Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 52)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 52)
Junoniyat By Areej Shah
اس کی آنکھ کھلی تو وہ اس کی بانہوں میں قید تھی وہ گہری نیند میں سو رہی تھی جب کہ اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے دل میں محفوظ کرتا وہ اس کے چہرے پر جھکا تھا ۔
بے حد نرمی سے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کرتے ہوئے وہ ایک میٹھی سی جسارت کرتا پیچھے ہٹ کر اسی جگانے لگا تھا ۔
کیا ممکن ہے کہ میں تم سے اسی طرح خود کو جگانے کی امید رکھوں اسے مزید اپنے قریب کرتے ہوئے وہ شرارتی انداز میں پوچھنے لگا ۔
عمایہ اس کے سینے میں منہ چھپاتی نفی میں سر ہلا گئی۔
مطلب کے اس طرح کی امید صرف تم مجھ سے رکھ سکتی ہو یہ بھی اچھی بات ہے ۔اب سے میں تمہیں روز ایسے ہی جگایا کروں گا لیکن شرط یہ ہے کہ اگر تم مجھ سے پہلے بھی جاگ جاؤ تو تم میری بانہوں سے نکل کر کہیں نہیں جاؤگی ۔
وہ اسے مزید اپنے قریب کرتے ہوئے بولا
میں کہاں جاؤں گی ۔۔آپ کے علاوہ کون ہے میرا آپ جو کہیں جیسے کہیں۔۔۔ وہ بہت میٹھا بولتی تھی اس کے لہجے میں مٹھاس تھی جس پر وہ دل و جان سے قربان تھا ۔
بیوی کو اتنا فرمانبردار بھی نہیں ہونا چاہیے وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔
شوہر کو بھی اتنا اچھا نہیں ہونا چاہیے ناں ۔وہ اس کے سینے میں چہرہ چھپاتے ہوئے بولی ۔
یعنی کہ تمہیں میرےاچھے ہونے سے مسئلہ ہے ۔تو برے بن جاتے ہیں وہ ایک ہی جھٹکے میں اسے بیڈ پر گراتا خود اس کے اوپر آ چکا تھا اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں قید کرتا وہ اس کے چہرے پر جھکا تھا ۔
جب کہ اس کے لبوں کا لمس اپنے چہرے پر جابجا محسوس کرتے وہ آنکھیں بند کر چکی تھی احتجاج اور مزاحمت کرنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا ۔
ذریام اس لڑکی کا کیا ہوگا اس کا کچھ پتہ چلا دادا جان بہت زیادہ پریشان ہیں نہ ۔۔وہ اپنی گستاخیوں میں مصروف تھا جب اس کی آواز سن کر اس کے چہرے کو دیکھنے لگا ۔
تمہیں نہیں لگتا کہ یہ وقت کسی لڑکی کو سوچنے کا نہیں بلکہ اپنے شوہر کی محبت کو محسوس کرنے کا ہے ۔۔۔؟وہ الٹا اس سے سوال کرنے لگا ۔
آپ جو کہیں ۔۔۔لیکن مجھے اس لڑکی کے بارے میں سوچ کر پریشانی ہو رہی تھی گھر میں بہت پریشانی چل رہی ہے دادا جان کافی زیادہ پریشان ہے ۔
تم بس اپنے شوہر کی پریشانیوں پر غور کیا کرو باقی ساری پریشانیوں کو تمہارا شوہر دیکھ لے گا ۔وہ اس کی تھوڑی کو اونچا کرتے ہوئے اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھ چکا تھا
جبکہ اس دفعہ عمایہ بنا کوئی بھی بات کئے خاموشی سے اس کی گردن میں اپنی بانہوں کا حصار بناتے ہوئے خود کو مکمل طور پر اس کی قید میں لے چکی تھی ۔
