Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 92)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 92)
Junoniyat By Areej Shah
گھر میں چل کیا رہا ہے دیدم کو اتنی زیادہ اہمیت کیوں مل رہی ہے اور یہ دیدم کی شادی کی بات کیسے چل رہی ہے ۔
مجھے اس بارے میں کچھ بتاؤ گی وہ سامیہ کے کمرے میں آئی تھی سب کچھ جاننے کے لیے جبکہ سامیہ تو شاید خود بھی اس سارے معاملے سے بالکل لاعلم تھی ۔
بات کہیں نہ کہیں سچ تھی کہ گھر میں دیدم کی شادی کی باتیں چل رہی تھیں ۔چھ مہینے کے بعد اس کا ہونے والا شوہر بھی کینیڈا سے پاکستان آنے والا تھا ۔اس کی شادی چھ مہینے بعد طے پائی تھی جب کہ دیدم کی شادی یہ لوگ جلد سے جلد کرنا چاہتے تھے ۔
اس بارے میں مجھے کچھ بھی نہیں پتا ۔اگر پتا چلا تو تمہیں ضرور بتا دوں گی اور اگر تمہیں پتا چلا تو تم مجھے بتا دینا ویسے بھی دیدم کی شادی کی بات تو کافی عرصے سے چل رہی ہے میرے خیال میں معاملہ حل ہو گیا ہوگا ۔
کون سا معاملہ حل ہوگیا ہوگا کہ دیدم کی شادی ۔۔۔۔۔۔
دیدم کی شادی کا معاملہ حل ہوگیا ہوگا دادا جان نے فیصلہ کرلیا ہوگا اور۔کیا خیر پلیز اب اگر تم چلی جاؤ تو اس نے اپنے موبائل پر آنے والے منگیتر کی کال کو دکھاتے ہوئے کہا تو دیشم کو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے کمرے سے نکلنا پڑا.
اس کے دماغ میں تو صرف ایک ہی بات چل رہی تھی کہ دیدم کی شادی ہو رہی ہے تو کیا دیدم کی شادی خداش کے ساتھ ہو رہی تھی پچھلے دنوں سے گھر میں یہی باتیں چل رہی تھیں کیا ان سب کے بعد جب خداش اور دیشم اپنا رشتہ مکمل کر چکے ہیں خداش دوسری شادی کے بارے میں سوچے گا
کیوں نہیں سوچے گا یہ اس کی سوچ نہیں ہے بلکہ یہ تو گھر کے بڑوں کی سوچ ہے اور انہیں فرق نہیں پڑتا ان سب چیزوں سے کہ ان دونوں کا آپس میں رشتہ کیسا ہے انہیں تو بس خداش کی شادی پرفیکٹ لڑکی سے کرنی ہے اور وہ جانتی تھی کہ وہ پرفیکٹ نہیں ہے ۔
وہ تو ان سب کی نظروں میں باغی ہے بدتمیز ہے ۔اور وہ لوگ ایسی لڑکی کے ساتھ کبھی بھی خداش کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے ۔
تو ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں نے کوئی فیصلہ کرلیا ہو ممکن تھا کہ یہ سب سچ ہو اب ان سب باتوں کا جواب تو صرف خداش ہی دے سکتا تھا ۔
خداش کے رویے سے لگتا تو نہیں تھا کہ وہ اس سے اب تک خفا ہے وہ اپنے ہر بدتمیزانہ رویہ کی اس سے معافی مانگ چکی تھی۔اور خداش کی محبتیں اس کی شدتیں اس بات کی گواہ تھیں کہ وہ اسے دل سے قبول کر چکا ہے ۔
تو پھر گھر والوں کی سوچ اتنی آگے کیسے جا سکتی تھی وہ خداش کی شادی کے بارے میں سوچ بھی کیسے سکتے تھے اس قصے کو تو وہ آج ہی ختم کرنے والی تھی
