Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Part 2

صنم نے تھوڑی دیر تک اسے دیکھا اور جیسے ہی اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھنے لگی ایک دم رک گئ ۔۔
اسکا یہ عمل وہاں کھڑے کسی نفوس سے چھپ نہ سکا اور صنم کی اس حرکت سے صائم کو لگا اسکے پاؤں کے نیچے سے کسی نے ذمین کھینچ لی۔۔
صنم کے ہاتھ پیچھے کرنے پہ ایک دم ہال کی لائٹس بند ہوئ دو فوکس لائٹ صائم اور صنم پہ اکے ٹہری جب ایک سانگ پلے ہوا۔۔
کیا کرنے ہے عمروں کے وعدے!!
یہ جو رہتے ہیں رہنے دیں آدھے!!
صنم نے بجتے گانوں کے بول خود بھی دہرائے اور صائم کی طرف ہاتھ بڑھایا مسکراتے ہوئے۔۔
کم اون صائم ۔۔۔۔
ایک دم بہزاد کی اواز گونجی۔۔۔
جہاں صائم ایک دم شاکڈ ہوا!!
وہی حال میں موجود سب لوگوں کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔۔
صائم نے ہنستے ہوئے اپنا قلا اتار کے پاس کھڑے زویان کو دیااور صنم کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے کمر سے تھاما۔۔۔
“یہ جو رہتے ہیں رہنے دیں آدھے “
“ایک بار نہیں دو بار صحیح ایک رات کی کرلے تو یاری۔۔”
صائم نے صنم کے دلہن بنے سراپے کو گول گول گھما کے اسے کمر سے تھام کے اونچا کیا۔
صبح تک مان لے میری بات۔۔
صنم نے صائم کی چاروں طرف گھومتے ہوئے ہاتھ صائم کے کندھے پہ رکھ کے نیچے بیٹھی۔
“تو ایسے زور سے ناچی اج”
صائم نے صنم کو گول گول گھماتے ہوئے کھڑا کیا۔
“کے گھنگھورو ٹوٹ گئے۔۔
دونوں نے ایک ساتھ گانے کا اصل ہک اسٹیپ کیا۔۔
پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا۔۔۔۔
صائم نے مسکراتے لب اور بھیگتی آنکھوں سے صنم کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے۔۔
اور ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔۔
ایک دم ہال کی لائٹ اون ہوئ اور ان دونوں پہ بے شمار گلاب کے پھولوں بارش ہوئ ۔
پورے ہال میں تالیاں ایک بار پھر بجنے لگی سب ہی ان دونوں کو دیکھ کے خوش ہورہے تھے۔۔
زویان بازل نے تو خوشی سے صائم کو گلے سے لگالیا ادھر شانزے ہیر ہنزہ تینوں نے صنم کو دیکھ کے خوب ہوٹنگ کی۔۔

#

صنم کو ساری رسموں کے بعد صائم کے کمرے بیٹھایا گیا ۔۔
ہنزہ شانزے ہیر تینوں وہی براجمان تھی۔۔
تینوں ہی ڈانس والے آئیڈیا پہ صنم کو خوب چھیڑ رہی تھی۔۔
تو صائم کو بھی وہاج بازل زویان اور بہزاد چاروں نے گہرا ہو تھا۔۔۔
ویسے بہزاد ماموں یہ ڈانس والا آئیڈیا کس کا تھا۔۔؟
زویان نے کافی تجسس سے پوچھا !!