اور اس کی اس فرمانبرداری پر ذریام مسکراتے ہوئے اس کے نازک سے خوشبو سے بھرے وجود کو اپنی بانہوں میں قید کرتے ہوئے اس پر جھکتا چلا گیا ۔
دادا جان کی پریشانی میں وہ بھی پریشان تھا شائزم کی وجہ سے رات کمرے میں سے آنے میں کافی دیر ہو چکی تھی کیونکہ اس سے بہت کچھ بتانا پڑ گیا تھا
لیکن وہ اس کا بھائی تھا اس کے راز رکھنا جانتا تھا اور یہ جان کر اسے خوشی ہوئی تھی کہ وہ ریدم کے لیے بہت خاص جذبات رکھتا ہے۔لیکن اس سے کہیں زیادہ خوشی اسے اس بات کی ہوئی تھی کہ عمایہ دلہن کی طرح تیار اس کی راہوں میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی
°°°°°°°
اس کی شادی کی ڈیٹ فکس کر دی گئی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پریشان تھی پتہ نہیں کیا ہونے والا تھا ۔
جیسےجیسے شادی کے دن قریب آرہے تھے ویسے ہی اس کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا ۔
اس نے سب کو سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کی بات کو سمجھنے کے لیے کوئی تیار ہی نہیں تھا اس کی محبت کو سمجھنے کے لیے کوئی تیار نہیں تھا
اور اب اس نے ایک فیصلہ کر لیا تھا اسے اپنی محبت چاہیے تھی کسی بھی قیمت پر اور پھر اس کی شادی جس سے کروائی جارہی تھی وہ کسی بھی طرح ساگر کاظمی کے ہم پلہ نہیں تھا۔وہ ایک بہترین انسان کو چھوڑ کر ایک ایسے انسان سے شادی کیوں کرتی جس کی نظروں میں عورت کا کوئی مقام نہ تھا
انہی دنوں گاوں میں ہونے والے مقابلے نے دشمنی میں مزید اضافہ کر دیا تھا ۔اگلے کچھ ہی دنوں میں گاؤں میں گھوڑے کی ریس ہونے والی تھی دونوں حویلی کے نوجوان ایک بار پھر سے ایک دوسرے کے سامنے آنے والے تھے ۔جو بھی ہارتا وہ جیتنے والے کے سر پر جیت کی دستار باندھتا۔اور پھر ایک سال تک ایک فریق جیت کی خوشی مناتا اور دوسرا ہار کا دکھ لیکن وہ یہ سب کچھ نہیں چاہتی تھی وہ تو اپنی زندگی کو خوشحال بنانا چاہتی تھی
اس نے اپنا پیغام بھیج دیا تھا اور اب وہ بے چینی سے دوسری طرف سے ملنے والے پیغام کا انتظار کر رہی تھی ۔ابھی تک اس کی ملازمہ کی واپسی نہیں ہوئی تھی یہاں حویلی میں وہی بتا کر گئی تھی کہ وہ اپنے مائیکے جا رہی ہے۔وہ بے چینی سے اس کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی
••••••
صبح اس کی آنکھ کھلی تو خداش کمرے میں نہیں تھا۔جب سے دادا جان کی طبیعت خراب ہوئی تھی وہ کمرے میں کم ہی رہتا تھا ۔
کل وہ کافی دنوں کے بعد کمرے میں آیا تھا لیکن اس کی موجودگی میں اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اس کمرے میں نہیں رہے گی کل رات تو وہ اس کے بے حد قریب تھا یہاں تک کہ اس کی گرم سانسوں کے لمس کو وہ اپنے بے حد قریب محسوس کر چکی تھی ۔
