Rate this Novel
Episode 68
ہیر کو اپنے سامنے ہونقوں کی طرح دیکھ کے زویان جتنی گالیوں سے صائم کو نواز سکتا تھا نواز چکا تھا ہیر زویان کے قریب ائ اور کہا۔۔
یہ کونسی گھٹیا حرکت کی ہے اپنے؟
بھائ ایسے اسطرح صنم کو لے کے کہاں گئے ہیں ؟
کیا کرنے والے ہیں ؟صائم بھائ انکے ساتھ ؟؟
اففف میری کراچی ایکسپریس تھوڑا بریک مارو !!.زویان نے اگے بڑھ کے اسکے ہونٹوں پہ اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔
بتاتا ہو سب چلو میرے ساتھ!!!
زویان اسکا ہاتھ پکڑ کے ڈریسنگ روم میں لے ایا۔۔۔
#
شانزے نے ایک نظر اپنے ہاتھ میں موجود مراد کے ہاتھ کو دیکھا اور ایک نظر مراد کو !!
شانزے نے اپنا ہاتھ بڑے آرام سے مراد کے ہاتھ سے چھڑوایا اور ایک زناٹے دار تھپڑ مراد کے منہ پہ دے مارا۔۔
تھپڑ اتنا شدید تھا کے جہاں مراد کے پاؤں اپنی جگہ سے ہلے وہی اسکے چہرے پہ بھی شانزے کی انگلیاں چھپ چکی تھی۔۔
شانزے نے غصہ میں اسکا کالر تھاما اور کہا۔۔
اج کے بعد شانزے راجپوت کے اس پاس اتے ہوئے اسکو چھوتے ہوئے یہ تھپڑ زرا یاد کرلینا!!!!
تمہارے جیسے مرد وقت انے پہ اپنی بہن بیٹیوں کو بھی داؤ پہ لگا سکتا ہے اپنی ضروریات کیلئے ۔۔
شانزے !
!مراد غصہ میں چیختے ہوئے دوبارہ اس تک ایا جب شانزے نے ایک اور تھپڑ کو اسکے گال کی زینت بنایا اور کہا۔۔
پورا نام لو میرا!!
شانزے بہزاد راجپوت!!!!
اتنا کہہ کے شانزے نے بہت ارام سے سوپ کا باؤل اٹھایا اور کچن سے نکل کے اپنے پاپا کے کمرے کا رخ کیا ابھی کمرے میں پہنچی تھی کے وہاں بہزاد کو بیٹھا دیکھ کے چونکی بھی اور ساتھ ساتھ خوش بھی ہوئ۔۔
آسلام علیکم بہزاد!!
وعلیکم السلام!!
اپ کب ائے؟؟
بس ابھی ابھی ایا۔۔
عاشر کو نہیں لائے اپ؟؟
اسے وہاج بھائ اپنے ساتھ لے گئے تھے نہال کی شادی میں ماما بھی وہی گئ ہیں صبح آئینگے!!!
بہزاد نے مسکرا کے شانزے کو دیکھا اور شانزے اسکی گہری گرین انکھوں میں چمک دیکھ کے سمجھ گئ کے اج اسکا ارادہ کیا ہے۔۔۔
شانزے بیٹا اج اپ بہزاد کے ساتھ چلی جاؤ اپنا گھر بھی دیکھو دو دن سے یہاں رکی ہو۔۔۔
ارے نہیں نہیں انکل ابھی شانزے اپ کے پاس ہی رکے گی۔
بہزاد نے کس دل سے یہ بات کہی تھی یہ وہی جانتا تھا کس طرح اس دو دن بیڈروم میں بغیر شانزے کے گزارے یہ وہی جانتا تھا۔۔۔
اسلئے اج اسکا شدت سے دل چاہ رہا تھا شانزے کو اپنی باہوں میں لینے کا۔۔
بھلے ایک دو دن میں یہ دوبارہ آجائے۔۔۔مگر ابھی یہ تمہارے ساتھ جائے گی کیونکہ میں بلکل ٹھیک ہو۔۔
جواد صاحب کے تھوڑے بھرم سے بولنے پہ بہزاد نے مسکرا کے شانزے کو دیکھا تو وہ مسکرا رہی تھی۔۔
تھوڑی دیر بیٹھ کے وہ لوگ جانے لگے جب باہر لان میں بہزاد اور شانزے کا ٹکراؤ مراد سے ہوا۔۔
ارے مراد کیسے ہو؟
بہزاد نے رک کے اسکا حال چال پوچھا اور مراد بہزاد کو ایسے گھور رہا تھا جیسے ابھی اسے جان سے مار دیے گا۔
میں ٹھیک ہو!
