Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 4)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 4)
Junoniyat By Areej Shah
اتنی دیر لگا دی آپ نے ویرو میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی
آپ کو پتا ہے ہماری کلاس کا وقت ختم ہوئے ایک گھنٹہ ہو چکا ہے اور آپ اب آرہے ہیں ۔
وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس سے کہنے لگی تھی جب کہ خداش کاظمی آنکھوں سے گلاسز اتار کر ایک طرف رکھتا مسکرا کر گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا
گڑیا میں گھر سے تو بالکل ٹائم پر نکلا تھا لیکن اس راستے سے آتے ہوئے بیچ میں ایک دو اور کام یاد آگئے
تو سوچا اگر نکل ہی آیا ہوں اس طرف سے پہلے وہ کام کر لیتا ہوں اور ایک بات یاد رکھنا مجھے دیر سویر ہوتی رہتی ہے تم کالج سے باہر نکلنا جب تک میں خود آکر تمہیں نہ بلاؤں
خداش اسے دیکھتے ہوئے بولا،،اسے سمجھانا وہ اپنا فرض سمجھتا تھا ۔
جبکہ حرم نے صرف ہاں میں سر ہلایا تھا اپنی دوست کو اس نے کتنی دیر روک کر رکھا تھا۔
کہ وہ اسے اپنے بھائی سے ملوائے گی کیونکہ صبح سے اس کی تعریفیں سن سن کے اب میشا کو بھی شوق ہو گیا تھا اس کے بھائی کو دیکھنے کا
اسے وڈیرے لوگ دیکھنے کا بڑا شوق تھا اور جب حرم نے اسے اپنے بارے میں بتایا تھا تب وہ کافی زیادہ ایکسائیٹڈ ہو گئی تھی۔
اس سے ملنے کے لیے اور خاص کر جو بات اسے سب سے زیادہ پسند آئی تھی وہ یہ تھی کہ وہ اپنے خاندان کا اکلوتا لڑکا ہے اور اسے ضرورت سے زیادہ اہمیت ملی ہے۔
میشہ کے حساب سے وہ ایک انتہائی بگڑا ہوا اور ہر طرح کی عیاشی کرنے والا شخص تھا۔
لیکن یہ بات اس نے حرم کو نہیں بتائی تھی ممکن تھا کہ اپنے بھائی کے بارے میں اس طرح کی کوئی بات سن کر وہ برا منا جاتی۔
اور اپنی ایک دن کی دوست کو وہ خود سے ناراض نہیں کرسکتی تھی اسی لیے اسے بس اتنا بتا دیا کہ اسے وڈیرے دیکھنے کا بہت شوق ہے
لیکن یہ شوق شوق ہی رہا کیوں کہ خداش کو آنے میں بہت دیر ہو گئی تھی اور میشہ کے بھائی اسے لینے کے لئے آ چکے تھے۔
جس کی وجہ سے اسے جانا پڑ گیا لیکن کون سا اسے یہ دوبارہ موقع نہیں ملنا تھا
اس لیے یہ سوچ کر ریلیکس ہو گئی کہ آج نہیں تو پھر کبھی وہ اس سے ملاقات کر لے گی۔
وہ اسے اپنی دوست کے بارے میں یہی بتا رہی تھی جب اچانک خداش نے اپنی گاڑی ایک یونیورسٹی کے سامنے روکی
واؤ یہ ہے ایشی آپی کی یونیورسٹی کتنی بڑی یونیورسٹی ہے کیا ہم اندر سے جا کر اسے دیکھ سکتے ہیں۔۔۔۔۔؟
وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی تھی یونیورسٹی بہت بڑے پیمانے پر بنائی گئی تھی اور اس کی تعریف بھی بہت کی جاتی تھی۔اور یقینا حرم کو بھی اسے اندر سے دیکھنے کا بہت شوق تھا