اس نے آہستہ سے کروٹ بدل کر اس کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا تھا اسے لگا تھا وہ یہی سوچے گا کہ وہ گہری نیند میں ہے لیکن وہ جان چکا تھا کہ وہ جاگ رہی تھی اور اس نے اس کے ساتھ کسی بھی طرح کی بدتمیزی کرنے کے بجائے اپنی جگہ ہی بدل گئی تھی ۔
خداش بہت عجیب تھا اس کی سمجھ سے باہر کبھی کبھی ایسا لگتا تھا جیسے وہ اپنی ضد کے لیے ہر حد پار کر جائے گا اور کبھی کبھی ایسا لگتا تھا جیسے وہ اس کی مرضی کی بنا سانس لینا بھی چھوڑ دے گا ۔
وہ فریش ہو کر نیچے جانے کا ارادہ رکھتی تھی جب اسے ریدم کا خیال آیا ۔یہ بھی عجیب سی لڑکی تھی ابھی اسے آئے ہوئے چند گھنٹے ہی ہوئے تھے لیکن وہ اپنے بدتمیز انداز کےکافی جوہر دکھا چکی تھی ۔
اور خدا ش نے اماں کے سامنے کہا تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے شاید انہیں حرم کی کمی محسوس نہیں ہوگی کہاں حرم اور کہاں یہ بدتمیز لڑکی ۔وہ صرف سوچ کر رہ گئی
°°°°°°
گاؤں میں آہستہ آہستہ یہ بات پھیلنے لگی تھی کہ ساگر کاظمی اور ماجد حسین کی بیٹی ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں اور ان کی آپس میں کافی میل ملاقات بھی تھی یہ بات گاؤں میں کس طرح سے پھیلی تھی کسی کو پتہ نہ چلا تھا لیکن یہ بات ماجد شاہ کے لئے کافی بُری ثابت ہو رہی تھی کیونکہ بات ان کی بیٹی کی تھی ۔
اور وہ اپنی بیٹی کی ذات پر کسی طرح کا سوال نہیں آنے دے سکتے تھے اسی لیے انہوں نے جلد سے جلد افشین کی شادی طے کر دی تھی ۔
کیوں کہ اپنی بیٹی کا نام وہ کسی کی زبان پر نہیں آنے دینا چاہتے تھے ۔انہیں لگ رہا تھا کہ کاظمی خاندان والوں نے ہی یہ بات پھیلائی ہے تاکہ ان کی بیٹی کی بدنامی ہو۔۔ اور ایسا ہی ہو رہا تھا ۔اس لیے اپنی بیٹی کی شادی میں وہ مزید دیر نہیں کرنا چاہتے تھے ۔
گھوڑے کی ریس سے پہلے پہلے ہی وہ اپنی بیٹی کو اپنے گھر سے رخصت کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ۔
اور دوسری حویلی کے لوگ بھی ایسا ہی چاہتے تھے کہ جلد سے جلد ماجد شاہ کی بیٹی کی رخصتی ہو جائے تاکہ ساگر کاظمی اپنا سارا دھیان ریس پر دے سکے
اس لڑکی نے ان کے بیٹے کا دماغ خراب کر دیا تھا ۔ایک تو خاندان سے باہر لڑکی پسند کر کے ساگر نے پہلے ہی اپنے خاندان کو اپنے خلاف کر لیا تھا اور پھر دوسری طرف لڑکی بھی دشمن کی بیٹی
اور پھر سب سے غلط بات جو تھی وہ یہ تھی کہ ساگر کا سارا دھیان ہی اس لڑکی کی طرف چلا گیا تھا اسے دشمنی سے یا کسی ریس سے کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا
اور یہ بات ان کے لیے بہت غلط ثابت ہو سکتی تھی اسی لیے وہ یہی چاہتے تھے کہ ماجد کاظمی کی بیٹی کی کہیں نہ کہیں شادی ہو جائے
°°°°°°
السلام علیکم ریدم کمرے سے نکل کر سیدھی نیچے ڈائننگ ٹیبل کی طرف آئی تھی اس وقت اسے بہت بھوک لگی ہوئی تھی اور وہ کچھ کھانا چاہتی تھی سب کو دیکھتے ہوئے اس نے سلام کیا اور کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی ۔
