Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48 Part 1 & 2

تمہیں ضرورت نہیں تھی سدرہ اسکے منہ لگنے کی۔۔
ہیر کی بات پہ سدرہ نے ایک لمبی سانس لی اور کہا۔
کیا ہوگیا ہے ہیر تمہیں ؟
تم ایسی تو نہ تھی ۔۔
پہلے تو تم ہر اس شخص کو سبق سیکھاتی تھی جو کسی لڑکی کیساتھ غلط کرتا تھا۔۔
ارم والے واقعے میں کیسے تم نے جنید کو سبق سیکھایا تھا پوری یونی میں اسکی وڈیو وائرل کرکے ۔۔
اب جب تمہارے ساتھ غلط ہوا ہے تو تم خاموش ہو ..
کیوں ہیر؟؟
کیونکہ میں محبت کرنے لگی تھی سدرہ اس سے ۔۔۔
سدرہ کی باتوں پہ ہیر ایک دم چیخ پڑی۔۔
محبت میں بدلہ نہیں لیا جاتا سدرہ نہ کوئ بدعا دی جاتی ہے شاید میرے نصیب میں ایسی دوغلی محبت لکھی تھی شاید یہ میری سزا تھی جو میں نے اپنی انی کو دھوکا دیا انکے علم میں لائے بغیر نکاح جسا بڑا کام انجام دیا ۔
سدرہ کے پاس ہیر کے اندیشے کا کوئ جواب نہیں تھا وہ کہی نہ کہی خود کو بھی ہیر کے ساتھ ہوئے دھوکے کا قصور وار مانتی تھی کاش وہ ہیر کو روک لیتی تو شاید آج ہیر کی قسمت کچھ اور ہوتی۔۔

