Rate this Novel
Episode 34
افف خوشبو بس کرو میرا ہنس ہنس کے برا حال ہوجائے گا۔۔
لان میں رات کے کھانے کے بعد خوشبو نے نمرہ کیلیے کافی بنائ اور خود اسے افر کری لان میں واک کرنے کی
اپنے گاؤں میں اپنی شرارتوں کے قصہ یونی میں اپنی دوستوں کے قصہ سنارہی تھی جیسے سن کے نمرہ کا ہنس ہنس کر برا حال ہوچکا تھا۔۔
وہ دونوں ہنس ہنس کے اپنے باتوں میں مگن تھی اور کوئ تھا جو اوپر کمرے کی کھڑکی سے ان دونوں کو دیکھنے میں مصرف تھا۔۔۔
افف خوشبو میرا تو ہنس ہنس کے جبڑے دکھ گئے۔۔۔
چلو میں تو اب چلو میں بہت تھک گئ ۔۔
تم بھی اجاو۔۔
نہیں یار میں تھوڑی دیر یہاں رکو گی تم۔جاو سفر سے آئ ہو ویسے بھی تھک۔گئ ہوگی۔۔
خوشبو کے کہنے پہ نمرہ چلی گئ۔۔
ٹھنڈ زیادہ بڑھ رہی تھی اسلیے خوشبو نے اپنی شال۔کو اچھی سے لپٹ لیا۔۔
سردیوں کی اندھیری رات میں وہ اسی رات کا حصہ لگ رہی ایسا اسکے قریب آتے ہوئے وہاج کو لگا جو نمرہ کے جاتے ہی نیچے آگیا تھا۔
ایک درخت کے پاس رک کے خوشبو اسکے پتوں کو چھو کے دیکھنے لگی جب پیچھے سے آتی آواز پہ ایک دم وہ چونکی۔۔
رات کے وقت درختوں کے اتنے قریب جانا اچھا نہیں۔۔
خوشبو وہاج کی آواز سن چکی تھی اسلیے بنا پلٹے کہا۔۔
کیوں یہ بھی ان پڑھ جاہلوں والے کام ہیں ؟؟
یہ بول کے خوشبو پلٹی تو وہاج کو اپنے بے حد قریب کھڑا پایا۔۔
وہاج کے اتنے قریب آنے پہ خوشبو تھوڑا گھبرائے تھی مگر وہاج وہ تو چاند کی روشنی میں خوشبو کا حسین معصوم چہرہ تکتے گیا۔۔
خوشبو اسے اگنور کرکے جانے لگی جب وہاج نے اسے دھیرے سے پکارا۔۔
خوشبو؟؟
وہاج کے پکارنے پہ خوشبو رکی ضرور تھی مگر پلٹی نہیں تھی۔۔
میں بہت شرمندہ ہو صبح کیلیے اصل میں ایک تو اتنا دور کا سفر تھا اوپر سے تھوڑا غصہ میں تھا تو اسلیے
۔۔
خوشبو نے پلٹ کر اسے دیکھا تو خوشںبو کو اسکے چہرے میں واقعی ندامت محسوس ہوئی جیسے محسوس کرکے اس نے کہا۔۔
اٹس اوکے مگر اتنا ضرور کہونگی کسی بھی جگہ کو مد نظر رکھتے ہوئے وہاں کے لوگوں کے بارے میں اپنی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے کبھی کبھی اونچی جگہ کے لوگ بھی جاہلیت کی اعلی مثال قائم کردیے ہیں اور کبھی کبھی چھوٹی جگہ کے لوگ بھی اخلاقیات کی داستان لکھ دیتے ہیں۔۔
خوشبو کی بات پہ وہاج لاجواب ہوچکا تھا۔۔
خوشبو پلٹ کے جانے لگی جب دھیرے سے وہاج نے اسے دیکھ کے گنگنانا شروع کردیا۔۔
“ابھی تم ملے ہو ابھی تم نہ جانا۔۔
یہ دل ہوگیا ہے تمہارا دیوانہ”
کچھ کہا اپنے ؟؟.خوشبو نے اچانک پلٹ کے پوچھا۔۔۔
وہاج نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
اپنے کچھ سنا۔؟؟
مگر اسکا جواب خوشبو نے نہیں دیا۔۔
وہ اندر جانے لگی لگی جب وہاج جو اسکے پیچھے پیچھے آرہا تھا دوبارہ کہا۔۔
ویسے ایک کپ کافی اگر مجھے بھی مل جائے تو؟
کل پلادونگی کافی ابھی کافی پی تو رات میں نیند نہیں آئے گی اپکو۔۔
خوشبو نے چلتے چلتے یہ کہا اور اندر چلی گی۔۔
نیند تو ویسے بھی اب وہاج بلال کی اڑ چکی۔۔وہاج نے دل پہ ہاتھ رکھ کے سر گوشی کی ۔