ابھی تو ہم لوگ گھر جا رہے ہیں تمہاری آپی آ جائے تو بہتر ہے۔تم بتاؤ تمہارا آج کالج کا پہلا دن کیسا گزرا ۔وہ دیشم کے آنے کا انتظار کرتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا تھا
دن تو ٹھیک ٹھاک ہی گزرا لیکن آج ناں ایک ٹیچر سے بےعزتی بھی ہوگئی ۔وہ بھی بنا کسی وجہ کے خیر وہ چھوڑیں میں آپ سے اس یونیورسٹی کے بارے میں پوچھ رہی ہوں میں بھی اس یونیورسٹی میں آؤں گی
اس نے اچانک سے کہا تھا خداش نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر دروازے سے باہر نکلتی دی دیشم کی طرف دیکھنے لگا
لمبے گاون کے ساتھ حجاب میں لیپٹا پر نور چہرہ دھوپ سے دمک رہا تھا وہ تیز قدم اٹھاتے گاڑی کی طرف آ رہی تھی
اس کی شخصیت میں ایک وقار تھا وہ اپنا آپ سنبھال کر رکھنا جانتی تھی ۔لوگوں کی نظروں میں خود کو کس طرح سے پیش کرنا ہے اس بات کا اسے بہت اچھے طریقے سے پتہ تھا
وہ سامنے والے کو ایک حد میں رکھنا جانتی تھی ۔یوں ہی تو نہیں وہ اس پر دل ہارا تھا ۔بہت ساری وجہ تھی اس لڑکی سے محبت کرنے کی۔۔
اس نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اپنی نشست سنبھالی اس کے ساتھ ہی خداش گاڑی سٹارٹ کر دی تھی۔۔
ہاں جی کیسا گزر تمہارے کالج کا پہلا دن اس نے پہلا سوال حرم سے ہی کیا تھا خداش کاظمی کو مخاطب کرنا تو وہ اپنی توہین سمجھتی تھی۔
بہت اچھا گزرا بہت انجوائے کیا آپ کو پتہ ہے میں نے ایک دوست بھی بنائی ہے اس کا نام میشا ہے
۔اف وہ اتنی باتیں کرتی ہے کہ آپ کو کیا ہی بتاؤں آج سارا دن میں اسی کے ساتھ رہی اس کا بھی آج کالج کا پہلا دن تھا
حرم فرنٹ سیٹ سے پیچھے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بتانے لگی تھی ۔
وہ بھی بہت دلچسپی سے اس کی باتیں سن رہی تھی خداش کے مرر کا رخ اسی کے جانب تھا لیکن اس بات سے وہ یکسر انجان تھی
وہ تو اس کے دل کی دنیا سے بھی بالکل انجان تھی اگر وہ جان جاتی کہ جس شخص سے وہ دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کرتی ہے وہ اپنے دل کا نام ہی اس کے نام پر رکھ چکا ہے
اس کا دل اس کے نام پر دھڑکتا تھا اور یہ سب کچھ آج سے نہیں بلکہ کئی سالوں سے ہو رہا تھا ۔
یوں ہی تو نہیں اس کی ہر بدتمیزی ہر انداز وہ نظر انداز کر دیتا تھا
اس کے سامنے گھر کا کوئی فرد اونچی آواز میں بات نہیں کرتا تھا ۔کوئی اس کی ذات کو اگنور نہیں کرسکتا تھا کوئی اس کی بات کے خلاف نہیں جاسکتا تھا
لیکن دیشم کاظمی اس کی ایک ایک چیز کی مخالفت کرتی تھی ۔وہ اس سے بے انتہا چڑتی تھی اور وہ اس چڑ کی وجہ کبھی بھی سمجھ نہیں پایا تھا
جب کہ وہ اپنے آپ کو اس کے معاملے میں ایک مختلف انسان پاتا تھا ۔وہ کبھی بھی اس کا دوست نہیں رہا تھا
