Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 57

صبح ناشتے کی ٹیبل پہ اج بہت عرصے بعد اظہر صاحب موجود تھے۔۔
دائ جان تو اپنے بیٹے کو یو اپنی فیملی میں بیٹھا دیکھ بہت خوش ہورہی تھی۔۔
شاجہاں بیگم کا چہرہ دیکھ کے کوئ اندازہ نہیں لگا پارہا تھا کے وہ خوش ہیں یہ نہیں البتہ عترت بہت خوش تھی وہاج کئ بار انکھوں ہی انکھوں میں اسکی نظر اتار چکا تھا ۔۔
ان سب کے درمیان واحد صنم تھی جو خاموش بیٹھی تھی اور اپنا غصہ انڈے پہ نکال رہی تھی۔۔۔
صنم بیٹا اپکی پڑھائ کیسی جارہی ہے؟؟
اظہر صاحب نے کافی خوشگوار موڈ میں یہ بات کہی تھی مگر صنم کے وجود کو ریزہ ریزہ کرنے کیلیے یہ سوال کافی تھا اس سے پہلے وہ کوئ تلخ جملہ کہتی اسکے برابر میں۔ بیٹھی عترت نے ڈائنگ ٹیبل کے نیچے موجود اسکا ہاتھ زور سے دبایا۔۔۔
صنم نے پھر بھی جاتے جاتے اتنا ضرور کہا۔۔
اظہر صاحب میں جب تین سال کی تھی جب سے پڑھ رہی ہو حیرت ہے یہ سوال اج اپکو یاد ایا۔۔
صنم کیا بدتمیزی ہے!!!
صنم کے لہجہ پہ شاجہان بیگم نے ایک دم اسے ڈانٹا۔
اگر اپ چاہتی ہیں کے میں بدتمیزی نہ کرو تو اچھا رہے کے یہ صرف اپ سے اور آپی سے تعلق رکھے میرے وجود کو یہ بہت پہلے فراموش کر چکے ہیں۔۔
یہ بول کے صنم رکی نہیں اور گھر سے باہر چلی گئ اسے ہیر کی یونی جانا تھا۔۔
اظہر صاحب گردن جھکا کے بیٹھے تھے ایک دم ماحول افسردہ ہوگیا تھا مگر عترت نے فورا کہا۔۔
پاپا اپ اداس نہیں ہو ایک دن سب صحیح ہوجائے گا اپکی یہ ہی بیٹی اپکے گلے لگے گی۔۔
وہاج صاحب کو پتہ تھا صنم کا رویہ اظہر صاحب کے ساتھ اچھا نہیں مگر کبھی اسنے جاننے کی کوشش نہیں کی مگر اب وہ جاننے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
شاہجاں بیگم بھی نگاہیں جھکا کے بیٹھی تھی انہوں نے بہت کوشش کی تھی صنم کے رویہ کو چینج کرنے کی مگر ناکام رہی۔۔۔

