلتے ہی میسج کر دیا تھا ۔
وہ اس کی سائڈ کا دروازہ کھولتے ہوئے اس سے بول رہا تھا جب کہ وہ کچھ کنفیوز سی گاڑی سے باہر نکل آئی تھی ۔
یہ تو بے حد خوبصورت گھر ہے مجھے ایسے چھوٹے چھوٹے گھر بہت اچھے لگتے ہیں۔اس نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا تھا جب کہ وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اندر کی طرف لے جانے لگا ۔
میں دادا جان سے کہوں گا کہ ہمیں کلام میں ایک ایسا ہی چھوٹا سا گھر چاہیے جس میں ہم کبھی بھی آ کر رہ سکے ۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جبکہ وہ مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ اندر چلی آئی تھی
او تمہیں اپنے دوست سے ملاتا ہوں اس نے مسکراتے ہوئے اونچی آواز میں سلام کیا تو سامنے والے کمرے سے بڑی خوشی سے ایک چہرہ باہر نکلا تھا لیکن اپنی نگاہوں کے سامنے اسے دیکھ کر اسے شائزم پر بے حد غصہ آیا تھا ۔
یہ ہے ماریہ میری بہت اچھی دوست تم تو جانتی ہی ہو اسے اس نے اس کے غصے کی پرواہ کیے بغیر ماریہ کا ہاتھ تھام کر اسے اس کے سامنے کر دیا تھا ۔جب کہ وہ غصے سے اسے گھورے جا رہی تھی
تمہیں پتا ہے ریدم جب مجھے پتہ چلا کہ تم دونوں نے شادی کرلی ہے تو مجھے کوئی حیرانگی نہیں ہوئی تم دونوں کو پہلی دفعہ دیکھ کر ہی میں سمجھ گئی تھی کہ تم دونوں میں کچھ نہ کچھ ہے اور پھر ایک دفعہ شائزنے کہا تھا کہ وہ اور تم ایک دوسرے کے منگیتر ہو ۔جسے بعد میں تم نے کلیئر کر دیا ۔
لیکن اس کے بعد بھی نا مجھے یقین تھا کہ دونوں میں کچھ تو ہے اور اگر کچھ نہیں ہیں تو ہو جائے گا ۔
اور دیکھو میرا شک بلکل ٹھیک نکلا تم لوگوں کا کپل پرفیکٹ ہے اتنی خوشی ہو رہی ہے تم دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر کیا بتاؤں ۔
بتانا وتنا بعد میں کر لینا پہلے کھانا لگاؤ مجھے بہت بھوک لگی ہوئی ہے اور تمہاری شوہر گرامی کدھر ہیں۔۔۔۔۔۔؟
وہ ماریہ کی بات کاٹتے ہوئے بولا ۔
ہاں میں کھانا لگاتی ہوں۔سب کچھ تیار ہے بس تم لوگوں کی آنے کا انتظار تھا وہ بھی نماز پڑھ رہے ہیں بس ابھی آتے ہوں گے ۔
تم نے شادی کر لی اس نے حیرانگی سے ماریہ کو دیکھ کر کہا تھا پہلے اس کی ڈریسنگ سٹائل نے اسے حیران کیا تھا لیکن نظر انداز کر گئی ۔
کیا تمہیں شائز نے نہیں بتایا میری شادی کے بارے میں وہ الٹا اس سے سوال کرنے لگی ۔
نہیں مجھے تو اس نے کچھ بھی نہیں بتایا ۔اس نے فوراً انکار کرتے ہوئے کہا تو ماریہ خود ہی مسکرا کر اسے بتانے لگی۔
ہاں ہماری شادی کو ساڑھے تین ماہ ہو چکے ہیں ۔ہم نے تم سے بھی رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی لیکن تمہارا نمبر ہی بند ہوگیا تھا ۔ورنہ تمہیں بھی ہم اپنی شادی پر ضرور بلاتے ۔
تمہارے پاس میرا نمبر تو نہیں تھا وہ پورے یقین سے بولی تھی اس نے شائز کو بھی اپنا نمبر ہرگز نہیں دیا تھا ۔اس سے پہلے کے ماریہ کچھ کہتی کسی نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیے تھے ۔
اس نے گھبرا کر فورا اس کے ہاتھ اپنی آنکھوں سے ہٹائے تو جیسے اپنی آنکھوں پر اسے یقین نہ آیا سامنے زکی کا مسکراتا چہرہ تھا ۔
زکی۔۔۔۔۔۔؟ تم یہاں وہ اچھی خاصی کنفیوز ہو گئی تھی جب کہ ذکی مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ تھام چکا تھا ۔
کیا ہوا یار تم اتنی چونک کیوں گئی ہو ۔۔۔۔۔؟تمہیں کیا شائزنے یہاں آنے سے پہلے کچھ بھی نہیں بتایا ۔
یار یہ کیا تم دونوں بار بار مجھے گھسیٹ رہے ہو میں کیا تم لوگوں کا غلام ہوں کہ تم لوگوں کی پرسنل باتیں سب کو بتاتا پھروں گا وہ کھانے سے بھرپور انصاف کرتے ہوئے انہیں ڈپٹ کر بولا ۔
