65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 54)

Junoniyat By Areej Shah

یہ سب کچھ کیا ہے اور آپ یہ اتنا سارا سامان میرے کمرے میں کیوں لے کر آئے ہیں۔۔۔۔۔؟

وہ انہیں اتنا سارے شاپنگ بیگز لاتے دیکھ کر کہنے لگی تھی

ریدم بچے یہ ساری شاپنگ ہم نے تمہارے لئے کی ہے سوچا تمہیں ضرورت ہوگی ان سب چیزوں کی ابھی تو ہم یہی لائے ہیں باقی اور جو بھی چاہیے تم خود اس کے ساتھ جا کر لے آنا

باقی جو ہمیں سمجھ آیا وہ ہم لے آئے ہیں ۔تایا ابو نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا

اور آپ کو کیوںکر ایسا محسوس ہوا کہ مجھے ان سب چیزوں کی ضرورت ہوگی ۔۔۔۔؟وہ الٹا ان سے سوال کرنے لگی

میری جان ہر انسان کی ضرورت ہوتی ہے تمہیں بھی تو ۔۔۔۔۔۔

جی جی آنٹی جی آپ لوگ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ہر انسان کی ضرورت ہوتی ہے لیکن میری ساری ضروریات میرے نانا جان پوری کرتے ہیں اور مجھے ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اٹھا کر لے جائیں یہ ساری چیزیں آپ اپنی بیٹیوں کو دے دیجئے

میں اپنی ضرورت کا ہر سامان اپنے ساتھ لے کر آئی ہوئی ہوں تو یہ میری ضرورت نہیں ہے وہ تائی امی کی بات کاٹتے ہوئے بولی تھی

تو بھی رکھ لو ہم تمہارے لئے بہت خوشی سے لے کر آئے ہیں تمہیں پتا ہے آج تک تمہارے تایا نے کبھی اپنی بیٹیوں کے لیے بھی شاپنگ نہیں کی یہاں تک کہ میرے لیے بھی کبھی کوئی چیز نہیں لے کر آئے لیکن تمہارے لئے انہوں نے خود جا کر یہ سب پسند کیا ہے، تو گفٹ کے طور پر ہی رکھ لو۔

تائی امی مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے بولی

سوری میں یہ سب کچھ نہیں رکھ سکتی وہ کیا ہے مجھے گفٹ لینے کی عادت نہیں ہے کبھی کسی نے دیا ہی نہیں

اور نانا جان کو پسند بھی نہیں ہے میرا کسی سے گفٹ لینا،اگر لوں بھی تو صرف ناناجان سے ہی لیتی ہوں تو سوری میں نہیں رکھ سکتی آپ یہ سب لے جائیں

اس دفعہ اس نے سارے بیگز بیڈسے اٹھاتے ہوئے تائی امی کے ہاتھ میں پکڑا دیے تھے ۔

آئندہ پلیز میرے لئے کچھ بھی لانے سے پہلے آپ مجھے بتا دیجئے گا تاکہ میں منع کر سکوں ۔

اف یو ڈونٹ مائنڈ مجھے آرام کرنا ہے وہ ان دونوں کے چہرے دیکھتے ہوئے بولی جہاں بالکل خاموشی چھائی ہوئی تھی مطلب صاف تھا کہ “میرے کمرے سے نکل جائیں میں آرام کرنا چاہتی ہوں ۔”

بیٹا بالکل ہم جا ہی رہے ہیں تم بھی ذرا کمرے سے باہر نکلا کرو تاکہ تم گھر والوں کے ساتھ گھل مل سکو ۔

مجھے اکیلے رہنے کی عادت ہے ۔ریدم ان کی بات کاٹ گئی تھی

تو بیٹا عادت بدلنے کی کوشش کرو۔۔ تایا ابو کےکچھ بھی بولنے سے پہلے تائی امی نے کہا تھا ۔

