Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Episode 67 Part 2
Rate this Novel
Episode 67 Part 2
اج وہ چاروں پھر ایک ساتھ جمع تھے اور زویان کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔۔
بہزاد نے گھورتے ہوئے زویان کو ٹوکا ۔۔
ارے ماموں میں کیا کرو میری ہنسی ہی نہیں رک رہی اپ ہوتے نہ اس وقت وہاں جب نہال بھائ نے کارڈ نکال کے پاپا سے کہا۔۔
یہ ہے انکل میری شادی کارڈ۔۔۔
افف ماموں صائم بھائ کی شکل دیکھنے والی تھی۔
اب کی بار بازل کا بھی قہقہ چھوٹ گیا جو وہ کافی دیر سے روکے ہوا تھا اور کچھ ایسا ہی حال بہزاد کا بھی تھا۔۔
اب کے اگر تم خاموش نہیں ہوا زویان تو میں تیرا منہ توڑ دونگا۔۔
کوئ بات نہیں میری بیوی مجھے ٹوتے ہوئے منہ کیساتھ بھی قبول کرلے گی ۔۔
اپ کا کیا ہوگا جناب عالی۔۔
صائم اسے جیسی مارنے کیلئے اٹھا بہزاد نے فورا صائم کو روکا اور ساتھ میں زویان کو بھی خاموش رہنے کا کہا۔۔
اچھا اچھا صائم بھائ اب بلکل سیریس قسم سے ۔۔۔
زویان نے واقعی سیریس ہوکے کہا۔۔
ماموں بتائے اب کیا کرنا یے کیونکہ یہ تو صنم سے کہہ ائے ہیں میں اب تمہارے ساتھ زبردستی نہیں کرونگا اور سونے پہ سہاگہ انہوں نے صنم کیو۔۔۔
ائییییییییی۔۔
۔اس سے پہلے زویان کس والی بات بہزاد کو بتاتا صائم نے ٹیبل کے نیچے اپنا پاؤں سے زویان کے پاؤں پہ مارا۔۔
کیا ہوا؟؟
زویان کی تکلیف پہ بہزاد ایک دم چونکا۔۔۔اور کہا۔۔
کیا ہوا؟؟؟
کچھ نہیں لگتا ہے کسی زہریلے کیڑے نے کاٹ لیا۔۔
ماموں اپ اسے چھوڑے یہ دونوں یہاں میرا مذاق اڑانے ائے ہیں خالی اپ بتائے کیا کرو اب؟
او ہیلو اگر ہم نے اپنی اپنی بیویوں کو راضی کیا ہے تو بھائ تجھے اندازہ نہیں کتنے پاپڑ بیلے ہیں۔
یہ بیچارا تو موت کو چھو کے ایا ہے بازل نے اخری بات زویان کی طرف اشارہ کرکے کہی۔۔
ہاں اور نہیں تو کیا !!شہر کی ساری لڑکیوں سے فلرٹ کرکے اب اپنی والی کو پٹانے کا انکو طریقہ ہی نہیں آرہا ۔۔۔
زویان نے بھی حساب برابر کرکے کہا۔۔۔
ایک منٹ یار تم دونوں خاموش رہو۔۔۔۔
بہزاد نے دونوں کو ٹوکا۔۔۔۔
دیکھو صائم ایک آئیڈیا ہے میرے پاس اور یہ اخری موقع ہے یہ ہاتھ سے نکل گیا تو بھائ تو اپنا کہی اور بندو بست کر لینا ۔۔
بہزاد کے آ ئیڈیا بتانے کے بات زویان اور بازل تو ہونقوں کی
بہزاد کو منہ کھولے دیکھنے لگے۔۔
جب کے صائم کے بھی اچھے خاصے پسینے چھوٹ گئے تھے۔۔
ماموں اپ جانتے ہیں کے اگر گھر کے بڑوں کو اس بات کا علم ہوگیا تو کیا ہوگا یہ بیچارا مفت میں مارا جائے گا۔۔
زویان نے صائم کی طرف اشارہ کرکے کے کہا!!.
تو صائم کیساتھ بازل نے بھی زویان کی بات سے متفق کیا۔۔
ارے گھر کے بڑوں کو کیسے ہینڈل کرنا ہے وہ میں زویان کو بتا دونگا !!