اچھا اچھا سوری تو اپنا کھانا ٹھوس۔۔مجھے لگا تھا کہ اس نے تمہیں بتا دیا ہوگا ہےیر چھوڑ اس کو اچھا ہی ہے نہ تمہیں سرپرائز مل گیا ۔وہ مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔
یہ سب کچھ ہوا کیسے تم لوگوں کی شادی کیسے ہوئی اور تم نے تو اسے دھوکا دیا تھا نہ تو پھر شادی ۔۔۔۔۔۔؟وہ بہت زیادہ کنفیوز تھی جو منہ میں آرہا تھا وہ بولتی جا رہی تھی ۔
صبر کرو کھانا تو کھا لو سب کچھ بتائیں گے آرام سکون سے بتائیں گے ۔
بس یہ سمجھ لو کہ اللہ نے ہم دونوں کا نصیب ایک ساتھ لکھا تھا ۔
میں نے اپنی ساری غلطیوں کی زکی سے معافی مانگی ۔زکی نے مجھے معاف کر دیا اور مجھے شادی کی آفر کی تھی جسے میں نے قبول کرلیا ۔شائزم ہماری شادی میں سب سے خاص مہمان تھا ۔
بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ شادی کی ساری تیاریاں اس نے کروائی ہے تو ہرگز غلط نہیں ہوگا ۔باقی آج رات تم یہی رکوگی تو میں تمہیں سب کچھ بتاؤں گی
ہماری شادی کیسے ہوئی کیا ہوا سب کچھ اس نے مسکراتے ہوئے کھانا اس کے سامنے رکھا تو وہ قدرےریلیکس ہو کر مسکراتے ہوئے کھانا شروع کر چکی تھی جب کہ اس کے چہرے کا سکون دیکھ کر شائزم بھی مسکرا دیا
°°°°°°
آج ایک بار پھر سے عدالت میں جنگ چھڑی ہوئی تھی وکیل عارف اپنی طرف سے دلائل دے رہا تھا لیکن خداش ہر لحاظ سے اس پر بھاری پڑ رہا تھا ۔
اس کے ہر سوال کا جواب وہ بڑے پرسکون انداز میں دے رہا تھا وہ کسی بھی طریقے سے اسے خود سے آگے نکلنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا خداش کاظمی نے ہارنا سیکھا ہی کہا تھا جو وہ ایک وکیل کے سامنے ہار جاتا ۔
اگر عدالت اپنے نتیجے پر پہنچ چکی تھی خداش ثابت کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا کہ یہ قتل سیلف ڈیفنس میں ہوا ہے کیوں کہ پستول پر صرف اور صرف باقر کی انگلیوں کے نشان تھے ارحم کی انگلی کا کوئی نشان اس کی پستول پر موجود نہیں تھا ۔
اور اگرکچھ نشان تھے بھی تو پستول کی دوسری سائیڈ پر تھے ۔جہاں سے گولی چلنا ناممکن سی بات تھی ۔
ذریام بھی دادا جان کو اس بات کا مطلب سمجھانے میں کامیاب رہا تھا کہیں نہ کہیں وہ پہلی کاروائی میں ہی سمجھ گئے تھے کہ یہ کیس خداش آسانی سے جیت جائے گا ۔
کیونکہ بے شک اپنے پوتے کی فطرت سے وہ بھی واقف تھے بس اس کی موت کا غم انہیں کھائے جا رہا تھا لیکن ایک بے قصور کو سزا دینے کے حق میں وہ بھی نہیں تھے وہ عمایہ کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی پریشان ہو جاتے تھے لیکن اپنے پوتے کو انصاف دلانے کی ایک ضد تھی ۔
لیکن اب جبکہ یہ کیس ان کے سامنے کھلتا چلا جا رہا تھا تو وہ خود ہی اس بات کو سمجھ گئے تھے کہ یہاں پر غلطی صرف باقر کی ہے ۔
سیلف ڈیفنس میں ہوئے قتل کی کوئی سزا نہ تھی لیکن موقع واردات سے بھاگ کر وہ گناہ گار ہوگیا تھا اسے چھ مہینے کی قیدسنائی گئی تھی ۔بےشک سزائے موت یا عمرقید سے وہ کم ہی تھی۔
زریام نے اس سے کہا تھا کہ وہ اس سزا کو بھی کم کروانے کی کوشش ضرور کرے گا لیکن ارحم نے اسے منع کر دیا تھا وہ پہلے ہی اس کے لیے بہت کچھ کر چکا تھا ایک زندگی جو وہ مشکل سے جی رہا تھا اس میں کچھ آسانیاں پیدا ہو گئی تھی ۔
خداش کو لگا تھا کہ اس سارے کیس میں کہیں نہ کہیں عمایہ کو بھی گھسیٹاجاسکتا ہے لیکن ذریام نے اسے الگ کرکے بھی منع کیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بیوی اس حال میں کورٹ کچہریوں کے چکر کاٹے ۔اور پھر خداش کی بات کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا
