Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 85)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 85)
Junoniyat By Areej Shah
خدا کے لیے چھوڑ دو اس معصوم کو کیا بگاڑا ہے اس نے تمھارا کیوں اس کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہو ۔پلیز میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں خدا کے لیے ایسا مت کرو ۔اس کی آنکھوں میں آنسو تھےوہ مسلسل منتیں کر رہی تھی۔جب شائزم نے اوپر قدم رکھا۔
کتنی پیاری ہے وہ ۔۔۔۔” مجھے لگا تھا کہ تم دونوں بھائی بہن بن کر رہو گے لیکن میں کہاں جانتی تھی کہ تم اس معصوم کے ساتھ ایسا سلوک کرو گے زرا دیکھو تو اس کو کتنی خوبصورت ہے وہ ۔۔۔۔۔”
ہاں دیکھنے میں تو بہت پیاری اور بہت معصوم ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہے بہت میںسنی۔
کل سے اس نے میرے معصوم ٹائیگر کو تنگ کر رکھا ہے تم کچھ نہیں جانتی اتنی چالاک ہے نہ یہ لومڑی ۔۔۔۔
شٹ اپ وہ لومڑی نہیں بلی ہے اس نے چلاتے ہوئے کہا تھا ۔
ہاں وہی بلی اتنی چالاک ہے نا وہ بلی کے تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی اس نے ٹائیگر کی ناک میں دم کر رکھا ہے ۔
ارے اتنا تنگ تو کوئی بیٹی بھی اپنے باپ کو نہیں کرتی ہو گی میرا معصوم سابچہ جب سے تمہاری اس چالاک بلی کے چکر میں آیا ہے نہ بہت بری حالت میں ہے پورے کمرے پر قبضہ کرنا چاہتی ہے لیکن یہ جائیداد میں اپنے بیٹے کے نام لکھوں گا ۔
تم اپنی جائیداد کو اپنے بیٹے کے نام لکھو یا اپنی قبر میں ساتھ لے جاؤ میری بیٹی کو تمہاری جائیداد کا کوئی لالچ نہیں ہے سمجھے تم ۔بس جا کر اپنے اس کتے کو کہو کہ میری کیٹی کو اپنے منہ سے دور رکھے ۔
کیسے الٹا پکڑ کر رکھا ہے اس نے وہ معصوم کیسے چیخ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔وہ اسے دکھاتے ہوئے بولی تھی ۔
وہ میرا ٹائیگر ہے کتا نہیں اور میرا ٹائیگر بھی اسے منہ لگانا پسند نہیں کرتا وہ نیچے جا رہی تھی اس نے تو اس کی حفاظت کی ہے ۔
نہیں چاہیے تمہارے کتے کی حفاظت ۔۔۔اور کتے کو میں کتا ہی۔۔۔۔۔۔
بائو بائو۔۔۔۔۔۔ٹائیگر کی گرجدار آواز پر وہ اچھل پڑی تھی ۔
دیکھو تمہارا کتا کیسے بھونک رہا ہے میرا مطلب ہے ٹائیگر ۔،۔۔۔
پلیز میری کیٹی ۔۔۔۔۔وہ اسے راکشس روپ میں دیکھ کر اسی کی منت پر اتر آئی تھی جس پر شائزم نے ترس کھاتے ہوئے اس کی کیٹی کے پٹھے کو اس کے منہ سے نکالتے ہوئے اس کی گود میں پھینکنے والے انداز میں گرایا تھا اور اپنے ٹائیگر کو لیکر نیچے چلا گیا تھا
°°°°°°°
آدھی رات کا وقت تھا جب اسے محسوس ہوا جیسے اس کی ماں اس کے پاس نہیں ہے وہ جلدی سے اٹھا ۔اور اپنی ماں کے بیڈ کی طرف دیکھا جہاں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا اس نے پورے دروازہ کھول کر باہر دیکھا تو وہ اسے دور ڈیکس پر بیٹھی نظر آئیں ۔
یشی تقریبا بھاگتے ہوئے اپنی ماں کے پاس وہاں پہنچا تھا جو وہاں ڈیکس پر بے حال پڑی مسلسل رو رہی تھی۔شاید وہ اس کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی اسی لئے اس سے اتنی دور آ کر اپنی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ اس کی ماں کو تکلیف تھی اور اس تکلیف کو وہ سمجھ رہا تھا۔