صنم کا اور کس کا !!اسی کا پلان تھا ویسے جب صنم نے صائم کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیا تھا صائم کی شکل دیکھنے والی تھی ۔۔
بہزاد نے جہاں یہ بات کہہ کا قہقہہ لگایا وہی ان سب کا بھی قہقہ نکلا اور صائم بیچارا شرم سے گردن جھکا گیا۔۔
وہ لوگ پھر باتوں میں لگ گئے جب صائم نے مظلومانہ شکل بنا کے بہزاد کو دیکھا اور منتیں کرنے والے انداز میں اسے آنکھوں سے اشارہ کیا۔۔
بہزاد نے اسکی آنکھوں کے اشاروں کو سمجھتے ہوئے کہا ۔۔
چلو بھئ بہت تھکن ہوگئ ویسے بھی کل ولیمہ ہے تین کپل کا ایک ساتھ اٹھ جاؤ چلو شاباش ۔۔۔
بہزاد کے بولنے پہ سب ہی اٹھنے لگے صائم نے مسکرا کے بہزاد کو دیکھا اور اسکا دیکھنا زویان سے چھپ نہ سکا اسنے مسکراتے ہوئے صائم سے کہا۔۔
ہاں بھئی ہمیں بھی پتہ ہے بہت جلدی ہے آپ کو کمرے میں جانے کی مگر زرا ٹہرے ہمیں نیک تو دے۔۔
شرم کرلے زویان پچھلے دو ہفتوں سے تو میرا کافی بینک بیلنس لوٹ چکا ہے اب عزت سے مجھے جانے دے ورنہ۔۔
اوہ دھمکی !!
زویان کے کہنے پہ صائم سمیٹ سب ہنسنے لگے وہاج اور بہزاد تو چلے گئے کیونکہ وہ دونوں کافی تھک گئے تھے اور کل کا سارا انتظام دیکھنا تھا۔
بازل اور زویان کو پھر سے وہی بیٹھتا دیکھ صائم کی بس ہوگئ اس نے زویان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے زبردستی کھڑا کرا۔
زویان نے ایک نظر صائم کو دیکھا اور دوسری نگاہ اپنے ہاتھ میں ڈالی جو صائم کے ہاتھ میں تھا ایک آ ئیبرو اچکا کے صائم کو دیکھا اور کہا۔
زرا پیار سے بھائ ایسا نہ ہو پوری رات کمرے کے باہر گزارنی پڑے۔۔
ارے میرے باپ یہ دیکھ میرے جڑے ہاتھ خود تو تم لوگوں نے اپنے اپنے وقت میں بھر پور انجوائے کیا اور جلدی کمرے میں گھس گئے میری باری میں تم لوگوں کو نجانے کون کون سی باتیں یاد آرہی ہے۔۔
صائم کے چڑنے پہ بازل اور زویان کا قہقہہ گونجا اور زویان نے کہا۔
اچھا اچھا اب ذیادہ روتلو نہ بنو جاو کیا یاد کرو گے مگر جانے سے پہلے یہ بتاؤ میرا کام کرا۔۔۔
ارے ہاں میرے بھائ ولیمے کے ایک ہفتہ بعد تیرا کام ہوجائے گا۔۔
اب جاو اپنی اپنی بیویوں کو کمرے نکالو ۔۔
بہت مشکلوں سے وہ سب گئے تو صائم نے فورا اپنے کمرے میں گیا۔۔
کمرے میں گھستے ہی صائم نے فورا دروازہ کو لاک کیا اور دروازے سے لگ کے سانس لینے لگا۔
جبھی اسکی نگاہ ڈریسنگ کے پاس کھڑی صنم پہ پڑی جو اپنی چوڑیاں اتار رہی تھی۔۔
صائم نے دھیرے سے اسے کمر سے تھام کے خود سے لگایا۔۔
صائم کی اس عمل سے چوڑیاں اتارتی صنم کے ہاتھ پل بھر کیلئے تھمے۔۔
میرا ویٹ نہیں کرا ؟
صائم نے اسکا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے کہا۔۔۔
صائم پچھلے 6 گھنٹوں سے میں نے یہ ہیوی ڈریس اور جیولری پہنی ہے۔۔
صنم کے بولنے پہ صائم مسکرانے لگا۔۔
صائم مجھے ایک بات بتائے؟؟
پوچھو جان صائم!!.
اتنی ہیوی جیولری ،اتنا ہیوی ڈریس کیوں لیا اپنے میرا۔۔؟
بس میری خواہش تھی تمہیں ایشین دلہن کے روپ میں دیکھنے کی۔۔
یہ بولتے ہوئے صائم نے اسکی کلائیاں چوڑیوں سے اذاد کری اور اسے گود میں اٹھالیا۔۔
صائم نے اسے واپس بیڈ پہ بیٹھایا اور کہا۔۔
افف صنم بہت ذیادہ ہیوی ڈریس ہے یہ تو۔۔
صائم نے اپنی کمر کو پکڑتے ہوئے کہا۔۔
اب پتہ چلا !!