اس نے اپنے طریقے سے ہی ان سب چیزوں کو ہینڈل کر لیا تھا دادا جان خداش سے کچھ ناراض نظر آ رہے تھے لیکن کہیں نہ کہیں وہ بھی جانتے تھے کہ یہاں پر غلط خداش نہیں بلکہ ان کا اپنا پوتا ہے۔
°°°°°°°°
عمایہ صبح سے اس کے واپس آنے کا انتظار کر رہی تھی
زریام نے جانے سے پہلے اس سے کہا تھا کہ میں تمہارے لیے ضرور آج کوئی خوشخبری لے کر آؤں گا
بس دعا کرناسب کچھ بہت اچھے سے ہو جائے جس طرح ہم نے سوچا ہے بالکل ویسا ہی ہو جائے۔
بس وہ تب سے ہی جائے نماز پر بیٹھی اپنے بھائی کی رہائی کی دعائیں مانگ رہی تھی ان کورٹ کچہریوں کے چکر کو تو نہیں جانتی تھی لیکن ایک بہن اپنے بھائی کے لیے دعائیں تو کر ہی سکتی تھی ۔
اور اس نے اس کام میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔اسے نیچے سے ذریام کی گاڑی کی آواز سنائی دی تو وہ فورا ہی نیچے چلی آئی تھی ۔
وہ دادا جان کے ساتھ اندر داخل ہو رہا تھا ایک نظر اسے دیکھتا دادا جان کے لیے پانی کا کہتے ہوئے وہ انہیں ان کے کمرے کی طرف لے گیا وہ جلدی سے کچن میں گئی اور دادا جان کے لیے پانی لے کر آئی۔
اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے اس نے دادا جان کو پلایا تھا اور پھر آرام کرنے کا کہتا اس کے ساتھ باہر نکل آیا ۔
زریام سب کچھ ٹھیک تو ہے نا کیا ہوا کورٹ میں ۔۔۔۔۔؟ ارحم بھائی کو ۔ ۔ ۔۔۔۔
الحمدللہ ۔۔۔۔عمایہ خداش نے کیس جیت لیا ہے ۔ارحم بے گناہ ثابت ہوگیا ہے
اس نے آہستہ سے اس کے گرد باہیں پھیلاتے ہوئے اپنے کمرے کی راہ لی تو اسے بتایا تھا اس کے چہرے پر کتنے رنگ آئے تھے ۔
کیا سچ میں مجھے یقین نہیں آرہا اللہ پاک تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہاں ہیں بھائی اور میں کب ملنے جاؤں گی ان سے ملنے کےلیے ۔۔۔۔۔؟وہ بےحد خوشی سے اس سے پوچھ رہی تھی ۔
فی الحال تو وہ جیل میں ہی ہے کیونکہ ایک غلطی اس نے کی تھی وہ موقع واردات سے بھاگ گیا تھا جو کہ قانون کی نظر میں گناہ ہے اور اس گناہ کی سزا اسے ضرور ملے گی اسے 6مہینے کی قید ہوئی ہے لیکن تم فکر مت کرو چھ مہینے کی قید عمر قید سے کم ہے ۔
ان شاءاللہ بہت جلد وہ ہمارے ساتھ ہوگا پلیز اس بات پر رونے مت بیٹھ جانا اس نے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر رکھے تھے ۔
سب کچھ ٹھیک ہے بس تھوڑے سے وقت میں ہم سب ایک ساتھ ہوں گے ۔ان شاء اللہ اس کی شادی ہم دھوم دھام سے کروائیں گے ۔بلکہ اپنے بھانجے اور بھانجی کا نام بھی وہ خود ہی رکھے گا وہ تمہارے پاس ہوگا ۔
اس سے یوں ہی باتوں میں لگائے کمرے میں لے آیا تھا جبکہ عمایہ صرف ہاں میں سر ہلاتی بھیگی آنکھوں سے مسکرا دی تھی۔
ان شاءاللہ ایسا ہی ہوگا ۔مجھے آپ پر پورا یقین ہے آپ اپنا وعدہ کبھی توڑ ہی نہیں سکتے اس کے سینے پر سر رکھتے ہوئے پورے یقین سے بولی تھی جبکہ اس کے گرد باہیں پھیلاتے ہوئے کو اس کے یقین پر مسکرا دیا تھا ۔
اور مجھے تمہارے اس یقین پر یقین ہے ۔اور اللہ پاک یہ یقین کبھی ٹوٹنے نہیں دے گا۔
°°°°°°
شوہرسر آئی لو یو آپ بہت بہت بہت اچھے ہیں میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں وہ حویلی کے اندر داخل ہوتے اس کے بازو سے لگے ہوئے بولی تھی ۔
یہ تمہیں کل سے مجھ پر کچھ زیادہ ہی پیار نہیں آرہا بات بات پر اظہار محبت ہو رہی ہے ۔حرم جان تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ وہ اس کے گرد باہیں پھیلاتے ہوئے اس کے ماتھے کو چھوتا شرارت سے بولا تھا ۔
ہاں میں بالکل ٹھیک ہوں ایک دم فٹ فاٹ میں نہ آپ سے اپنی محبت کا اظہار کر رہی ہوں بنا کسی مطلب کے آپ کو لگتا ہے نہ کہ مجھے جب بھی آپ سے کوئی مطلب ہوتا ہے صرف تب آپ سے اپنے پیار کا اظہار کرتی ہوں اسی لئے اب میں ہر وقت آپ سے اپنے پیار کا اظہار کروں گی ۔