ایک منٹ ایک منٹ زویان کو بتادو نگا مطلب ماموں !!!!
اوہ ہیلو مجھے بخشو !!
!پاپا ویسے ہی بہت مشکل سے مجھے سے راضی ہوئے ہیں۔۔
یار کچھ نہیں ہوگا سب ٹھیک ہوگا میں کہہ رہا ہو نہ بس اس پلان میں تمہیں نہال کو شامل کرنا ہے۔۔۔
بہزاد کی بات پہ ان تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر صائم نے کہا۔۔
ماموں نہ کل اپ ہونگے شادی میں نہ بازل۔۔
تو پھر میں اور زویان کیسے مطلب وہ تم مجھ پہ چھوڑ دو میں نہال سے خود بات کرلو نگا۔۔
بہزاد کے کہنے پہ صائم نے ایک ٹھنڈی اہ بھری نجانے کل اسکی نییا پار لگے گی یہ نہیں۔۔۔۔۔
#
یار شانزے تیری بھی دعوت تھی اور تو ہے نخرے دیکھا رہی ہے۔۔
یار صنم نخرے کی بات نہیں ہے پاپا کی طبیعت کافی خراب ہے اور سونے پہ سہاگہ۔۔۔۔اگے کی بات بولتے ہوئے شانزے رکی۔۔
سونے پہ سہاگہ کیا۔۔؟؟
صنم نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا۔۔
یار یہاں پہ پھپھو اور مراد ائے ہوئے ہیں دو دن سے رکے ہیں یہ بات میں نے ابھی تک بہزاد کو نہیں بتائ ۔۔
کیا شانزے تو پاگل ہے۔۔؟
پہلی فرصت میں تو یہ بات بی ایم کو بتا خاما خائ میں کوئ مسئلہ نہ ہوجائے۔۔۔
ہاں یار میں بھی یہ ہی سوچ رہی ہو اج اجائے بہزاد میں انہیں بتا دونگی کے مراد بھی یہ ہی رکا ہوا ہے۔۔
چل ٹھیک میں زرا صائمہ بھابھی کو ڈارپ کرکے خود بھی گھر جاؤ گی تیار ہونے!!
صنم نے یہ کہہ کے کال کٹ کری تو ادھر شانزے نے کچھ سوچتے ہوئے اپنے پاپا کے کمرے کا رخ کیا۔۔
#
عترت مسلسل ادھے گھنٹے سے جاگ رہی تھی اور وجہ تھی اسکی بھوک۔۔۔
جب سے اسے پتہ چلا تھا کے اسکے ٹوئنز ہے بلاج اسکا اور بھی بہت دیھان رکھتا تھا خاص کر اسکے کھانے پینے کا۔۔
ابھی بھی اسنے اچھا خاصا ڈنر کیا تھا عترت کو کھاتا دیکھ بلاج کو اس پہ پیار بھی بہت اتا اور اس پہ ترس بھی جو لڑکی اپنی فیگر کو لے کے کافی کونشس تھی ابھی پوری باربی ڈول لگ رہی تھی مگر بلاج کو وہ اس روپ میں بھی پہت ذیادہ پیاری لگتی تھی۔۔۔
بلاج نے زرا سے کروٹ لی تو عترت کو جاگتا دیکھ ایک دم اٹھ بیٹھا اور پریشان ہوکے پوچھنے لگا۔۔
عترت کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے؟؟
ہاں بلاج طبیعت تو ٹھیک ہے مگر!!
مگر کیا۔۔۔؟؟
وہ نہ مجھے بھوک لگی ہے!!!
عترت کے بچوں والے انداز سے کہنے پہ بلاج نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا اور جھک کے اسکے لبوں کو چومتے ہوئے کہا ۔۔
کیا کھائے گی میری جان؟
بلاج کے پوچھنے عترت نے فورا خوش ہوکے کہا!!
ایک باربی کیو پزا وہ بھی لارج ذیادہ چیز کیساتھ ،ایک چلڈ کوک اور ایک باؤنٹی آئسکریم وہ بھی ٹرپل اسکوب۔۔۔بسس۔۔
بسس !
!بلاج نے ہونقوں کی طرح اس سے پوچھا!!
