Rate this Novel
Episode 54
اپنے بلایا ڈیڈ؟؟
بازل نے کمرے کا دروازہ ناک کرکے اندر جھانک کے پوچھا۔۔
ہاں !!
اپنی شیروانی پسند کرلیتے تم؟؟نکاح کی۔۔
اپ دیکھ لے ڈیڈ جو اپکو پسند ہو میں وہی پہن لونگا۔۔
بازل نے انکے سامنے بہت احترام سے کہا۔۔
نکاح تمہارا ہے ؟بازل میں کیسے پسند کرو تمہارے لیے کچھ؟
کیوں ڈیڈ لڑکی بھی تو اپنے پسند کری ہے جبکہ زندگی مجھے گزارنی ہے تو پھر کپڑے بھی اپ سیلیکٹ کرلے کیا ہوا اگر پہننا مجھے ہیں۔۔۔
یہ کہہ کے بازل کمرے میں رکا نہیں۔
بابر صاحب کی بات سن کے بابر صاحب جہاں تھے وہی کے وہی کھڑے رہ گئے۔۔
انکے دماغ میں بازل کی باتیں گونجنے لگی۔۔۔
وہ اپنی سوچ میں اتنا گم تھے کے انکے موبائل پہ جب سے سارا کے ڈیڈ کی کال آرہی تھی مگر انہیں ہوش نہیں۔۔
نفیسہ بیگم نے کمرے میں انکے موبائل کی آواز سن کے ائ ۔
مگر انہیں سوچوں میں غرق دیکھ کے انہیں جھٹکا لگا ۔۔
انہیں ڈرتے ڈرتے بابر صاحب کا کندھا ہلایا۔۔
بابر بابر؟؟؟؟
ہاں ہاں !!!
کیا ہوا ؟؟.
کب سے اپکا موبائل بج رہا ہے ؟؟نفیسہ بیگم نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
موبائل صاحب نے جب اپنا موبائل چیک کیا تو سارا کے ڈیڈ کی 30 سے بھی ذیادہ کالز تھی۔۔
انہوں نے فورا انہیں کال کی۔
سارا کے ڈیڈ بولتے جارہے تھے اور بابر صاحب کو لگا پورا گھر گھوم رہا ہے۔
نفیسہ بیگم انکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کے بات سمجھنے کی کوشش کررہی تھی مگر ناکام رہی۔۔
کال کٹ ہوتے ہی بابر صاحب نے کہا۔۔
نفیسہ !!!
ہاں بابر کیا ہوا ؟؟
کیا بول رہے تھے بھائ صاحب؟؟؟
نفیسہ سارا نے کورٹ میرج کرلی اج اپنے کزن سے ۔۔
کیا ؟؟؟یہ کیا بول رہے ہیں اپ؟؟
کل نکاح ہے بازل کا پورا خاندان ائے گا ہم کیا جواب دینگے بابر سب کو؟؟
نفیسہ ؟؟
فیہم اور ہاجرہ کو بلا کے لاؤ فورا۔۔۔
یہ بولتے ہوئے بابر صاحب کے پسینے چھوٹنے لگے۔۔
نفیسہ بیگم کو انکی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی وہ ڈورتی۔ہوئ گئ اور ان لوگوں کو بلا کرلے ائ۔۔۔
مگر انکے ساتھ ہنزہ بھی تھی جو اج گھر پہ تھی۔۔
ہنزہ نے فورا بابر صاحب کا بلڈ پریشر چیک کیا جو حد سے ذیادہ بڑھا ہوا تھا۔۔
تایا جان کیا ہوا ہے اپکو؟؟
اتنا بلڈ پریشر بڑھا ہوا ہے اپکا ؟؟؟
ہنزہ کے چہرے پہ پریشانی کیساتھ ساتھ فکر بھی تھی۔۔
وہ بہت غور سے ہنزہ کا چہرہ دیکھ رہے تھے اپنے گھر کے ہیرے کو ٹھکرا کے انہوں نے کوئلہ چنا۔۔ اور انہوں نے ایک فیصلہ کیا۔۔۔
#
اجائے نہ بہزاد !!!
شانزے تم جاو نہ میں نے کب روکا ارام سے خود بھی نہاؤ سوئمنگ پول میں !!
پلیز اپ بھی ائے نہ۔۔
شانزے تنگ مت کرو مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے ۔۔
تم جاؤ نیچے میں مرتضی کا بول دیتا ہو سارے گارڈ وہاں سے ہٹا دے ۔۔۔۔
تم سکون سے عاشر کیساتھ انجوائے کرو۔۔۔
عاشر سو رہا ہے!!
یار پلیز نہ تنگ کرو جاؤ نہ انجوائے کرو..