#

ویسے مجھے لگتا تھا ہیر ہم بہت اچھے دوست ہیں؟
صنم نے کافی کا گھونٹ پیتے ہوئے کہا۔۔
ہیر جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھی صنم کے سوال پہ ایک دم چونکی اور کہا۔۔
تم میری سب سے اچھی دوست ہو صنم !!یہ بات تم نے کیسے سوچی کے ہم اچھے دوست نہیں۔۔۔
اگر سب سے اچھی دوست ہوتی تو زویان کے بارے میں مجھ سے نہیں چھپاتی۔
ککا۔۔اااا۔ مطللب!!!
ہیر کے گھبراہٹ دیکھتے ہوئے صنم نے اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کے کہا۔۔
میں کل رات سب سن چکی ہو ہیر تم نے کال کٹ نہیں کری تھی۔۔۔
صنم کے بولنے پہ ہیر کی انکھوں میں نمکین پانی بھرنے لگا ۔۔
صنم جس شخص سے نفرت ہو اس شخص کا ذکر اپنوں سے نہیں کیا جاتا ۔۔۔
میں نے فیصلہ کرلیا ہے اس سے علیحدگی کا۔۔
مجھے اسکی شکل سے بھی نفرت ہے میں بہت جلد پاپا کو سب بتادونگی۔۔۔
بھائ نے بھی میرا ساتھ دینے کو کہا ہے۔۔
چلو یہاں تو اسنے کچھ غیرت کا ثبوت دیا۔۔صنم نے ہیر کی بات پہ کافی طنزیہ کہا۔۔
صنم جب بھی میں نے بھائ کا ذکر تمہارے سامنے کیا ہے یہ تو تم اس جگہ سے چلی جاتی ہو یہ پھر غصہ میں کچھ بڑبڑاتی ہو ۔۔
کیا بھائ نے تمہارے ساتھ کچھ غلط۔۔!!!اگے کی بات بولتے ہوئے ہیر نے خود کا بعض رکھا ۔۔
ہیر کبھی کبھی ہم غلط وقت پہ غلط شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔۔
ہیر کیا تم بھائ سے !!!؟؟
صنم مجھے سچ سچ بتاؤ بھائ نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے تمہیں ہماری دوستی کی قسم
ہیر کے پوچھنے پہ صنم نے اپنی اور صائم کی ساری اسٹوری اسے سنا دی۔۔
صنم کی انکھوں سے مسلسل آنسو گررہے تھے مگر اسنے زیادہ دیر تک انہیں بہنے نہیں دیا اور بے دردی سے رگڑ ڈالا۔۔
تمہارے بھائ ایک زناکار ہے ہیر ۔۔۔
میں اسے کبھی معاف نہیں کرونگی !!!
کبھی نہیں میں نے توٹھ کے چاہا تھا میری زندگی میں انے والا وہ پہلا مرد تھا۔۔
میں نے تو کبھی کسی غیر ادمی سے تعلقات نہیں رکھے تو میرے نصیب میں اللّٰہ نے ایک زناکار کا ساتھ کیوں رکھا ۔۔۔۔۔۔
صنم کے کسی سوال کا جواب ہیر کے پاس نہیں تھا۔۔۔

#

ہیر گم سم سی لان میں بیٹھی تھی رات کا کھانا بھی اس نے ٹھیک طریقے سے نہیں کھایا۔۔
زویان اور اسکا سامنا کھانے کی ٹیبل پہ ہوا تھا مگر زویان نے اسے نہیں دیکھا تھا۔۔
ہیر خاموشی سے اسمان کی طرف دیکھ رہی تھی جب صائم اسکے برابر میں اکے بیٹھا اسنے نوٹ کیا تھا کے ہیر بہت چپ چپ ہے۔۔۔

#

ہاں خالہ جان اظہر مجھ سے وہاج کے بیٹے صائم کے رشتے کی بات کرکے گئے ہیں صنم کے لیے میں نے بھی وہ لڑکا دیکھا ہے اچھا اور نیک لڑکا ہے مجھے تو دل سے یہ رشتہ قبول ہے میں سوچ رہی ہاں کردو وہاج میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے بہت خوش رہے گی صنم وہاں۔۔
اپکے شوہر ہوتے کون ہے ؟؟
میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے۔۔۔۔
صنم جو چائے دینے ائ تھی دائ جان اور شاہجاں کی باتیں سن کے اگ بگولہ ہوکے چیخنے لگی۔
صنم کی بات سن کے شاہجاں اگے بڑھی اور ایک زور دار چماٹ اسکے منہ پہ دے مارا۔۔۔
دائ جان کیساتھ ساتھ صنم نے بھی شاکڈ انداز میں اپنی ماما کو دیکھا۔۔۔۔
بس بہت ہوا بہت دنوں سے تمہاری بدتمیزی برداشت کررہی ہو میں۔۔
تمہارا باپ ہے وہ یہ حقیقت بدل نہیں سکتی تم ۔۔
اج میں تمہیں بتاتی ہو انہیں اپنی غلطی کا احساس تمہارے پیدا ہونے سے پہلے ہوگیا تھا یہ میں تھی۔
جس نے ان سے تعلق توڑا۔۔
اپ کے شوہر ہونگے میرے کچھ نہیں لگتے اور اج یہ بات میں انکو اچھے سے سمجھا دونگی۔۔
یہ بول کے صنم نے گاڑی کی چابی اٹھائ اور تیزی سے گھر سے نکلی۔۔