ایک بار خداش واپس گھر آ جائے تو اس سے بات کر کے خود اس کے منہ سے سب گھر والوں کے سامنے یہ بات کہلوانے والی تھی کہ ان کا رشتہ بالکل ٹھیک چل رہا ہے اور کسی کو بھی کچھ بھی الٹا سیدھا سوچنے کی ضرورت نہیں ہے
خداش کے معاملے میں وہ اب کسی طرح کی غلطی نہیں کر سکتی تھی یہ اس کی پوری زندگی کا سوال تھا
°°°°°°
کاظمی صاحب اگر اجازت ہو تو آپ کے اس عالیشان اصطبل میں تشریف لا سکتا ہوں وہ ہاتھ میں پکڑے کچھ کاغذات لئے باہر کھڑا اس سے اجازت مانگ رہا تھا جبکہ خداش جو اپنے ہی دھیان میں اپنے سب سے پسندیدہ گھوڑے کو نہلا رہا تھا اس کے آنے پر مسکرا دیا
اجازت شاہ صاحب ۔۔۔۔۔۔تشریف لائے اور بتائے کیسے آنا ہوا اسے دیکھتے ہی اس کا موڈ خوشگوار ہوگیا تھا
یہ اس کیس کے بارے میں تھوڑی سی انفارمیشن حاصل کی تھی سوچا وکیل صاحب کو دے آوں دیکھ لو کافی کچھ مل جائے گا تمہیں اس میں جو تمہاری کافی مدد کر سکے گا ۔
وہ کاغذ ساتھ رکھی چھوٹی سی میز پر رکھتے ہوئے اس سے بولا تھا جب کہ خداش اپنا کام چھوڑ کر کاغذات چیک کرنے لگا تھا ۔
تمہیں جانوروں میں سب سے زیادہ گھوڑا پسند ہے نا وہ اس کے گھوڑے کو سہلاتے ہوئے پوچھنے لگا تھا ۔
نہیں یار تم بھی مجھے بہت پسند ہو ۔اس نے اچانک لقمہ دیا تھا جس پرزریام نے اسے گھور کر دیکھا ۔
میں جانور کی بات کر رہا ہوں ۔اس نے گھورتے ہوئے کہا
تم خود کو انسان سمجھتے ہو حیرت ہے ۔وہ اب بھی باز نہ آیا ۔
تیری تو ایسی کی تیسی کہاں سے میں تجھے جانور نظر آتا ہوں اس نے پانی اور صرف سے بھری بالٹی اٹھا کر خداش کے اوپر ڈال دی تھی۔
خداش حیرانگی سے اپنے آپ کو بھیگا ہوا دیکھ رہا تھا اس نے سامنے کھڑے ذریام کو دیکھا جو خود بھی اپنی بے اختیاری پر تھوڑا پریشان ہو کر باہر کی طرف دوڑ لگا چکا تھا ۔
کمینے تجھے تو میں چھوڑوں گا نہیں ۔سالے خود باپ بننے جارہا ہے اور حرکتیں تیری بچوں جیسی ہیں ۔تیری تو آج میں بینڈ بجاؤں گا
وہ پانی کا پائپ لیے اس کے پیچھے بھاگا تھا جبکہ ذریام سے جتنا ہو سکے وہ خود کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ وه جس پانی سے اپنے گھوڑے کو نہلا رہا تھا وہ گرم تھا لیکن پائپ سے آنے والا پانی ٹھنڈا یخ تھا
°°°°°°
وہ کافی اچھے موڈ میں گھر واپس آیا تھا لیکن دیشم کو پریشان سا بیڈ پر بیٹھے ہوئے پایا ۔
کیا ہوا تم ٹھیک تو ہونا طبیعت ٹھیک ہے نہ تمہاری اسے پریشان دیکھ کروہ اس کے پاس ہی بیٹھ کر اس کے ماتھے کو چھونے لگا تھا
دیدم کی شادی ہو رہی ہے ۔اس نے اسے گھورتے ہوئے بتایا تھا
تو اس میں پریشان ہونے والی کون سی بات ہے یہ تو اچھی بات ہے کہ گھر میں شادی ہوگی اچھا سا ماحول بنے گا
تمہیں تو ویسے بھی شادی وغیرہ کے ماحول اچھے لگتے ہیں وہ اس کی پریشانی کو سمجھ نہیں پایا تھا ۔