میں کیوں اپنا آپ بدلوں میں جیسی تھی ویسی ہی ہوں مجھے جھوٹے دکھاوے کرنا نہیں آتا اگر دل میں عزت اور محبت نہ ہو تو میں منہ پر بھی اچھی نہیں بنوں گی

اور آپ لوگوں سے بھی یہی امید کرتی ہوں کل تک آپ لوگوں کو میری ماں پسند نہیں تھی ۔تو آج اس کی بیٹی آپ کے لئے عزیز کیسے ہوگئی۔۔۔۔؟

کل تک آپ لوگ میرے باپ کی خوشی میں خوش نہیں تھے تو آج مجھ سے خوشگوار تعلقات کیوں بنانا چاہتے ہیں؟

میں ہمیشہ کے لئے یہاں پر نہیں آئی صرف ایک مجبوری کی وجہ سے آئی ہوں اور جلدی چلی جاؤں گی مجھے یہاں ساری زندگی نہیں رہنا تو پلیز آپ بھی یہ سب کچھ مت کریں ۔

میرے سامنے یہ جھوٹے محبت کے دکھاوے نہ کریں ۔مجھے یہ سب کچھ نہیں چاہئے میں ہمیشہ سے اکیلی تھی اور آگے بھی اکیلی ہی رہوں گی ۔

وہ اپنی بات ختم کرتی ان کے کچھ بولنے سے پہلے ہیں جا کر واش روم میں بند ہوئی تھی ۔جب کہ وہ دونوں خاموشی سے اس کمرے سے نکل آئے تھے اور ان کے وہاں رکنے کا کوئی مقصد ہی نہ تھا

°°°°°°

دیشم تم کمرے کے اندر آؤ وہاں باہر کیوں کھڑی ہو وہ دیشم کو دروازے سے باہر نکلتے دیکھ کر کہنے لگے تھے جب کہ وہ جو اجازت مانگنے والی تھی ان کے خود بلا لینے پر وہ اندر داخل ہو گئی

میں اس انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی دادا جان اس نے مجھے تھپڑ مارا ہے لیکن میں جانتی ہوں آپ کو ہر معاملے کی طرح اس میں بھی وہ صحیح اور باقی سارے غلط لگتے ہوں گے اسی لئے میں آپ کو بس اتنا کہنے آئی ہوں کہ مجھے اپنی عزت کا تھوڑا پاس رکھنے دیں میں اس شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔

وہ ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی تھی جبکہ کمرے کے اندر داخل ہوتے خداش کے قدم وہیں رک گئے تھے

دیشم تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم ابھی تم لوگوں کی شادی کو دن ہی کتنے ہوئے ہیں کہ تم اس سے طلاق مانگ رہی ہو ۔

تمہارے دماغ میں چل کیا رہا ہے ۔مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہیں کیا ہوتا جا رہا ہے

داداجان اس نے مجھے تھپڑ مارا ہے ۔دادا جان پتہ نہیں کیا کیا بولنے والے تھے کہ وہ بول اٹھی

بے شک اس میں غلطی تمہاری ہی ہوگی بتاؤ کیا کیا ہے تم نے ۔۔۔۔؟وہ غصے سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے تھے ۔

واؤ مطلب کہ تھپڑ کھا کر بھی غلطی میری ہی ہے اور وہ شخص آپ کو نظر نہیں آرہا جو اپنی بہن کا قتل کر کے آرام سے آزاد گھوم رہا ہے اس کے چہرے پر ایک ذرا سی بھی اس بات کی پشیمانی نہیں ہے کہ اس نے کسی اور کا نہیں بلکہ اپنی سگی بہن کا قتل کر دیا ۔

نا اسے اس بات کا دکھ ہے کہ اس کی بہن مر گئی آپ چاہتے ہیں کہ ایسے بے مروت بے رحم انسان کے ساتھ میں اپنی زندگی برباد کروں تو ایسا بالکل نہیں ہوگا آپ بتائیں آپ میرا ساتھ دیں گے یا نہیں ۔