شانزے نے جب اسے کال پہ بزی دیکھا تو خاموشی سے کپڑے اٹھائے اور واش روم میں نہانے گھس گئ ۔
بہزاد نے ایک نظر واش روم کے بند دروازے کو دیکھا اور پھر کال پہ موجود آدمی کو بعد میں کال کرنے کا کہہ کے لائن ڈسکنیکٹ کی ۔۔
بہزاد نے اپنی شرٹ اتاری اور واش روم کی طرف بڑھا ۔۔
شانزے جو شاور کے نیچے انکھیں بند کرکے کھڑی تھی اسے اندازہ نہیں ہوا کے واش روم میں بہزاد اچکا ہے۔۔
شانزے کو دیکھ کے بہزاد نے نے واش روم کا دروازہ لاکڈ کیا اور خاموشی سے جا کے شانزے کی کمر کو اپنے سینے سے لگالیا۔
شانزے کا دل اچھل کے حلق میں اگیا اسے اندازہ نہیں تھا کے بہزاد ایسے اسکے پیچھے واش روم میں ائے گا۔۔
بہزاد نے اسکا رخ دھیرے سے اپنی طرف موڑا مگر شانزے کا نگاہ اٹھا کے بہزاد کو دیکھنا محال تھا۔۔
شانزے کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔۔
ایسا نہیں تھا کے اس نے بہزاد کی قربت محسوس نہیں کری مگر اسطرح سے نہیں۔۔
بہزاد اسے مکمل اپنے اپ سے لگایا اور شاور کے پیچے موجود باتھ ٹب کا نل کھول دیا۔۔
شانزے نے بہزاد کی کمرے کو مضبوطی سے تھاما تھا اسکی انگلیاں بھی کپکپارہی تھی۔۔
ویسے مجھے نہیں پتہ تھا بیوی شوہر کے ساتھ نہاتے ہوئے اتنا شرماتی ہے۔۔۔
بہزاد کا ایسا بولنا تھا جب شانزے نے انکھیں بند کرے کرے اسکے سینے سے لگے لگے کہا۔
اپ بہت بے شرم ہے بہزاد ۔۔۔!!
ہیں بے شرم میں نے کیا بے شرمی کی زرا بتانا۔۔
بہزاد اسکی جھجک مٹانے کیلیے اسے باتوں میں لگا رہا تھا ۔
وہ جانتا تھا جس حالت میں وہ اس سے چپکی کھڑی ہے کبھی بھی نگاہ اٹھا کے اسے نہیں دیکھے گی۔۔۔
ویسے ایک بات ہے یہ تمہارے کمر کے نیچے جو تل ہے وہ !!!!!
اس سے پہلے بہزاد کچھ اور بولتا شانزے نے اسکے لبوں پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔
بہزاد پلیز نہ کرے۔۔
کوئ شوہر ایسا کرتا ہے جب اسکی بیوی نہارہی ہو۔۔
بہزاد نے اسکے ہاتھ اپنے لبوں سے ہٹائے اور اسکے لبوں پہ۔جھکتے ہوئے کہا۔۔
اوروں کا پتہ نہیں مگر بہزاد راجپوت کرتا ہے اپنی جان سے عزیز بیوی کیساتھ ۔۔
یہ بول کے بہزاد نے اسے گود میں اٹھایا اور گود میں اٹھائے اٹھائے پانی کے ٹب میں لیٹ گیا۔۔
بہزاد نے شانزے کی کمرے پہ اپنے لب رکھ چکا تھا دھیرے دھیرے بہزاد کے پیار میں شدت انے لگی جس سے شانزے ڈرتی تھی ۔۔
بہزاد ایک بار اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھے ۔۔
شانزے ابھی تک بہزاد کے سینے سے لگی تھی شانزے نے اپنا اپ بہزاد کے حولے کیا ہوا۔ تھا۔۔
بہزاد اپکو نہیں لگتا ہمارا نہانہ ہوچکا!!!!
بہزاد نے مسکرا کے اسے دیکھا اور کہا۔۔
اچھا مگر ابھی تو تم مچلی پڑی تھی میری ساتھ کھلے اسمان کے نیچے نہانے میں۔۔
غلطی ہوگئ مجھ اج کے بعد میری توبہ جو اپکو نہانے کا بولو۔۔
شانزے کے کہنے پہ بہزاد کو اس پہ بہت پیار ایا اس نے شانزے کی گردن پہ اپنے لب رکھ کے اسے خود سے ازاد کیا اور کہا۔
اب تم سکون سے نہاؤ میں جارہا ہو ۔۔۔
یہ کہہ بہزاد نے اسے ٹب میں چھوڑا اور خود واش روم سے نکل گیا۔۔
بہزاد کے جاتے ہی شانزے ایک بار پھر شرمانے لگی۔
#
بازل گھر میں ایا تو ہنزہ کے ہاتھوں میں مہندی لگی تھی ۔
بازل ایک دم چونکا !!!
