Rate this Novel
Episode 51
اس سے پہلے زویان ہیر کو پہچان کے کوئ اور بات کرتا ایک دم نمرہ بیگم کی دلخراش چیخ گونجی۔۔
امییییییی امییییی۔
نمرہ بیگم کے چیخنے پہ سب انکی طرف متوجہ ہوئے مگر انکی نگاہیں رخسانہ بیگم کے برابر میں لگے مونیٹر پہ تھی۔۔
جو بلینک ہوچکا تھا۔۔
رخسانہ بیگم کا دل بند ہوچکا تھا۔۔
نمرہ بیگم پاگلوں والے انداز میں رخسانہ بیگم کا چہرہ پکڑ کے ہلانے لگی۔۔
وہاج صاحب صدمے سے وہی کرسی پہ ڈھیر ہوچکے تھے۔۔
سب ہی کے سامنے انکا دم نکلا اور یہ ہی انکی خواہش تھی۔۔۔
#
بہزاد نے رات کو ہی مرتضی (گارڈ )کے ذریعے شانزے کو بلوالیا تھا۔۔
نمرہ بیگم کسی صدمے کی حالت میں اپنی ماں کے جنازے سے لگ کر بیٹھی تھی تدفین کا وقت ہورہا تھا مگر کسی میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی کے انہیں ان سے الگ کرے۔۔
زویان نے دو تین دفعہ کوشش کری مگر ناکام رہا وہاج صاحب الگ ٹوتے ہوئے تھے مگر خوشبو نے ایک دفعہ بھی انہیں دلاسہ نہیں تھا۔
شاہد وہ پتھر کی ہوچکی تھی۔
بہزاد جس نے خالی اپنی رخسانہ پھپھو سے اپنا دل صاف کیا تھا نمرہ بیگم کو بلکتا دیکھ کے اس سے رہا نہ گیا۔
اس نے خاموشی سے اگے بڑھ کے نمرہ بیگم کو اواز دی۔۔
خوشبو آپی!!!
بہزاد کے پکارنے پہ انہوں نے ایک نظر بہزاد کو دیکھا اور پھر روتے روتے کہنے لگی۔
بہزاد۔
۔۔انہوں نے خالی اسکا نام پکارا تھا اور بہزاد نے انہیں اپنے سینے سے لگالیا۔۔۔
وہ کسی چھوٹی بچی کی طرح اسکے سینے سے لگ کے بلکنے لگی۔۔
زویان نے بہت غور سے بہزاد راجپوت کو دیکھا تھا اسے تعجب اور حیرانگی اس بات پہ ہورہی تھی کے یہ شخص اس گھر کا حصہ نہیں ہے پھر بھی اسکی اتنی ویلیو کیوں؟؟
نمرہ بیگم کو روتا دیکھ ہیر ،صنم ،شانزے ،ہنزہ سب کی ہی انکھیں نم تھی۔۔
بازل کی فیملی کی بھی شاہجاں بیگم کی وجہ سے صائم لوگوں سے جاں پہچان ہوگئ تھی اس وجہ سے وہ لوگ بھی اس جنازے میں شامل ہوئے تھے۔۔۔
صائم تو بازل کو دوست تھا اس وجہ سے اسکا انا اور ضروری تھا۔۔
جبکے صائم ان سب میں نہیں تھا بہزاد نےا یک دو بار اسے اس پاس دیکھا بھی مگر وہ اسے دیکھا نہیں۔۔
نمرہ بیگم بہزاد کے گلے لگی رہی اور اظہر صاحب نے اشارہ کرکے جنازہ اٹھانے کا کہا۔۔
نمرہ بیگم کافی روئ تڑپی مگر جسکے جانے کا وقت ہوتا ہے اسے جانا ہی ہوتا ہے۔۔
بہزاد کو بھی جنازہ میں شرکت کرنی تھی اسی لیے اس نے شاہجاں کو اشارہ کیا ۔۔
صائم نے جب اپنی دادی کی قبر پہ مٹی ڈالی تو وہ بچوں کی ظرح روپڑا اسکی اور اسکی دادی کی بہت اچھی انڈرسٹینگ تھی۔۔
