Rate this Novel
Episode 5
شاہجاں عترت کے بارے میں کیا سوچا ہے ؟یونی ختم کیے اسے تین سال ہوگئے ہیں ۔۔
دائ جان کا اشارہ جس طرف تھا شاہجاں اچھے سے جاتی تھی۔
جانتی ہو امی بس دیکھ رہی ہو کوئ مناسب رشتہ جلدی انشاءاللہ اسکی شادی کردونگی۔۔
ہممم ۔
اظہر کی کال آئ تھی میرے پاس ۔۔
اظہر کے نام پہ شاہجاں بیگم کی ڈھرکن تیز ضرور ہوئ تھی مگر اب شاہجاں بیگم کا دل ویران ہوچکا تھا کوئ احساس جزبات باقی نہیں رہے تھے اظہر صاحب کیلیے ۔
بتارہا تھا کے 3 4 مہینوں میں مکمل طور پہ پاکستان شفٹ ہو جائے گا۔
بچیوں کا پوچھ رہا تھا خاص کر صنم کا۔۔
صنم کے نام پہ شاہجاں بیگم کے لب طنزیہ مسکرائے اور انہوں نے نفی میں گردن ہلائ۔۔
آپکے بیٹا ہے امی ۔۔
میں نے آپکو کبھی منع نہیں کرا ان سے بات کرنے کو یہ ان سے ملنے جانے کو۔۔۔
مگر میری بیٹیوں کا ذکر وہ شخص نہ کرے تو بہتر یوگا۔۔
شاہجاں اولاد نرینہ کی خواہش کرنا گناہ نہیں پچھلے 22 سالوں سے تم اسے سزائے دے رہی ہو دوسری شادی کی جبکہ اسلام میں چار شادیاں جائز ہیں۔۔
بلکل امی اسلام میں چار شادیاں جائز ہیں اگر وہ کسی بیوہ کا ہاتھ تھامتے ،طلاق یافتہ کا ہاتھ تھامتے ،یی پھر جو مجبور ہوتی اسکا ہاتھ تھامتے مجھے افسوس نہیں ہوتا امی میں خود ان کی دوسری شادی کراوتی۔
جب مردوں کو دوسری شادی کرنی ہوتی ہے تو انہیں یہ یاد آ جاتا ہے کے اسلام میں چار شادیاں جائز ہیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 11 شادیاں کی ہیں مگر یہ یاد نہیں آتا کے انہوں نے بیوہ ،طلاق یافتہ عورتوں پہ زور دیا ہے جو مجبور ہو۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے بھی اس لیے شادی نہیں کے انہیں بیٹا چاہیے تھا ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا نہیں تھا چار ماشاءاللہ بیٹیاں تھی۔۔
امی شاید آپ بھول رہی ہیں کے اولاد مرد کے نصیب سے ہوتی ہے عورت کے نہیں۔۔
جس بندے سے اللّٰہ بہت زیادہ خوش ہوتا ہے اسے بیٹی دیتا پھر زیادہ خوش ہوتا ہے دوبارہ بیٹی دیتا ہے۔مگر افسوس امی آپکا بیٹا بد نصیب کے جسکو اللّٰہ نے بیٹیاں تو دی مگر انہوں نے قدر نہیں کی۔۔
بیشک اللہ نے عورت کو بہت حوصلہ اور ہمت دی ہے مگر امی کہی جگہ عورت بہت کمزور ہوجاتی ہے خاص کر جب جب اسکا شوہر اسکی محبت اسکی محبت میں شرک کرے۔۔
یہ بول کے شاہجاں بیگم دائ جان کو لاجواب کرچکی تھی۔۔
#
یار تین مہینے رہ گئے ہیں یونی ختم ہونے میں کیا کرینگے ہم۔پھر؟؟
شانزے نے رجسٹر میں ہیں سے گول گول دائرہ بناتے ہوئے کہا ۔۔