#

بھائ پتہ ہے کبھی کبھی ماں باپ کا کچھ غلط کرا اولاد کے اگے اتا ہے۔۔
پاپا نے ماما کا ساتھ مجبوری میں چھوڑا تو انکی بیٹی سے کسی نے نکاح صرف دیکھاوے کیلیے کیا۔۔
کہنا کیا چاہ رہی ہو تم ہیر۔۔
صائم کو تھوڑا تعجب ہوا ہیر کے لہجے پہ۔۔۔
اسی طرح بھائ کا کیا ہوا بہنوں کے اگے اتا ہے بھلے وہ کتنی دور ہو ۔۔
صاف صاف بولو ہیر !!صائم کی چھٹی حسس کچھ اور اشارہ کررہی تھی۔۔
بھائ اپکو دل بہلانے کیلیے صنم ہی ملی ۔۔ہیر کا کہنا تھا کے صائم نے فورا اپنی نگاہیں جھکائ۔۔۔
اپکو پتہ بھائ وہ اپ سے اتنی محبت کرتی تھی کے اپ سوچ بھی نہیں سکتے بھائ۔۔اسکی زندگی میں انے والے اپ پہلے مرد تھے۔۔
اپ نرد جو ہر عورت کے دل سے اسکی نیت سے واقف ہوتے ہو اسی عورت کا دل کیوں توڑتے ہو جو اپ سے مخلص ہوتی ہے۔۔
اپنے اسکی محبت کو کسی اور کیساتھ۔ اگے کی بات اس سے پہلے وہ بولتی ۔۔۔
ایک گاڑی زن کرکے گھر کے اندر داخل ہوئ۔۔
اس سے پہلے صائم کچھ سمجھتا ہیر نے ایک دم کہا۔۔۔
صنم اس وقت ۔۔۔
ہیر اس سے پہلے صنم تک پہنچتی صنم تقریبا ڈورتے ہوئے اندر گئ ۔
ہیر بھی اسکے پیچھے بھاگی اور صائم بھی۔۔
اظہر صاحب اظہر صاحب ۔۔
صنم نے ٹی وی لانج میں چیخ چیخ کے اظہر صاحب کو پکارا۔۔
اظہر صاحب جو وہاج صاحب سے صنم اور صائم کے رشتے کا ذکر کرہے تھے تیزی سے نیچے پہنچے ۔۔
دیکھتے دیکھتے پورا گھر نیچے جمع ہوگیا۔
صنم بیٹا تم اس وقت سب خیریت؟؟
اظہر صاحب نے جیسے ہی پوچھا ہیر ایک بار دوبارہ چیخ پڑی۔۔
مجھے بیٹا مت بولے اپ اظہر صاحب ۔۔
و
زویان صائم ہیر سب ہی سن کھڑے تھے جبکہ نمرہ بیگم کو ہول اٹھنے لگے صنم کو دیکھ کے۔۔
اپ ہوتے کون ہیں ؟میرے لیے کسی کا رشتہ لانے والے ؟؟
ہیں کون اپ میرے؟؟
زویان جسکا دماغ پہلے ہی ہیر کی وجہ سے خراب ہورہا تھا ۔۔
غصہ میں صنم کی طرف بڑھا اور کہا۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئ میرے ڈیڈ سے اسطرح بات کرنے کی۔۔
زویان کا ایسا بولنا تھا صنم جو پہلے ہی غصہ میں تھی زویان کے منہ پہ ایک زور دار تھپڑ مارا اور کہا۔۔
فورا پیچھے جاکے کھڑے ہو اپنی ماں سے پتہ کرنا میں کون ہو ؟پوچھنا ان سے کے انہوں نے تمہارے باپ سے شادی کرنے کیلئے کتنی زندگیوں کو داو پہ لگایا۔۔
صنم کا ٹھپڑ کھاکے زویان دو منٹ کیلئے ہوگیا اسے لگا اسکے کان میں سوئیاں چبھ رہی تھی۔۔
اپنے کسے سوچا میرے بارے میں ؟؟
جس بیٹی کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اپنے اسے دھتکار دیا اسکے بارے میں کیسے سوچا اپنے۔۔۔
وہاج کو اب سمجھ میں ایا بات کیا یے۔۔
وہ صنم کی طرف بڑھا اور کہا۔۔
صنم بیٹا میں اپکو سمجھاتا ہو اپ اندر او میرے ساتھ۔۔