بہزاد کو اسکو ایسا روتا دیکھ کے عجیب سا لگ رہا تھا اس نے صائم کو اٹھایا اور صائم بے خودی میں اسکے گلے لگ گیا جبکہ زویان کی انکھوں میں صرف آنسوؤں تھے کیونکہ اسکی نانی اسکے اتنے قریب نہیں تھی جتنی صائم کی دادی اسکے ۔۔۔
#
ہر طرف جیسے وہاج مینشن میں ہو کا عالم تھا۔۔۔اج رخسانہ بیگم کو گئے تیسرا دن تھا۔۔
ہیر تھوڑی بہت وہاج سے بات کرنے لگی تھی ۔نمرہ بیگم کا بھی اسنے کافی دیھان رکھا تھا جبکہ صائم خاموش تھا بلکل خاموش۔۔
شانزے گھر واپس جا چکی تھی مگر بہزاد کیساتھ روز آتی تھی ۔وہاج صاحب بھی سنبھل چکے تھے مگر خاموش تھے۔۔
ہیر اور زویان کا ابھی تک دوبارہ سامنا نہیں ہوا اکیلے میں نہ ابھی تک زویان نے کوشش کی۔۔
خوشبو بیگم خاموشی سے رخسانہ بیگم کے انتقال کے دوسرے دن چلی گئ۔۔۔
انہوں نے جانے سے پہلے ہیر سے ملنا چاہا مگر ہیر نے انکو دیکھنا بھی گوارا نہیں۔۔
#
بہزاد سب سے باتیں کررہا تھا جب اسے صائم کا خیال ایا۔۔
وہاج بھائ صائم کہاں ہے؟؟
صائم کا پوچھنے پہ وہاج صاحب نے چونک کے بہزاد کو دیکھا تھا۔۔
ایسے مت دیکھے مجھے !!!
بہزاد کے بولنے پہ سب ہی وقتی طور پہ ہی صحیح مگر مسکرائے تھے ۔
بہزاد نے باہر لان میں نکل کے صائم کو ڈھونڈا تو وہ اسے کونے میں بیٹھا نظر ایا گم سم سا۔۔۔۔
بہزاد کے جاتے ہی زویان نے ہیر کو اشارہ کیا اوپر انے کا مگر ہیر اگنور کرگئ۔۔
اسے اب زویان سے ڈر لگنے لگا تھا کے کہی وہ اس سے بدلہ لینے کیلیے اسکا اور اپنا نکاح یہاں شو نہ کردے۔۔
بہزاد خاموشی سے صائم کے برابر میں بیٹھ گیا۔۔
صائم نے ایک نظر اسے دیکھا مگر بولا کچھ نہیں۔۔
سب کہتے تھے کے تم ہو بہو اپا کی کاپی ہو بہت چھوٹے تھے جب میں نے تمہیں گود میں لیا تھا۔۔۔
صائم نے ایک نظر بہزاد کو دیکھا مگر بہزاد کو اسکی آنکھیں دیکھ کے افسوس ہوا جو آنسوؤں سے لبریز تھی۔۔۔
اپکو اتنے سالوں بعد یاد ایا مجھے سے اپنا رشتہ؟؟
سالوں سے اسے رشتے کو بھلانے کی وجہ بھی تم جانتے ہو؟؟
تو اج بھی بھول جائے رشتہ مجھ سے ؟؟
بھول جاتا اگر تمہاری شکل نہیں دیکھتا جو اپا سے تو نہیں مجھ سے ضرور ملتی ہو بس آنکھوں کا کلر الگ ہے۔۔
صائم جو ہوا اسے بدلہ نہیں جاسکتا پھپھو کی موت اسی ہی لکھی تھی میں جانتا ہو تم ان سے بہت اٹیچ تھے
مگر ایسے کب تک رہوگے وہاج بھائ کو تمہاری ضرورت ہے انہیں تمہارے سہارے کی ضرورت ہے۔۔۔
مجھے بھی تو بچپن میں ماں کی ضرورت تھی مگر ان کو میری نہیں تھی جب ہی اکیلا چھوڑ کے چلی گئ۔۔
کہتے ہی ماموں لفظ کے معنی ماں ہوتا ہے کیونکہ اسکے شروع کا لفظ منہ سے ماں ہی ادا ہوتا ہے۔۔