#

میں نے آپ سے کہا ہے نہ ماما اپ وہاں نہیں جائینگی؟؟
میں تم سے پوچھنے نہیں آئ ہو بتانے آئ ہو کے میں جارہی ہو سنا تم نے ۔۔
ہما بیگم نے جب بہزاد کو رخسانہ بیگم کے ساتھ ہوئے حادثہ کیساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کے وہ وہاں جارہی ہیں یہ بات سن کے بہزاد آگ بگولہ ہوگیا۔۔
آپ اس گھر میں جارہی ہیں جس گھر سے آپکی بیٹی کا جنازہ نکلا تھا اس عورت کی عیادت کو جارہی ہیں جنہوں نے دھوکے سے اپکی بیٹی کو اپنے گھر کی بہو بنایا۔۔
بہزاد اگر آج غصہ میں تھا تو ہما بیگم نے بھی آج ارادہ کرلیا تھا اس قصہ کو ختم کرنے کا۔۔
ہاں جارہی ہو کیونکہ میری بیٹی کی موت ایسی ہی لکھی تھی ۔۔۔ہمابیگم نے غصہ میں کہا ۔
ماما آپ اتنی آسانی سے یہ بات کیسے کہہ سکتی ہیں اور بھول گئ آپ وہاج بھائ کا دھوکا آپ بھول گئ کے کیسے میری آپی خوشیوں کو ترستی تھی بھول گئ آپ ماما سب۔۔۔
تمہاری بہن نے خود ایسے انسان کا انتخاب کیا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کے وہ ایک بٹا ہوا انسان ہے۔۔
ہما بیگم کی بات پہ بہزاد ایک دم شاکڈ ہوا۔۔
مجھے اندازہ تھا جس دن تمہیں یہ بات پتہ چلے گی کچھ ایسا ہی ریکشن ہوگا تمہارا۔۔
وہاج نے کوئ دھوکہ نہیں دیا تھا ناصرہ کو بلکے اسنے اسکی مدد مانگی تھی کے وہ اس شادی سے انکار کردے کیونکہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اور نکاح بھی کرچکا ہے مگر تمہاری بہن نے صرف اپنا سوچا اور تمہاری پھپھو کا ساتھ دیا۔
اگر وہ وہاج کی محبت کو ترستے ترستے اس دنیا سے چلی گئ تو یہ اسنے اپنے ساتھ ایساخود کیا۔۔
ایک بات اور بہزاد مت بھولو کے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے تم نے ہمیں نہیں تو لہذا آئندہ زرا تمیز سے بات کرنا مجھ سے ۔۔
آج تک تمہاری ہر غلط بات پر غصہ میں خاموشی سے برداشت کرتی آئ کیونکہ تمہیں حالات نے بڑا کرا۔۔
لبنا کی دفعہ میں بھی تم نے اپنی مرضی چلائ اورخمیازہ ہمارے پوتے کو بھگتا پڑا۔۔
تمہارے پاپا جب جاتے جاتے اپنی بہن کو معاف کرگئے تو تم کون ہوتے ہو مجھے وہاں جانے سے روکنے والے۔۔
ابھی تک میں اسلیے رخسانہ سے واسطہ ختم کیے بیٹھی تھی کیونکہ انتظار تھا مجھے ایک نہ ایک دن تم اپنا دل صاف کرلوگے مگر لگتا کچھ زیادہ ہی تمہیں نشہ چڑ گیا ہے اپنی دولت کا اسلیے بڑے چھوٹے کی تمیز بھول گئے ہو۔۔
یہ بول کے ہما بیگم رکی نہیں ۔۔
ہما بیگم کی باتیں سن کے بہزاد خاموش ہوچکا تھا ..
میں جارہی ہو اور خبر دار اپنا کوئ بھی گارڈ میرے ساتھ یہ میرے پیچھے بھیجا۔۔۔
ہما بیگم کے کمرے سے جاتے ہی واش روم میں گھسی شانزے باہر نکلی ۔۔
کچھ دیر پہلےجو بہزاد کا موڈ تھا اسکی جگہ اب غصہ نے لے لی تھی اور اس نے غصہ میں ڈریسنگ کو زور سے لات ماری جس سے شانزے ایک دم ڈر گئ اب اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کے وہ الماری میں سے اپنے کپڑے نکال کے فریش کیسے ہو..!!!
بہزاد جو غصہ میں تھا اسکی نظر جب ڈری سہمی کھڑی شانزے پہ پڑی تو وہ سمجھ گیا کے وہ اسے غصہ کرتا دیکھ چکی ہے۔۔
بہزاد شانزے کی طرف بڑھنے لگا اور شانزے اسنے کس کے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بند کرلی۔۔
بہزاد شانزے کے چہرے پہ خوف کے آثار واضح طور پہ دیکھ سکتا تھا ۔۔۔
اسنے آگے بڑھ کے شانزے کی کہ بند مٹھیاں کو دھیرے سے کھولا اور اسکی کمر پہ اپنے دونوں ہاتھ آپس میں جوڑ کے اسے خود سے قریب کرتے ہوئے کہا۔۔
تم کیوں ڈر رہی ہو تم پہ تھوڑی غصہ اتار رہا ہو نہ اتار سکوگا آئندہ کبھی۔۔۔۔۔
بہزاد نے شانزے کی گہرے نیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔
بہزاد کے لہجہ کی نرماہٹ محسوس کرکے شانزے نے اپنی بند مٹھیاں دھیرے سے کھول کے بہزاد کو کمرے سا تھاما اور اسکے سینے پہ سر رکھ کے کہنے لگی۔
کبھی مجھ پہ غصہ آیا تب بھی نہیں؟
تب کرونگا مگر غصہ کی سیکنڈ فوم یوز کرونگا۔۔۔
سیکنڈ فوم مطلب؟؟.شانزے نے ایک دم سر اٹھا کے پوچھا۔۔
ہاں سیکنڈ فوم ۔۔۔
جس دن مجھے تم پہ غصہ آئے گا نہ اس رات تم میری بے شمار شدتیں ،پیار ،جنون سب برادشت کرنا ہوگا تمہارے جسم سے لے کر تمہاری روح تک کو میرا غصہ برداشت کرنا ہوگا میرے جنون ،میری شدت پیار کی صورت میں۔۔۔
بہزاد کے کہنے پہ شانزے شرما کے گردن جھکا گئ اسکے چہرے کی لالی بہزاد کو بہت اچھی لگی۔
شانزے فریش ہونے گئ تو بہزاد ایک بار پھر ہما بیگم کی باتیں سوچنے لگا۔۔۔