اتنا کہہ کے مراد اگے جانے لگا جب بہزاد نے اسے دوبارہ روک کے اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔
یار یہ تمہارے گال پہ کس کا ہاتھ چھپا ہے ۔۔
بہزاد کے بولنے پہ شانزے اگے بڑھ گئ اور اسکے اگے بڑھتے ہی بہزاد نے غصہ میں اسکا کالر پکڑ کے جھٹکا دیا۔۔
شانزے کے ٹھپڑ سے تو خالی اسکے قدم ڈگمگائے تھے مگر بہزاد کے خالی کالر پکڑنے سے وہ پورا کا پورا ہل گیا تھا ۔
بہزاد نے جب اسکے ہلتے وجود کو دیکھا تو طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا۔۔
ایسی حالت نہیں تمہاری کے کوئ بھی تیز ہوا کا جھونکا برداشت کرسکو لہذا اپنی حالت پہ ترس کھاؤ ۔۔
اج جو تم نے جرات کی ہے نہ مسسز راجپوت کا ہاتھ پکڑنے اسکے بدلے کا ردعمل تم نے بہت اچھے سے اپنے اس گال پہ محسوس کیا ہوگا مسسز بہزاد راجپوت سے اسلیے تمہیں بہزاد راجپوت ارام سے سمجھا رہا ہے کیونکہ اگر میں نے، شانزے کے طریقے سے تمہیں سمجھایا تو خاما خائ میں جو تمہارے یہ دودھ کے دانت ہے نہ جبڑے سمیت ٹوٹھ جائینگے اسلیے ائندہ احتیاط رہے۔
اتنا بول کے بہزاد نے اسکا کالر چھوڑا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔
#
کیا ؟؟ اپ لوگ پاگل ہوگئے ہیں؟؟
ہیر تقریبا چیخ پڑی زویان کی ساری بات سن کے۔۔
زویان نے ایک بار پھر اسے خود سے قریب کرکے اپنا ہاتھ اسکے منہ رکھا اور کہا۔۔
چیخ کیوں رہی ہو یار تمہیں میری قسم اگر اب تم چیخی تو!!
زویان نے یہ کہہ کے ہیر کے منہ سے اپنا ہاتھ ہٹایا تو وہ غصہ میں زویان کو گھورنے لگی۔۔
ہیر دیکھو صائم بھائ اج پوری کوشش کرینگے اپنے معملات صنم کیساتھ صحیح کرنے میں تم بجائے اپنے بھائ کیلئے دعا کرنے کے یہاں مجھ سے لڑ رہی ہو۔۔۔
زویان یہ کونسا طریقہ ہے کسی سے اپنے معاملات کلئیر کرنے کا؟؟
اگر صنم نے کوئ ہنگامہ کردیا پھر!!!
یار تم اتنا نگیٹیو کیوں سوچ رہی ہو اچھا سوچو نہ!!
اچھا اور ابھی نہال بھائ صائمہ باجی نے پوچھ لیا صنم کا پھر؟؟
ان دونوں کو پتہ ہے سب وہ بھی اس پلان کا حصہ ہیں!!!