مطلب کے اب آپ میرے سامنے دوسری شادی کر لیں گے اور آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی شادی کو اٹینڈ کروں اور انجوائے کروں وہ لڑنے کے موڈ میں کہتی اچانک اس کے سر پر دھماکہ کر چکی تھی خداش نے بڑی مشکل سے اپنے اچانک امڈ آنے والے قہقے کو کنٹرول کیا تھا ۔
تمہیں کس نے بتایا کہ دیدم کی شادی میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی بات مکمل کر ہی نہیں پایا تھا جب وہ بیچ میں بول پڑی۔
میں آپ کو چھوٹی بچی لگتی ہوں کیا لگتا ہے آپ کو میں ابھی تک پانی کو مومو بولتی ہوں ۔یہاں آپ میری سوتن لانے کی تیاریوں میں ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ مجھے کچھ پتہ ہی نہیں چلے گا واہ۔
ایک بات کان کھول کر سن لیجئے خداش کاظمی اس کمرے میں میرے سوائے کوئی اور لڑکی آئی تو بالوں سے گھسیٹ کر اس کمرے سے تو کیا اس حویلی سے باہر پھینک کر آؤں گی اپنی ملکیت پر تو میں اپنی ملکیت کی بھی نظر برداشت نہ کروں ۔
ابھی کے ابھی جا کر نیچے سب کو بتا کر آئیے کہ آپ پر صرف میرا حق ہے اور وہ دیدم کی بچی اس گھر سے جلدی سے جلدی رخصت ہو جائے تو بہتر ہوگا اب اگر اس نے آپ پر نظر رکھنے کی کوشش کی یا آپ کے لیے کھانا بنانے کی کوشش کی تو میں اسی ہانڈی میں اسے پکا دوں گی ۔
وہ غصے سے بولتے ہوئے شاید خود بھی نہیں جانتی تھی کہ کیا کہہ رہی ہے جبکہ خداش اپنے لبوں پر ہاتھ رکھے اپنی ہنسی کو اس سے چھپانے کی کوشش کر رہا تھا
او کےمیں بتا دوں گا تم اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہو آرام سکون سے میری بات سنو یہاں بیٹھو ہم اس معاملے کو حل کرتے ہیں اس طرح چلا کر چیخ کر صرف یہ معاملہ مزید الجھے گا ۔
میں کچھ نہیں جاننا چاہتی جائیے آپ اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا تھا ۔
جب کہ خدا ش خاموشی سے کمرے سے نکل گیا تھا وہ مزید اس سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا ۔اور نہ ہی اپنے نئے نویلے سدھرےہوئے رشتے کو خراب کرنا چاہتا تھا ۔
لیکن دیشم کے لہجے میں اپنے لیے چاہت دیکھ کر وہ بہت خوش تھا اس کا دل خوشی سے سرشار ہو گیا تھا جتنی محبت وہ اس سرپھری لڑکی سے کرتا تھا اتنی ہی محبت وہ بھی اس سے کرتی تھی اسے بھلا اور کیا چاہیے تھا
°°°°°°°
تمہارا ایڈیا پہلی بار سنا تھا نہ دیدم مجھے لگا تھا کہ تم ایک نمبر کی پاگل ہو سمجھ نام کی کوئی چیز تمہارے اندر ہے ہی نہیں دیشم جیسی لڑکی جیلس کیسے ہو سکتی ہے لیکن تم ٹھیک تھی اور میں غلط
بہت اچھا کیا میں کہتا ہوں کہ تم نے ورلڈکابیسٹ کام کیا ہے اب مزید ہم اس معاملے کو کھینچیں گے نہیں یہی پر ختم کر دیں گے گھر میں تمہاری شادی کی باتیں چل رہی ہیں
