Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

داستان عشق محبت 🔥❣️
از قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر #23
گاڑی جیسی ہی بہزاد مینشن میں داخل ہوئ صنم کا منہ حیرت سے کھل گیا۔۔
اتنا بڑا مینشن جو کسی محل سے کم نہیں تھا ہر طرف گارڈ تھے اور ایک بات صنم نے نوٹ کی نے سب ہی اسکی ماما کی گاڑی کو سلام کررہے تھے اسکا مطلب تھا ماما یہاں آتی جاتی ہیں
گاڑی رکتے ہی دو تین نوکر صنم کی گاڑی کے آگے پیچھے جمع ہوگئے انہیں پروٹوکول دینے کیلیے۔۔
صنم کو اب سمجھ آیا بہزاد کے اٹیٹییوڈ کا اور کیوں نہ ہوتا دولت کیساتھ اللّٰہ نے حسسن بھی بے شمار دیا تھا۔
10.لاکھ سے زیادہ فولوفرز تھے بہزاد کی نیٹ ورلڈ میں۔
صنم نے یہ بات خالی تجسس سے شانزے کو جب بتائ تھی تب شانزے کا جو ریکشن سامنے آیا تھا وہ سوچتے ہوئے صنم نے جھرجھری لی۔۔
مینشن کے لیونگ ایریا میں قدم رکھتے ہی صنم کی آنکھیں پوری روشن ہوگئ اسنے شاہجاں بیگم سے کہا۔
ماما یہ واقعی آپکے ماموں کا گھر ہے؟؟
کیوں ؟
تمہیں شک ہے؟
نہیں ماما وہ کبھی آئے نہیں ہمارے گھر۔۔
صنم نے فورا نروس ہوکے کہا۔۔
ہاں آتا نہیں وہ گھر کیونکہ وہاں۔۔۔۔
آگے کی بات بولنے سے شاہجاں بیگم نے خود کو باز رکھا ۔
وہاں کیا ماما؟
کچھ نہیں ۔۔
وہ دونوں لیونگ ایریا میں جاکے بیٹھے تب بہزاد سیڑھیوں سےا ترتا دیکھائ دیا لائٹ فیروزی کلر کی قمیض شلوار میں بہزاد چوہدری کہی کا شہزادہ لگ رہا تھا گرین کلر کی اسکی آنکھیں اسکی روبدار شخصیت میں چار چاند لگا رہی تھی۔۔صنم اسے ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگی
۔
ارے زہے نصیب آج تو شاہجاں ملکہ آئ ہیں۔۔
بہزاد نے تیزی سے آگے بڑھ کے بہت احترام سے شاہجاں کو اپنے بازؤں کے حصار میں لیا تھا صنم دیکھ سکتی کے جس بہزاد کی آنکھوں میں اس نے ہمیشہ غصہ اور وحشت دیکھی جتنی بار بھی اسکا سامنا اس سے ہوا تھا اج اس کی انکھوں میں پیار احترام اور عزت تھی۔
کسی ہو صنم ؟
شاہجاں بیگم سے مل کے اب بہزاد صنم۔کی طرف متوجہ ہوا ۔
بہزاد نے مسکرا کے پوچھا اور بہزاد کی مسکراہٹ صنم کے تن بدن میں آگ لگانے کیلیے کافی تھی۔۔۔
ٹھیک ہو؟؟
بہزاد عاشر کہاں ہے؟
وہ ٹیوٹر ایا ہوا ہے اسکا ملکہ وہ پڑھ رہا پے۔۔
تم بعض نہیں آؤگے مجھے ملکہ کہنے سے۔۔
شاہجاں بیگم نے مسکرا کے کہا۔۔
نہیں بھئ بہزاد کے دل کی پہلی ملکہ اسکی دوست اسکی شاجہاں ملکہ ہے پلس آپا بھی۔۔