وہ تو سمجھ رہا تھا کے وہ اسکے نکاح کے دن بہت روئے گی گھر سے چلی جائے گی مگر وہ تو یہاں انجوائے کررہی ہے اسکا نکاح ۔۔
ہنزہ جو اپنی مہندی سے لبریز ہاتھوں کو سنبھال سنبھال کے چل رہی تھی اپنے سامنے بازل کو کھڑ دیکھ کے اسے کوئ خاص فرق نہیں اور وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔
ہنزہ کی اس حرکت پہ بازل کی انکھیں بھیگنے لگی اور وہ ڈورتا ہوا اپنے کمرے میں پہنچا ۔
اس نے غصہ میں کمرے کا حشر نشر بگاڑ دیا مگر یہ ہی اسکی بس نہیں ہوئ اس نے فورا ہنزہ کے کمرے کی راہ لی ۔۔
ہاں ہاں لگوا لی مہندی دیکھو ۔۔
ہنزہ ہارون سے ویڈیو کال پہ بات کررہی تھی جب بازل کسی طوفان کی طرح ایا ۔۔۔
ہنزہ جو ہارون کا اگے پیچھے کرکے اپنی مہندی دیکھا رہی تھی بازل کے ایک دم اپنے سامنے انے پہ ہنزہ نے ہارون سے کہا۔۔
ہارون میں بعد میں کرتی ہو اپ سے بات؟؟
بازل کا تو مانو خون ہی کھول گیا اس نے ہنزہ کا موبائل لیا۔۔
کیا بدتمیزی ہے یہ ایسے کیسے تم میرے کمرے میں ائے کو اور یہ موبائل واپس کرو میرا۔۔۔ہنزہ کے کہنے پہ بازل نہ موبائل زور سے
سامنے دیوار پہ دے مارا۔۔
مگر ہنزہ ایک دم ریلکس رہی اسے اندازہ تھا بازل کچھ ایسا ہی کریگا۔۔
بازل نے یہ ہی بس نہیں کیا اسے مہندی سے لبریز ہاتھوں کو جیسے ہی تھامنا چاہا وہی ہنزہ نے اسے انگلی اٹھا کے وارن کیا۔۔
ٹچ نہیں کرنا مجھے ورنہ انجام کے ذمیدار تم خود ہوگے۔۔
بازل کی انکھوں سے صاف پتہ چل رہا تھا کے وہ رو کے ایا ہے۔۔
اسے ہنزہ کی دھمکی سے کوئ فرق نہیں پڑا۔۔
بازل نے قریب اکے اسے کمر سے تھام کے خود سے قریب کیا اور کہا۔۔۔
تو اج تم نے یہ مہندی اپنے یار ہارون کیلیے لگائ ہے اسکی فرمائش پہ لگائ ہے۔۔
ایسا بولتے ہوئے بازل کی انکھوں سے انسو گررہے تھے۔۔
ہاں لگائ ہے اپنے یار کیلیے مہندی تم کون ہوتے ہو اعتراض کرنے والے۔
میں کون ہوتا ہو میں؟؟
یہ بول کے بازل نے غصہ میں اسکے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا!!
میں جو پل پل مررہا ہو تمہارے نہ ملنے سے تم میری پچپن کی محبت ہو ہنزہ اور تم بھی مجھے پچپن سے چاہتی ہو ۔۔
اور پھر تم مجھے یہ بتا رہی کے میں ہوتا کون ہو ؟؟؟
ہاں کرتی تھی تم سے محبت بے تحاشہ کرتی تھی بلکہ عشق ہوگیا تھا تم سے جبھی تو بنا جھجھک کے تمہیں قریب انے دیا تھا کیونکہ مجھے پتہ تھا تمہاری نیت صاف ہے تمہارے دل میں ہنزہ فہیم کیلیے صرف محبت ہے ۔۔
مگر تمہیں تو میری جسم کی ہوس تھی جبھی اس دن تم میری عزت کیساتھ کھیلنے والے تھے۔۔
یہ بولتے ہوئے ہنزہ کے بھی آنسو گرنے لگے
بازل نے اسکے بال چھوڑ کے اسکا چہرہ تھاما اور کہا۔
تم نے بھی تو میرا ساتھ نہیں دیا۔!!
بازل نے بے بسی سے کہا۔۔
ہنزہ نے دوبارہ اسے خود سے دور کیا اور کہا۔۔
تو اسکا مطلب تم مجھ سے میری عزت چھین کے اس پہ اپنی محبت کا جھنڈا گاڑو گے۔۔
مجھے نفرت ہے تم سے بازل ابھی اسی وقت یہاں سے دفعہ ہوجاو ورنہ میں اپنے ساتھ کچھ کر بیٹھونگی۔۔
میری محبت کی یہ عزت تھی تمہاری نظر میں کے تم نے میری جگہ کسی اور کو دے دی۔۔بازل نے سے بے بسی سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
جو چاہے سمجھو یہاں سے ابھی کے ابھی نکلو۔۔۔
ہنزہ اسے دھکا دینے لگی بازل نے غصہ میں ایک زور دار مکا سامنے ڈریسنگ کے شیشے پہ مارا ۔۔
بازل نے ایک نظر اسے دیکھا مگر ہنزہ کی نظر اسکے ہاتھ سے نکلنے والے خون پہ تھی۔۔
بازل نے ایک بار پھر ہنزہ کے قریب اکے کہا۔۔
نئ محبت مبارک ہو۔۔۔
یہ کہہ کے بازل کمرے سے جانے لگا جب ہنزہ نے بھی پیچھے سے کہا۔۔
تمہیں بھی نکاح مبارک ہو۔
جاری ہے۔۔