زویان کی بات پہ ہیر کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔
زویان نے اسکے گال پہ اپنے ہونٹ رکھے اور کہا۔۔
اتنی حیرانگی تم پہ سوٹ نہیں کرتی بس اب تمہیں اتنا کرنا ہے اپنے بھائ کیلئے کے جب گھر کے سب بڑے پوچھے کے صنم کہاں ہے تو کہنا شانزے کی طرف گئ اسکی طبیعت تھوڑی ٹھیک نہیں۔۔
زویان میں نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔۔ہیر نے معصوم سی شکل بنا کے کہا!!
کوئ بات نہیں کچھ چیزیں انسان زندگی میں پہلی بار کرتا ہے۔۔
زویان نے اسکا ہاتھ تھام کے اگے بڑھتے ہوئے کہا!!.
اب کس زندگی تم نے پہلی بار کی تھی نہ مجھے۔۔؟؟زویان نے اڈے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔۔
اپ سے کس نے کہا کے میں نے کس پہلی بار کری وہ بھی اپکو!!!
ہیر نے یہ بات بول کے بہت مشکل سے اپنی مسکراہٹ دبائ اور اگے بڑھ گئ۔
مگر زویان وہ اس بات پہ ناراض ہونے کے بجائے اسکی گالوں پہ کس کرتے ہوئے کہا۔۔
واقعی میں میری بیوی کو جھوٹ بولنا نہیں اتا۔۔
زویان کی بات پہ ہیر نے اسے حیران کن نظروں سے دیکھا اور مسکرانے لگی۔
#
صائم صنم کو بہزاد کے فارم ہاوسں پہ لے ایا جو ذیادہ دور نہیں تھا۔
گاڑی سے اتر کے صائم نے بہت ارام سے وہ صنم کو اپنی باہنوں میں اٹھایا اور اندر بڑھ گیاا۔۔
احتیاط سے اسے بیڈ پہ لیٹایا اور گھڑی میں ٹائم دیکھا تو اسے لگا پہلے وہ عشاء کی نماز پڑھ لے۔۔
وضو کرکے اسنے عشاء کی نماز کی نیت باندھی تب صنم کو ہوش ایا اسکا سر بری طرح سے بھاری ہو رہا تھا اسنے انکھیں کھول کے چھت کو گھورا دو منٹ تم اسے سمجھ نہیں ایا کے وہ ہے کہاں!!
مگر جیسی ہی اسے اسکے ساتھ ہوا کارنامہ یاد ایا تو وہ بیڈ سے اتر کے جیسی ہی کمرے سے نکلنے لگی اسکی نظر نماز پڑھتے صائم پہ پڑھی اسکو سب سمجھ میں ایا مگر وہ بھاگی نہیں بلکے غصہ میں بیڈ پہ بیٹھ کے صائم کی نماز ختم ہونے کا ویٹ کرنے لگی۔۔
نماز پڑھ کے صائم نے دعا کیلے ہاتھ اٹھائے تو بہت غور سے صنم نے اسے دیکھا ایک الگ ہی اسکا لگاؤ تھا دعا مانگتے ہوئے۔۔
صائم نے نماز پڑھ کے رخ موڑا تو صنم کو غصہ میں خود کو گھورتا پایا۔۔
صنم غصہ میں اس تک ائ اسکا کالر پکڑ کے پوچھا۔۔
اس گھٹیا حرکت کی وجہ جان سکتی ہو۔؟؟
کیوں لائے ہو مجھے یہاں؟؟
صائم نے اسکے ہاتھ اپنے کالر پہ سے ہٹائے نہیں بلکے انہیں ہاتھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کے اسکی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا!!
غلط ارادے سے نہیں لایا اللّٰہ گواہ ہے میرا!!.بس تم تک اپنی دل کی بات ایک اخری بار پہنچانی تھی۔۔
صائم کے لہجے میں اسکی انکھوں میں نمی محسوس کرتے ہوئے صنم نے اسکا کالر چھوڑا اور کہا۔۔
کیوں سنو میں تمہاری بات ہاں !!