صنم نے بہزاد کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو بلا جھجھک مسکرا گئ کیونکہ وہ لگ ہی اتنا حسین رہا تھا مسکرا کے۔۔۔
عترت کا نکاح ہے دو دن بعد شرافت سے تشریف آوری لے آنا صبح سے۔
اچھا مجھے تو نہیں بتایا عترت نے بڑی چھپی رستم نکلی۔۔
بہزاد نے منہ بنا کے کہا۔۔
مطلب عترت آپی بھی جانتی ہیں بہزاد کو ایک میں ہی دنیا جہاں سے بے خبر ہو صنم نے دل میں سوچتی ہوئے کہا۔
حال میں ہے نکاح ؟؟
بہزاد نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔
صنم اسکے پل بھر میں سنجیدہ ہونے پہ حیران رہ گئ۔ہاں حال میں ہے نکاح تمہاری وجہ سے کیونکہ مجھے پتہ تھا اگر گھر میں رکھونگی تو نہیں آتے تم۔۔
ہممم۔۔بہزاد نے ہاں میں گردن ہلائی شاہجاں کی بیگم کی بات سنکے۔۔
اچھا ممانی کہاں ہے؟
میں مل لو ان سے۔۔
وہ کمرے میں ہے نماز پڑھ رہی ہیں مل لو تم ۔
ہممم ۔۔۔
شاہجاں بیگم کے جاتے ہی بہزاد صنم کو دیکھ کے مسکرانے لگا صنم کا بس نہیں چل رہا تھا وہ بہزاد کا منہ نوچ لے۔۔
صنم اسے اگنور کرکے جانے لگی جب بہزاد نے اسکا ہاتھ تھام کے اسے اپنے سامنے بیٹھایا۔۔
صنم نے بہزاد کی اس حرکت پہ اسے کچھ نہیں کہا۔۔
غصہ آرہا ہے مجھ پہ ؟.
بہزاد کے بولنے پہ صنم نے کہا۔۔
آپ کیوں شانزے کے پیچھے پڑے ہیں جب اپنے اسے دھمکایا تو وہ رک گئ نہ آپکے بارے میں کسی کو نہیں بولا تو پھر کیوں پریشان کرہے ہیں اسے۔۔۔صنم کو شانزے موبائل والا قصہ سنا چکی تھی ۔
آپ جانتے ہی جان ہے میری شانزے میں اور اسے پریشان کرنے والوں کو میں چھوڑتی نہیں۔۔
میں پریشان نہیں کررہا ہو اسے اور دوسرے بات تمہیں انٹر فیئر کرنے کی ضرورت نہیں اس معاملے میں ۔
یہ میرا پرسنل میٹر ہے اور ملکہ کے علاؤہ یہ حق کسی کو نہیں کے کوئ میرے پرسنل میٹر میں بولے ۔
جب آپکی ملکہ کو پتہ چلے گا کے آپ شانزے کو کس طرح ہیرس کرہے ہیں تو یہ ملکہ آپکا سر پھوڑ دے گی۔
کیونکہ شانزے انکے کیلے اتنی ہی اہم ہے جتنی میں اور عترت اپی۔۔
اچھا اور جب انہیں یہ پتہ چلے گا کے انکی لاڈلہ بیٹی کسی صائم نام کے لڑکے سے فون پہ بات کرہی ہے کلب میں اسکے ساتھ ڈانس کمپیٹیشن جیت رہی ہے تو آگے تم سمجھدار ہو کے وہ تمہارے ساتھ کیا کرینگی۔۔
بہزاد کی بات پہ صنم پانی پینا بھول گئ اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے بہزاد کو گھورنے لگی۔۔
ایسے حیران نہں ہو بھول رہی ہو بہزاد چوہدری نام ہے میرا ۔
مجھے بلیک میل کررہے ہیں آپ ۔۔