دادا جان نے تمہارے لئے ایک بہت اچھا لڑکا دیکھ رکھا ہے تو اب مزید دیشم کو کسی بھی طرح کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے میں مان گیا تمہاری پلاننگ کمال کی تھی ۔
وہ باہر لان میں لگے پودوں کو پانی دے رہی تھی جب خداش اس کے پاس آیا ۔
گھر میں ان کی شادی کی کوئی بات نہیں چل رہی تھی نہ ہی تایا ابو اور تائی امی نے اسے خداش کا خیال رکھنے کے لیے کہا تھا لیکن دادا جان ان کی پلاننگ میں شامل تھے یہ سارا پلان دیدم نے بنایا تھا ۔
ان دونوں کے بیچ چلتے مسائل کو دیکھ کر دیدم نے اپنے دماغ کے گھوڑے دوڑائے تھے اور پھر کمال ادکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے دیشم کو خوب جلایا تھا ۔
میں نےتو پہلے ہی کہا تھا کہ میں کمال کی اداکارہ ہوں آپ ذرا اوپر کی طرف دیکھیں آپ کی بیگم کھڑکی سے ہم دونوں کو دیکھ کر اب تک جلیس ہو رہی ہے اور یہ نہ ہو کہ وہ آپ کا کچومر اور مجھے دیگچی میں ڈال کر بھناہوا قیمہ بنا دے ۔
میں تو نکل رہی ہوں ۔باقی آپ جانیں اور آپ کی بیگم وہ پانی کا پائپ وہیں پر پھینک کر اندر کی طرف بھاگ گئی تھی کیونکہ وہ مزید دیشم سے کوئی پنگا نہیں لینا چاہتی تھی
°°°°°°°
آخر کار وہ جیت گیا تھا اس سے لڑ جھگڑ کر اس نے اپنی بات منوا لی تھی
ان کاسفر شروع ہو چکاتھا دادا جان کو تو وہ پہلے ہی منا چکا تھا کہ وہ لوگ کلام جائیں گے پہلے تو اتنی سردی میں وہ ان لوگوں کو اتنی ٹھنڈی وادی میں بھیجنے کے حق میں نہیں تھے
لیکن اس کی ضد کے سامنے وہ بلا کس کی چلنے دیتا تھا اور پھر اس نے دادا جان کو پتہ نہیں کس طرح اپنی محبت کی داستان سنائی تھی اور کہا تھا کہ وہ دونوں پہلی دفعہ وادی کلام میں ملے تھے
اور وہیں جاکر ان دونوں نے ایک دوسرے کے دل میں اپنا گھر کیا تھا اور وہیں اسی وادی سے اپنی نئی زندگی کی شروعات کرنا چاہتے ہیں تو پھر دادا جان اس کی اس کہانی کو کیسے نہ مانتے
اس وقت وہ گاڑی میں فل رومانٹک میوزک چلائے سفر شروع کر چکا تھا جب کہ وہ اکتائے ہوئے بیٹھی تھی دادا جان نے تو ان کے ٹکٹ بک کروائے تھے لیکن اس نے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رومینٹک سفر پر جانا چاہتا ہے
دادا جان کو تو اس کی ہر بات پسند آ رہی تھی ان کو کوئی اعتراض ہی نہ تھا ۔
چہرہ ہے یا پھول کھلا
زلف گھنیری شام ہے کیا
ساگر جیسی آنکھوں والی
یہ تو بتا تیرا نام ہے کیا
نام تو میں جانتا ہوں آپ کو ہم مسز شائزم کے نام سے جانتے ہیں لیکن یہ منہ کیوں بنایا ہوا ہے ذرا سا مسکرا دو ڈارلنگ ہم ہنی مون پر جا رہے ہیں ۔
اس طرح سے منہ لٹکا کر جاؤ گی تو کیا ہنی مون اچھے سے گزار پائیں گے ۔۔۔۔؟اس کےکب سے بنے ہوئے منہ کو دیکھ کر وہ کہنے لگا تھا وہ جتنا خوش تھا اس کا موڈ اتنا ہی خراب تھا ۔