نہیں میں تمہارا اس معاملے میں کوئی ساتھ نہیں دوں گا ۔دیشم جن باتوں کے بارے میں تم نہیں جانتی ہو ان کو یہیں پر ختم کر دو حرم کے معاملے سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں ہے اس کے ساتھ کیا ہوا اور کیوں ہوا یہ سارے معاملات ہمارے ہیں ہم دیکھ لیں گے ۔

تم بس دعا کرو اور جو تمہارا کام ہے تمہیں وہ کرنا ہے اپنے شوہر کی خدمت کرو اس کی دلجوئی کرو اس کو ایک اچھی زندگی دو اور اس کے ساتھ ایک اچھی زندگی گزارو

تم دونوں خوش رہا کرو میں تم لوگوں کو جلدی ہی گھومنے پھرنے کے لیے بھیجتا ہوں شادی کے بعد تم دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ وقت نہیں گزارا ۔

تم دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے ایک دوسرے کے قریب رہنے کی ضرورت ہے۔ شمالی علاقوں میں ٹرپ کے لئے جانا تھا ناں تمہیں ۔۔۔میں تمہیں اور خداش کو وہاں بھیجتا ہوں ۔

ان سب چیزوں سے نکل کر اپنی زندگی کو تھوڑا انجوائے کرو مجھے یقین ہے کہ تم اس کے ساتھ ۔۔۔۔

اس نے مجھے تھپڑ مارا ہے اور آپ مجھے اس کے ساتھ بھیج رہے ہیں ۔

بیٹا میاں بیوی میں چھوٹے موٹے جھگڑے چلتے رہتے ہیں بات طلاق تک کوئی نہیں لے کر جاتا اور جہاں تک حرم والا معاملہ ہے اس میں تم کچھ بھی بولنے کا حق نہیں رکھتی خداش بالکل صحیح ہے ۔

اورمیں اس معاملے پر کسی طرح کی بحث نہیں کرنا چاہتا میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میں حرم کا نام اس گھر میں نہیں سننا چاہتا ۔

اور میں اس آدمی کا نام نہیں سننا چاہتی اس کے ساتھ ایک لمحہ نہیں گزار سکتی اور آپ مجھے اس کے ساتھ باہر بھیج رہے ہیں

نفرت ہے مجھے اس آدمی سے نہیں رہنا مجھے اس کے ساتھ مجھے طلاق چاہیے ہر قیمت پر چاہیے اگر آپ میرا ساتھ نہیں دے سکتے تو یہ مت سوچیے گا کہ میں ہارجاؤں گی

آپ کو حرم کا نام نہیں سننا تو کوئی نہیں لے گا حرم کا نام لیکن پھر بھی میں اس کے ساتھ ساری زندگی برباد نہیں کروں گی یہ یاد رکھیے گا ۔

ان کے سمجھانے بجھانے کا یہ اثر ہوا تھا کہ وہ مزید غصے میں ان کے سامنے بدتمیزی کر گئی تھی اور خداش کی برداشت بھی یہیں تک تھی تبھی وہ کمرے میں داخل ہوگیا

دادا جان اس کا دماغ خراب ہے لیکن آپ فکر نہ کریں میں اس کا دماغ ٹھکانے لگا دوں گا اس کے طلاق لینے کے سارے شوق میں پورے کرتا ہوں ۔

اور آپ کو ہمیں جہاں بھیجنا ہے وہاں بھیجنے کی تیاری کریں ہم ضرور جائیں گے وہ ان سے کہتے ہوئے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے باہر لے گیا تھا

جب کہ دادا جان پریشانی سے بیٹھ گئے تھے اللہ نہ کرے کہ حرم کے کسی بھی راز سے خداش کا گھر خراب ہو۔

یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے لیکن اس راز کے ساتھ اور بھی بہت ساری چیزیں باہر آ جانی تھی اور شاید ان کا خون ہمیشہ کے لئے ان سے دور ہو جاتا ۔