بلکل نہیں بس خاموش رہنے کا بول رہا ہو اور ساتھ دینے کا بول رہا ہو میرا ۔۔
کس خوشی میں آپکا ساتھ دو زرا بتانا پسند کرینگے؟؟
صنم نے دانت پیس کے کہا۔۔
کیونکہ افشیلی ایک ہی ماموں ہو تمہارا ۔۔
ماموں ماہ فٹ۔۔
صنم نے غصہ میں گلاس پٹختے ہوئے کہا۔
تو چلو بی ایم بول لو یہ سمجھ لو۔۔
بی ایم ؟؟
صنم نے ناسمجھی میں کہا۔۔
بہزاد ماموں ۔۔
میں آپکو کچھ نہیں سمجھنے والی نہ آپکا ساتھ دینے والی کیونکہ جو شانزے کا دشمن وہ میرا دشمن۔۔
سوچ لو صنم مجھ سے دشمنی بہت مہنگی پڑے گی۔۔
دھمکی دے رہے ہیں؟
بہزاد نے غور سے صنم کو دیکھا اور کہا۔۔
نہیں سمجھا رہا ہو۔۔ویسے۔۔۔؟؟
ویسے کیا؟؟
صنم نے ائبرو آچکا کے کہا۔۔
صائم تمہارے لائق نہیں وہ اچھا لڑکا۔نہیں ہے۔۔
اچھا اورا پکی اپنے بارے میں کیا رائے ہے؟
اللّٰہ کا شکر کبھی غرور نہیں کیا میں نے لوگ خودی ایمپریس ہوجاتے ہیں بہزاد چوہدری سے۔۔
ویسے دونوں سہیلیوں نے دو ٹکے کے لڑکے چنے ہیں اپنے لیے۔۔
صائم خالی میرا دوست ہے اور مراد سے شانزے بچپن سے محبت کرتی ہے ۔
ہممم محبت کو نفرت میں بدلنے میں ٹائم نہیں لگتا ۔
ابھی وہ دونوں اور بات کرتے شاہجاں بیگم نے باہر آکے صنم۔کو چلنے کو کہا ۔
ایسے کیسے ملکہ اتنے دونوں بعد آئ ہو خانساماں کو کھانے کا بولا ہے میں نے ۔۔
بہزاد نےشاجہاں کو روکتے ہوئے کہا ۔۔
نہں بہزاد پھر کبھی ابھی چھوٹی خالہ کے گھر جارہی ہو..
تمہارا دماغ خراب ہے بہزاد ایک دم ڈھارا۔۔
اسکی دھاڑ سے صنم ڈر گئ تھی مگر شاجہاں بیگم نے ریلکس انداز میں کہا۔۔
لڑائ ناراضگی بڑوں میں ہے بہزاد بچوں کو نہ رگڑے تو بہتر ہے۔۔
تم میری خاطر آرہے ہو ممانی میری بچی کو دعائیں دینے آرہی ہے ایک ہی ماموں ہے اسکا وہ بھی اگر نہیں آئے گا تو کیسا لگے گا عترت کو۔
ہمشیہ سے مجھے بلیک کرتی آئ ہو ملکہ۔۔
بہزاد نے سنجیدگی سے کہا۔۔
اچھا اچھا اب میں چلتی ہو خیال رکھنا اور وقت پر اجانا۔۔
اوکے صنم دیھان رکھنا اپنا۔۔
بہزاد نے صنم کو مخاطب کرکے مسکرا کے کہا ۔
صنم نے ایسا منہ بنایا بہزاد کی بات پہ کے بہزاد نے اسکا منہ دیکھ کے بہت مشکل سے اپنا قہقہ روکا۔۔

#

اب۔ شاہجاں بیگم کس کے گھر دعوت نامہ لے کر جارہی تھی صنم۔کو کوئ آئیڈیا نہیں تھا ۔۔
ماما آپ جانتی ہیں کے بہزاد ماموں نے اپنے بیٹے کا۔۔۔۔
ابھی صنم پوری بات بول بھی نہیں پائ تھی کے شاہجاں بیگم نے غصہ میں کہا۔۔
تم۔نے دیکھا تھا اسے اپنے بیٹے کا قتل کرتے ہوئے؟؟