شائزم پلیز ۔۔۔۔۔تمہارے ساتھ آ گئی ہوں نا کر لی نا تم نے اپنی من مانی اب خدا کے لئے مجھے تنگ مت کرو ۔وہ کافی اکتائے ہوئے لہجے میں بولی ۔
میں تمہیں تنگ نہیں خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں یار پلیز اس طرح سے ناراض مت ہو ۔میں جانتا ہوں تم مجھ سے ناراض ہو میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے لیکن میں تمہیں تمہارے ہر سوال کا جواب دوں گا ۔
تمہارے پاس کوئی جواب نہیں ہے کیونکہ میں تمہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں ۔اسی لیے مجھے دھوکا دینے کی بے وقوف بنانے کی کوشش تو تم کرنا ہی مت ۔
تم نے وہ کیا جو تم چاہتے تھے اب میں وہ کروں گی جو میں چاہتی ہوں ۔میں بہت جلدی تمہارے اور اپنے اس رشتے کو ختم کر دوں گی تمھارے جیسے شخص کے ساتھ اپنی زندگی برباد نہیں کر سکتی ۔
میرے جیسے شخص کے ساتھ تم رہنا چاہو یا نہ رہنا چاہو۔لیکن یہ رشتہ اب کبھی ختم نہیں ہوگا یہ بات اپنے ذہن میں جتنی جلدی بٹھا سکتی ہو تو تمہارے حق میں بہتر رہے گا
وہ کافی دیر سے اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا اس کی ہٹ دھرمی پر ضدی لہجے میں بولا اور گاڑی کی سپیڈ مزید تیز کر گیا ۔جب کہ وہ بھی چہرہ پھیر چکی تھی۔
°°°°°°
کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں پر بھی جانے کی وہ دونوں ایک دوسرے سے یہاں گھر کے اندر بھی تو مل سکتے ہیں میرا نہیں خیال کہ اس طرح کی کوئی بھی فضول حرکت کرنے کی ضرورت ہے
ہم گھر کے اندر ہی اندر ان کی ملاقات کروا دیتے ہیں۔ حرم اس طرح باہر تنہائی میں ملنا مجھے بالکل بھی ٹھیک نہیں لگتا نہ ہی ہمارا کلچر اس چیز کی اجازت دیتا ہے ۔
اور ویسے بھی تمہارے گھر والے شادی تک آ گئے ہیں تو ایک ملاقات تو وہ کروا ہی دیں گے خود سے ہی ہمیں الٹے سیدھے پلین بنانے کی ضرورت نہیں ہے
اسے حرم کا آئیڈیا بہت برا لگا تھا وہ دیدم اور صیام کی ملاقات کروانے کی پلاننگ کر رہی تھی ۔
میں نے کب کہا کہ وہ اکیلے میں ملیں گے ہم سب جائیں گے گھومنے پھرنے کے لیے بس بہانہ لگائیں گے کہ ہم صیام سر کو اپنا ملک دکھانا چاہتے ہیں ۔حرم نے اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے بتایا تھا
وہ یہ پورا ملک گھوما ہوا ہے چپکے چپکے کو وہ بہت اچھے طریقے سے جانتا ہے بہت فضول آئیڈیا ہے کوئی ضرورت نہیں ہے اس طرح کی کوئی بھی اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے کی ۔
شوہر سر آپ کتنے معصوم ہیں آپ کو تو کچھ پتہ ہی نہیں ہے ۔میں جانتی ہوں کہ صیام سر پاکستان کا چپا چپا گھومے ہوئے ہیں چلیے دادا جان بھی جانتے ہیں بابا جان بھی جانتے ہیں لیکن دیدم آپو تو نہیں جانتی نا ۔