°°°°°°

نکاح مبارک ہو! وہ اس کے کان میں گنگنایا تھا

آپ کو بھی مبارک ہو اللہ پاک یہ سفر نیک کرے۔ ساگر نے مسکراتے ہوئے اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دئیے تھے ۔

ان شاءاللہ سب کچھ ٹھیک ہو گا پریشان مت ہو اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔اور جس کے ساتھ اللہ ہوتا ہے اس کے ساتھ ساری کائنات ہوتی ہے ۔

اسے خود سے لگاتے ہوئے وہ ایک نئی زندگی کی شروعات کرچکا تھا آج ان کا اک نیا سفر شروع ہونے والا تھا وہ یہ تو جانتے تھے کہ زندگی کے اس سفر میں سوائے بھاگنے کے اور اپنوں سے دور جانے کے اور کچھ بھی حاصل نہ ہوگا

لیکن ایک درد بھری زندگی گزارنے سے بہتر یہ زندگی تھی جس میں وہ اپنے ہمسفر کے ہم قدم تھی ۔

وعدہ کرتا ہوں افشین میں تم پر کبھی کوئی مصیبت نہیں آنے دوں گا تمہاری طرف اٹھنے والی ہر بری نظر کو پہلے میرا سامنا کرنا پڑے گا میں تمہارا محافظ بن کر تمہاری حفاظت کروں گا وہ اسے اپنا یقین دلارہا تھا اور اسے اس کی ہر بات پر افشین کو دل و جان سے یقین تھا

°°°°°°

ساگر کے اچانک گھر سے غائب ہونے کے ساتھ ہی افشین کے گھر سے غائب ہونے کی خبر بھی پھیل چکی تھی وہ بہت بار افشین کا نام لے کر ان سب کو بتا چکا تھا کہ وہ اس کی محبت ہے

وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ایسا کوئی بھی قدم اٹھائے گا وہ ان لوگوں نے سوچا ہی نہیں تھا

ساگر ایک لڑکی کو گھر سے بھگا کر لے گیا تھا اور وہ بھی کوئی عام لڑکی نہیں بلکہ ان کے دشمن کی بیٹی وہ لوگ جتنا سوچ رہے تھے اتنا ہی زیادہ پریشان ہو رہے تھے

اگر وہ لوگ ساگر کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ اسے جان سے مار ڈالیں گے جبکہ ان کا اپنا بھی غصے سے برا حال تھا وہ بھی یہی سوچ رہے تھے کہ اگر ساگر نے ہی یہ حرکت کی ہوئی

تو اس کا وہی حال ہوگا جو اس گاؤں کے باقی لوگوں کا ہوتا آیا ہے یہ سزائیں انہوں نے ہی بنائی تھیں اور یہ قانون ان پر بھی لاگو ہوتے تھے لیکن اگر واقعی افشین ساگر کے ساتھ گھر سے بھاگی ہے تو اس کا انجام کیا ہوگا

کیا یہ گاؤں کے لوگ اسے جینے دیں گے نہیں اس کے ساتھ وہی ہو گا جو آج تک ہوتا آیا ہے اور جو افشین کا باپ کرتا ہے یعنی کہ اسے سرعام کاری کر دیا جائے گا اور ان کا بیٹا قتل ھوجائے گا ۔

ساگر کو ڈھونڈو اسے کیسے بھی گھر واپس لے کر آؤ اور اس لڑکی کو وہیں دفع کرو جہاں وہ ہے

ہمیں ہر قیمت پر یہ بات ثابت کرنی ہوگی کہ وہ لڑکی ہمارے ساگر کے ساتھ نہیں بھاگی بابا جان پریشانی سے دائیں بائیں چلتے ہوئے ان سب کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے اپنے بیٹے کو ان سب سے نکالنا آسان تو ہرگز نہیں تھا