کیوں سنو۔ ۔
صنم نے صائم کے کہنے پہ اپنے دونوں ہاتھ اسکے سینے پہ ،رکھ کے اسے دھکا دیتے ہوئے کہا۔۔۔
مجھے دھوکا دیتے ہوئے دل نہیں کانپا تمہارا میں نے تو نہیں سوچا اج تک تمہارے علا۔۔۔۔۔۔
اگے کی بات بولتے ہوئے صنم رونے لگی اور جاکے غصہ میں بیڈ پہ بیٹھ گئ۔۔
صائم تو لاجواب ہوچکا تھا صنم کی بات کا اگے کا مطلب سمجھتے ہوئے۔۔
صائم اسکے برابر میں اکے بیٹھا اور کہا۔
مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگی صنم میں نے تمہاری محبت کی قدر نہیں کری نجانے کتنا زیادہ گناہوں کے دلدل میں پھنسا تھا ۔۔
میں نے ہر اس لڑکی کا فائدہ اٹھایا ہے جو لڑکی میری زندگی میں ائ ہے مگر جب جب میں نے تمہارا فائدہ اٹھانا چاہا میرے دل نے مجھے روک دیا۔۔
اللّٰہ کو گواہ بناکے کہتا ہو اس دل نے ہر گناہ سے توبہ کرلی ہے۔۔صائم کی آخری بات پہ صنم نے اسے گھورا اور کہا۔۔۔
اچھا تو یہ کیا تھا پھر !!
صائم کی بات پہ صنم نے غصہ میں اپنے ہاتھ کا اشارہ اپنے ہونٹ کے زخم کی طرف کیا ۔۔۔
وہ تو تم نے غصہ دلایا تھا مجھے تو یہ ہوگیا مجھ سے۔۔۔
صائم نے نگاہیں جھکا کے اعتراف کیا۔۔
یہ صحیح ہے بھئ دھوکا بھی خود دو اور غصہ بھی خود کرو۔۔
صنم نے اپنے اپ بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ایک منٹ یہ بتاؤ مجھے بیہوش کس نے کیا۔؟؟
صنم کے پوچھنے پہ صائم کے دماغ میں زویان کو چہرہ ایا مگر اس نے جھوٹ بولا
وہ میں نے ہی کیا تھا۔۔
ادھر دیکھنا زرا میری طرف ۔۔صنم کے کہنے پہ صائم نے اسے نگاہ اٹھا کے دیکھا مگر ہمیشہ کی طرح صنم اسکی انکھوں میں زیادہ دیر تک دیکھ نہیں پائ اور نگاہ جھکاگئ۔
صائم صنم کی یہ کمزوری جانتا تھا کے وہ صائم کی انکھوں میں زیادہ دیر تک نہیں دیکھتی اسلیے اسنے بہت کمال مہارت سے اپنی مسکراہٹ چھپائ۔۔
مجھے گھر لے چلو اب۔۔!!
مگر فیصلہ تو تم نے میرا کرا نہیں !!
صائم کے کہنے پہ صنم نے اسے دیکھ کے کہا۔۔۔
سوچ کے جواب دونگی تمہیں معاف کرنا ہے یہ نہیں!!
اچھا ٹھیک ہے یہ رکھو اپنے پاس !!
