Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 86)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 86)
Junoniyat By Areej Shah
تین دن گزر چکے تھے ان کو بھاگتے ہوئے وہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کی منزل کیا ہے اور انہیں کہاں پہنچنا ہے
بس وہ ایک سے دوسری اور دوسری سے تیسری بس پر بیٹھ رہے تھے ان کی کوئی منزل نہیں تھی ان کو کہاں پہنچنا تھا کہاں جانا تھا ۔کوئی نہیں جانتا تھا
وہ بس اس سفر کو مسلسل جاری رکھے ہوئے تھے
کبھی ان کی رات سڑک پر گزرتی تو کبھی وہ بس میں ہی سو جاتے
کنیز کے پاس جتنے پیسے تھے وہ ختم ہوچکے تھے اب تو اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ جا پاتی وہ لوگ گھر سے کافی آگے نکل آئے تھے
وہ اندازہ لگا پا رہی تھی کہ اس کے گھر کی اس وقت کیا حالت ہوگی یقینا پولیس انہیں جگہ جگہ ڈھونڈ رہی ہوگی ۔اور ممکن تھا کہ ان کے بارے میں پتہ لگا کر ان کے پیچھے ہی آ رہی ہو وہ اپنے بیٹےکو کیسے بچائے اس کے مستقبل کو کس طرح برباد ہونے سے روکے اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ اسے اپنے ساتھ لگائے بھاگ رہی تھی ۔
لیکن وہ جانتی تھی کہ بھاگنا ہر مسئلے کا حل نہیں ہے آج نہیں تو کل پولیس ان تک پہنچ جائے گی اور پھر جیل کی چاردیواری میں ان کی ساری زندگی گزر جائے گی اس کی زندگی کتنی تھی وہ نہیں جانتی تھی لیکن اب سانس اسے تنگ کرنے لگی تھی وہ اپنی ہی اندرونی حالت سے بے چین ہونے لگی تھی تکلیف کبھی کبھار حد سے بڑھ جاتی اب اسے احمر کی باتیں ٹھیک لگنے لگی تھی
دوسری اولاد کے لیے اس نے ہر ممکن کوشش کی جو شاید وہ کر سکتی تھی لیکن اس کی بیماری میں کہیں نہ کہیں ہاتھ ان سخت دوائیوں کا تھا جو اس نے استعمال کی تھی اور اب وہی دوائیاں اس کی زندگی کو موت کی طرف لے کر جا رہی تھی
اس وقت تو وہ اپنے بیٹے کو تنہا چھوڑ کر شاید کہیں بھی نہیں جانا چاہتی تھی اگر اسے موقع ملے تو اب وہ اپنی زندگی کو بچانے کی کوشش ضرور کرتی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب اپنے بیٹے کا وہی واحد سہارا ہے
اگر اس مقام پر آ کر وہ اپنے بیٹے کو تنہا چھوڑ جاتی ہے تو اس کا بچہ برباد ہو جائے گا
ایک ناجائز ہونے کا ٹیگ اوپر سے اگر وہ بھی اسے چھوڑ جاتی ہے تو کیا بچتا اس کے معصوم بچے کے پاس
اس کا چھوٹا سابچہ کس کس سے لڑتا کس کس کو ثابت کرتا کہ وہ احمر کاظمی کی اولاد ہے ۔
اور جو غلطی وہ کر آیا تھا اس کے بعد تو شاید اس کی زندگی برباد ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہی تھی
اس دن کے بعد وہ بالکل خاموش تھا جیسے سکون میں ہو۔اس کی ماں جو کہہ رہی تھی وہ وہی کرنے میں مصروف تھا خاموشی سے اس کے ساتھ چلتا جا رہا تھا
°°°°°°°