میرا سوچے میں کب سے پہنی ہوئ ہو یہ ڈریس۔۔
اچھا ایک کام کرو پہلے ڈریس چینج کرو۔
اتنا بول کے صائم نے الماری میں سے ایک نائٹی نکال کے اسے دی جو پیور بلیک تھی اور پوری نیٹ کی تھی۔۔
صنم نے ایک نظر صائم کو دیکھا اور پھر ہونقوں کی طرح نائٹی کو۔۔
اپ تو کہہ رہے تھے اپ سدھر گئے!!!
صائم جو اپنی شیراونی اتار رہا تھا صنم کے سوال پہ ایک دم چونکا اور کہا۔
ہاں تمہاری قسم !!میں بلکل سدھر گیا ہو !!
مگر تم نے یہ سوال کیوں پوچھا۔۔۔!؟؟؟
اس کو دیکھ کے لگ تو نہیں رہا اپ سدھر گئے۔۔
صنم نے اپنے دانت پیستے ہوئے نائٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔
صنم کے اشارہ پہ صائم نے بہت مشکل اپنی ہنسی کنٹرول کی اور کہا۔۔
شادی کی پہلی رات اپنے بیوی کو نائٹی میں دیکھنا گناہ تو نہیں نہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کے میں بگڑا ہوا ہو۔۔
صائم میں یہ نہیں پہنے والی۔۔
صنم نے اسے سائیڈ میں رکھتے ہوئے کہا۔
اگر تم نے یہ نہیں پہنی تو میں خود تمہیں پہناو گا ۔
صائم نے اسے خود سے بے حد قریب کرکے کہا۔
صائم کی انکھوں میں اج جو خمار تھا صنم نگاہ جھکانے ہہ مجبور ہوگئ۔۔
صائم نے ایک نظر اسے دیکھا اور کمرے کی لائٹ بند کردی۔۔
صنم کے پاس اکے صائم نے اس کا دھیرے سے ڈوپٹہ اتارا۔۔
آہستہ آہستہ اسکی جیولری اتار کے اسکی چولی کی بیک کی دوری کھولی۔۔
صائم کی اتنی قربت پہ صنم کا دل بہت تیز تیز ڈھڑک رہا تھا اسکی انکھیں بند تھی ۔۔
صائم نے چولی کی دوریاں کھولی تو صنم کی پشت اسکے سامنے اوپن ہوگئ ہیوی ہونے کی وجہ سے صنم کی شرٹ کندھوں سے نیچے کھسک رہی تھی۔۔
صائم نے اسکی پشت پہ اپنے لب رکھ کے اسکے سینے پہ اپنا ہاتھ رکھ اسے اپنے سے لگالیا۔۔
صائم کی جسارتیں اب بڑھنے لگی اسنے صنم کے کندھوں پہ۔ب اپنے ہونٹ رکھے اور اسکی چولی اسکے تن سے جدا کردی۔۔
سائیڈ میں پڑی نائٹی اسے اٹھا کے دی اور کہا۔
مجھے اج اپنی پرانی صنم واپس ملی ہے صنم میں اج اسکے اور اپنے درمیان صرف پیار محسوس کرنا چاہتا ہو ۔۔
اتنا کہہ کے صائم نے ایک نظر نگاہیں نیچیں کرکے کھڑی صنم کو دیکھا جیسی اسکی نظر اسکے پھڑپھڑاتے ہوئے لبوں پہ گئ صائم سے برادشت نہیں ہوا۔۔
اس نے صنم کو اسکی پشت سے تھاما اور اسکے لبوں پہ جھک گیا۔۔
صنم میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کے صائم کو خود سے دور کرسکے اسنے بہت زور سے صائم کے سینے پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھے تھے مگر کوئ فائدہ نہیں تھا۔۔