کیا کرینگے ورلڈ ڈانس چیمپین 6 مہینے بعد جو ہونے والی ہے وہ جیتینگے۔۔
ہاں یار انشاء اللہ ۔۔
مگر مجھے لگتا ماما بابا میری شادی کا سوچ رہے ہیں کل میں نے ماما بابا کو بات کرتے ہوتے ہوئے سنا تھا کے وہ بہت جلد پھپھو سے بات کرینگے منگنی وغیرہ کے بارے میں۔۔
شانزے کے چہرہ پہ الگ ہی خوشی تھی یہ بات کرتے ہوئے۔۔ہائے ہائے میری جان کا مسکرانا تو دیکھو ۔۔
میں بہت خوش ہو شانزے تو جسکو چاہتی ہے وہی تیرا محرم بن رہا ہے اللہ تم دونوں کی جوڑی سلامت رکھے۔۔۔
امین ۔۔
صنم تو کیا ارینج میرج کریگی۔؟
یار ابھی تک شادی کا سوچا نہیں پھر بھی جس سے ماما کہینگی کرلو گی شادی تجھے پتہ ہے اپنی۔لائف میں کوئ ہیرو تو ہے نہیں نہ ہی محبت کا کوئ چکر ہے۔۔
ہائے صنم نام تیرا بلکل عاشقی معشوقی والا ہے اور شادی تو ارینج کریگی۔۔
جا بچہ شانزے بابی تجھے دعا دیتی ہے تجھے بھی عشق ہو اللّٰہ کرے جس سے ہو وہ بھی تجھ سے عشق لازوال کرے۔۔
شکریہ بابی جی۔صنم نے شانزے کے سامنے گردن جھکا۔کے کہا۔۔
دونوں دوستیں ایک دم کھلکھلا کے ہنس پڑی ۔
دور کھڑا آنے والا وقت ان دونوں دوستوں پہ صرف طنزیہ مسکرا سکا ۔۔۔
#
بابر ؟؟
ہمممم۔
اگلے ہفتہ ندا آرہی ہے ۔
اچھا یہ تو اچھی بات ہے کافی ٹائم ہوگیا سالی صاحبہ سے ملاقات نہیں ہوئ۔۔
ہمم بلاج کو بھی ساتھ لارہی ہیں ۔۔اس بار پکا ارادہ ہے انکا بلاج کی شادی کا۔۔
ہمم اچھی بات اب تو وہ ائیر فورس بھی جوائن کرچکا ہے ۔
بابر میں سوچ رہی تھی اب بازل بھی ماشاءاللہ پڑھائ ختم کرچکاہے بہت جلد آپکا آفس جوائن کرنے والا ہے ہنزہ کا بھی ایم بی بی ایس کمپلیٹ ہونے والا ہے تو کیا میں بات کرو ہاجرہ بھابھی سے بازل اور ہنزہ کی۔۔
میں بازل کیلیے لڑکی دیکھ چکا ہو میرے بزنس پارٹنر کی بیٹی ہے اچھا ہوا تم نے پہلے یہ بات مجھ سے کرلی بھابھی سے کرتی تو پھر انکو اور فہیم کو برا لگتا جب میں انہیں منع کرتا۔۔
مگر کیا برائ ہے بابر ہنزہ میں۔۔
میں نے کب کہا وہ بری ہے میرا خون ہے میری بھتیجی ہے مگر میں اپنے دوست کو زبان دے چکا ہو اب لائٹ اوفف کردو۔۔
نفیسہ بیگم نے ان دونوں کے درمیان انجانی ہی صحیح محبت پنپتی ہوئ دیکھ چکی تھی ۔انکی خود کی بھی خواہش تھی ہنزہ کو اپنی بہو بنانے کی مگر بابر نے کبھی اپنے آگے کسی کی چلنے نہیں دی ۔۔یاللہ بابر کا یہ فیصلہ اس گھر کی بنیاد نہ ہلادے۔۔
نفیسہ کے دل سے نکلی دعا قبول ہوئی کے نہیں یہ تو فلحال وقت ہی بتاتا۔۔
#
ہنزہ کو پڑھتے پڑھتے پانی کی پیاس لگی تو وہ کچن میں پہنچی۔۔