ماما ماما کیا ہوا ہے آپ کو آپ ٹھیک تو ہیں نا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی آئیں میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہے وہ بہت زیادہ بے چین ہو گیا تھا ۔
ڈاکٹر کے پاس کیوں میری جان میں بالکل ٹھیک ہوں کچھ نہیں ہوا مجھے تم تو بے کار میں پریشان ہو رہے ہو
وہ میں تو ٹھنڈی ہوا کھانے یہاں آئی تھی اندر اچھا فیل نہیں کر رہی تھی نہ تم بےکار میں گھبرا رہے ہو او گھر چلتے ہیں وہ اسے سمجھاتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر گھر کی طرف چل دی تھی
لیکن اس کے چہرے کی تکلیف سے وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ اس کی ماں کس حال سے گزر رہی ہے لیکن اس کی ماں اس کی بات کو سمجھتی نہیں تھی
°°°°°°
میرا پیارا بھالو تمہارا ہاتھ اب کیسا ہے وہ حرم کے پاس آ کر اس کا ہاتھ دیکھنے لگا تھا ۔
اب تو بالکل ٹھیک ہوگیا ہے وہ یشام نے آئس کریم کھلائی تھی نہ تبھی ٹھیک ہوگیا تھا ۔اس نے بڑے مزے سے اسے دیکھتے ہوئے بتایا تھا
اس نے یشام کو ایک نظر دیکھا ۔جو اس کے آنے سے پہلے تو اس کے ساتھ باتیں کرنے میں مصروف تھا لیکن خداش کے آجانے کی وجہ سے اس نے اپنی توجہ ٹی وی کی طرف مرکوز کر لی تھی ۔
پھر تو اور بھی زیادہ کوشش کرنی چاہیے میرا مطلب ہے تم نے اس کے لیے پراٹھا بنانے کی کوشش کی ہیں۔ تمہیں اپنے ساتھ آئس کریم کھلانے لے کر گیا تو ممکن ہے تمہاری ایک اور کوشش پر وہ تمہیں کہیں اور لے جائے ۔
بلکہ ایسا کرو کہ آج تم اس کا فیورٹ کھانا بنانے کی کوشش کرو اور انگلی کے بجائے ہاتھ جلانا ۔اور پلیز تھوڑا سا زیادہ جلانا ۔
تم اس کے بھائی ہو یا دشمن ۔۔۔۔؟وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ یشام نے اس سے پوچھ لیا
حرم تو کچھ حد تک بے وقوف تھی لیکن اس کا بھائی بھی اس کے جیسا ہی تھا کیا ۔جو اپنی بہن کو ایسے الٹے سیدھے مشورہ دے رہا تھا اور حرم جو اتنے زیادہ سنجیدہ انداز میں اسے سن رہی تھی اسے یقین تھا حرم اب دوبارہ کرنے کی کوشش ضرور کرے گی ۔
یار ہوں تو بھائی ہی بس مذاق کر رہا تھا تم تو سیریس ہو گئے ۔اس نے ہنستے ہوئے اسے دیکھ کر کہا تو یشام کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔
جبکہ خداش اس کے ساتھ ہی بیٹھ کر میچ دیکھنے لگا تھا ۔وہ جانتا تھا وہ باقی سب کے ساتھ اتنا جلدی گھل مل نہیں سکتا لیکن اسے اپنی فیملی کا حصہ بنانا خداش اپنا فرض سمجھتا تھا
°°′°°°°
نہیں آپ مجھ سے وعدہ کریں کہ آپ ہسپتال ضرور جائیں گی اگر آپ نے ہسپتال جانے میں آج ذرا سی بھی بہانا بازی کی تومیں آپ سے بالکل نہیں بولوں گا ۔
وہ اسکول کے لئے تیار ہو کر بیٹھا تو کنیز اس کے سامنے ناشتہ رکھنے لگی تھی جب کے ساتھ ساتھ اس سے وعدہ بھی کر رہی تھی کہ وہ آج ہسپتال ضرور جائے گی لیکن وہ اپنی ماں کی رگ رگ سے واقف تھا ۔
ارے میری جان میں وعدہ کر رہی ہوں میں آج ہسپتال ضرور جاؤں گی اب میں اپنے بیٹے کو شکایت کا بلکل موقع نہیں دوں گی بس اب تم مجھ سے ناراض مت ہونا وہ محبت سے اس کا ماتھا چومتے ہوئے خود اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانے لگی.