کیسی لگ رہی ہوں۔ ۔۔۔۔؟ یشام نے کمرے میں قدم رکھا ۔تو اسے آئینے کے سامنے اپنی پنک کلر کی فراک لہراتے ہوئے پایا وہ بہت حسین لگ رہی تھی حسن تو یقینا اسے گفٹ میں ملا تھا
لیکن وہ معصوم اپنے حسن سے بالکل انجان تھی وہ تو شاید جانتی تک نہیں تھی کہ اس حسین روپ میں وہ کس طرح سے یشام کے دل پر بجلیاں گراتی ہے وہ تو بس معصومیت میں ہی اس وقت بالکل پر سکون سی اس کے سامنے اپنی فراک لہرا لہرا کر اسے دکھا رہی تھی
اور اس سے پوچھ بھی رہی تھی کہ وہ کیسی لگ رہی ہے
بالکل میری حرم جان جیسی لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔”اس نے مسکراتے ہوئے اس کے طرف قدم بڑھائے اور آہستہ سے اس کی کمر پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنی جانب کھینچ لیا اس کی انداز نے اسے مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا
جب کہ اس کی اٹھتی جھکتی پلکوں کا رقص دیکھ کر وہ خود بھی بے خود سا ہوتا ہے اس کی آنکھوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا
اس کی حرکت نے اسے شرمانے پر مجبور کیا وہ نگاہیں جھکائے اس کے ساتھ کھڑی مسلسل اپنے لبوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ سجائے ہوئی تھی
شوہر سر میں مانتی ہوں کہ میں بہت زیادہ پیاری لگ رہی ہوں لیکن پلیز آپ اس طرح سے مجھے نہ دیکھیں نا مجھے شرم آرہی ہے اسے مسلسل خود پر نگاہیں مرکوز کیے پاکر اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا تھا جبکہ اس کی بات سننے کے بعد کمرے میں یشام کا دلکش قہقہ گونجا تھا
اچھا تو میری جان کو مجھ سے بھی شرم آتی ہے۔ بھی آنی چاہیے اب اگر میری حرم جان اپنے شوہر سے بھی نہیں شرمائے گی تو پھر بھلا کس سے شرمائے گی وہ یقینا اس کی حالت کے مزے لے رہا تھا
ہاں تو شرم تو مجھے آپ سے ہی آئے گی لیکن اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ آپ یہ کریں اگر مجھے شرم آرہی ہے تو آپ کو مسکرا کر مجھے جانے کے لیے کہہ دینا چاہیے ڈرامے میں ہیرو ایسا ہی کرتے ہیں وہ اسے سکھا رہی تھی
او سوری جان وہ کیا ہے نہ میں نے کبھی ڈرامے نہیں دیکھے اور شادی بھی میری پہلی دفعہ ہی ہوئی ہے تو اس چیز کا مجھے کچھ خاص ایکسپیرینس نہیں ہے لیکن تم سیکھا دینا میں سب کچھ سیکھ جاؤں گا وہ ابھی تک اس کے گرد بازوؤں کا حصار مضبوط کیے کھڑا تھا
ہاں یہ رول ہوتا ہے اب آپ میرا راستا چھوڑیں مجھے جانا ہے ۔
اچھا تو یہ رول ہوتا ہے لیکن رومانس کا ایک رول مجھے بھی پتا ہے جو شاید تم نہیں جانتی اس نے مسکراتے ہوئے اس کے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں کی گرفت میں مضبوطی سے تھاما
اور اس کے لبوں پر جھک کر اپنی محبت کی مہر ثبت کی