فریج کھولتے ہی اسکی بھوک بھی چمک اٹھی چاکلیٹ کیک دیکھ کے ابھی اس نے کیک سے انصاف کرا ہی تھا کے بازل کچن میں آگیا ۔۔
بیڈ والے واقعے کے بعد سے ہنزہ اس سے چھپتی پھر رہی تھی کھانا کھا کے فورا کمرے میں بند ہوجاتی اور بازل کو یہ کہہ کے بہلا رہی تھی کے پڑھ رہی ہے ۔
ہنزہ نے ایک نظر بازل کو دیکھ کے اسمائل پاس کی اور تیزی سے کچن سے جانے لگی مگر افسوس اسکی کلائ بازل کے ہاتھ آ چکی تھی۔۔
بازل نے اسکو اپنی طرف کھینچا ۔۔
ہنزہ کا سر بازل کے سینے ٹکرایا۔۔۔
بازل کیا کررہے ہو ۔؟؟
یار لگ گئ میرے سر پہ ۔۔
ہنزہ نے اپنا سر سہلاتے ہوئے کہا مگر اسکی نگاہیں نیچیں تھی ۔
اوپر دیکھو ہنزہ میری طرف ۔بازل کے ہاتھ اب ہنزہ کی کمر پہ تھے۔۔ہنزہ کی ہارٹ بیٹ تیز ہونے لگی۔
بازل پلیز لیو می مجھے پڑھنا ہے۔۔
ہنزہ نے ابھی بھی بازل کی طرف نہیں دیکھا۔۔
پہلے میری طرف دیکھو پھر جانے دونگا ۔
بازل کی بات پہ ہنزہ نے نگاہ اٹھا کے بازل کو دیکھا اسکی آنکھیں ایک الگ انداز میں چمک رہی لبوں کی مسکراہٹ ہنزہ کو کوئ اور پیغام دے رہی تھی۔۔
مجھ سے بھاگ کیوں رہی ہو دو دنوں سے؟
ما۔مین۔۔میں کب بھاگ رہی ہو میں تو پڑھنے میں مصروف تھی۔۔ہنزہ۔نے بہت کوشش کی کے ہمت سے بازل کی بات کا جواب دے مگر اسکی زبان کی لڑکڑاہٹ نے بازل کی ہمت کو اور شے دی۔۔
ہنزہ؟؟
بازل کے لہجہ کی مٹھاس ایک بار پھر ہنزہ کو نگاہ جھکانے پہ مجبور کرگیا۔۔
ہنزہ آئ لو یو۔۔
بازل کی بات پہ ہنزہ کی آنکھیں حیرت سے کھل گئ۔۔
بازل نے مسکراتے اسے دیکھا اور کہا۔
کب کیسے کس وقت محبت نے میرے دل پہ دستک دی ہنزہ میں نہیں جانتا جان تو تم پہلے تھی ہی اب دھڑکن بھی بن چکی ہو۔
یہ دوستی کا رشتہ کب پیار میں بدلا پتہ ہی نہیں چلا ہنزہ۔
میں تم سے ابھی اسی وقت جواب نہیں مانگ رہا ۔ ضروری نہیں کے میں تم سے محبت کرنے لگا ہو تو تم بھی مجھ سے محبت کرو اگر انکار بھی کردوگی تب بھی ہم اچھے دوست تھے اور رہینگے۔۔
یہ بول کے بازل نے ہنزہ کو آزاد کیا مگر اس بار ہنزہ بھاگی نہیں۔ بلکے غور غور سے بازل کو دیکھنے لگی ۔
بازل نے جھک کے اسکے گال پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔۔
اب جاؤ ۔۔۔
ہنزہ نے اپنا ایک ہاتھ اس گال پہ رکھا جہاں ابھی بازل کے لب تھے اور الٹے قدم اٹھاتی ہوئ کچن سے باہر چلی گئ ۔۔
بازل بھی مسکراتا ہوا کچن سے نکل گیا۔۔
مگر کچن کے باہر کھڑی نفیسہ بیگم کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئ۔۔
جاری یے۔۔