جہاں تک اسے یاد پڑتا تھا اس نے زندگی میں کبھی بھی دیشم کے ساتھ کبھی کچھ غلط نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی اس کی طرف سے اس سرد مہری پر وہ اکثر حیران رہ جاتا تھا۔
°°°°°
سات دن مزید گزر چکے تھے وہ اسی گھر میں اسی کمرے میں رہ رہی تھی لیکن اس رات کے بعد اس کا شوہر واپس اس کمرے میں نہیں آیا تھا
پرسوں رات اسے خبر ملی تھی کہ اس کا شوہر حویلی میں ہی ہے اور اس کو یہی لگا تھا کہ وہ کمرے میں بھی آئے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اور یوں ہی ایک ہفتہ گزر گیا ۔
اسے یہ شخص بہت عجیب لگنے لگا تھا ایک تو اب تک اس نے اس شخص کو دیکھا نہیں تھا
اور اس کے کمرے میں بھی اس کی کوئی تصویر نہ تھی یہ الگ بات تھی کہ اس کی کوئی خواہش نہیں تھی اسے دیکھنے کی۔۔۔
لیکن پھر بھی وہ اس کے جسم و جان کا مالک بنا ہوا تھا تو اس کا چہرہ دیکھنا تو تھا ہی لیکن اب تک وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی اس رات کے بعد وہ شخص واپس کمرے میں ہی نہیں آیا
لیکن دو دن پہلے جو اس نے اس نے اس کے کپڑے وغیرہ استری کرکے الماری میں رکھے تھے وہ سارے غائب ہو چکے تھے یقینا اس کے سونے پر وہ آیا تھا کمرے میں اور اپنا سامان لے کر گیا
وہ کون سا اسے اپنی بیوی سمجھتا تھا کہ وہ اسے اپنے آنے جانے کی کوئی خبر دیتا
ملازمہ سے اسے پتہ چلا تھا کہ اس کی ماں کی طبیعت کافی زیادہ خراب رہتی تھی جب کہ آج کل وہ عمایہ کے بھائی کی تلاش میں دن رات ایک کر رہا تھا
اس کی حویلی میں واپسی بہت کم ہوتی تھی وہ حویلی میں واپس صرف اپنی ماں سے ملنے کے لیے ہی آتا تھا
ورنہ اس کی ذات اس کے لئے اتنی اہم نہ تھی کہ وہ اپنا وقت اس پر برباد کرتا ہے یہ بھی اسی ملازمہ کے ہی الفاظ تھے۔
شروع میں اسے یہ سب سنتے ہوئے تکلیف ہوتی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ اسے عادت ہوتی جا رہی تھی وہ دن رات بس ایک ہی دعا کرتی تھی کہ اس کا بھائی ان لوگوں کو کبھی بھی نہ ملے
وہ لوگوں کی پہنچ سے دور چلا جائے کیونکہ ایک بات تو اسے پتہ چل چکی تھی کہ جس دن بھی اس کا بھائی ان لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا وہ اسے جان سے مار دینے میں ایک لمحہ نہیں لگائیں گے
اور وہ جانتی تھی کہ آج نہیں تو کل اس کی موت بھی مقرر ہے یہ لوگ اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے جو اٹھتے بیٹھتے اس پر ظلم کی انتہا کرتے تھے ۔وہ اسے جان سے مارنے میں کتنا وقت لگاتے
ان کے لیے کہ اس کی زندگی کی کوئی اہمیت رکھتی تھی ۔انہیں تو بس یہ پتا تھا کہ وہ ان کے بیٹے کے قاتل کی بہن ہے
کسی کو اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا کہ وہ بھی ایک انسان ہے اس کے بھی کچھ جذبات ہیں اسے بھی درد ہوتا ہے