جب جب مجھے آپ پر پیار آئے گا میں آپ سے اظہار کرتی رہوں گی اور آپ تو اتنے اچھے ہیں کہ پتھر کو بھی آپ سے پیار ہو جائے تو حرم تو اتنی پیاری ہے ۔سب سے پیار کرتی ہے تو آپ تو میرے شوہر ہیں میری پرسنل پراپرٹی میں آپ سے پیار کیوں نہ کروں۔
اس کے بازو کے ساتھ جھولتی وہ بڑے مزے سے بول رہی تھی جبکہ اس کی چالاکی پر مسکراتے ہوئے اس نے اس کے لبوں کو چوم ڈالا تھا ۔
ہائے اللہ یشام یہ آپ کیا کر رہے ہیں کسی نے دیکھ لیا تو ۔
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھتا رہے مجھے نہ پہلے کبھی کسی کی پرواہ تھی اور نہ ہی اب ہوگئی تمہارے منہ سے اپنا نام بہت خوبصورت لگتا ہے ۔
سچ میں اس کے منہ سے اپنا نام سن کروہ خوش ہوا تھا اب بھی اور کل رات کو بھی لیکن کل رات جذبات کے اٹھتے سمندر کے بیچ وہ کچھ بھی نہیں بولا تھا ۔
صرف میرے منہ سے نہیں بلکہ آپ کا نام ہی خوبصورت ہے ۔اسی لئے آپ کو سنتے ہوئے اچھا لگتا ہے لیکن مجھے نہ آپ کا نام لیتے ہوئے شرم آتی ہے تو میں تو یہی کہوں گی جو میں کہتی ہوں ۔
ٹھیک ہے مجھے کوئی مسئلہ نہیں بس کبھی کبھی میرے نام سے بلا لیا کرو ۔وہ فوراً مان گیا تھا ۔
کہاں تھے تم لوگ رات بھر جانتے ہو دادا جان کتنے پریشان تھے ۔کم ازکم کہیں جانے سے پہلے بتا تو دیا کرو خداش نیچے آتے انہیں دیکھ چکا تھا تبھی ان کی طرف آتے ہوئے بولا ۔
وہ ہم گھومنے پھرنے گئے تھے ۔تو آتے ہوئے لیٹ ہوگئے تو سوچا فضول میں رات کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اسی لئے ہوٹل میں ہی روم لے لیا ۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنے ڈیٹ کے قصے کہانیاں خداش کی سماعتوں میں انڈیلتی وہ پہلے ہی بات سنبھال چکا تھا ۔
چلو ٹھیک ہے لیکن تم بتا کر جایا کرو مجھے ہی فون کر دیتے خیر جاو فریش ہو کر آ جاؤ ہم ناشتہ ساتھ کریں گے ۔خداش نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی ہاں میں سر ہلاتا کمرے کی طرف جانے لگا ۔ حرم کو خداش کے ساتھ اس کا رویہ بہت اچھا لگا تھا ۔
°°°°°°
یہاں آؤ اور اب مجھ سے پوچھو جو سوال پوچھنا ہے تمہارے ہر سوال کا جواب دوں گی میں جانتی ہوں تم زکی کی وجہ سے مجھے پسند نہیں کرتی لیکن سچ کہوں تو اس ٹرپ سے پہلے میری زندگی کچھ الگ تھی میری سوچ الگ تھی میں بہت بڑے بڑے خواب دیکھتی تھی ۔
میری خواہش تھی کہ میں کسی امیر انسان کو پھنسا کر اس سے شادی کر لوں اور ساری زندگی مزےسے گزاروں لیکن ضروری نہیں جیسا ہم سوچتے ہو سب کچھ ویسا ہی ہو جائے میری زندگی میں بھی اس دن بہت کچھ الگ ہوا جانتی ہو اس دن جب تم وہاں سے جانے والی تھی ۔
میں نے شائزم کواپنے پیار میں پھنسانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ شخص شاید ایسا تھا ہی نہیں اسے عورت کے وجود سے شاید کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔
جانتی ہو میں اس کے ساتھ کسی بھی طریقے سے اپنا ریلیشن شپ بنانا چاہتی تھی میں اس دن اس کے کمرے میں چلی گئی ۔اور میں نے انتہائی گری ہوئی حرکت کی
جب تم اچانک وہاں کمرے میں آ گئی اس دن تم جانے والی تھی نہ تو شائزم کمرے سے باہر نکل گیا تھا میں بھی زیادہ دیر اس کے کمرے میں نہیں رکی ۔
میں نے بعد میں جب اس سے ملنے کی کوشش کی تو اس نے مجھے ایسا آئینہ دکھایا کہ میں خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہ رہی۔