#

زویان کے نمبر پہ اسکے لندن کی دوست کی کال آئ جو اس سے اسکی اور اپنی ایک ساتھ کی پکس مانگ رہا تھا۔۔
لان میں بیٹھا زویان اپنی گیلری میں سے اپنے دوست کی پکس ڈھونڈ رہا تھا جب اسکے سامنے ہیر کی اور اسکی پکس آگئ پل بھر کیلیے زویان کے ہاتھ تھم گئے اسے تو یاد ہی نہیں تھا کے اسکے موبائل میں ہیر کی پک ہے۔۔۔
زویان نے آہستہ آہستہ آگے دیکھنا شروع کی پکس ہیر اور اسکی ایک ساتھ بہت سے پکس تھی ایک پکس ایسی تھی جسمیں زویان تو سیلفی لیتے ہوئے سامنے دیکھ رہا ہے مگر ہیر مسکراتے ہوئے زویان کو دیکھ رہی ہے نجانے کیوں زویان کی آنکھیں نم ہونے لگی ۔۔اور آگے کرنے پہ ہیر اور اسکے نکاح کی پکس آئ ایک دم زویان شاکڈ ہوا اسکے دل نے کہا۔۔
بیشک اسے سبق سیکھانے کیلے ہی مگر تو اسے آفیشلی اپنا بنا چکا ہے زویان وہ اب بھی تیری نکاح میں ہے تیری بیوی ہے وہ تیری ہے۔
زویان کے آنکھیں روتے روتے مسکرائ تھی ۔۔
دماغ نے ایک دم غصہ میں کہا۔۔
نجانے کس خوش فہمی میں خوش ہورہے ہو زویان۔۔
جو کچھ تم ہیر کیساتھ کرچکے ہو اسکے بعد تم میں اتنی ہمت ہے کے تم ہیر کا سامنا کرے۔۔۔۔
زویان اور آگے تصویریں دیکھنے لگا یہ جانے بغیر کے کوئ اور بھی اسکے پیچھے کھڑے ہوکے ساری تصویریں دیکھ رہا تھا۔۔
ویسے یہ ماشا تو نہیں۔۔۔
اپنے پیچھے سے آتی صائم کی آواز پہ زویان ایک دم اچھل کے کھڑا ہوا۔۔۔
صائم جو ابھی ابھی نماز پڑھ کے آیا تھا لان میں بیٹھے زویان کو دیکھا تو وہی چلا آیا مگر جب صائم اسکے قریب پہنچا تو زویان پکس دیکھنے میں مصروف تھا صائم بھی اسکے پیچھے کھڑے ہوکے اسکے موبائل میں دیکھنے لگا اسکو کچھ کچھ تو شک ہوا تھا زویان کے بدلے بدلے رویہ پہ مگر اس نے زویان سے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا ۔۔
مگر آج جب اسنے زویان کی پکس کسی اور لڑکی کیساتھ دیکھی خاص کر نکاح نامہ پہ سائن کرتے ہوئے تو وہ چونکا تھا۔۔
آپ کب آئے؟
صائم بھائ۔۔۔۔
میں تو کب سے آیا ہوا ہو اور بہت کچھ دیکھ بھی چکا ہو اندازہ تو تمہیں دیکھتے ہی ہوگیا تھا کے کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہوئ ہے اور آج میرا شک یہ پکس دیکھ کے یقین میں بدل گیا ہے لہذا مجھ سے کچھ نہیں چھپانا زویان سچ سچ بتاؤ کیا کر آئے ہو لندن میں زویان۔۔
صائم کے پوچھنے پہ زویان کی آنکھوں سے آنسوؤں گرنے لگے مگر صائم نے اسے گلے نہیں لگایا ۔۔۔
صائم بھائ کسی سے بہت بھاری قیمت وصول کرلی ہے میں نے اسکی محبت کی اندازہ نہیں تھا کے یہ قیمت مجھے ہی چکانی پڑے گی اپنی توہین کی صورت میں۔۔
پھر زویان نے ایک ایک بات صائم کو بتا دی اور روتے روتے صائم کے گلے لگ گیا۔۔