یہ بول کے صائم نے اپنی جیب میں سے ایک مخملی ڈبیا نکال کے اسکے ہاتھ میں رکھی اور کہا۔۔
کل صبح تک کا ٹائم ہے کوئ زبردستی نہیں تمہارے ساتھ صنم اگر چاہو تو مجھے معاف کرکے میری زندگی میں شامل ہونے کا فیصلہ کرکے یہ اس باکس میں موجود چیز پہن لینا۔۔
اگر معاف نہ کرو تو؟؟
صنم نے اسے کھوجتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
صائم کے چہرے پہ ایک زخمی مسکراہٹ ائ اور اسنے بہت ارام سے صنم کے گال پہ اپنا ہاتھ رکھ کے اپنے انگھوٹے سے اسکا زخمی ہونٹ سہلاتے ہوئے کہا۔
تو پھر بھی میں ساری زندگی تمہارا انتظار کرونگا۔۔
صائم کی بات پہ صنم نے بہت غور سے اسے دیکھا ۔۔
پھر کھڑے ہوکر کہنے لگی مجھے گھر جانا ہے۔
صائم نے اسے ایک نظر دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
#
بہزاد پورے راستے مسکراتا رہا اور یہ بات شانزے نے بھی نوٹ کی۔۔
سونے پہ سہاگہ بارش بھی ہوگئ۔۔
بہزاد کا ہر عمل اج شانزے کیلئے شاکڈ تھا ۔۔
بہزاد جسکو بارش پسند نہیں تھی اج اس نے بارش میں گاڑی روک کے بھیگتے ہوئے اسکے لیے گجرے لیے۔۔
بہزاد اپ پورے بھیگ گئے !!
ہاں تو کیا ہوا تمہیں گجرے بھی تو پسند ہے!!
مگر میں نے لینے کو تو نہیں بولا تھا۔۔۔
مگر انکھیں تو تمہاری کہہ رہی تھی کے بہزاد گاڑی روک کے گجرے لے لو۔۔
بہزاد کی بات پہ شانزے نے بہت پیار سے اگے بڑھ کے اسکے گال پہ پیار کیا۔
میرا اج اس چھوٹے موٹے پیار سے گزارا ہونے والا نہیں میں اج بہت سارا پیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہو !!
بہزاد کی بات پہ شانزے شرم سے نگاہ جھکا گئ۔۔
#
صائم اور صنم ایک ساتھ گھر میں داخل ہوئے تھے مگر شکر ہے انہیں تھوڑا ٹائم ذیادہ ہوگیا تھا کیونکہ اچانک بارش ہونے کی وجہ سے صائم بہت احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا مگر پھر بھی ان کی گاڑی تیز بارش ہونے کی وجہ سے بند ہوگئ تھی۔۔
صائم نے جیسے تیسے کرکے گاڑی ٹھیک کی اور گھر تک پہنچتے پہنچتے صنم تو بھیگنے سے بچی رہی کیونکہ گاڑی کے اندر تھی مگر صائم اچھا خاصا بھیگا ہوا تھا ۔۔
صائم کمرے میں پہنچا تو اسکے پیچھے پیچھے زویان بھی کمرے میں داخل ہوتے ہی پوچھنے لگا۔
کیا ہوا بات بنی ؟؟.صائم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
آثار تو لگ رہے ہیں باقی اللّٰہ مالک ہے!!!!
انشاللہ میرا دل بول رہا ہے صائم بھائ اپکے حق میں ہی فیصلہ ہوگا۔۔۔
ا(آمین)
صنم نے کمرے میں اتے ہی فورا کپڑے بدلے اور سکون سے بلینکٹ میں گھس کے لیٹ گئ لیٹتے ہی اسکی انکھوں میں تھوڑی دیر پہلے کا منظر چلنے لگا !!