نہیں ماما وہ نیٹ پہ ۔۔۔
صنم سنی سنائی باتوں پہ یقین کرنے سے ہمیشہ اپنا نقصان ہوتا ہے دنیا تو نجانے کیا کیا بولتی ہے مارنے والے کے ہاتھ روکے جاسکتے ہیں کہنے والے کی زبان نہیں۔۔
سوری ماما۔۔۔
اٹس اوکے ۔۔
صنم خاموش ہوئ جب اسکے نمبر پہ شانزے کی کال آنے لگی جسے سننے کے بعد صنم نے شاہجاں بیگم سے کہا ۔
ماما شانزے کو شاپنگ کرنی ہے نکاح کی آپ مجھے لکی ون ڈارپ کردینگی۔۔۔
شہاجاں بیگم نے اسے ڈراپ کرکے وہاج ولا کی راہ لی۔۔
آج سالوں بعد اس نے اس دہلیز پہ قدم رکھا تھا کبھی اسکی جان اسکی جگر جسکے بغیر شاہجاں بیگم جو گزارا نہیں تھا رہتی تھی مگر اب وہاں صرف اسے دھوکا دینے والے رہتے ہیں۔
واچ میں نے گیٹ کھولا تو ایک گاڑی تیزی سے باہر نکلی اور شاہجاں بیگم کی گاڑی اندر داخل ہوئ۔۔
وہاج صاحب لان میں بیٹھے کسی سے کال پہ بات کررہے تھے جب انہوں نے شاجہاں بیگم کو دیکھا ۔۔
وہاج صاحب کو پل بھر کیلیے اپنی انکھوں پہ یقین نہیں ایا۔
انہوں نے فورا کال کٹ کی اور تیزی سے شاہجاں بیگم کے قریب آئے اور کہا۔
شاہجاں تم ۔۔
ہمارے گھر میں اتنے سالوں بعد۔۔۔
یہ بولتے ہوئے وہاج صاحب کی آواز رندھ گئ۔۔
او او اندر آؤ ماما تمہیں بہت یاد کرتی ہیں۔۔
نہیں وہاج میں یہی ٹھیک ہو۔۔۔
اب یہاں تک آئ ہو شاہجاں تو اندر آجاؤ میری خاطر۔۔
یہ بول کے وہاج صاحب شاہجہان بیگم کا ہاتھ تھام کے اندر لے گئے
شاہجاں بیگم کی خالہ نے جب انہیں دیکھا تو فورا صوفے کا سہارا لیا ورنہ وہ گرجاتی۔۔
روتے روتے انہوں نے شاہجاں بیگم کو گلے لگایا مگر شہاجہاں بیگم بلکل ساکن تھی۔۔
عترت کا نکاح ہے جمعہ کو آپ لوگ ضرور آئے گا۔
عترت نے اپنی خالہ کو دعوت دیتے ہوئے کہا۔
میں نے سب کو دعوت دی ہے وہاج بہزاد بھی آئے گا اور اظہر صاحب بھی ہاتھ جوڑ کے میرے درخواست ہے کے بچوں کے سامنے پرانے باتیں نہ دہرائی جائے تو بہتر ہے ۔
بے فکر رہو شاہجاں اب ایسا نہیں ہوگا ۔۔
صائم نظر نہیں ارہا۔۔
کافی بڑا ہوگیا ہوگا اب تو۔۔
ابھی ابھی باہر نکلا ہے شاجہاں مجھے پتہ ہوتا کے تم اوگی تو روک لیتی اسے۔۔
چلو کوئ بات نہیں نکاح میں مل۔لونگی۔۔۔
اچھا اب میں چلتی ہو ۔۔
کچھ دیر رک جاؤ شاہجاں ۔۔
وہاج کے والدہ نے منتیں کرنے والے انداز میں کہا۔۔
نہیں خالہ کچھ دیر اور رکی تو دم گھٹ جائے گا میرا۔۔
اپ۔لقگ ضرور آئیے گا۔۔
شہاجاں بیگم یہ بول کے تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئ چلی گئ۔۔
جاری ہے۔۔
See translation