چلو میری جان اب کھانا کھانا شروع کرو جب تم ٹھیک سے کھانا نہیں کھاتے مجھے سارا دن تمہاری فکر لگی رہتی ہے وہ اسے کھانا نوالا بنا کر کھلاتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ اپنی ماں کی محبت کو دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے منہ کھولا ۔
ماما بابا کیوں چلے گئے ہمیں چھوڑ کر کاش وہ آج ہمارے ساتھ ہوتے سب کچھ اچھا چل رہا تھا نہ ۔۔۔۔؟ وہ اکثر کی باتیں کرتا تھا ۔
زندگی اللہ کی امانت ہے آج نہیں تو کل ہم سب کو یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہے ہم گئے ہوئے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتے سوائے ان کی مغفرت کی دعا کے تم بھی اپنے بابا کے لیے دعا کیا کرو ۔
دعا کرو کہ اللہ پاک انہیں اعلی مقام دے ۔وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے محبت سے سمجھا رہی تھی ۔
ماما بابا نے آپ سے وعدہ کیا تھا نہ کہ وہ آپ کو کبھی بھی چھوڑ کر نہیں جائیں گے تو انہوں نے وعدہ خلافی کیسے کر لی اس نے پھر سے پوچھا ۔
ارے تمہیں کس نے کہا کہ انہوں نے میرے ساتھ وعدہ خلافی کی ہے ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ ان شاءاللہ وہ آخر مِیں میرا ساتھ نبھائیں گے اور دیکھنا آخرت کے دن ہم ایک بار پھر سے ساتھ ہوں گے ۔
ماما بابا کو کس نے مارا ۔۔۔۔۔؟ اس کی بات کو سمجھتے ہوئے اس نے پھر سے ایک سوال پوچھا تھا جس کا جواب وہ نہیں جانتی تھی پولیس کا کہنا تھا کہ احمر مرا نہیں ہے بلکہ پورے پلاننگ کے ساتھ اس کا قتل کیا گیا ہے ۔
وہ کوئی نارمل ایکسیڈنٹ نہیں تھا لیکن اس بات کا جواب کنیز کے پاس نہیں تھا وہ کچھ نہیں جانتی تھی ہاں لیکن کہیں نہ کہیں اسے راحیل پر شک تھا ۔
بس اب باتیں ختم جلدی چلو وین آنے والی ہے تمہاری ۔وہ اس کے سامنے سے برتن ہٹاتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر لے آئی تھی ۔
سامنے سے بس آتی نظر آئی ۔تو وہ اسے خدا حافظ کرتا نیچے والی سڑک پر جانے لگا تھا ۔جب کہ وہ مسکراتے ہوئے واپس اندر جانے لگی ۔
ابھی وہ دروازہ بند کرنے ہی لگی تھی جب اچانک کوئی اندر آ گیا ۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر کے اندر آنے کی وہ غصے سے دیکھتے ہوئے بولی تھی
ہمت تو تمہیں میں اب دکھاؤں گا اپنی کنیز فاطمہ بہت صبر کر لیا میں نے بہت برداشت کر لیا اب اور نہیں وہ اسے پیچھے کی طرف دھکا دیتے ہوئے بولا تھا کنیزنے اس کی نیت کو سمجھ کر چیخنا چاہا لیکن وہ اس کے منہ پر اپنا ہاتھ دبا کر رکھ چکا تھا
°°°°°°
یہ تم کیا کر رہی ہو لڑکی۔۔۔۔۔؟