صائم بھائ مجھے اندازہ نہیں ہوا کے میں ماشا سے نہیں ہیر سے محبت کرنے لگا ہو ماشا میرے ساتھ اتنے سالوں سے تھی مگر کبھی بھی اسکے ساتھ شادی کرنے کا خیال نہیں ایا۔۔
وہ بنا کچھ بولے خاموشی سے وہاں سے آگئ صائم بھائ نہ مجھ سے لڑی نہ مجھ سے کوئ شکوہ کیا صائم بھائ ۔۔
وہ آج بھی میری محرم میں ہے میرے نکاح میں اس سے کھیل کھیلنے کے چکر میں میں نے اس سے نکاح اصلی کرلیا تھا ایک پل کیلیے یہ خیال میرے دل میں یہ ماشا روبرٹ کے دل میں نہیں آیا کے نکاح بھی نقلی ہونا چاہیے ۔۔
میں اب اسے کہاں ڈھونڈو بھائ وہ پاکستان میں ہے بھائ مگر کہاں کس جگہ کس شہر نہیں پتہ۔۔۔
زویان ابھی تک صائم کے گلے لگا تھا مسلسل روتے روتے وہ صائم سے بول رہا تھا۔۔
صائم کے پاس کوئ الفاظ نہیں تھے اسے تسلی دینے کیلیے کیونکہ وہ خود کسی کی سچی محبت کو بے مول کرچکا تھا۔۔
زویان صائم سے الگ ہوا تو دیکھا صائم کا چہرے پہ بھی شرمندگی کے آثار تھے جیسے زویان کی حالت دیکھ کے صائم کو شک ہوا تھا کچھ ایساہی حال زویان کا بھی تھا صائم کی حالت دیکھ کے۔۔
تم سوچ رہے ہوگے زویان کے میں تمہیں کوئ تسلی کیوں نہیں دے رہا مگر زویان میں اس قابل نہیں کے کسی کو محبت کی معنے سمجھا سکو کسی کو بتا سکو کے محبت کے نام پہ کسی کے سچے جذبات کو سر عام نیلام کرنے پہ اسکی روح تک ہمیشہ کیلیے نیلام ہوجاتی ہے۔ن
مطلب صائم بھائ اپنے بھی کسی کیساتھ ۔۔ ؟؟
صائم نے ایک زخمی مسکراہٹ کیساتھ صنم اور اپنی کہانی بھی اسے بتادی ۔
زویان وہ جاتے جاتے میرا ضمیر جگا گئ زنا کار تھا میں اسنے مجھے وہ آئینہ دیکھا دیا زویان جس میں میرے چہرے کیساتھ ساتھ میرا ضمیر بھی زخمی ہے بس اپنے زخموں کے مرہم کیلیے اپنے ضمیر کے سکون کیلیے زور اپنے اللّٰہ سے معافی مانگتا ہو کے میرے کیے کی سزا مجھ جڑا کوئ رشتہ نے بھگتے۔۔۔
صائم بھائ اگر میں بھی اللّٰہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو کیا ہیر مجھے مل جائے گی۔۔؟؟؟
ہاں زویان وہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے وہ تو ہماری ایک توبہ پہ ہمیں معاف کر دیتا اگر توبہ سچے دل سے مانگی گئ ہو۔
یہ بول کے صائم وہاں سے جانے لگا جب پیچھے سے زویان نے کہا۔۔
صائم بھائ ؟؟
ہمم۔۔۔
اپ کو صنم نے محبت ہوگئ ہے نہ۔۔۔؟؟
پتہ نہیں زویان شاید میں اس سے محبت نہیں عشق کرنے لگا ہو مگر اب کوئ فائدہ نہیں وہ مر تو جائے گی مگر میرا ساتھ کبھی قبول نہیں کرے گی۔۔
ابھی آپ نے ہی تو کہا کے اللّٰہ تعالیٰ جو بھی دل سے مانگو تو وہ دیتا ہے ۔۔
اب بھی صنم کو نہیں مانگے گے۔۔؟؟
مانگا ہے زویان مگر میری یہ دعا قبول ہوگی یہ نہیں یہ تو صرف میرا اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے ۔۔
میں نے کہی پڑھا تھا زویان کے کسی کا دل توڑنا اللّٰہ کے نزدیک سب سے ذیادہ ناپسندیدہ عمل ہے۔۔