میرے خیال میں اس کے بعد ہیرو مسکرا کر ہیروئن کو جانے کی اجازت دیتا ہے ۔اور ایک اور رول بھی ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔”وہ پیچھے ہٹ کرمسکراتے ہوئے شاید اسے دوسرا رول بتانے والا تھا تھا اور اس بار حرم نے وہاں سے بھاگنے میں صرف ایک سیکنڈ لگایا تھا
جبکہ وہ پیچھے سے اسے پکارتا ہی رہ گیا کہ جاتے جاتے دوسرارول سن کر جاؤ
°°°°°°
آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئے چلیں جلدی کریں سب لوگ ہال میں پہنچ بھی چکے ہیں اس نے کمرے میں قدم رکھا تو ذریام بیڈ پر بیٹھا کسی سوچ میں مصروف تھا اسے دیکھتے ہی وہ چہرہ پھیر گیا تھا
جبکہ اس کی ناراضگی کو سمجھے بنا وہ اس کے پاس آتے ہوئے بیڈ پر اس کے کپڑے رکھنے لگے
میں آپ سے بات کر رہی ہوں دیواروں سے نہیں چلیں جلدی سے تیار ہو جائیں شادی پر نہیں جانا کیا آج آپ کے بھائی کا ولیمہ ہے
وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگی تھی جب کہ وہ تو شاید آج سے منہ لگانے کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتا تھا۔سخت نگاہ سے اسے گھورتے ہوئے وہ چہرہ پھیر گیا تھا ۔
عمایہ کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا یہ شخص اس سے ناراض نہیں ہو سکتا تھا تو پھر ایسا کیا ہوا کہ وہ یوں ناراض بیٹھا تھا
آگئی میری یاد آپ کو۔۔۔۔۔۔۔آپ کو بھی یاد آ گیا کہ آپ کا ایک عدد شوہر بھی ہے جس کو آپ کے آنے کا انتظار ہوتا ہے
جو آپ کا دیدار کئے بنا رہ نہیں سکتا مجھے تڑپا کر بہت مزہ آتا ہے کیا۔۔۔۔؟ تمہیں یہ سب کچھ کرتے ہوئے کون سا سکون ملتا ہے تمہیں بتاو۔ ۔۔۔۔؟
میری غلطی ہے میرا دماغ خراب تھا جو میں تمہیں معصوم سمجھ رہا تھا تم تو سب جانتی ہوتم ترسانا بھی جانتی ہو اور تڑپانا بھی تم کہیں سے معصوم نہیں ہو جاؤ جا کر اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھو انہیں وقت دو شوہر جائے بھاڑ میں مجھے وقت دینے کی بالکل ضرورت نہیں ہے
مجے بیوی بالکل نہیں چاہیےمیں میرے لیے بیوی تھوڑی لے کر آیا تھا میں تو ان سب کے لئے لے کر آیا تھا جن کے ساتھ تم آجکل وقت گزار رہی ہو اگر تمہیں میری ضرورت محسوس نہیں ہوتی تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں بھی بنا بیوی کے کنوارا بن کر گھومتا رہوں
وہ بولنے پر آیا تو بولتا ہی چلا گیا جب کہ عمایہ خود بھی کافی دن سے نوٹ کر رہی تھی کہ آج کل وہ زریام سے بات نہیں کر پا رہی لیکن زریام تو ان باتوں کو دل پر ہی لے بیٹھا تھا
زریام گھر میں شادی چل رہی ہے دادا جان نے ساری شادہ کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی ہے جب میں کمرے میں آتی ہوں تب تک آپ سو چکے ہوتے ہیں اور آج کل اتنا زیادہ کام ہے نا کہ صبح اٹھتے ہی میں کمرے سے نکل جاتی ہوں۔ اوراس وقت آپ آرام کر رہے ہوتے ہیں میں آپ کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی
لیکن اس کا یہ تھوڑی کا مطلب ہے کہ میں آپ سے پیار نہیں کرتی یا پھر مجھے آپ کا احساس نہیں ہے میں نے بہت غلط کیا ہے لیکن آئی پرومس میں آئندہ ایسا نہیں کروں گی ۔اور اب ناراضگی ختم کریں پلیز اتنی پیاری بیوی کو اب اتنی سی غلطی پر آپ غصہ تو نہیں دیکھا سکتے نہ
وہ اسے دیکھتے ہوئے اس کا چہرہ تھام کر اسے اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی جبکہ وہ کافی حد تک مان گیا تھا جب باہر سے بابا کی آواز سنائی دی
اس بارے میں میں رات کو بات کروں گا پھر سوچوں گا تمہیں معاف کرنا ہے کہ نہیں وہ جلدی سے اپنے کپڑے اٹھاتا کپڑوں سمیت کمرے سے نکل گیا تھا جب کہ عمایہ مسکرا کر نفی میں سر ہلاتے اس کے پیچھے ہی کمرے سے نکلی تھی
°°°°°°°
ولیمہ بہت دھوم دھام سے ہوا تھا ساری تیاری بہت اچھے طریقے سے کی گئی تھی وہ حال سے ہی ان لوگوں کے ساتھ گھر جانے والی تھی جب کہ اس کا شوہر اسے جانے نہیں دینا چاہتا تھا لیکن اس معاملے میں وہ بالکل بے بس تھا
اس کا بہت دل چاہ رہا تھا کہ وہ کسی بھی طرح ریدم کو روک لے لیکن ریدم تو اس کے ہاتھ ہی نہیں آرہی تھی سارا دن بھی اس نے اسے بالکل منہ نہیں لگایا تھا لیکن ماننا پڑے گا اس لڑکی کو ایکٹنگ میں اس نے پی ایچ ڈی کر رکھی تھی
بے شک اکیلے میں وہ اسے گھورتی تھی اسے اس کی نانی یا دادی یاد دلادیتی تھی لیکن سب کے بیچوں بیچ میں اتنی محبت سے اسے مخاطب کرتی تھی کہ حد نہیں
دو تین بار تو شائزم اس کے منہ سے” آپ” سن کر بے ہوش ہوتے ہوتے بچا وہ ہر بار اس کے دیکھنے پر شرما کر نگاہیں جھکا لیتی
اس کا انداز اسے پاگل کر دینے کے لیے کافی تھا اور پھر رات کو بڑی ہی صفائی سے اپنا سامان پیک کرتے ہوئے وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ جانے کے لئے تیار تھی رسم کے مطابق شائزم کو بھی ان کے ساتھ جانا تھا لیکن دادا جان نے کہا کہ ایسی کوئی رسم ہے ہی نہیں ان کے خاندان میں ان کے خاندان میں دلہا صبح اپنی دلہن کو لینے کے لئے آتا ہے
یہی وجہ تھی کہ وہ بھی دادا جان کی بات ماننے پر مجبور ہوگیا تھا ورنہ اگر اسے آفر کی جاتی تو وہ ہرگز انکار نہ کرتا ان سب کے چلے جانے کے بعد اس نے واپس آکر اپنی سیڑھیوں پر ہی بیٹھتے ہوئے اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے بھرپور انگڑائی لی تھی جب ٹائیگر اس کے ساتھ آ کر بیٹھا اس کے چہرے کی خوشی وہ پہچان چکا تھا
کیا بات ہے ٹائیگر آج بہت خوش نظر آرہا ہے اس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا جس پر ٹائیگر نے زبان باہر نکال کر شاید اسے بتانے کی کوشش کی تھی کہ وہ سچ مچ میں بہت خوش ہے
سمجھ گیا اس لومڑی کے جانے کی وجہ سے خوش ہے تو لیکن یار میں خوش نہیں ہوں تیری ممی جو چلی گئی کوئی بات نہیں آنا تو اسے میرے پاس ہی ہے وہ اس کی پیٹھ سہلاتے ہوئے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا ۔جب کہ ٹائیگر کیٹی کے واپس آنے کی خبر پر بالکل خوش نہیں تھا