کس کا دورانیہ تھوڑا لمبا ہوا تو صنم نے اپنے ناخن صائم کے سینے میں چبھوئے تب جاکے وہ صنم سے پیچھے ہوا اور اپنے ہونٹوں سے صنم کے ہونٹوں کی لپسٹک صاف کرنے لگا۔۔
صنم نے ایک پرشکوہ نگاہ صائم پہ ڈالی جب صائم نے کہا۔۔
ایسے مت دیکھو میں اس سے اگے بھی بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو جلدی سے جاؤ چینج کرکے او۔۔۔
صنم جو اپنی تک بنا چولی کے کھڑی تھی اور مسلسل صائم سے نگاہ چرا رہی تھی نہ چاہتے ہوئے بھی نائٹی اٹھا کے چینج کرنے چلی گئ۔۔
صائم نے اپنے کپڑے چینج کیے اور کھڑکی کے پاس کھڑے ہوکے صنم کا انتظار کرنے لگا۔۔
20منٹ ہوگئے مگر صنم سے ابھی تک نائٹی نہ پہنی گئ۔۔
ہاں بہت شوق تھا نہ تجھے صنم بی بی بھرے ہال میں اپنے شوہر کیساتھ ڈانس کرنے کا اب بگھتوں۔۔۔
صنم نجانے کیا کیا بڑبڑا رہی تھی دو بار اس نے نائیٹی نکال کے دیکھی اور واپس رکھی۔۔
صنم پانچ منٹ کے اندر تم اگر باہر نہیں ائ تو پھر میں اندر اکے تمہارے ساتھ نہانے کا ارادہ رکھتا ہو۔۔۔
صائم نے دروازے سے لگ کے یہ بات کہی۔
جیسے سن کے صنم کے ہاتھ سے نائٹی چھوٹتے چھوٹتے بچی۔۔اسنے جیسے تیسے پسینے میں شرابور ہوکے نائیٹی پہنی اور دروازہ کھولا۔۔
دروازہ کھلتے ہی کمرے کا نظارہ بلکل چینج تھا۔۔
کمرے میں لائٹ پرپل کلر کی دیم لائٹ اون تھی ہر جگہ خوشبو والی کینڈل جل رہی تھی۔
صنم کسی سحر میں جکڑے جیسے اپنے قدم اہستہ اہستہ بڑھانے لگی۔
جب وہ کمرے کے بیچ وبیچ پہنچی تو دھیر سارے موتیے کے پھول اس پہ گرے۔۔
تبھی اسے پیچھے سے اکے صائم نے کمر سے تھاما اور اسکے کندھے پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔۔
ایسا ہی کچھ تم چاہتی تھی نہ ہماری کی شادی پہلی رات۔۔
صائم کے کہنے پہ اسنے گھوم کے صائم کو دیکھا تو اسکی انکھوں میں ہلکی ہلکی نمی تھی ۔۔
اپ کو یاد تھا؟؟صنم نے اسکا چیرہ تکتے ہوئے کہا۔۔
صائم نے بہت ارام سے اسکی انکھوں کی نمی کو اپنے لبوں سے چھوا اور کہا۔۔
ابھی تو سرپرائز شروع ہوئے ہیں۔۔
یہ کہہ کے صائم نے اسے گود میں اٹھا کے بیڈ پہ لیٹایا اور اے سی فل کرکے کمفٹر اوڑھا اور لیٹتے ہی اپنا ایک ہاتھ سیدھا کرکے صنم کو اشارہ کیا۔
صنم بہت ارام سے اسکے ہاتھ پہ اکے کیٹ گئ جب صائم نے اسے اور خود سے لگایا اور سائیڈ دراز میں سے ایک بڑی ڈیری ملک چاکلیٹ نکالی ساتھ ساتھ اسکی منہ دیکھائ بھی۔۔
چاکلیٹ اس نے صنم کو دی تو مسکرانے لگی۔۔
کھاؤ ؟؟صائم کے کہنے پہ صنم نے تھوڑی سے چاکلیٹ منہ میں ڈالی تو صائم نے کہا۔۔
مجھے بھی کھلاؤ!!