عترت کے بولنے پہ بلاج نے اپنی گھڑی اٹھا کے ٹائم دیکھا تو رات کے 2.30 بج رہے تھے اس وقت پزا ملنا مشکل ہی نہیں نہ ممکن تھا پر اسے لانا تو تھا کیونکہ اس کی بیوی اسکی نسل کو پیدا کررہی تھی ۔۔
اسکی ہر خواہش کا احترام کرنا اسے خوش رکھنا اس کا فرض تھا۔۔
بلاج نے اٹھ کے شرٹ پہنی اور جاتے جاتے عترت سے کہا۔
تھوڑی دیر لگے گی لانے میں مگر سونا نہیں یہ بول کے بلاج نے عترت کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے گاڑی کی چابی اٹھائ نکل گیا!!
تقریبا ایک گھنٹے بعد وہ واپس ایا۔
کہاں رہ گئے تھے؟؟
جانی پنڈی میں مغرب کے بعد سب بند ہوجاتا ہے تو فاسٹ ڈرائیونگ کرکے اسلام آباد سے لایا یہ سبب۔
آئسکریم میں فریزر میں رکھتا ہوا ایا ہو پگھل گئ ہوگی تم جب تک یہ پزا کھاو۔۔
بلاج نجانے کیا کیا بول رہا تھا مگر عترت کی آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے وہ دھیرے سے اٹھی اور بلاج کے سینے سے لگ کے رونے لگی۔۔
ائےےے کیا ہوا؟؟
عترت ادھر دیکھو میری طرف!
رو کیوں رہی ہو؟؟
اپ صرف میری خواہش پہ اتنا دور گئے ا!!
بلاج کی بات سمجھ میں تو اسنے بہت ارام سے عترت کو اپنی باہوں میں اٹھایا تھا حالانکہ اسکا آٹھواں مہینہ چل رہا تھا اچھا خاصا اسکا وزن تھا پھر بھی بلاج کیلئے وہ پھولوں کی طرح تھی۔۔۔۔
بلاج نے اسے لیٹا کے اسکے دونوں گالوں کو چوما اسکے ہونٹوں کو چوم کے کہا۔۔
اگر تم مجھے اج دوسرے ملک سے بھی کچھ لانے کیلئے کہتی تو میں وہ بھی لے اتا۔۔
تم مجھے اتنی بڑی خوشی دے رہو میری نسل پیدا کرتے ہوئے نجانے کتنی تکلیف سے گزرو گی اور میں تمہارے لیے زرا سا دور نہیں جاسکتا ۔
بہت بہت بہت محبت کرتا ہو عترت جانو اپ سے بس اب جلدی سے ان چنوں منوں کو پیدا کرو تاکے میں اپنی بیوی کو اپنے سینے سے لگا سکو۔
بلاج کی باتوں پہ عترت مسکرا کے کھانے سے انصاف کرنے لگی اور بلاج اسے کھاتا دیکھ مسکرانے لگا۔۔۔
#
زویان میرا موبائل اپکے کمرے میں تو نہیں۔۔۔
زویان جو ریڈی تھا بس اپنے بالوں میں برش کررہا تھا ہیر کو دیکھ کے اسکا ہاتھ وہی رک گیا۔لائٹ فیروزی کلر کے انگ رکھے میں ہلکا سا میک اپ کیے لائٹ سے جھمکیاں کانوں میں ڈالے ہاتھوں میں میچنگ کی چوڑیاں،پاوں میں کھوسہ اور لمبے بالوں کو کھلا چھوڑے نیچے سے کرل کیے ہوئے وہ بے ساختہ زویان کی نگاہوں کو ساکن کرگئ۔۔
افف شکر اللّٰہ کا مل گیا موبائل۔۔
ہیر نے ااسکے تکیے کے نیچے سے اپنا موبائل اٹھایا اور جیسے جانے کیلئے مڑی تو زویان کے سینے سے ٹکرا گئ۔۔
زویان نے اسے فورا کمر سے تھاما اور کہا۔۔
ہیر جان اج ہماری شادی نہیں ہے نہال بھائ کی ہے۔
زویان نے چہرے پہ حسین مسکراہٹ لیے ہیر سے کہا۔۔