ریدم بیٹا وہ تمہاری کرسی نہیں ہے دراصل وہ تمھارے تایا ابو کی کرسی ہے تم بیٹا یہاں آجاؤ ۔ابھی تمھارے تایا ابو آتے ہی ہوں گے اصل میں انہیں وہاں بیٹھ کر کھانے کی عادت ہے ناں وہ کسی اور کرسی پر بیٹھتے نہیں ہیں تائی امی نے بہت محبت سے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
ڈیئر آنٹی انکل وہاں بیٹھ کر کھائیں یا یہاں بیٹھ کر ٹیسٹ تو ایک جیسا ہی آئے گا نا تو پھر میرا نہیں خیال کہ کرسیاں بدلنے کی ضرورت ہے اس وقت مجھے بہت بھوک لگی ہے یہ ساری باتیں ہم بعد میں کرلیں گے وہ ایک پلیٹ اپنے سامنے گھسیٹتے ہوئے آرام سے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی تھی جب کے تائی امی نے مزید اسے کچھ بھی نہ کہا ۔
جب کہ کمرے سے نکل کر راحت صاحب بھی اسے اپنی کرسی پر بیٹھے دیکھ چکے تھے ۔
وہ آپ کی کرسی پر ریدم۔۔۔۔۔۔تائی امی نے کچھ کہنا چاہا ۔
کم آن انٹی جی اس کرسی پر کوئی نام تو نہیں لکھا ان کا وہ کہیں بھی بیٹھ کر کھا لیں گے ۔کرنا تو ناشتہ ہی ہے نا اس کے انداز میں بدتمیزی کا ذرا سا عنصر شامل تھا ۔
جب خداش دادا جان کو سہارا دیے ناشتے کی میز پر لایا تھا ۔
ارے واہ آج تو ہماری پوتی بھی ہمارے ساتھ ناشتہ کرے گی دادا جان اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے تھے ابھی تک وہ دونوں براہ راست ایک دوسرے سے بات نہیں کر سکتے تھے۔
ارے راحت تم کھڑے کیوں ہو بیٹھو۔داداجان نے انہیں کھڑے دیکھ کرکہا۔
تایا ابو کی کرسی پر تو ریدم بیٹھ گئی ہے ۔ریدم تم یہاں بیٹھا کرو سامیہ اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔
یار حد ہے ایک کرسی کے لئے اتنا ڈرامہ آئیے بیٹھ جائیے اس کرسی پر جیسے کرسی نہیں کسی بادشاہ کا سنگھاسن ہوگیا کرئیے ناشتہ میری تو بھوک ہی مٹ گئی ۔
وہ جھٹکے سے اٹھ کر اندر کی طرف چلی گئی جب کہ سب نے اس کی بد تمیزی کو نوٹ کیا تھا ۔
سامیہ تم منہ بند نہیں رکھ سکتی اتنی بھی کوئی بات نہیں تھی ایک کرسی پر ہی تو بیٹھی تھی اور وہ کونسا اس گھر کی عادی ہے جو اسے سب کچھ پتا ہوگا تمہیں اسے اس طرح سے نہیں ٹوکنا چاہیے تھا ۔تائی امی نے سختی سے کہا
بھابھی اس میں اسے ڈانٹنے کی کیا ضرورت ہے ایک تو یہ بد تمیز سی لڑکی ہمارے گھر آگئی ہے اور اوپر سے اس کے نخرے سیدھے منہ کسی سے بات بھی نہیں کرتی اور آپ بھی آگے سے میری بیٹی کو ڈانٹ رہی ہیں چاچی کو ان کا انداز بالکل اچھا لگا تھا ۔
وہ ہمارے گھر نہیں بلکہ اپنے گھر آئی ہے ۔اسے ہم سب کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے میں ٹائم لگے گا ہوسٹلوں میں دھکے کھا کر پلی بڑھی ہے اسے کیا پتا ایک گھر میں کس طرح سے رہا جاتا ہے ۔