لیکن ان کے لئے تو تکلیف صرف وہی تھی جو انہیں ہو رہی تھی درد صرف وہ تھا جو وہ اپنے بیٹے کی جدائی میں سہ رہے تھے جذبات صرف ان ہی کے تھے
ان لوگوں کے لئے بس اپنا خون اہمیت رکھتا تھا اور وہ ایک ونی تھی جس کا احساس اس دن رات دلایا جاتا تھا
اسے آہستہ آہستہ ان سب چیزوں کی عادت ہوتی جا رہی تھی۔وہ ان سب چیزوں میں ڈھلتی جا رہی تھی اگر زندگی اسی طرح سے گزارنی تھی تو پھر کسی امید پر کیوں بیٹھے رہنا وہ ان سب چیزوں کو قبول کر چکی تھی۔
°°°°°°
اسے ایک ہفتہ ہو چکا تھا کالج جاتے ہوئے اور اس نے یہاں آنے کے بعد جو چیز سب سے زیادہ نوٹ کی تھی
وہ سر یشام احمر کہ کلاس میں سب سٹوڈنٹس کی تعداد تھی کوئی بھی ایسا سٹوڈنٹ نہیں تھا جو ان کی کلاس کو مس کر دیتا ۔
ایک تو ان کا لیکچر دینے کا انداز ایسا تھا کہ کسی کو بھی دوسری بار پڑھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی
اور پھر وہ اتنے سٹریکٹ تھے اسٹڈیز کے معاملے میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو ان کے رولز کو فالو نہ کرتا ۔
یہی ساری لڑکیاں دوسرے ٹیچر کی کلاس میں ایبسنٹ ہوتی تھی کیونکہ انہیں لیکچر لینے میں انٹرسٹ نہیں تھا
کچھ چلبلی سی لڑکیاں تو کہتی تھی کہ سر یشام احمر بہت زیادہ ہینڈسم ہیں اسی لئے ہم ان کی کلاس لیتے ہیں ان کا ڈانٹنے کا انداز بھی بہت ظالم ہے سیدھا دل پر لگتا ہے ۔
جب کہ حرم کو یہ ساری باتیں بالکل بھی پسند نہیں تھی کہ وہ ٹیچرز کو ایک الگ مقام دیتی تھی
وہ ہر کلاسز اٹینڈ کرتی تھی جلد ہی سر یشام احمر کے دماغ میں آنے والا پہلا امپریشن وہ ختم کر چکی تھی
وہ ایک لائق اسٹوڈنٹ تھی اور اپنے آپ کو نمایاں رکھنا بہت اچھے طریقے سے جانتی تھی اس کے مقابلے میشا بہت پیچھے تھی۔
لیکن وہ اپنی دوست کو اپنے ساتھ لے کر چلنا بہت اچھے طریقے سے جانتی تھی وہ اس کے نوٹس بنانے میں ہیلپ کرتی اس کو جو سمجھ نہ آتا وہ ٹوپک سمجھاتی۔
یہی تو وجہ تھی کہ میشہ اس جیسے دوست کو پا کر بہت خوش تھی کہ صرف خود آگے بڑھنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ اپنی دوست کو بھی آگے بڑھانے میں اس کی مدد کرتی ہے
سر یشام احمر نے دو دو لڑکیوں کے گروپس بنائے تھے اور ان دونوں کی دوستی کو دیکھتے ہوئے ہی شاید انہوں نے ان دونوں کو ایک گروپ میں شامل کیا تھا۔
یہ گروپ ایک لاِئق اسٹوڈنٹ اور ایک ایوریج اسٹوڈنٹ سے بن رہا تھا کہ ایک اسٹوڈنٹ اپنے ساتھی کی مدد کر سکے اور اس کام میں وہ دونوں ایک دوسرے کا بہت ساتھ دے رہی تھی۔
اپنی پڑھائی اور ذہانت کی وجہ سے وہ جلد ہی اپنے سارے ٹیچرز میں فیورٹ اسٹوڈنٹ بن چکی تھی کہ سب لوگ اسے بہت زیادہ پسند کرتے تھے ۔