زویان کی بات پہ ہیر نے شرما کے نگاہیں جھکائ اور کہا۔۔
زویان چھوڑے مجھے دیر ہورہی ہے۔۔
نہال بھائ کو دو بار فون اچکا یے صنم کے پاس۔۔
ہیر واپس لے لو اپنی قسم چومنے دو یہ اپنے گلابی ہونٹ جس پہ تم نے ریڈ لپسٹک لگا کے انہیں اور ظالم بنا دیا ہے۔۔
زویان کی التجا پہ ہیر نے زویان کو خود سے دور کیا اپنے موبائل کا کیمرہ اون کیا اور زویان کے قریب اکے اسکے گالوں پہ اپنے ہونٹ رکھ کے دھیر سارے سیلفی لی۔۔
ابھی فلحال اسی سے کام چلائے اور چلے۔۔
یہ کہہ ہیر نے اپنی انکھوں سے تھوڑا سا کاجل لے کے زویان کے کان کے پیچھے لگایا اور کہا۔
بہت بہت پیارے لگ رہے ہیں اج اپ بلیک قمیض شلوار میں کہی میری ہی نظر نہ لگ جائے اپکو۔۔
یہ بولتے ہوئے جہاں ہیر مسکرائ وہی زویان نے بھی مسکراتے ہوئے ہیر کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے۔۔
#
افف نہال آرہی ہو بس۔۔۔
کیا پاپا لوگ پہنچ گئے؟؟
ہاں بس تم زویان ہیر اور صائم رہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔
اچھا چلو اب کال رکھو ہم نکلتے ہیں اتنا بول کے صنم نے جیسی ہی سیڑھیاں اترنے لگی وہی اسکا بیلنس ڈس بیلنس ہوا اس سے پہلے صنم سیڑھیوں سے نیچے گرتی اسکے پیچھے اتے صائم نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا اور ایسا کر نے سے صائم کا بیلنس بگڑا اور وہ ہیر کو لے کے پیچھے گرا مگر شکر ہے سیڑھیوں پہ نہیں گرا۔۔
صائم کے ہاتھ صنم کی کمر پہ تھے اور صنم کا چہرہ صائم کی گردن پہ۔۔
صنم فورا ہڑبڑا کے اٹھی اور اپنے کپڑے صحیح کرنے لگی صائم بھی فورا اٹھا اور اپنا وائٹ کاٹن کا سوٹ جھاڑنے لگا شکر ہے وہ کہی سے گندا نہیں ہوا تھا صاف صاف کرتے ایک دم جب صائم نے نگاہ اٹھا کے صنم کو دیکھا تو دوبارہ نگاہ جھکانا بھول گیا۔۔
بے بی پنک کلر کی شرارے میں وہ تیار ہوئ صائم وہاج کی دنیا ہلا گئ۔
اپنے کپڑے صحیح کرنے پہ صنم نے نگاہ اٹھا کے صائم کو شکریہ کہا مگر جیسی ہی صنم کی نظر اسکی گردن پہ گئ اسکی نگاہیں شرم سے جھک گئ۔۔
وہ تمہاری گردن پہ کچھ لگا ہے صاف کرلو ۔۔
کیا لگا ہے صائم نے اپنی گردن پہ ہاتھ لگا کے دیکھا مگر اسکا۔ہاتھ اس لپسٹک کے نشان تک نہیں پہنچا جو صنم کے اسکے اوپر گرنے سے اسکی گردن پہ لگا تھا۔۔
صنم نے ادھر ادھر دیکھا اسے کچھ نظر نہیں ایا جس سے وہ صائم کی گردن کا نشان صاف کرسکے۔۔
رومال ہے تمہارے پاس؟صنم نے اچانک صائم پوچھا۔۔
ہاں ہے !!
یہ بول کے صائم نے اپنی جیب میں سے رومال نکال کےا سے دیا۔۔
صنم نے اس سے رومال لے تو لیا اب مسئلہ تھا اسکی گردن سے وہ نشان مٹانے کا ۔۔
ایک منٹ اپنی انکھیں بند کرو!!
کیا؟؟؟
صائم نے شاکڈ انداز میں اس سے پوچھا ۔۔
انکھیں بند کرو!!