خوشبو نے ان دونوں کو پورا گاؤں گھمایا تھا ۔دونوں بہہن بھائ خوشبو کے اخلاق سے بہت متاثر ہوئے تھے۔۔
اپنی دوست کی شادی میں جس طرح خوشبو نے سارے انتظامات کیے تھے اور ہر چیز بڑھ چڑھ کر ایسے کری تھی جیسی اسکی سگی بہن کی شادی ہو جہاں وہاج خوشبو کے اخلاق سے متاثر ہوا تھا وہی وہ خوشبو کو اپنے دل ودماغ میں بسا بھی چکا تھا۔۔
ایسا کوئی موقع ہاتھ سے وہاج جانے نہیں دیتا تھا جب اسے خوشبو کیساتھ وقت گزارنے کا ملے۔۔۔
آج یہ لوگ دریائے نیلم پہ گئے ہوئے تھے صبح سے شام تک وہ لوگ گھومنے پھرنے میں مصروف تھے خوشبو اور نمرہ نے ایک ساتھ کئ تصویریں بنائی تھی اور اسی دوران وہاج نے بھی موقع سے فائدہ اٹھا کے خوشبو کی چند تصویریں اپنے کیمرے میں قید کرلی تھی۔۔
وہاج کی آنکھوں کا پیغام خوشبو کو بہت اچھا لگا تھا وہ وہاج کو کہی نہ کہی پسند کرنے لگی تھی۔
ارے آوو نہ آگے چلتے ہیں خوشبو۔۔۔
ارے نہیں بھئ مجھے پیاس لگی ہے گاڑی میں جارہی ہو تم بھی اجاو فٹا فٹ۔
ہاں ہاں تم۔جاو میں آرہی ہو نمرہ نے اسے ٹالتے ہوئے کہا ۔
خوشبو گاڑی تک پہنچی تو گاڑی کے اندر وہاج۔انکھیں موندیں لیٹا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے کیسے اسکے پاس پڑی پانی۔کی بوتل اٹھائے۔۔
خوشبو نے بہت احتیاط سے اپنے ہاتھ وہاج کے اوپر سے گزار کے پانی کی بوتل اٹھانی چاہیے مگر افسوس اسی وقت وہاج کی آنکھ کھل گئ۔۔
خوشبو جو تقریبا پانی کی بوتل اٹھا چکی وہاج کے ایک دم اٹھنے پہ اسکے ہاتھ سے بوتل واپس گر گئ۔
وہاج خوشبو کو اپنے اتنے قریب دیکھ کے ایک دم سیدھا ہوا۔۔
وہ پانی کی بوتل لینی تھی اپ سو رہے تو اسلیے میں خودی۔۔
وہاج نے بہت غور سے خوشبو کے دیکھا تھا لائٹ بیلو کلر کے ڈریس وہ بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔
وہاج نے اپنے پاس پڑی پانی کی بوتل اٹھائ اور بوتل کو منہ لگاکے پانی پیا اور پھر وہی بوتل خوشبو کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔
ویسے پیاس مجھے بھی لگی تھی۔۔۔
خوشبو نے جھجھکتے ہوئے پانی کی بوتل پکڑی اور ادھر ادھر گلاس ڈھونڈنے لگی وہاج مسلسل اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
ویسے جان بوجھ کر انجان بنتی ہو یہ پھر واقعی تمہیں ابھی تک احساس نہیں ہوا۔۔۔۔وہاج نے کافی طنزیہ انداز میں کہا۔۔
کس چیز کا ؟خوشبو نے ناسمجھی انداز میں کہا۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔
یہ لو گلاس۔۔۔
وہاج نے اسکا ہاتھ تھام کے اسکے ہاتھ میں غصہ میں گلاس رکھتے ہوئے کہا۔۔
وہاج تھوڑی دور گیا ہوگا نمرہ کو بلانے جب اسے خوشبو نے آواز دی۔
وہاج۔۔۔۔۔
کبھی کبھی کچھ باتیں نظروں سے سمجھنے میں نہیں لفظوں سے سننے میں اچھی لگتی ہیں۔۔
یہ بول کے خوشبو نے وہاج کی منہ لگائ بوتل کو منہ لگا کے پانی پیا۔
جہاں وہاج خوشبو کی اس حرکت پہ مسکرایا تھا وہی خوشبو بھی شرما کے نگاہیں جھکا چکی تھی۔۔