نہ اماں کو پتہ ہے نہ چاچی کو پتہ ہے تو ہم ان کے سامنے انہیں گھومانے کے لئے لے کر جائیں گے اسی بہانے سب گھر والوں کی اوٹنگ بھی ہو جائے گی ۔
میں ابھی جاکر سب سے بولتی ہوں دیکھئے گا میرا آئیڈیا سب کو پسند آئے گا ۔اور وہاں باہر جا کر نا ہم دیدم آپو اور صیام سر کی ملاقات کروائیں گے ۔
مطلب کے ہم سب جائیں گے ۔۔۔۔؟وہ ابھی تک شاید اس کی پوری بات کو سمجھا نہیں تھا
ہم سب نہیں ہم سب گھر والے جائیں گے اس نے انگلی کے اشارے سے یشام کو بیچ سے نکالا تھا مطلب کہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر نہیں جانا چاہتی تھی ۔
مطلب کے تم مجھے اپنے ساتھ لے کر نہیں جا رہی آخر اس نے پوچھ ہی لیا تھا ۔
ہائے اللہ آپ بھی چلنا چاہتے ہیں یہ ہوئی نہ بات مجھے لگا تھا کہ سب گھر والوں کے ساتھ شاید آپ جانے میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں گے ۔وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی ۔
بہت اچھی بات ہے آپ بھی چلے اسی بہانے آپ بھی سب سے تھوڑی دیر گل مل لیں گے ۔مجھے یقین ہے آپ کو بہت اچھا لگے گا سب کا ساتھ ہم سب ساتھ میں گھومیں گے کھائیں گے پیئیں گے انجوائے کریں گے ۔وہ بہت خوشی سے بتا رہی تھی۔
تم نے پہلے سہی سوچا تھا میں نہیں جا رہا اور نہ ہی مجھے اس طرح کے کسی گیدرنگ میں انٹرسٹ ہے تو تم لوگ جاؤ انجوائے کرو وہ اچانک اپنی بات سے مکر گیا تھا جس پر حرم کندھے اچکا گئی ۔
مجھے پہلے ہی پتا تھا انکار کردیں گے ۔خیر کوئی بات نہیں میں تیاری کرتی ہو جانے کی وه برا منائے بنا بولی تھی جبکہ یشام نے اچانک اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی جانب کھینچ لیا اور بڑی محبت سے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں قید کیا تھا ۔
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ان سب کو بھیج کر تم میرے ساتھ رومینٹک سی ڈیٹ پر چلو ۔اس نے نرمی سے اس کے چہرے پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے کہا ۔
ہو تو سکتا ہے لیکن یہ لوگ میری پلاننگ خراب کر دیں گے آپ کو نہیں پتا یہاں پر صرف میں ہی سمارٹ ہوں ۔ہم کل بھی تو جا سکتے ہیں نہ ڈیٹ پہ وہ انکار کیے بنا بولی تھی ۔
فائن جیسی تمہاری مرضی اس نے محبت سے اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے کہا تو اس کے چہرے پر پیاری سی مسکان آ گئی ۔
آپ بہت اچھے ہیں شوہر سر میری ہر بات مان لیتے ہیں آی لو یو اس نے جوش سے کہتے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھنے چاہے تھے لیکن وہ بےساختگی میں ہی اپنا چہرہ اس کے لبوں کی طرف پھیر چکا تھا ۔
حرم کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا کچھ ہو جائے گی اپنے لبوں پر اس کے نازک لبوں کا لمس محسوس کرتے یشام خود بھی حیران رہ گیا تھا