اس نے کہا کہ مجھ میں اور ایک طوائف میں کوئی فرق نہیں ۔اس نے کہا کہ میں ایک عزت دار گھرانے میں پیدا ہوئی طوائف ہوں۔اور میں بھی وہی سب کچھ کرتی ہوں جو وہ گری ہوئی عورتیں کرتی ہیں۔بس فرق یہ ہے کہ انہیں اپنی اوقات پتا ہوتی ہے ۔اور ہم اوقات سے باہر نکل جاتی ہیں ۔
اس نے مجھ سے کہا کہ کوئی بھی امیر آدمی مجھے سے لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہے گا کیونکہ ہر پیسے والا شادی کیلئے مجھ جیسی لڑکی کا خواب کبھی نہیں دیکھتا ۔
مرد کتنا ہی بولڈ کیوں نہ ہو کتنا ہی بے باک کیوں نہ ہو لیکن اپنے لئے عورت اسے پاکدامن ہی چاہیے ہوتی ہے ۔
اس نے کہا کہ مجھے استعمال تو کیا جا سکتا ہے لیکن اپنے گھر کی عزت بنا کر نہیں رکھا جا سکتا ۔اس دن مجھے اس کا لفظ طوائف کسی گالی سے کم نہیں لگا تھا ۔
میں وہاں سے چلی گئی تھی ۔لیکن گھر جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں نے زندگی میں کچھ بھی ٹھیک کیا ہی نہیں ہے میں نے بہت سارے لڑکوں کا دل توڑا لیکن زکی سے سچی محبت کرتا تھا ۔میرے لئے اس نے اپنا کریئر تک داؤ پر لگا دیا ۔
میں نے سوچا کہ میں اس سے معافی مانگ کر شاید اپنی نظروں میں کوئی مقام حاصل کر سکوں میں اس کے پاس گئی تھی اس سے ملنے کے لیے ۔
جانتی ہو تم جو آنسو شائزم کی باتوں کی وجہ سے ایک لمبے وقت تک رکے رہے زکی کے سامنے بہنے لگے ۔اور جب میں نے اس سے معافی مانگی نہ تو اس نے مسکرا کر مجھے معاف کر دیا ۔
میں نے اسے دھوکہ دیا تھا اس کی محبت کا مذاق اڑایا تھا اس کا دل توڑا تھا لیکن پھر بھی اس نے مجھے معاف کر دیا ۔اس نے مجھے شادی کی پیشکش کی میں انکار نہیں کر پائی ۔
میں عزت کی زندگی گزارنا چاہتی تھی اور زکی مجھے وہ دے رہا تھا میرا پاسٹ جاننے کے بعد بھی وہ مجھے قبول کرنے کے لئے تیار تھا اور مجھے کچھ نہیں چاہئے تھا میں نے اس کی پیشکش کو قبول کرلیا اور سب سے پہلے میں نے شائزم کو فون کیا نہ جانے کیوں اس دن وہ مجھے میرا سب سے بڑا ہمدرد لگا سچا دوست لگا ۔
اور وہ سچا دوست سچ میں میرا سچا دوست ثابت ہوا تھا اس نے نہ صرف ہمارے گھروالوں کو منایا بلکہ ہماری شادی کی تیاریاں بھی اسی نے کی ۔اور یہ گھر دیکھ رہی ہوں یہ خوبصورت سا گھر بھی اس نے ہمیں شادی پر گفٹ دیا تھا ۔
تم سوچ رہی ہوگی کہ میں تمہیں یہ ساری باتیں کیوں بتا رہی ہوں۔ایک بات تو یہ ہے کہ میں تم سے اپنے دل کی باتیں شیئر کرنا چاہتی تھی تو دوسری وجہ یہ ہے کہ تم شائزم کی بیوی ہو اور تم نے مجھے اس کے ساتھ بہت نازیبا حالت میں دیکھا تھا ۔
میں جانتی ہوں تم دونوں کی زندگی میں سب کچھ ٹھیک ہے کچھ بھی غلط یا شک کی گنجائش نہیں ہے لیکن میں پھر بھی اپنی طرف سے ایک چھوٹی سی کوشش کرنا چاہتی ہوں اگر اس دن کے بارے میں تمہیں کوئی ڈاوٹ ہے تو میں اسے کلیئر کرنا چاہتی ہوں ۔
الحمدللہ میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں اور میں یہی چاہتی ہوں کہ تم بھی اپنی زندگی ہنسی خوشی گزارو اس دن شائزم نے مجھے میری عزت کی ویلیو بتائی تھی مجھے بتایا تھا کہ مجھے خود کو برباد نہیں کرنا چاہیے ۔
میں بہت خوش ہوں اپنی زندگی میں آگے بڑھ کر میں یہی چاہتی ہوں کہ اللہ تمہیں بھی بہت ساری خوشیوں سے نوازے ہمیشہ خوش رہو ۔اس کے ہاتھ تھامیں وہ بولتی چلی جا رہی تھی جبکہ ریدم کچھ بھی نہیں کہہ سکی
°°°°°°
وہ کمرے میں آئی تو شائزم ابھی تک جاگ رہا تھا اسے دیکھتے ہی مسکرا دیا ۔
کتنا عجیب شخص تھا وہ اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود بھی اس کے چہرے سے مسکراہٹ ہی نہیں گئی تھی اس نے بہت بے بنیاد باتیں کی تھیں اس کے کردار پر سوال اٹھایا تھا جس کا بدلہ اس نے بے شک بہت غلط طریقے سے لیا تھا