ابھی وہ لوگ حویلی کے باہر تھے جب انہیں حویلی کے باہر لوگوں کا ہجوم نظر ایا۔
یہ اتنا ہجوم کیسا؟؟
وہاج نے گاڑی روکتے ہوئے کہا۔۔
مگر خوشبو اسنے وہاج کی بات کا جواب دیے بنا حویلی کے اندر ڈور لگائ جس بات سے اسکا دل ڈر رہا تھا ہجوم دیکھ کے وہی بات ہوئ واسق صاحب کو دل کا دورہ پڑا تھا مگر اب وہ ٹھیک تھے ۔یہ بات انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے خوشبو سے چھپانے کو کہا تھا۔۔۔
بابا کیا ہو آپکو یہ ڈاکٹر یہ کیا ہوا اپکو؟؟
خوشبو روتے روتے ایک دم چیخ چیخ کے پوچھنے لگی اور ڈورتے ہوئے واسق صاحب کے گلے لگ گئ۔۔
ارے خوشبو بیٹا ہلکا سا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا اب سب صحیح ہے بلال بتا نہ تو۔۔۔۔
واسق صاحب نے بلال صاحب کی طرف التجائ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ہاں خوشبو بیٹا سب ٹھیک تم ایسے پریشان مت ہو نمرہ بیٹا خوشبو کو لے کر کمرے میں جاو۔۔۔
نمرہ بہت مشکلوں سے نمرہ کیساتھ کمرے میں گئ اسکے جاتے ہی واسق صاحب۔ رونے لگے۔۔
ارے واسق توا گر ایسے ہمت ہارے گا تو خوشبو بیٹی کو کون سنبھالے گا۔۔۔؟؟
بلال بس اسی بات کی فکر ہے میرے بعد میری بیٹی کا کیا ہوگا اسے کون سنبھالے گا ڈاکٹروں نے کہا ہے اب جو اٹیک آیا تو میرا جسم برداشت نہیں کر پائے گا ۔۔۔
ارے واسق اللّٰہ بہت بڑا ہے انشاءاللہ کوئ نہ کوئ وسیلہ بنا ہی دے گا ۔۔۔
انکل آپ پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہو جائے اب آرام کرے ۔۔
پاپا اجائے باہر انکل کو آرام کرنے دے۔۔
وہاج کے کہنے پہ واسق صاحب نے ہاں میں گردن ہلائی اور آنکھیں موندے گئے۔۔
بلال صاحب کچھ سوچتے ہوئے کمرے سے باہر آئے اور وہاج سے کچھ کہا۔۔۔
جیسے سنتے ہی وہاج نے صرف اتنا کہا ۔۔
پاپا میں تیار ہو۔۔
اسے یقین ہی نہیں آیا دو دن میں وہ خوشبو سے خوشبو بلاج بن گئ تھی۔۔
بلال صاحب نے وہاج کی رضامندی سے خوشبو کا ہاتھ مانگا تھا واسق صاحب سے اور ساتھ میں سادگی سے نکاح کی خواہش بھی ظاہر کری تھی۔۔
واسق صاحب نے خوشبو سےا سکی مرضی پوچھ کے ہاں کردی۔۔رخساںہ بیگم کافی ناراض ہوئ تھی بلال صاحب کے اس فیصلے پہ مگر انہیں انکی پرواہ نہیں تھی۔۔۔
بیڈ پہ بیٹھی وہ مسلسل اپنے ہاتھوں میں لگی مہندی کو دیکھ رہی اسے یقین نہیں آرہا تھا کے جیسے اس نے ابھی چاہنا شروع کرا تھا وہ اسکا محرم بن چکا تھا۔۔
نمرہ اور بلال صاحب نکاح کی رسم ہوتے ہی شہر کیلیے روانہ ہوگئے تھے تاکے برات لانے کی تیاری کرسکے ۔۔
وہاج نے ایک دو دن تک آنے کو کہا تھا۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پہ خوشبو نے نگاہ اٹھائ تو وہاج مسکراتے ہوئے کمرہ کا دروازہ بند کررہا تھا۔۔
نکاح مبارک ہو خوشبو۔۔
آپکو بھی۔۔۔
وہاج اسکے برابر میں بیٹھ کے اسے غور غور سے دیکھنے لگا۔
خوش نہیں ہوکیا خوشبو اس نکاح سے۔؟
خوش ہو مگر ایک ڈر ہے اگر آنٹی نہ مانی تو پھر۔۔۔؟
ارے ماما مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں دیکھا 15 دن کے اندر ایسی شاندار برات لاونگا کے تمہارا پورا گاؤں دیکھتا رہ جائے گا۔۔۔