ایک رات کے لیے جا رہی ہو تو اتنا سامان لے کر کیوں جا رہی ہو ۔۔۔۔؟
اور ویسے بھی تم نے مجھ سے پوچھا نہیں جانے کا۔۔۔۔۔” میں تمہارامجازی خدا ہوں سب سے پہلے تمہیں میری اجازت لینی چاہیے
میری اجازت کے بنا تم کہیں نہیں جا سکتی وہ کمرے میں آیاتو اسے سامان پیک کرتے ہوئے دیکھ کر نان سٹاپ بولتا ہی چلا گیا جب کہ وہ اس کی کسی بات کو اہمیت دیے بنا اپنے کام میں مصروف تھی ۔
میں تم سے بات کر رہا ہوں اب اتنا بھی اگنور مت کرو اسے مسلسل اپنے ہی کام میں مگن دیکھ کر وہ پھر سے بولا تھا
اور تم میرا دماغ خراب مت کرو.میرا تمہارے منہ لگنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اس نے جیسے بہت پتے کی بات بتائی تھی لیکن اگلے ہی لمحے شائزم اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنے بے حد قریب کر چکا تھا ۔
اتنے دور سے میں بھی منہ لگنا پسند نہیں کرتا وہ تو پاس سے لگا جاتا ہےوہ اس کی تھوڑی کو پکڑتے ہوئے بولا جب اگلے ہی لمحے اس نے زور دار ہاتھ اس کے ہاتھ پر مارتے ہوئے اسے خود سے دور کیا تھا
میرا تم سے لڑنے کا بھی کوئی موڈ نہیں ہے ۔وہ اسے دھکا دیتے اپنے سامان کی طرف متوجہ ہوئی ۔
میں نے شادی لڑنے کے لیے ویسے بھی نہیں کی ۔لیکن تمہاری بات کو بھی میں سمجھ سکتا ہوں وہ کسی شاعر نے خوب کہا ہے
کنوارے سڑسڑ کر مرتے ہیں
شادی شدہ لڑ لڑ کر مرتے ہیں ۔۔۔”
لیکن ڈارلنگ اس کیٹگری میں ہر گز نہیں آتا ۔میں تو پیار کر کے مرنے والوں میں سے ہوں۔اس نے کہتے ہوئے ایک جاندار بوسہ اس کے لبوں پر دیا تھا ۔
کمینہ چھچھورا ۔۔۔۔مجھے پہلے ہی یقین تھا تم نے یہ شادی کی ہی چھچھوری حرکتوں کی وجہ سے ہے ۔اپنے ہونٹوں کو صاف کرتے ہوئے وہ اس سے دور ہو گئی تھے ۔
کیا بات ہے ان باتوں کے بارے میں پوری معلومات رکھی ہوئی ہے تم نے اور کیا کیا جانتی ہو ۔۔۔۔؟
مجھے بھی بتاؤ ذرا میں ان معاملوں میں ذرا اناڑی ہوں
وہ جن نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا اس کا دل چاہا کہ ایک مکا مار کر اس کے سارے دانت توڑ دے ۔
ہاں اناڑی صاحب ماریہ تو آپ کی باجی تھی نا وہ غصے سے اسے گھورتی دھکا دیتی کمرے سے ہی نکل گئی تھی ۔
اس کا شک درست تھا یہ سب ماریہ کی وجہ سے ہی خراب ہوا تھا
°°°°°°°
نہیں پلیز ایسا مت کرو جانے دو مجھے جانے دو میں تمہارے سگے بھائی کی نہ سہی لیکن تمہاری کزن کی بیوہ ہوں۔
میرے ساتھ ایسا کرکے تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔کیوں گناہگار ہو رہے ہو ۔۔۔۔”
کل حشر کے دن اپنے بھائی جیسے کزن کا سامنا کیسے کرو گے ۔۔۔۔؟خدا کے لئے مجھ پر یہ ظلم مت کرو مجھے پاک رہنے دو ۔
میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔میرے ساتھ یہ ظلم مت کرو کہ میں پہلے ہی دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہوں ۔
پہلے ہی اپنے بچے کے لئے اس کے باپ کے نام پر لڑ رہی ہوں خدا کے لیے میرے ساتھ یہ ظلم مت کرو ۔وہ مسلسل اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر رہی تھی لیکن راحیل تو زمینی خدا بنا ہوا تھا اسے نہ تو اس کے واسطوں کی کوئی پروا تھی اور نہ ہی اس کی منتوں کی ۔
میں نے تجھے کہا تھا میرے پاس آ جامیں تجھے رانی بنا کر رکھوں گا لیکن تجھے تیرے شوہر کے ساتھ وفا نبھانی تھی نہ اسے تو میں نے اسے راستے سے ہٹا دیا اب تیری باری ہے ۔
بہت تڑپایا ہے تو نے آج میں اپنی تڑپ کو ختم کروں گا تیرے اس حسین بدن پر اپنے نام کی مہر لگاؤں گا آج تک میں نے جسے چاہا اسے حاصل کیا صرف تو ہی تھی جو میرے ہاتھ ہی نہیں آ رہی تھی ۔
لیکن اب مجھے تیرا انتظار نہیں کرنا اب میں جو چاہوں گا وہ ہوگا آج میں تجھے بتاؤں گا کہ تم نے کس کے منہ پر طمانچہ مارا تھا ۔
بہت غرور ہے نا تجھے اپنی پاکیزگی پر آج میں تجھے گندہ کر دوں گا ۔
تو نے مجھے تھپڑ مارا تھا آج میں تجھے ایسا تھپڑ ماروں گا جو کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے گی ۔
ساری زندگی منہ چھپاتے پھرتی رہے گی تو ۔۔۔اور جہاں تک تیرے شوہر کے بھائیوں کی بات ہے تو ان پر تو یہ کبھی ثابت نہیں کر پائے گی کے تو احمر کی بیوی ہے ۔کیونکہ تیرا نکاح نامہ اور باقی سارے کاغذات میں نے غائب کیے تھے میں نے ان لوگوں پر بھی یہ بات ثابت کر دی ہے کہ تیرا تیرے شوہر سے کوئی نکاح نہیں ہوا تھا ۔
اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہ ان کے بھائی کو مارنے کے پیچھے تیرا ہاتھ ہے۔ تیری عیاشیاں ختم نہیں ہو رہی تھی اور احمر کو سب کچھ پتہ چل گیا تھا ۔تم مرنے کے بعد کبھی پاک عورتوں میں شامل نہیں ہوگی
کیونکہ اب وہ لوگ یہاں کبھی واپس آئیں گے ہی نہیں ۔ان کا بھائی مر گیا اب وہ تجھ سے اور تیرے بچے سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے ۔
لیکن میں رکھوں گا تجھ سے تعلق کیونکہ بہت آگ لگائی ہے تو نے اس دل میں اور اب اس آگ کو ٹھنڈا بھی تو ہی کرے گی ۔وہ اس پر جھپٹ پڑا تھا ۔
اس کے دونوں بازوؤں کو قید کرتے ہوئے وہ اس سے اس کا مان لوٹ رہا تھا اس سے اس کی آبرو چھین رہا تھا اس سے اس کی ساری زندگی کی کمائی اس کی چادر لوٹنے کی کوشش کر رہا تھا جب اچانک کسی نے اس کے سر پر ایک زور دار لوہے کا راڈ دے مارا ۔