لیکن اس کی نیت میں کوئی جھول نہیں تھا ۔اگر اس نے سب سے چھپ کر اس سے نکاح کیا تھا تو پھر سب کے سامنےریدم کیلئے بارات لے کر آیا تھا ۔کچھ معاملوں میں وہ غلط تھا باقی ساری غلطی ریدم کی تھی ۔
بنا کچھ بھی جانے اس نے اس پر سوال اٹھایا تھا جو یقینا اس کی انا پر ناگوار گزرا تھا ۔
اب تو تمہیں یقینانیند نہیں آئی ہوگی آخر لمبی چوری نیند لی ہے تم نے اس کے اپنے پاس آکر بیٹھنے پر وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا جب ریدم نے مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ تھا مااس کی یہ حرکت اس کے لئے کافی حیران کن تھی ۔
اگر میں تم سے یہ کہوں کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے تو کیا تم مجھ پر یقین کر لوگے ۔اس کے ماتھے کے ساتھ اپنا ماتھا ٹچ کرتے ہوئے وہ اس سے سوال کر رہی تھی ۔
یقین کیوں نہیں کروں گا جان من کہتے ہیں کہ نکاح کے دو بول میں بہت طاقت ہوتی ہے ان دو بول کے ساتھ ہی محبت کی شروعات ہو جاتی ہے تو محبت تو تمہیں مجھ سے بہت پہلے ہو گئی تھی احساس آج ہوا ہوگا
یا ممکن ہے کہ کل رات سے ہی احساس ہوگیا ہو تو وہ کہتے ہیں کہ جذبات کا طوفان اٹھتا ہے نہ تو سب کچھ خود بخود پتہ چل جاتا ہے تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ جو نفرت کا دھواں اٹھا تھا نہ صاف ہوگیا ہوگا ۔
تمہیں ہر طرف یہ حسین چہرہ نظر آ رہا ہوگا ۔وہ شاید اس کی باتوں سے بالکل بھی حیران نہیں تھا بلکہ اسے اپنی محبت پر یقین تھا آج نہیں تو کل وہ اس کی محبت میں ڈوبنے ہی والی تھی ۔
ہاں تم ٹھیک کہتے ہو مجھے تم سے سچ میں پیار ہو گیا ہے ۔لیکن تمہارے اس چہرے میں مجھے کچھ خاص نظر نہیں آتا مجھے نہ اس سے پیار ہو گیا ہے وہ اس کے سینے پر دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تھی ۔
مطلب اتنا خوبصورت چہرہ تمہیں قابل محبت نہیں لگا اور وہ جو اندر کہیں کسی کونے میں چھپ کر بیٹھا ہے تمہیں اس سے محبت ہوگئی وہ اسے اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے اپنے ساتھ لگاتا اس سے سوال کر رہا تھا ۔
ہاں کیوں کہ وہ تم سے اچھا ہے ۔وہ بات ختم کرنے لگی
تم مجھے موقع ہی کہاں دیتی ہویہ بتانے کا کہ میں کتنا اچھا ہوں۔اس کی گردن پر اپنے لبوں کو حرکت دیتا وہ اسےسمٹنے پر مجبور کر گیا ۔
تم بہت بدتمیز ہو اور اگر تمہیں موقع مل جائے تو تم اور مزید بدتمیزی پر اتر آتے ہو ۔اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے وہ اس کی شرٹ کے اوپری تین بٹن بند کر رہی تھی ۔
جھوٹ مت بولو کب موقع دیا تم نے مجھے جو میں تمہیں اتنا بدتمیز لگا ہوں ۔اسے ایک جھٹکے سے اپنے مزید قریب کرتے ہوئے اس کے ہاتھ تھامتا پیچھے کمر سے لگا چکا تھا ۔
کل رات جو تم نے کیا اسے موقع کا ہی فائدہ اٹھانا کہتے ہیں ۔اور کون سا موقع چاہیے تمہیں ۔۔۔۔؟اپنا چہرہ اس کے چہرے کے بے حد قریب کرکے اس نے اپنے چہرے کو ذرا سائیڈ کرتے ہوئے کہا تھا ۔
کیونکہ وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ اس کے ہونٹ اس کے چہرے سے مس ہو رہے تھے ۔
اسے موقع فائدہ اٹھانا نہیں کہتے تم موقع دو تو میں ٹھیک سے فائدہ اٹھا کر بتاؤں گا ۔اسے بیڈ پر گراتے ہوئے وہ اس کے اوپر اپنا سایہ سا بنا گیا تھا ۔
جاؤکیا یاد کرو گے دیا تمہیں موقع ۔ریدم نے مسکراتے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھے تھے ۔اور وہ جو اب تک اس کی کسی بات سے حیران نہ ہوا تھا جھٹکا کھا کر رہ گیا ۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بھی کہتی اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسا تے وہ اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔ناریدم نے کوئی صفائی دی تھی اور نہ ہی شائزم نے کوئی صفائی مانگی تھی ۔حقیقت خود بخود سامنے آگئی تھی ۔