°°°°°
حرم ابھی تک نیچے تھی ریدم واپس آئی تھی تو وہ اسی سے باتوں میں مصروف تھی جب کہ وہ کمرے میں آ گیا تھا ابھی اس کا ارادہ سونے کا تھا لیکن کسی نے اس کے کمرے کے دروازے پر دستک دی تھی
اس وقت بھلا کون آ سکتا ہے اور سبھی لوگ جانتے تھے کہ حرم نیچے ہے تو پھر اس کے کمرے میں جو بھی آیا تھا یقینا وہ اسی سے ملنے کے لیے آیا تھا
اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے راحت صاحب کو کھڑے دیکھا اس کا دل تو چاہا کہ دروازہ ان کے منہ پر بند کردے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تھا
کیوں آئے ہیں آپ یہاں ۔۔۔۔؟وہ دروازہ پورا کھول کر انہیں شاید اندر آنے کی اجازت بھی دے چکا تھا راحت صاحب نے آگے پیچھے دیکھتے ہوئے کمرے کے اندر قدم رکھا اور اگلے ہی لمحے دروازے کو بند کر دیا ۔
مجھے تم سے کچھ باتیں کرنی ہے کیا تم مجھے اتنا وقت سکتے ہو
کیا آپ اس قابل ہیں کہ آپ کو اتنا وقت دیا جائے وہ شان بے نیازی سے صوفے پر بیٹھے ہوئے ٹانگیں سامنے شیشے کی ٹیبل پر رکھا تھا
میں تم سے کچھ نہیں پوچھنے والا تمہارے ماضی کے بارے میں صرف مجھے یہ بتا دو کہ راحیل کو کیوں مارا تھا تم نے ۔۔۔۔۔۔؟کیا تم بھی وہی حقیقت جان گئے تھے جو مجھے پتہ چلی تھی ۔
کیا تم بھی جان گئے تھے کہ راحیل ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس گھٹیا انسان کا نام میرے سامنے بار بار لے کر مجھے مجبور نہ کریں کہ میں آپ کے ساتھ وہ کروں جس کے بعد مجھے میرے والدین کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑی ۔
میں تمہاری نفرت کو سمجھ سکتا ہوں یشی۔ ۔۔۔۔۔
میں نام یشام احمر ہے راحت صاحب اس نام سے مجھے صرف میرے ماں باپ بلاتے تھے وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے دھاڑاتھا
یشام۔ ۔۔۔۔میں شرمندہ ہو بیٹا۔
میں آپ کا بیٹا نہیں ۔۔۔۔اس کا انداز تمسخرانہ تھا
یشام تم ۔۔۔۔۔۔تم نے قتل کیا تھا ۔۔۔ قتل کوئی چھوٹی سی بات تو نہیں ہے نا ۔
میرے خیال میں میں اس کیس سے باعزت بری ہو چکا ہوں آپ کو مجھ سے اس بارے میں سوال کرنے کا کوئی حق نہیں ۔
میں تم سے کوئی سوال نہیں کر رہا یشام میں صرف اس رات کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں
جانتا ہوں تم سب کچھ جان چکے ہو اس کیس میں سب کچھ سامنے آ گیا تھا ہم نے تمہیں بہت ڈھونڈا لیکن تم ہمیں کہیں نہیں ملے ۔
ہم غلطی پر تھے یشام ہمیں گمراہ کیا گیا تھا ہمیں غلط بتایا گیا تھا
اور آپ نے اپنے بھائی کی اولاد پر یقین کرنے کے بجائے اس غلط پر یقین کرلیا میری نظر میں میرے باپ کا قاتل راحیل نہیں آپ ہیں کیسے بھائی تھے آپ جو اپنے بھائی کو اس کی خوشیاں تک نہ دےسکے ۔