وہاج کے بولنے پہ خوشبو بہت غور سے وہاج کو دیکھنے لگی اسکی آنکھوں میں موجود سوال وہاج سمجھ چکا تھا۔۔
اسنے آگے باڑھ کر خوشبو کو اپنے باہنوں میں بھرا اور کہا۔۔غ
تم میری پہلی نظر کی محبت ہو خوشبو۔۔۔۔
مجھ پہ بھروسہ رکھو اللّٰہ نے جب ہمیں ایک کیا۔ہے تو جدا تھوڑی کریگا۔۔
ادھر دیکھو میری طرف ۔
وہاج نے اسکا چہرہ تھاما اور کہا۔
وہاج بلال تمہارا تھا اور رہے گا۔۔۔
یہ بول کے وہاج نے خوشبو کے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے ۔
خوشبو پوری جان سے لرز گئ اسنے وہاج کو خود سے دور کرنا چاہا مگر وہ ناکام رہی آہستہ آہستہ وہ گردن سے گلے تک آیا اور جیسی ہی انہوں نے گردن کے نیچے اپنے لب رکھ کے حدیں پار کری خوشبو نے روک دیا۔۔
وہاج بس کرے ابھی صرف نکاح ہوا ہے ۔۔
تو بیوی ہو میری دنیا کا کوئ قانون مجھے ان سب سے روک نہیں سکتا اور اب تم بھی نہیں روکو ۔۔
ہمارا دین میں نکاح سب سےا ہم ہے۔۔
یہ بول۔کے وہاج نے اپنے اور خوشبو کے درمیان ساری دیوار گرا دی۔۔
اپنی شدتیں چاہتیں اس نے پوری رات خوشبو پہ لٹائ۔۔۔
خوشبو پوری رات وہاج کی محبتوں کو اسکی شدتوں کو اپنے جسم کے ہر حصہ پہ برادشت کررہی تھی۔۔
صبح خوشبو کی آنکھ کھلی تو وہاج کہی نہیں تھا ۔۔
مگر سائیڈ ٹیبل پہ ایک خط تھا جسمیں لکھا تھا ۔۔
خوشبو تمہارے وجود کی خوشبو اپنے وجود میں بسائے جارہا ہو ماما کا بلڈ پریشر اچانک شوٹ کرگیا تھا صبح ہی پاپا کی کال آئ تھی میں انکل سے مل۔ایا تم سو رہی تھی تمہیں اٹھانا مجھے مناسب نہیں لگا میرا نتظار کرنا خوشبو میں 15 دن کے اندر اندر آؤنگا تمہیں شاندار طریقے سے لینے۔۔۔
اور پھر وقت گزرتا گیا 15 دن کی جگہ 25 دن گزر گئے مگر وہاج نہیں آیا اسکا نمبر بھی مسلسل بند آرہا تھا ۔۔
واسق صاحب نے شہر جاکے معلوم کرا جہاں انہیں پتہ چلا کے انکی بیٹی کو دھوکا۔دے کے وہاج نے شادی کرلی دوسری۔۔
یہ خبر واسق صاحب کیلیے موت کا سبب بنی اور انہیں تیسرا اٹیک ہوا جو وہ برادشت نہیں کرپائے اور نہ خوشبو کو وہاج کی سچائی بتا پائے۔۔
باپ کے جانے کے بعد خوشبو کو پتہ چلا وہ اکیلی نہیں اسکے وجود میں ایک اور جان پل رہی تھی۔۔
خوشبو کی حالت عجیب ہونے لگی وہ سارا سارا دن دروازے کے پاس بیٹھ کے انتظار کرتی رہتی وہاج کا اگر لائبہ نہ ہوتی تو شاید خوشبو کب کی خود کشی کرچکی ہوتی ۔۔
لائبہ اسے لے کر کراچی آ گئ جہاں خوشبو کو اللّٰہ نے ایک بہت پیاری بیٹی دی جسکا۔نام خوشبو نے ہیر رکھا۔۔۔
ایک وجہ مل گئ تھی خوشبو کو زندہ رہنے کی ۔۔۔مگر خوشبو نے یہ بات ہیر سے چھپائے کے وہ اسکی اصل ماں ہے اگر سچائ بتا دیتی تو کیا جواب دیتی کے اسکا باپ کہاں ہے؟
فون کی مسلسل رنگ نے خوشبو کو ماضی کے اندھیروں سے باہر نکالا۔
خوشبو نے دیکھا تو ہیر کی کال تھی مگر خوشبو اس وقت بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی اسلیے موبائل سائیلنٹ کرکے سو گئ۔۔۔
جاری ہے۔۔