کیونکہ توٹے دل کی دعا اور بدعا دونوں عرش تک جاتی ہیں۔۔۔
جاری ہے۔۔
یہ نہ ممکن ہے خالہ ۔۔۔
کچھ ممکن نہیں۔۔۔۔شاجہاں تم کرسکتی ہو مجھے پتہ ہے میری موت کو آسان بنادو شاہجاں ۔۔۔۔۔
یہ بولتے ہی رخسانہ بیگم کی سانس اکھڑنے لگی۔۔
وہاج جو وہاں سر جھکائے بیٹھے تھے اپنی ماں کیلیے آسانی کی دعا مانگ رہے تھے ایک۔دم اٹھ کے انہیں نیمولائز کرنے لگے۔۔
نمرہ بیگم ایک بار پھر رونے لگی کچھ ایسا ہی حال نغمہ بیگم کا بھی تھا۔۔۔
اس سے پہلے شاہجاں کچھ بولتی ایک دم رخسانہ بیگم کے روم کا دروازہ کھلا اور زویان ہما بیگم کیساتھ کمرے میں داخل ہوا۔۔
ماما یہ نانو سے ملنے آئ ہیں۔۔۔
زویان کا نمرہ کو ماما بولنا شاہجاں کو چوکنے پہ مجبور کرگیا اس نے بہت غور سے زویان کو دیکھا تھا شاہجاں کو ایسا لگا جیسے وہ صنم کی پرچھائ ہو اسکی آنکھیں ہو بہو صنم جیسی تھی۔۔۔
شاہجاں نے فورا اپنے دیکھنے کا زاویہ بدلا۔۔
وہاج اور نمرہ نے تیزی سے اٹھ کے ہما بیگم کا ہاتھ تھاما ۔۔
دونوں ہی ہما بیگم کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے روپڑے ۔۔
سالوں بعد آج انہیں اپنی مامی جو ماں جیسی تھی کے گلے لگنا نصیب ہوا تھا۔۔
ہما بیگم نے آکے رخسانہ بیگم کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا تو ایک بار پھر رخسانہ بیگم نے انکے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔
ہما بیگم نے آگے بڑھ کر انکے لیٹے وجود کو گلے سے لگایا تو ایک بار کمرے میں موجود ہر شخص رو پڑا ۔
زویان بہت غور غور سے شاہجاں بیگم کو ہما بیگم کو دیکھ رہا تھا ۔۔
نغمہ بیگم کی تو وہ تصویر دیکھ چکا تھا رخسانہ بیگم کیساتھ اسلیے انہیں پہچانتا تھا۔۔۔
زویان پانچ منٹ بعد ہی کمرے سے نکل گیا۔
مجھے پتہ ہے میری شاہجاں میری موت کو آسان بنائے گی ۔۔
گھر آکے شاہجاں مسلسل رخسانہ بیگم کی باتیں سوچ رہی تھی ان کی حالت واقعی قابل رحم تھی مگر جو انہوں نے اسے کرنے کو بولا تھا وہ نہ ممکن تھا۔۔
ماما کہاں گئ تھی اپ؟؟
صنم نے انکے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔۔
ایک کام سے گئ تھی صنم ۔۔۔
مگر تم کہاں جارہی ہو؟؟
انہوں نے اسکی تیاری کو جانچتے ہوئے پوچھا۔۔
ماما شانزے کی طرف جا رہی ہو بس بی ایم سے بھی مل لونگی۔
شاہجاں نے کچھ سوچتے نے ہوئے صنم سے کہا۔۔
تو چلو میں بھی ساتھ چلتی ہو مجھے بہزاد سے کام ہے آج چھٹی ہے تو وہ گھر پہ ہی ہوگا۔۔
چلے اور دادو؟؟
دادو گئ ہوئ ہیں اپنی بہن کے ہاں وہی رکے گی ابھی۔۔
شاہجاں کی بات پہ صنم کو تھوڑا تعجب ہوا یہ بات نہیں تھی کے صنم کو پتہ نہیں تھا کے اسکی دادو کی۔کوئ بہن ہے بس تعجب اس بات پہ ہوا کے اس بار اسکی ماں نے یہ بات کہتے ہوئے کوئ منہ نہیں بنایا۔۔۔۔۔