گاڑی بند ہوتے ہی صائم نے تیز بارش میں اتر کے گاڑی ٹھیک کری موبائل کو منہ میں دبائے اسکی ٹارچ سے گاڑی کا پلک چیک کررہا تھا صنم نے جیسی دروازہ کھولا باہر نکل کے صائم کی مدد کرنے کیلئے صائم نے اسے باہر انے کو منع کیا اور کہا۔
صنم گاڑی میں بیٹھی رہو بارش کیساتھ ساتھ ہوا بھی بہت تیز چل رہی ہو کپڑے بھیگ جائینگے تمہارے پلیز گاڑی میں بیٹھو ۔
اسکے چہرے پہ اپنے لیے فکر دیکھ کے صنم کا فیصلہ کرنا اور اسان ہوگیا۔۔
وہ کتنی ہی دیر یوہی صائم کے بارے میں سوچتی رہی پھر کچھ یاد انے پہ اس نے وہ مخملی ڈبیہ اٹھائ جو اسے صائم نے دی تھی۔۔
#
بہزاد اور شانزے جسی ہی گھر میں داخل ہوئے بہزاد نے اسے گود میں اٹھالیا۔
بہزاد نیچے اتارے پلیز۔۔۔
نہیں دو دن دور رہی ہو مجھ اج تو تمہیں خود سے جدا ہی نہیں کرنا۔۔
بہزاد شانزے کو لے کر کمرے میں پہنچا اور اسے بیڈ پہ لیٹاتے ہی اسکے لبوں پہ جھک گیا۔
دو دن کی اپنی تشنگی مٹانے لگا۔۔
شانزے کو ایسا لگا اسکا سانس رک جائے گا وہ بہزاد کے کندھے پہ ہاتھ مارکے اسے پیچھے کرنے لگی۔۔
بہزاد کو بھی اس پہ رحم اگیا اور اسکے لبوں کو چھوڑا۔۔۔
اففف بہزاد کیا ہوگیا سانس تو لینے دیں!!.
شانزے کے خفا ہونے پہ بہزاد نے اٹھ کے اپنی شرٹ اتاری اور اسے لے کر لیٹ گیا اسکے ماتھے پہ اپنے ہونٹ رکھ کے کہا۔۔
ویسے اچھا خاصہ بھاری ہاتھ ہے تمہارا؟؟
مراد کا تو جبڑا ہل گیا ہوگا تمہارے ہاتھ کا ٹھپڑ کھا کے۔۔
بہزاد کا بولنا تھا کے شانزے نے حیران ہوکے پہلے گردن اٹھا کے اسے دیکھا اور کہا ۔۔
اپ دیکھ رہے تھے سب؟؟
نہیں بس وہاں تک کا ڈراما دیکھا جہاں تک مراد نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
ہمم داستان عشق سنا رہا تھا اپنی میں نے بھی اسکا منہ لال کرکے کہانی ہی ختم کردی۔۔
بہزاد نے شانزے کی بات پہ جھک کے اسکا ماتھا چوما اور کہا۔۔
جبھی تو میری پٹاخہ ہو تم۔۔۔
اپ کو غصہ نہیں ایا مجھ پہ جب مراد میرے اتنے قریب کھڑے ہوکے میرا ہاتھ تھاما!!!
نہیں کیونکہ جب تم لبنا کو اسکی اوقات یاد دلا سکتی ہو تو پھر یہ کس کھیت کی مولی ہے۔۔
شانزے نے بہزاد کی بات پہ سکون سے اپنی انکھیں بند کرکے بہزاد کے سینے پہ رکھی جب بہزاد نے کہا۔۔
شانزے ؟؟
ہمم !!
مجھے کس کرو اج !!
بہزاد کی فرمائش پہ شانزے نے اسے گھور کے دیکھا !!
ایک کس ہی مانگی ہے مجھ معصوم نے !!
خود کو معصوم نہ بولا کرکے بہزاد سوٹ نہیں کرتا اپ پہ۔۔
یہ بول کے شانزے اسکی خواہش رد کرکے دوبارہ اسکے سینے پہ سر رکھ کے لیٹ گئ ۔
مگر بہزاد اب خاموش ہو چکا تھا شانزے نے گردن اٹھا کے بہزاد کو دیکھا تو وہ اپنی انکھوں پہ ہاتھ رکھ چکا تھا ۔
شانزے نے مسکرا کے اسے دیکھا اور تھوڑا اٹھ کے اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔
شانزے کا ایسا کرنا تھا کے اسکے بعد بہزاد نے اس پہ جھک کے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔۔
جاری ہے ۔۔۔