مگر انہیں بھی اپنی انا پیاری تھی ایک دفعہ بھی پلٹ کے میری خبر نہیں لی انہوں نے۔۔
یہ کہتے ہوئے صائم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔
جبھی بہزاد نے اسے اپنے سینے سے لگالیا۔۔
صائم بہزاد کے گلے لگ کے ہچکیوں سے رونے لگا جس صائم پہ بہزاد کی شروع سے نظر تھی جس صائم سے بہزاد صنم کو دور رکھنا چاہتا تھا اس صائم میں اور اس صائم میں ذمین اسمان کا فرق تھا۔۔
صائم کو خود سے الگ کرکے بہزاد نے اسکے آنسوؤں پونچے اور کہا۔
اب کبھی تمہیں تنہا نہیں چھوڑونگا۔
مگر صائم تم نے صنم کیساتھ بہت غلط کیا ہے وہ تم سے بے تحاشہ محبت کرنے لگی تھی میں نے اسے کئ بار روکا تھا تمہارے ساتھ تعلق رکھنے سے مگر وہ مجھ سے بھی لڑی تھی۔
بہزاد کے منہ سے صنم کے بارے میں سن کے صائم شرمندہ ہوا اور کہا۔۔
اپ جانتے ہیں اسکے اور میرے درمیان ہوئے معملات کو؟؟
میں جب سے تمہارے معملات جانتا ہو جب تم نے پہلی بار ڈانس بار کی سب سے حسین لڑکی کو کسس کی تھی اور دس ہزار کی شرٹ جیتے تھے۔۔
بہزاد کے اس انکشاف پہ صائم کے چہرے پہ شرمندگی ائ تھی۔۔
تم سے دور ضرور تھا مگر غافل نہیں۔۔۔
صنم سے مجھے محبت ہے یہ بات اسے کھونے کے بعد سمجھ ائ ۔۔
ہر چیز سے توبہ کرچکا ہو پوری کوشش کرتا ہو اسکو اپنے دل سے نکال دو مگر ناکام رہا۔
محبت کرتے ہو صنم سے ؟؟
بہزاد کی بات پہ صائم مسکرایا اور الٹا سوال بہزاد سے کیا۔۔
زندگی میں شامل کرسکتے ہیں اسے دوبارہ میری؟؟
صائم کے سوال پہ بہزاد نے مسکرا کے نفی میں گردن ہلائ۔ اور کہا۔۔
بھول گیا تھا ہو تو تم بہزاد راجپوت کے بھانجے۔۔۔
تھوڑی اڑیل ہو وہ بہت جتن کرنے پڑینگے۔۔
میری بنے کیلے اگر اسنے جان بھی مانگی تو دے دونگا۔۔
صائم کی بات پہ بہزاد مسکرایا اور کھڑے ہوتے ہوئے اسکے اگے اپنا ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا۔۔
“یہ عشق نہیں اسان بس اتنا سمجھ لیجیے
ایک اگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے”
بہزاد کی بات پہ صائم نے مسکرا کے اسکا پھیلا ہاتھ تھاما اور کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔
“اکے دنیا میں بھی اگر پیار نہ کیا تو کیا کیا”””
#
ہیر عشاء کی نماز پڑھ کے فارغ ہوئ تو کچھ دیر ایسی جاء نماز پہ بیٹھی تھی کچھ آنسو اسکی انکھوں سے ٹوتھ کے گرے۔۔
اسے شدت سے اپنے اکیلے ہونے کا احساس ہورہا تھا ۔۔۔
اس نے روتے روتے دعا کیلے ہاتھ اٹھائے۔۔۔
جب اچانک اسکے کمرے میں ایک اواز گونجی۔۔
“بدعا نہیں دینا ہیر “
زویان کی اواز پہ ہیر ایک دم ڈری۔۔
جاری ہے۔۔
See translation