لیکن اس نے نوٹ کیا تھا نہ جانے کیوں سر یشام احمر اس کی اس طرح سے تعریف نہیں کرتے جس طرح سے باقی ٹیچرز کرتے تھے
دو دن پہلے سر یشام احمر نےکچھ اورسٹوڈنٹس کی بہت تعریف کی تھی ان سب میں اس کا بھی شمار ہوتا تھا۔
لیکن اتنی بار نام لے لے کر سب کو بلانے کے باوجود بھی اس کا نام سر نے کہیں بھی شامل نہیں کیا تھا اور اس بات کا اسے بہت دکھ ہوا تھا وہ بولی کچھ بھی نہیں
لیکن جب بینچ پر واپس بیٹھی تو اس نے سر احمر کو دیکھا تھا جو مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
نہ جانے کیوں اسے ایسا لگا کہ سر احمر نے جان بوجھ کر اس کا نام اناؤنس نہیں کیا۔
اور اس بات کے بارے میں اسے بعد میں میشا سے بھی بات کی تھی جس پر اس نے کہہ دیا کہ ہو سکتا ہے کہ باقی لوگوں کی اسائنمنٹس اس سے بہتر ہو
یا ہو سکتا ہے کہ سر نے اس کی اسائنمنٹ پر زیادہ غور نہ کیا ہو
جو بھی تھا سب کی تعریفوں کے بیچ اپنا نام نہ سن کر اسے برا لگا تھا ۔
°°°°°
وہ قریباً بھاگتے ہوئے فون کی طرف آئی تھی کتنی دنوں سے وہ ان کے فون کا انتظار کر رہی تھی اور آخر کار آج اسے موقع ملا تھا اپنے نانو سے بات کرنے کے لیے
السلام علیکم نانو کیسے ہیں آپ میں کتنے دنوں سے آپ کے فون کا انتظار کر رہی تھی
کہاں مصروف ہو جاتے ہیں آپ میں نہیں آپ سے بات کرنے والی تھی لیکن پھر بھی سوچا کہ بچارے بزرگ ہیں اور بزرگوں کو دکھ نہیں دینا چاہیے اللہ ناراض ہوتا ہے وہ فون کان سے لگائے شروع ہو چکی تھی
جبکہ دوسری طرف موجود شخص نے مسکراتے ہوئے اس کے سلام کا جواب دیا اور اسے حال ہے خیریت پوچھنے لگا
بالکل بھی ٹھیک نہیں ہوں میں نانو ہمارے ہاسٹل میں کچھ دنوں کے بعد چھٹیاں ہو جائیں گی
آپ مجھ سے ملنے کے لیے آئیں گے نا اس بار ہم کہاں جائیں گے گھومنے کے لیے میں نے نا انٹرنیٹ پر وادی کالام کی کچھ تصویریں دیکھی ہیں بہت خوبصورت جگہ ہے اس دفعہ چھٹیوں پر وہاں چلیں؟؟؟؟
وہ اپنی دھن بولے جا رہی تھی جب کہ ان کی کسی بات کو محسوس نہیں کہا رہی تھی۔
میرا بچہ میری بات تو سنو وہ دراصل اس بار تمہاری چھٹیوں پر میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتا لیکن تم فکر مت کرو تم جہاں بھی جانا چاہتی ہو آرام سے جاؤ بوڈی گارڈ تمہیں وہاں لے جائے گا تمہیں بالکل بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔
اصل میں میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے اس دفعہ میں لمبا سفر نہیں کر سکتا اور تم جانتی تو ہو کے وادی کلام یہاں سے کتنی دور ہے اسی لئے میں نے تمہارے بوڈی گارڈ کو کہہ دیا ہے وہ تمہیں وہاں لے جائے گا ۔
نانو بہت پیار سے سمجھا رہے تھے جبکہ ان کے نام کا سن کر وہ اداس ہو گئی تھی
کیا ہوا ہے آپ کو نانو آپ کی طبیعت خراب ہے میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں پلیز میں حویلی آ جاتی ہوں آپ سے ملنے کے لیے