کیونکہ وہاں افشین نے بھی ساگر کا نام لے کر سب کو بتایا تھا کہ وہ ساگر نامی بندے سے محبت کرتی ہے جو ان لوگوں کا دشمن ہے ۔

تین دن میں افشین کا نکاح تھا اور نکاح سے پہلے جو قدم اس نے اٹھایا تھا وہ اس کی زندگی کو موت کی طرف لے جانے میں بہت اہم کردار ادا کر رہا تھا

°°°°°°°°°

چھوڑو مجھے تم میرے ساتھ کچھ نہیں کر سکتے خبردار جو مجھ پر اپنا حکم چلانے کی کوشش کی میں تمہاری حکم کے غلام نہیں ہوں

سنا تم نے خداش کاظمی نفرت ہے مجھے تم سے۔۔میں تم جیسے انسان کے ساتھ ایک پل نہیں گزار سکتی۔۔ زندگی تو بہت دور کی بات ہے وہ چلائے جا رہی تھی جب کہ وہ اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے آیا تھا گھر میں سب لوگ ہی تماشہ دیکھ کر پریشان ہو چکے تھے

پہلے حرم کی موت نے اس گھر میں خاموشی کا سماں باندھ دیا تھا اور اب خداش اور دیشم کی آئے دن ہونے والی لڑائیوں نے گھر کا ماحول ہی خراب کر دیا تھا

پہلے اپنی ہی بیٹی کی موت کو لیکر تائی امی کا اتنا ٹھنڈا اور سرد انداز جیسے انہیں اپنی بیٹی کی موت سے کوئی لینا دینا ہی نہ ہو اور پھر بھی دیشم کا ضرورت سے زیادہ احتجاج ان سب کو حیرانگیوں کی گہرائیوں میں پہنچا چکا تھا ۔

دیشم حرم کے بہت کلوز تھی وہ ایک دوسرے کو سگی بہنوں کی طرح چاہتی تھی سامیہ اور دیدم نے تو ڈر کے مارے آواز ہی نہ اٹھائی تھی جب کہ دیشم نے انتہا کر دی تھی

دادا جان سے سوال پوچھنے کا حق کوئی بھی اپنے پاس نہیں رکھتا تھا سب کی طرف سے خاموشی تھی جب ماں باپ نے ہی اس قصے کو ختم کردیا تھا تو تایا چاچا بیچ میں بول کر کون سا تیر مار لیتے

اگر ماں باپ کو ہی بیٹی کی موت سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا تو پھر وہ کیا کر سکتے تھے اسی لیے حرم کی موت کے بعد گھر میں ایک خاموشی چھا گئی تھی جسے آج کل ددیشم کی چیخ و پکار توڑ رہی تھی

°°°°°°

وہ اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لایا اور بیڈ پر پھینکنے والے انداز میں دھکا دیا ساتھ ہی دروازہ بھی بند کر دیا تھا کہ آواز باہر نہ جائے ۔

پھر تیزی سے اس کے پاس آتے ہوئے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھ میں دبوچتے ہوئے اسے اپنے بے حد قریب کر لیا تھا

اب بتاؤ کیا چاہیے تمہیں ۔۔۔۔مجھ سے طلاق لو گی ہاں .۔۔۔طلاق لے کر کہاں جاؤ گی۔۔کوئی ٹھکانا ہے۔۔۔۔؟ تمہارا کیا کوئی ٹھکانہ ہوگا تمہارے تو ماں باپ کا ٹھکانہ نہیں ہے سب لوگ میرے گھر میں رہ رہے ہیں ۔

کس کی شہہ پر اتنا اچھل رہی ہو دیشم خداش کاظمی تمہارا باپ نکاح پر حق مہر میں دو کروڑ کی رقم لکھوا کر تم سے طلاق لینے کا حق چھین چکا ہے نکاح نامے پر تمہیں کسی طرح کا طلاق لینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے

تم کبھی بھی مجھ سے طلاق نہیں لے سکتی جب تک میں تمہیں خود اپنی مرضی سے نہ چھوڑنا چاہوں دنیا کا کوئی قانون کوئی عدالت تمہیں مجھ سے دور نہیں کر سکتی تم آج بھی میرے نام سے جانی پہچانی جا رہی ہو اور قیامت کے دن تک میرے نام سے جانی پہچانی جاؤ گی ۔

تم پر تو کیا تمہاری ایک ایک سانس پر میرا حق ہے خداش کاظمی ہوں دیشم جانم۔

میں نے زندگی کے کسی موڑ پر کوئی غلطی نہیں کی تو تمہیں لگتا ہے کہ میں تم سے نکاح کے وقت تم جیسی جذباتی اور بے وقوف لڑکی کو ایسا کوئی حق دوں گا جس سے تم میری زندگی برباد کر سکو۔۔۔۔؟

تو یہ غلط فہمی ہے تمہاری اسی لئے اب منہ بند کر کے آرام سے اس کمرے میں بیٹھی رہو ورنہ میں اگر شوہر والے حق جتانے پر آگیا تو صبح سب سے منہ چھپاتے پھرو گی ۔۔

اسی لیے اب بہتر ہے کہ تم وہ کام کرو جو بیویاں کرتی ہیں۔۔ کیا کہہ رہے تھے دادا جان کہ خدمت کرو میری میری دلجوئی کا سامان کرو ۔چیخنا چلانا بند کرکے اپنی زندگی کی طرف دیکھو ۔

لیکن نہیں تمہیں تو اپنی نامکمل وکالت جھاڑنی ہے ۔

وہ آہ بھر کر بولا

تو اس کے” نامکمل ” لفظ پر وہ اسے دیکھ کر رہ گئی ۔

میں سے کسی چیز کو نہیں مانتی میں تم پر کیس کروں گی اور ۔۔۔۔۔۔

آئی لو یو دیشم۔۔۔۔وہ پتا نہیں کیا کیا بولنے والی تھی جب اس کی آواز آئی

بہت محبت کرتا ہوں میں تم سے آج سے نہیں ہمیشہ سے زندگی کے ایک ایک پل میں، میں نے چاہا ہے تمہیں ۔۔۔تمہاری ہر بات ہر چیزعزیز ہے مجھے اتنی محبت میں نے کسی سے نہیں جتنی تم سے کی ہے دیشم۔

تم مجھے تکلیف دیتی ہو جب طلاق کے لیے کہتی ہو جب دور جانےکی بات کرتی ہو دیشم مجھے تکلیف مت دو میں بہت پیار کرتاہوں تم سے۔وہ تھک ہار کر اس کے سامنے اپنے جذبات بیان کرگیا۔

جھوٹ۔۔۔۔۔وہ ایک لفظ میں اس کے جذبات کو بےمول کر گئی تھی۔اس کے اس ایک لفظ پر وہ اسے دیکھ کر رہ گیا ۔وہ اتنا بے یقین تھا اس کے لیے ۔

میں سچ بول رہا ہوں دیشم اسے لگا جیسے وہ کسی گہری گھائی سے بول رہا ہو۔

آپ مجھے ہر طریقے سے بے بس کر ہی چکے ہیں خداش کاظمی تو یہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ جب چاہیں اپنی فتح کا جھنڈا میری جسم و جان پر لگا کے اپنی انا کو تسکین پہنچاسکتے ہیں

لیکن خدا کے لئے میرے سامنے یہ جھوٹی محبت کا ڈرامہ مت کیجئے گا ۔محبت بہت پاک لفظ ہے اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال نہ کریں آپ کے اصل سے واقف ہوں میں۔۔ وہ ایک بار پھر سے اس کی محبت کو جھٹلاتی نفرت سے بولی تھی ۔

اور بس یہیں تک برداشت تھی خداش کاظمی کی وہ اپنی محبت کو اس لڑکی کے سامنے بے مول کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا وہ اٹھ کر کمرے سے نکل گیا تھا

°°°°°