آہستہ آہستہ ہی ہر چیز کو سمجھے گی، جانے گی ۔اسے وقت کی ضرورت ہے ہم سب کو اس کا ساتھ نبھانا ہوگا اسے ذرا ذرا سی باتوں پر ٹوکنے کی بجائے اسے اس بات کا احساس دلانا ہوگا کہ وہ ہم سب کے لیے کتنی خاص ہے وہ میرے ساگر کی بیٹی ہے ۔وہ اس گھر کی بیٹی ہے تایا ابو انہیں دیکھتے ہوئے بولے تو سب کے چہروں پر خاموشی چھا گئی ۔
راحت بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ہمیں اسے سمجھنا ہوگا ۔پتا نہیں اس شخص نے اس کے دل میں ہمارے خلاف کیا کیا ڈال رکھا ہوگا ۔اسے وقت کی ضرورت ہے اور ہم سب کو مل کر اسے اس گھر کی بیٹی بنانا ہوگا دادا جان نے بھی راحت صاحب کا ساتھ دیا تھا ۔
چاچی اور سامیہ کو ان کا انداز بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا لیکن اس وقت وہ کچھ بول بھی نہیں سکتی تھی
°°°°°
آج اس کا انتظار ختم ہوا تھا آج پروین آگئی تھی یقینا اس کا پیغام بھی لے کر آئی ہو گی وہ بے چینی سے اس کے کمرے میں آنے کا انتظار کر رہی تھی
کہو پروین کیا خبر لائی ہو سب کچھ ٹھیک تو ہے نا ۔۔۔؟پروین نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا وہ بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی تھی۔
کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے بی بی جی آپ کی اور ساگر صاحب کی محبت کی داستان پورے گاؤں میں پھیلائی جا رہی ہے ساگر صاحب کو بےعزت کیا جارہا ہے یہاں تک کہ آپ پر یہ الزام تک لگا دیا گیا ہے کہ آپ نے ان کے خاندان کی عزت کو مٹّی میں ملانے کی کوشش کی ہے دشمن کے بیٹے سے دل لگا کر
اور تو اور مجھے تو حویلی والوں نے اندر گھسنے بھی نہیں دیا کہہ دیا کہ جن لوگوں کا تعلق اس حویلی سے ہے وہ اس حویلی میں قدم بھی نہیں رکھ سکتے۔میں تو اپنے بھائی سے بھی نہ مل سکی
لیکن پھر بھی میں اپنی جان پر کھیل کر ساگر صاحب کا پیغام آپ کے لیے لے کر آئی ہوں۔
پروین ساگر تو ٹھیک ہیں نہ انہیں میری وجہ سے بہت کچھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے وہ اسےکسی پیر کی طرح بیڈ پر بٹھاتے خود کسی مرید کی طرح اس کے پیروں میں بیٹھ گئی تھی۔
نہ جانے کیسے اتنے دشمنوں میں اس کے محبوب کا پیغام وہ اس کے لئےلے کر آئی تھی۔
بی بی پیغام یہ رہا وہ ایک کاغذ اس کے حوالے کرتے ہوئے رازدارانہ انداز میں بولی اس نے فورا کاغذ لے کر پڑھنا شروع کر دیا تھا۔
°°°°°°
بڑی پہاڑی کے پیچھے تمہارا انتظار کروں گا اگر مجھ سے سچی محبت کرتی ہو تو آجانا آج ہم یہ گاؤں چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلے جائیں گے۔
یہاں کے رسم و رواج ہماری محبت کے آڑے نہیں آ سکتے اگر تم نے مجھ سے کبھی بھی سچی محبت کی ہے تو آج آجاؤ ہمیشہ کے لئے میرے پاس یاد رکھنا کہ اگر آج تم نا آئی تو تم مجھے ہمیشہ کے لئے کھو دو گی۔