آپ میرا بچپن نہیں لوٹا سکتے راحت صاحب ہاں ہوں میں راحیل کا قاتل میں ہوں میں نے مارا تھا اسے ان ہاتھوں سے اور میں جانتا ہوں اگر میں اسے نا مارتا تو آپ مار ڈالتے اب آپ یہاں سے جا سکتے ہیں مزید میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ماضی کو ماضی ہی رہنے دیجئے
تم ہمیں معاف نہیں کرسکتے ۔۔۔۔۔؟اس کے اٹھ کر کھڑے ہونے پر وہ بے بسی سے بولے
جن سے میرا کوئی واسطہ ہی نہیں انہیں بھلا کیا معاف کروں گا میں تو اپنے ہی باپ کی ناجائز اولاد ہوں جس کا کوئی نام و نشان نہیں بس اتنا کہہ کر کمرے سے نکل گیا تھا جب کہ دروازہ بند ہونے تک اسے راحت صاحب کی سسکیاں سنائی دیتی رہی
وہ تڑپ رہے تھے وہ روتے رہے شاید سالوں پہلے وہ بھی تڑپا کرتا تھا وہ بھی رویا تھا۔تب اس کی سسکیاں سننے والا کوئی نہیں تھا اور آج وہ سب کچھ سن کر بھی انجان بنا ہوا تھا
°°°°°°°°
وہ کمرے میں آیا تو دیشم بلو کلر کی خوبصورت ساڑھی پہنے آئینے کے سامنے کھڑی تھی وہ کافی حد تک اس کے حسین روپ کی رعنائیوں کو واضح کر رہی تھی
یہ کیسا گھٹیا لباس پہن رکھا ہے تم نے کوئی شرم و حیا لحاظ نام کی چیز ہے تمہیں یہ کیوں پہنی ہے تم نے اتنی گھٹیا ساڑھی وہ اس کے سر پر سوار ہو کر اس سے پوچھنے لگا تھا ۔
میں صرف چیک کر رہی تھی کہ مجھ پر ساڑھی کیسی لگتی ہے ایک لمحے کے لیے وہ بوکھلا کر پیچھے ہٹ گئی تھی
اور کس کی اجازت سے تم یہ چیک کر رہی تھی کس نے حق دیا تمہیں یہ لباس اپنے جسم پر پہننے کا ابھی تک تم میرے نکاح میں ہو خبردار جو اس طرح کی گھٹیا ڈریسنگ کر کے تم اس کمرے سے باہر نکلی ٹانگیں توڑ کر رکھ دوں گا تمہاری ۔وہ غصے سے آپے سے باہر ہو رہا تھا
کیا ہوگیا ہے خداش میں کوئی یہ ڈریس پہن کر کمرے سے باہر نہیں جا رہی تھی میں تو بس صرف دیکھ رہی تھی ۔وہ اس کا غصہ دیکھ کر گھبرا تے ہوئے بولی تھی پہلے ہی وہ غصے میں تھا وہ مزید اسے غصہ دلانا نہیں چاہتی تھی شادی کے ڈریسنگ میں یہ ساڑھی بھی اس نے اپنے شوق کی خاطر لائی تھی
لیکن خداش کا اتنا سیریس ری ایکشن دیکھ کر اسے فوراً ہی لباس چینج کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس نے واش روم کی راہ لی تھی جب اچانک ہی اس کی ساڑھی سے الجھ کر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی پرفیوم کی شیشی زمین میں گر گئی
وہ اسے اٹھانے کے لئے جھکی ہی تھی کہ اس کا ہاتھ خداش کی گردن پر لگ گیا اس کے ناخن نے اپنا کام دکھاتے ہوئے اس کی گردن پر اچھا خاصہ زخم بنا دیا تھا
خداش ایم ریلی سوری وہ گھبرا کر اس کی گردن پر بننے والی سرخ لکیر کو دیکھنے لگی تھی ۔
یا خدایا یہ میں نے کیا کر دیا وہ اس کی گردن پر ہاتھ رکھے کے زخم کا معائنہ کر رہی تھی جب کہ وہ مسلسل اس کے حسین وجود سے نگاہیں چرا رہا تھا اس وقت وہ سچ مچ میں اس کے لیے بہت بڑا امتحان بنی ہوئی تھی۔اور وہ خود پر مزید لگام نہ ڈال سکا
°°°°°