بےشک وہ دونوں ہی اپنے رشتے کو مزید الجھانا نہیں چاہتے تھے ریدم کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ اس کا شوہر اعلی کردار کا مالک ہے شائزم تو تھا ہی اس کا دیوانہ وہ اس پر یقین کر رہی تھی اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا
°°°°°°°
تم یہاں کن کاموں میں الجھ گئی ہو میں نے تمہیں کہا تھا کہ تیار رہنا ہم لنچ ساتھ کریں گے وہ گھر واپس آیا تو اسے کچن میں لگے دیکھا ۔
ہاں بس میں ابھی تیار ہو کر آتی ہوں وہ کیا ہے نہ کہ چاچی جان کی طبیعت خراب ہے تو میں ان کے لیے ہی سوپ بنا رہی تھی ۔
اس گھر میں ان کی ایک بیٹی بھی رہتی ہے یہ سارے کام کر سکتی ہے تمہیں ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں جلدی سے تیار ہو کر آوہمیں ابھی نکلنا ہے ۔
اسے اس کا یہ خدمتگزار انداز بالکل پسند نہیں آیا تھا جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے تھے وہ ان کے لئے کیوں اتنی محنت کرتی تھی ۔
تانیہ تو کچھ دنوں میں گھر سے چلی جائے گی پھر تو مجھے ہی سنبھالنا ہے نہ اور ویسے بھی اپنوں کے کام آنے میں کسی چیز کے ملنے کی امید نہیں رکھنی چاہیے میں جانتی ہوں ایک نہ ایک دن چاچی جان سب کچھ بھول کر مجھے قبول کر لیں گیں۔
اسی لیے مجھے میرا فرض نبھانے دیں میں بس ابھی انہیں یہ دے کر آتی ہوں آپ تب تک کمرے میں چلے۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جب کہ ذریام صرف ہاں میں سر ہلا گیا ۔
تانیہ کاایک جگہ سے رشتہ آیا تھا اور دادا جان اس میں کافی سیریس بھی تھے گھر کے دونوں بیٹوں کی شادی ہو چکی تھی تو چاچی کو بھی مزید اب کوئی امید باقی نہ بچی تھی
اسی لیے انہوں نے بھی رشتے کے لئے ہاں کردیا تھا جبکہ تانیہ شادی اس کے بعد امریکہ جانے کی خوشی میں ہر چیز بھلائے بیٹھی تھی ۔
°°°°°°
چاچی جان یہ سوپ میں نے آپ کے لئے بنایا ہے آپ یہ لے لیجئے آپ کی طبیعت بہتر ہو جائے گی ۔
وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے سوپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی انہوں نے ایک نظر اسے دیکھا تھا وہ اس سے کتنی ہی نفرت کریں کتنا ہی غصہ کریں لیکن اس کے باوجود وہ ان کا بہت خیال رکھتی تھی تانیہ کو پتا تھا ان کی طبیعت خراب ہے لیکن اس نے صبح سے اس طرف جھانکا تک نہیں تھا ۔
اور وہ ان کی فکر میں ہلکان ہوتی ان کے لئے سوپ بنا کر لائی تھی اور صبح انہیں میڈیسن دے کر گئی تھی ۔اس کے بعد دو تین دفعہ کمرے میں صرف یہ پوچھنے آئی تھی کہ انہیں کچھ چاہیے تو نہیں ۔
یہاں رکھ دو میں لے لوں گی انہوں نے لہجے میں نرمی لانے کی کوشش ہرگز نہیں کی تھی لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس پر غصہ ہرگز نہیں کر پائیں تھیں۔
میں زریام کے ساتھ باہر جا رہی ہوں لیکن میں نے ملازمہ کو بتا دیا ہے وہ آپ کا خیال رکھے گی ۔وہ انہیں بتا کر باہر نکلنےلگی جب کہ وہ کچھ بھی نہیں بولی۔
لگتا ہے چاچاجان کےکپڑے باہر ہی رہ گئے ہیں میں انہیں اندرچینجنگ روم میں رکھ کر آ جاؤں اس نے صوفے پر رکھے کپڑوں کو دیکھ کر کہا تھا جو شاید ملازمہ رکھ گئی تھی چاچی کوئی جواب نہ دیا صرف ہاں میں سر ہلایا تھا ۔
ان کا کمرہ کافی گندا ہو رہا تھا جتنا ہو سکے اتنا سمیٹ کر وہ باہر چلی گئی تھی ۔جبکہ وہ صرف اسے دیکھتی رہیں
°°°°°°°
یہ کیا اب بھی تم لوگوں کو گئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے تھے کہ اچانک سے واپس آ گئے ۔