صائم کی بات پہ صنم نے اسے چاکلیٹ کا ٹکڑا توڑ کے دیا جو صائم نے صنم سے لے کر دوبارہ صنم کے منہ ڈالا اور اسکے منہ سے چاکلیٹ کھانے لگا۔۔
صائم کی اس حرکت سے صنم کی سانسوں میں ہل چل ہونے لگی۔۔
صائم نے ادھی سے ذیادہ چاکلیٹ ایسی ہی کھائ پھر اسے منہ دیکھائ دی۔۔
ایک خوبصورت سے ڈائمنڈ کے ٹوپس ،ایک خوبصورت سی رنگ جس پہ صں بنا تھا اور اخر میں ایک لاکٹ جس پہ ڈوبل S لکھا تھا۔۔
صائم نے اس رات سب وہ کام کیے تھے جو کبھی صنم نے اسکے سامنے اپنی خواہش کا نام دے کے ظاہر کیے تھے یہاں تک کے منہ دیکھائ بھی صنم کی پسند کی تھی۔۔۔
صائم نے دھیرے سے اسپے جھکا اور کے جسم پہ نگاہ ڈالنے لگا جب صنم نے اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں سے چھپا لیا۔۔
صنم کی اس حرکت پہ صائم نے اسکے دونوں ہاتھ اسکے چہرے سے ہٹائے اور اسکے بالوں پہ اپنے لب رکھتے ہوئے کہا۔۔
اب تو ناراض نہیں ہو نہ صنم مجھ سے !!؟
صنم کی زبان جو فر فر چلتی تھی اسے تو ایک دم بریک لگ چکا تھا صائم کی قربت سے اس نے نفی میں گردن ہلائ۔۔
صائم کی گہرے گرین انکھوں میں اج اسے اپنے لیے عزت احترام محبت دیکھی۔۔
اجازت ہے؟؟
صائم کے اجازت مانگنے پہ صنم نے اپنی انکھیں بند کرکے اپنی رضامندی ظاہر کی۔۔
صائم بہت ارام سے اسکے لبو پہ جھکا اور اسکے گلے کی دوریاں کھولنے لگا۔ دوریاں کھول کے اس نے اسکے دل کے مقام پہ اپنے لب رکھے تو صنم نے اسکے کندھوں کو اپنے ہاتھوں سے مضبوطی سے تھام لیا۔
صائم نے اسکی گردن پہ لو بائٹ کی تو صنم نے اسکے کندھے پہ اپنے ناخن گاڑھ دیے مگر صائم پہ اج صنم کی قربت کا نشہ تھا اسکے جسم کی خوشبو وہ اج اپنے اندر پھر پور سمانا چاہتا تھا ۔
صنم کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کے اس نے صنم کو اج اپنا بنالیا تھا۔۔

#

پی سی ہوٹل میں شاندار ولیمہ کی تقریب جاری تھی ۔۔
تینوں کپلز اج شان محفل بنے ہوئے تھے۔۔
ڈارک مہرون میکسی میں ہنزہ تھی تو اسی کلر کے کوٹ میں بازل۔لائٹ بے بی پنک کلر کی میکسی میں ہیر تو اسی کلر کے کوٹ میں زویان ،ڈارک گرے کلر کی میکسی میں صنم تھی تو اسی کلر کے کوٹ میں صائم تھا۔۔
مگر ان سب کو بہزاد مات دے رہا تھا جو بلیک ڈنر سوٹ میں جان محفل تھا۔۔
بہزاد ماموں ایک منٹ بات سنے۔۔
بہزاد جو وہاج سے بات کررہا تھا۔ وہاج جو لائٹ گرین کلر کے کوٹ میں تھا دونوں نے ایک ساتھ اسے دیکھا تب بہزاد نے زویان سے کہا۔
ہان زویان بولو!!.
بہزاد ماموں ولیمہ ہمارا ہے !!!
ہاں تو!!