کسی کو کچھ بھی پتا نہیں چلے گا میں بس آپ سے مل کر واپس آ جاؤں گی اور ویسے بھی انکل تو میرے ساتھ ہی ہوں گے نا ۔
میں بس آپ کو دیکھ کر انکل کے ساتھ واپس آ جاوں گی اس کی آواز میں وہ بے قراری صاف محسوس کرسکتے تھے لیکن وہ اسے یہاں نہیں بلا سکتے تھے یہاں ان کی جان کو خطرہ تھا اگر دوسری حویلی والوں کو پتہ چل گیا۔
اگر اس کے بارے میں کسی کو بھنک بھی لگ گئی تو وہ اسے جان سے مارنے میں لمحہ نہیں لگائیں گے اور وہ اپنی نواسی کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے نہیں دیکھ سکتے تھے وہ ان کی اکلوتی بیٹی کی آخری نشانی تھی جو ان کے لیے بے حد عزیز تھی ۔
اس میں وہ اپنی بیٹی کو دیکھتے تھے وہ صرف چھٹیوں میں ہی اس سے ملنے کے لیے جاتے تھے
اور اسے اپنے ساتھ پاکستان کے مختلف علاقوں میں گھماتے تھے چھٹیاں وہ دونوں کے ساتھ گزارتے تھے ۔
ہر سال چھٹیوں پر وہ اس کے پاس چلے جاتے تھے جس سے وہ خوش ہو جایا کرتی تھی لیکن اس سال وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب رہنے لگی تھی
نہیں میں تمہیں یہاں نہیں بلا سکتا اور تم بھی اپنے دماغ سے یہ بات نکال دو کہ تم کبھی بھی یہاں آ سکتی ہو تم یہاں کبھی بھی نہیں آؤ گی چاہے کچھ بھی ہو جائے
بے شک میری موت ہی کیوں نہ واقع ہو جائے تو کبھی اس حویلی میں قدم نہیں رکھو گے اس گاؤں میں بھی قدم نہیں رکھو گی
تم کبھی بھی یہاں نہیں آؤگی تمہاری چھٹیوں کا میں کوئی انتظام کروا دوں گا میں جانتا ہوں کہ تم میرے بنا نہیں جانا چاہتی لیکن میں کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالوں گا
تم فکر مت کرنا لیکن چاہے کچھ بھی ہو جائے تو تم اس گاؤں میں مت آنا اگر تم اس گاؤں میں آئی تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گی
وہ بولے جارہے تھے جبکہ دوسری طرف سے دیدم کے لیے یہ ساری باتیں سننا قابل قبول تھا نہ جانے کتنی ہی دیر ہوئی ان کی باتوں کو سنتی رہی فون رکھنے کے بعد اس کی سوچوں کا مرکز نانو کی باتیں ہی تھی
وہ اسے کیوں خودسے دور رکھتے تھے کیوں اسے حویلی نہیں آنے دیتے تھے بس اسے یہ پتہ تھا کہ دوسری حویلی والے لوگ ان کے دشمن ہیں جو اس کی جان لینا چاہتے ہیں
لیکن وہ اس کی جان کیوں لینا چاہتے تھے کیا بگاڑا تھا اس نے کسی کا وہ تو کسی کو جانتی تک نہیں تھی
نہ جانے کون ظالم لوگ تھے جن کی وجہ سے وہ اپنوں سے دور تھی کاش وہ بھی اپنے اپنوں کے ساتھ ایک نارمل زندگی گزار پاتی
اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اپنے آپ کو اس ہوسٹل میں ہی پایا تھا اپنی انیس سالہ زندگی میں اس نے اب تک اپنا گھر اپنا گاؤں نہیں دیکھا تھا
°°°°°°°