ہماری محبت کی داستان یہیں ختم ہو جائے گی لیکن میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا یہ یاد رکھنا کیونکہ مجھے اس راستے پر لانےوالی تم تھی۔
میں نے تمہاری طرف محبت کا ہاتھ بڑھایا تو تم نے میرا ہاتھ تھام لیا اگر تمہیں ان رسموں رواجوں سے اتنا ہی ڈر لگتا تھا تو پہلے پیچھے کیوں نہ ہٹی افشین میرے بڑھتے ہوئے قدموں کو کیوں نہ روکا
میں نہیں لڑ سکتا اس خاندان سے نہیں لڑ سکتا ان جاہل لوگوں سے ہاں لیکن تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں یہاں سے بہت دور لے جاؤں گا اتنا دور کہ یہ لوگ کبھی بھی ہم تک نہیں پہنچ پائیں گے اگر مجھ سے محبت کرتی ہو تو مجھ پر یقین کر کے چلی آؤ میں تمہارا منتظر رہوں گا۔
وہ نہ جانے کتنی دفعہ یہ پیغام پڑھ چکی تھی بار بار وہی الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی سوچ اسے وہ قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی تھی جو وہ کبھی نہیں اٹھانا چاہتی تھی ایک طرف اس کا محبوب تھا تو دوسری طرف اس کا خاندان اس کی برادری اس کی عزت اس کے باپ کی پگڑی۔
وہ کیسے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلی جاتی لیکن وہ جانتی تھی یہ لوگ انہیں کبھی بھی ایک نہیں ہونے دیں گے وہ کبھی بھی ایک دوسرے کو پا نہیں سکیں گے اپنی محبت کے لیے اسے ایک نہ ایک دن تو بڑا قدم اٹھانا ہی تھا۔
نجانے کتنی محبت کی کہانیاں ان چاردیواریوں میں جنم لے کر ختم ہو چکی تھی ان مردوں کو کبھی توفیق نہ ہوئی تھی کہ وہ اپنی بہن بیٹیوں کی آرزو پوچھ لیتے ان کے لئے ان کا حکم ہی سب کچھ ہے اور پھر اس حکم کو ماننے کے لیے انہیں مجبور کرنے والی ان کی مائیں تھیں۔
چند دن پہلے اسے بھی پتہ چل چکا تھا کہ جلد ہی اسے کسی کی دلہن بنا دیا جائے گا اور اس کی ماں نے کہا تھا بہتر ہے کہ کاظمی حویلی والوں کےساتھ جو تعلقات وہ جوڑے ہوئے ہے ان کا گلا یہیں پر گھونٹ دے ورنہ انجام سے وہ بے خبر نہیں ہے۔
اور یہ پہلی بار تو نہیں ہو رہا تھا۔ اس کی بہنیں اس کی پھوپھو اس کی ماں کس سے ان کی مرضی پوچھی گئی تھی کسی سے بھی نہیں اس خاندان میں وہی ہوتا آیا تھا جو اس خاندان کے مرد چاہتے تھے کبھی کسی عورت سے اجازت مانگنا تو دور کی بات ہے انہیں شادی سے پہلےایک دوسرے کی تصویر تک نہیں دکھائی جاتی تھی۔
وہ نہیں گزار سکتی تھی ایک ایسی زندگی جو اسے دو پل کا سکون نہ دے سکے وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ آج رات یہاں سے ہمیشہ کے لیے چلی جانے والی تھی ان لوگوں کی عزت کی خاطر کتنی عورتیں اپنی زندگی داؤ پر لگا چکی تھی کتنی عورتیں اپنا آپ بھلا چکی تھی وہ اپنا آپ بھلانے کو تیار نہ تھی۔
اسے نہیں ہونا تھا ان رسموں پر قربان اسے اپنی زندگی جینی تھی اسے اپنے محبوب کے ساتھ اپنی مرضی سے اپنی چاہت سے رہنا تھا وہ نہیں رہ سکتی تھی اس ماحول میں۔۔۔اسے آزاد ہونا تھا۔
°°°°°°