مجھے کسی کی کوئ بات نہیں سننی ۔۔۔
صنم مسلسل رو رہی تھی جب اسکی نظر صائم پہ پڑی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
صنم نے وہاج صاحب کو جھٹکا اور تیزی سے صائم کی طرف بڑھ کے اسکا کالر پکڑ کے کہا۔۔
ہمت کیسے ہوئ میرے لیے رشتہ بھیجنے کی۔۔؟؟
صائم نے غور سے اپنے سامنے کھڑی صنم کو دیکھا بکھرے بال جو پونی میں قید تھے کاجل بھری انکھوں سے بہتے آنسو اسکا حلیہ دیکھ کے صائم کے دل پہ گھونسہ سا لگاا۔۔
صنم مجھے نہیں ہتہ اس معملے کا !!.صائم نے ہلکا سا کہا۔
واہ صائم وہاج واہ کیا کہنے تمہارے ایواڈ ملنا چاہیے تمہیں تمہاری اس بیغیرتی پہ۔۔
ویسے اس خاندان کے مردوں سے غلطیاں بہت ہوتی ہے اور پھر مظلوم بن کے معافی معافی کا بینل اپنے گلے لگائے گھومتے ہیں۔۔
ایک نے بیٹے کے چکر میں بیٹی کا وجود فراموش کرا اب اکے وہ کہتے ہیں غلطی ہوگئ۔۔۔۔
اظہر صاحب نے کرب سے اپنی انکھیں بند کی جبکے زویان نے فورا اپنی ماں کو دیکھا !!
ایک نے نکاح کے نام پہ ایک عورت کو انتظار کی سولی پہ لٹکایا اب اکے کہتے ہیں غلطی ہوگئ۔۔
وہاج صاحب کی نظریں شرم سے جھک گئ صنم کے جملے پہ۔۔
ایک نے نکاح جیسے پاک رشتے کو ہتھیار بناکے ایک لڑکی کی محبت کی دھجیاں اڑا دی اسکا سب کچھ چھین لیا۔۔اب اسے یاد ارہا ہے اسے محبت ہوگئ اپنی منکوحہ سے۔۔
صنم کے اس جملے پہ سب نے اسے دیکھا۔۔۔۔
اب کی بار اسکی نظریں زویان پہ تھی جو گال پہ ہاتھ رکھے اسے ہی گھور رہا تھا مگر صنم کے بولنے پہ بلا جھجک اسکی نگاہ ہیربپہ گئ جو نگاہ جھکا کے کھڑی تھی۔۔
اور تمہارے تو کیا کہنے مسٹر صائم وہاج ۔۔۔۔
کسی کی محبت کو بہت ارام سے کسی اور کیساتھ بستر پہ روندھ کے اسے دھوکا دے کے اج شرفا بنے بیٹھے ہو۔۔
مجھے تم سے نفرت ہے صائم تمہارا وجود میری نظر میں کچڑا ہے۔۔
اوقات نہیں تمہارے میری زندگی میں انے کی۔۔
وہاج بہت غور سے صائم اور صنم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
برائے مہربانی مسٹر اظہر صاحب اج کے بعد میرے لیے کسی!!!
ابھی اگے کی بات صنم بولتی شاہجاں بیگم جو اسکے ہیچھے ائ تھی اور اندر اتے ہوئے صنم کی ساری باتیں سن چکی تھی تیزی سے اگے بڑھی اور صنم کو رخ اپنی طرف موڑ کے ایک کے بعد ایک طمانچہ اسے مارا۔۔۔
مارے ماما جتنا مارنا ہے مارے میرے وجود کو فراموش کرنے والا میرا باپ نہیں ہوسکتا مجھے نفرت ہے اظہر صاحب اپ سےنفرت۔۔۔۔
صنم اس سے پہلے کچھ اور بولتی۔۔۔
ایک دم لانج میں نمرہ کی اواز گونجی۔۔
اظہر ۔۔۔۔۔
نمرہ کے چیخنے پہ سب اظہر صاحب کی طرف متوجہ ہوئے جو اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے نیچے بیٹھتے جارہے تھے ۔۔
جاری یے۔۔۔