صنم کے دوبارہ کہنے پہ صائم نے اپنی انکھیں بند کری۔۔
صنم نے تھوڑا صائم کے قریب ہوکے رومال کا کونا پکڑ کے اسکا نشان صاف کرنا شروع کیا۔
صائم جو تھوڑی بہت انکھیں کھولا ہوا تھا صنم کو اپنے اتنے قریب محسوس دیکھ کے بہت مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپا رہا تھا۔۔
جبکہ صنم کی نگاہیں نشان صاف کرتے ہوئے بار بار صائم کے چہرے پہ پڑ رہی تھی۔۔
وہ ایک حسین لڑکا تھا یہ بات کئ بار صنم اسے بول چکی تھی۔۔اور اج وائٹ کاٹن کے سوٹ کے ساتھ براؤن پشاوری چپل پہنے لگ بھی بہت حسین رہا تھا۔۔
نشان صاف ہوتے ہی صنم اس سے پیچھے ہوئ تو صائم نے اپنی انکھیں کھولی صنم مڑ کے جانے لگی جب صائم نے ایک دم اسکا ہاتھ تھاما اور کہا۔۔
میرا رومال؟؟
صنم نے جھجھکتے ہوئے اپنا ہاتھ اس سے چھڑوایا اور اسکا رومال اسے دیتے ہوئے کہا۔۔
پھینک دینا اسے بیکار ہے اب یہ۔۔
یہ بول کے صنم چلی گئ جب صائم نے رومال کھول کے دیکھا تو اس پہ لپسٹک لگی تھی۔۔
صائم نے ایک نظر جاتی ہوئ صنم کو دیکھا اور پھر رومال کو ۔۔
مسکراتے ہوئے رومال اپنی جیب میں رکھا لیا!!
#
شادی میں کافی لڑکیوں کی نظریں زویان اور صائم پہ تھی مگر وہ تھے کے اپنی جان متاع پہ نگاہیں رکھے ہوئے تھے۔۔
ایک دو لڑکیوں نے تو باقاعدہ صائم سے بات بھی کرنا چاہی مگر صائم اپنا دامن بچا کے وہاں سے کھسک گیا۔۔
کچھ دیر بعد نہال نے صنم سے ڈریسنگ روم میں سے صائمہ کا ڈوپٹہ لانے کو کہا۔۔
صنم کے ڈریسنگ روم کی طرف جاتے ہی نہال نے زویان کو انکھ ماری۔۔
زویان نے صائم کی طرف دیکھا تو وہ حال سے باہر نکل گیا۔۔
صنم جیسی ہی ڈریسنگ روم میں داخل ہوئ تو کسی نے اسکے منہ پہ رومال رکھ کے اسے بیہوش کردیا اور ڈریسنگ روم کے پیچھے کے دروازہ سے اسے گود میں اٹھا کے ایک گاڑی میں لیٹایا۔۔
یہ لے بھائ تیری امانت اور یہ دیکھ جڑے ہوئے ہاتھ اج یہ معملہ کلئیر کرلینا۔۔
زویان کے کہنے پہ صائم اسکے گلے لگا اور گاڑی میں بیٹھ کے گاٹی تیزی سے اگے بڑھا لے گیا۔۔
زویان تھوڑی دیر تک جاتی گاڑی کو دیکھتا رہا اور جیسے پلٹا تو اپنے سامنے کھڑے نفوس کو دیکھ کے اسکے قدم لڑکھڑائے ۔۔
#
کیسی ہو؟؟
شانزے جو دو دن سے اپنے میکے میں روکی تھی اور وجہ تھی اسکے پاپا کی طبیعت!!
جن کیلئے وہ سوپ بنانے کچن میں ائ تھی جب اسکے پیچھے پیچھے مراد بھی اگیا۔
پہلے تو شانزے کا دل چاہا اسکے اس سوال پہ اسکے منہ پہ رکھ کے چماٹ مار دے مگر فلحال وہ کوئ تماشہ نہیں چاہتی تھی۔۔
دو دن سے وہ یہاں اکیلا پھپھو کیساتھ رکا تھا مگر اسے وہ لڑکی نہیں دیکھی جسکی خاطر اسنے اسکی عزت سے کھیلنا چاہا تھا۔۔
میں ٹھیک ہو اللّٰہ کا شکر!!
شانزے میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہو میں بہت پچھتا رہا ہو تمہیں ٹھکرا کے ۔۔۔
اتنا بول کے مراد نے شانزے کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
بہزاد نے بہت غور سے یہ منظر دیکھا اور چلا گیا۔۔
جاری ہے ۔