اور پھر مارتا ہی چلا گیا راحیل جو پہلے لگنے والی ضرب پر بھی خود کو ہوش و حواس میں نہ رکھ سکا تھا دھڑا دھڑ لگنے والے راڈ نے اس کا حال بگاڑ دیا تھا ۔
یشی ۔۔۔۔۔۔ چھوڑ دو اسے ۔۔۔۔۔یشی بیٹا چھوڑ دو وہ ۔ ۔۔۔مر جائے گا ۔۔کنیز چیخ رہی تھی چلا رہی تھی لیکن وہ تو جیسے سنا ہی نہیں رہا تھا وہ مسلسل اسے مارے جا رہا تھا ۔
وہ اتنا غصے میں تھا کہ کنیز کے پکڑ کر پیچھے گھسیٹنے پر اس نے کنیز کو بھی دھکا مار دیا ۔
اور ایک بار پھر سے اس لوہے کے راڈ کو راحیل کے سر کے بیچوں بیچ مارنے لگا ۔پورا فرش راحیل کے خون سے بھر چکا تھا ۔لیکن اس کا جنون کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا وہ شاید اسے جان سے مار دینا چاہتا تھا ۔
چٹاخ۔۔۔۔۔۔یشی ۔ ۔۔۔۔بس ۔۔۔کر۔۔۔۔کرو۔۔۔۔وہ مر گیا ہے ۔۔۔۔۔
مر گیا ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔
کنیز اسے پیچھے کھینچتے ہوئے اس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارتی اسے وہ بتانے کی کوشش کر رہی تھی جس پر وہ خود بھی یقین نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
مر گیا وہ دیکھو اسے مر گیا مار دیا تم نے اسے وہ اسے جھنجھوڑتے ہوئے بتا رہی تھی ۔
اچھا ہوا مر گیا ۔۔۔۔۔۔اگر نہیں مرتا ۔۔۔۔تو میں مار دیتا ۔۔۔۔وہ اسی انداز میں بولا تھا جب کہ کنیز نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود میں بھنچ لیا تھا ۔
اسے خود سے لگائے وہ مسلسل رو رہی تھی کیا ہوگا اب دنیا اس کے بیٹے کو قاتل کہے گی راحیل مر گیا ۔
دنیا چھوڑ گیا سب کچھ ختم ہو گیا اب اس کے بیٹے کی زندگی تباہ ہو جائے گی ۔
وہ خود کو احمر کاظمی کی بیوی ثابت نہیں کر پا رہی تھی ۔
اپنے بیٹے کو احمر کاظمی کا بیٹا ثابت نہیں کر پا رہی تھی ۔لیکن وہ جانتی تھی کہ دنیا اس کے بیٹے کو قاتل ثابت کرنے میں ایک منٹ نہیں لگائے گی ۔
وہ اپنے بیٹے کی زندگی خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی اس لیے ہمت پکڑی اور اٹھ کر بیگ نکالتے ہوئے دو چار سوٹ اس میں ڈالنے لگی ۔
اس نے ایک نظر اپنے بیٹے کو دیکھا تھا جو اب تک مسلسل راحیل کی لاش کو غصے سے گھور رہا تھا جیسے اس میں دوبارہ جان آجائے تو وہ اسے دوبارہ سے مار ڈالے ۔
اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئے واش روم میں لے کر آئی اس کے ہاتھ پیر اچھے سے دھلا کر اس نے اس کے کپڑے بدلے ۔اور پھر اسی طرح اسے گھسیٹتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئی دروازے کو تالا لگایا ۔
اب وہ کہاں جانے والی تھی یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی۔
°°°°°°