تم لوگوں کو ہنی مون پر ایک ہفتے کے لئے نہیں بھیجا تھا ۔دادا جان کو ان کا یوں اچانک واپس آ جانا بالکل اچھا نہیں لگا تھا وہ چاہتے تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارے
اور یہ دونوں واپس آ گئے تھے ۔
نانا جان ہمارا دل نہیں لگ رہا تھا آپ لوگوں کے بنا اسی لئے ہم واپس آ گئے ۔وہ بڑے لاڈ سے ان کی گردن میں باہر ڈالتے ہوئے بولی تو مسکرا دئیے تھے۔
دراصل وہ انہیں کچھ بھی بتانا نہیں چاہتے تھے۔ریدم پر ہوا جان لیوا حملہ سوائے ذریام کے اور کسی کو بھی معلوم نہ تھا ۔وہ دادا ان سے باتوں میں مصروف ہو گئی جبکہ وہ فریش ہونے کے بہانے اسے کمرے میں آنے کا اشارہ کرتا کمرے سے نکل گیا تھا ۔
°°°°°°°
ہم نے تم لوگوں کو جہاں دیدم کی شادی کے سلسلے میں بلایا ہے ۔میرےخیال میں تم سب کو ہی صیام پسند آیا ہے تومیں مزید دیر نہیں کرنا چاہتا شادی کی ساری تیاریاں ہم دھوم دھام سے کرے گے ۔داداجان نے کہا
صیام کو ماشاءاللہ سے ہماری دیدم بہت پسند آئی ہے اور سچ کہوں تو دیدم کے لئے صیام مجھے بھی بہت اچھا لگا ہے بہت نیک اور فرمانبردار بچہ ہے ۔
دیدم کے لئے جو رشتہ آیا تھا وہ بھی قابل غور تھا لیکن مجھے یہ بچہ دل سے اچھا لگا ہے اور میں یہی چاہتا ہوں کبھی دیدم اسی کے ساتھ بسے ۔راحت صاحب اپنی رائے رکھتے ہوئے بولے تھے جبکہ ثاقب صاحب کا بھی کچھ ایسا ہی ارادہ تھا اس لئے ثقلین صاحب نے کسی طرح کا کوئی اعتراض نہ کیا ۔
بس میں یہی چاہتا تھا کہ تم لوگ آرام سکون سے آپس میں اس چیز کا مشورہ کرکے مجھے جواب دے دو میں نے دیدم سے پوچھا تھا اسے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ۔
بہت سمجھدار ہو گئی ہے ماشاءاللہ سے ہر چیز کو سمجھنے لگی ہے ۔اللہ پاک اس کے نصیب اچھے کرے ۔وہ دل سے دعا دیتے ہوئے بولے ۔
ہمیں امید ہے کہ شادی کے درمیان یشام زیادہ نہ سہی ہمارے کچھ قریب تو آ ہی جائے گا ۔
ان شاءاللہ ایسا ہی ہوگا بابا جان میں سوچ رہا تھا کہ کیوں نہ اسے سردار کے بارے میں بتا دیا جائے اس سے یہ بات چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
سردار اس کے باپ کا قاتل تھا اسے بھی یہ جاننے کا حق ہے کہ اس کا باپ کس کے ہاتھوں مارا گیا ہے ۔
اور میں نے بھی ریدم سے اس سلسلے میں بات کی تھی وہ مجھے کہہ رہی تھی کہ اس نے شخص کو دیکھا ہوا ہے وہ اسے پہچان سکتی ہے
ویسے جب یہ سب کچھ ہوا تو ریدم کی عمر بہت کم تھی میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا کہ اسے ان سب چیزوں کے بارے میں پتہ ہو گا لیکن مجھے لگتا ہے کہ ریدم ہماری مدد کر سکتی ہے ۔
ہمارے بھائیوں کا قاتل آزاد گھوم رہا ہے اور ہمیں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہ سکتے ہمیں کچھ تو کرنا ہوگا ۔سردار نےہمارا ہنستا کھیلتا گھر برباد کیا ہے ہمارے دو بھائیوں کا قتل کیا ہے اور نہ جانے کتنے لوگوں کی زندگی برباد کی ہے ۔۔۔۔۔وہ ابھی بول ہی رہے تھے کہ اچانک دروازہ کھلا ۔
وہ دونوں دروازے پر کھڑے انہیں سن رہے تھے ثقلین صاحب تو اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے ۔
آپ لوگ خاموش کیوں ہو گئے بتائیں کون ہے وہ آدمی جس نے میرے بابا کا قتل کیا آپ لوگ جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر رہے۔کون ہے سرداروہ راحت صاحب کے سامنے کھڑا ان سے جواب مانگ رہا تھا
جب کہ وہ خاموشی سے سر جھکائے ہوئے تھے انہیں یقین تھا زیادہ نہ سہی لیکن کچھ باتوں وہ سن چکا ہے اس سے کچھ بھی چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا وہ خود بھی اسے سب کچھ بتا دینا چاہتے تھے
°°°°°°°