بہزاد نے ناسمجھی کی حالت میں زویان کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ولیمہ ہمارا ہے اور “جان محفل “اپ بنے ہوئے ہیں۔۔
زویان کے اتنے سڑے ہوئے منہ بناکے کہنے پہ بہزاد کیساتھ ساتھ وہاج کا بھی قہقہ نکلا۔۔
وہ دیکھے بسکٹی کلر کی ساڑھی میں جو دو لیڈیر ہیں نہ انہوں نے مسلسل اپکو نظروں کے حصار میں لیا ہوا ہے ۔۔
زویان نے دو خوبصورت سی لیڈیز کی طرف اشارہ کرا جو واقعی میں بہزاد کو دیکھ رہی تھی ۔
مگر بہزاد نے انہیں اگنور کیا اور زویان کا رخ شانزے کی طرف کر کے کہا۔۔
جو جٹ بلیک ساڑھی میں نیلی آنکھوں کیساتھ پوری محفل کا تو پتہ نہیں مگر بہزاد کی “دل جانم “بنی تھی ۔
میری نگاہیں صرف اسی پہ ہیں ۔۔
اسی نوک جھونک میں بہت اچھے طریقے سے ولیمہ نمٹ گیا۔
تھا ۔۔
ساری دلہنوں کو بہزاد نے وہاج کیساتھ گھر کی طرف روانہ کیا۔۔
باقی تینوں دولہے بہزاد کی ہیلپ کرنے رکے تھے کیونکہ کے ولیمہ کا انتظام بہت ہائ پیمانے پہ تھا۔۔
اپ نہیں چل رہے ؟؟
شانزے نے بہزاد سے کہا جو اسے اور عاشر کو مرتضی کیساتھ گھر روانہ کررہا تھا۔۔
میں ایک گھنٹے تک آجاؤ نگا اور ہاں میرا ویٹ کرنا اج تو۔م۔۔
بہزاد نے یہ بول کے جیسے شانزے کو پیار کرنا چاہا زویان نے اکے گلا کھنکھنارتے ہوئے بہزاد اور شانزے کی طرف ایا اور کہا۔۔
ویسے بہزاد ماموں اج تو کیا میں سمجھا نہیں !!
زویان نے بہت ہی معصومانہ انداز میں بہزاد سے پوچھا۔۔
جیسی سن کے شانزے تو شرما کے چلی گئ اور زویان کی گردن بہزاد کے بازوؤں میں تھی۔۔
سب نمٹا کے تقریبا پونے گھنٹے بعد بہزاد گھر کی طرف نکلنے لگا جب اسکے موبائل پہ ایک ویڈیو ائ۔۔
بہزاد جیسے جیسے ویڈیو دیکھنے لگا اسکے ہاتھ پاوں ڈھیلے پڑنے لگے۔۔
اس ویڈیو میں کوئ مرتضی کو بہت برا مار رہا تھا اور شانزے کے منہ پہ لگاتار کوئ تھپڑ مار رہا تھا۔۔
اسکا بیٹا عاشر بلک بلک کے رو رہا تھا۔۔
شانزے!!!!!!!!!
بہزاد اتنی زور سے چیخا ویڈیو دیکھ کے صائم زویان بازل تینوں اسکے پاس ڈورتے ہوئے ائے۔۔
ان تینوں نے پہلی بار بہزاد راجپوت کے چہرے پہ ڈر اسکی انکھوں میں آنسو دیکھے تھے۔۔
کیا ہوا ماموں؟؟
صائم نے چیخ کے پوچھا۔۔۔۔
تبھی اسکے نمبر پہ ایک کال ائ۔۔
دیکھ تو لیا ہوگا اپنے پیاروں کا حال تو بنا دیر کیے اس اڈریس پہ اجاو جو میں نے ویڈیو کیساتھ بھیجا ہے اور ہاں اکیلے ورنہ یہاں تمہیں اپنے پیارے نہیں صرف اسکی لاشیں ملے گی۔۔
اتنا کہہ کے کال کٹ ہوئ تو بہزاد ڈورتا ہوا حال سے باہر بھاگا اور وہ تینوں بھی اسکے پیچھے بھاگے جب بہزاد مڑ کے دوبارہ چیخا اور کہا۔۔
کوئ نہیں ائے گا پیچھے !!!
جاری ہے۔۔