#

کیا بات ہے عترت اتنی گم سم سی کیوں رہنے لگی ہو؟؟
ندا بیگم نے لان میں بیٹھی عترت کو دیکھتے ہوے پوچھا جو ڈوبتے سورج کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
کچھ نہیں ماما بس ایسی ہی ۔
عترت نے ندا بیگم کو دیکھ کے فورا اپنے آنسوؤں چھپائے۔۔۔
میں جانتی ہو عترت تم بلاج کو یاد کرکے افسردہ ہو۔۔
بیٹا اسکی پروفیشنل ہی ایسا ہے جب کسی مشن پہ جاتا ہے تو کئ کئ دن گھر نہیں اتا۔۔
تم پریشان مت ہو بس اللّٰہ سے اسکی سلامتی کی دعا مانگو۔۔
آجاؤ میری بچی اندر چلتے ہیں ۔۔۔
یہ بول کے ندا بیگم نے اسے کندھے سے تھام کے خود سے لگایا تو چند آنسوؤں عترت کی آنکھوں سے پھسل گئے۔۔
جب سے بلاج گیا تھا دو تین دن تک تو عترت نے خود کو گھر کے کاموں میں مصروف رکھا مگر جیسے جیسے دن گزرتے گئے عترت کو ہول اٹھنے لگے بلاج کی طرف سے۔۔
ہر گزرتے دن کیساتھ اسے پیچینی سے بلاج کا انتظار ہونے لگا نگاہیں اسکی دروازے پہ جمی رہتی۔۔۔
کئ بار کالز کرنے پہ بھی اسکا موبائل اوف اتا۔۔۔
عترت ندا بیگم کیساتھ اندر آئ ۔۔
ندا بیگم سے الگ ہوکے وہ تھوڑا ہی چلی تھی کے ایک دم چکر آیا اور وہ زمین بوس ہوگئ۔۔

#

صنم جو دو تین دن سے اپنا درد بھلائے بیٹھی تھی ضبط کیے بیٹھی تھی شانزے کو سامنے دیکھتے ہی اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
شانزے خود صائم کی حقیقت جان کے شاکڈ تھی اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کے کسطرح وہ صنم کو دلاسا دے۔۔۔
صنم بس کردو کتنا رووگی۔۔؟؟
جو ہوگیا اسے بھولنے کی کوشش کرو۔۔
میں محبت کرتی تھی اس شانزے تو جانتی ہے اتنا آسان نہیں ہوتا ان لوگوں سے نفرت کرنا یہ ان لوگوں کو بھولنا جو دل میں بستے ہو۔۔

$

تم پاگل ہوگئ ہو ملکہ میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا۔۔۔
شاہجاں کی بات سن کے بہزاد ہتھے سے اکھڑ گیا۔۔
بات سمجھنے کی کوشش کرو بہزاد وہ بہت اذیت میں ہے۔۔
تو میں کیا کرو اپنے عمل سے اپنی حرکتوں سے انکی موت اتنی مشکل ہوگئ ہے۔۔۔
بہزاد کی باتیں سن کے شاہجاں کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے کافی افسردگی سے کہا۔۔
یقین نہیں آتا میرے سامنے بیٹھا بہزاد راجپوت اتنا سگندل ہوگیا ہے میں اس بہزاد کو نہیں جانتی میں جس بہزاد کو جانتی تھی وہ تو ایک طوطے کے پر کاٹنے پہ زارو قطار روتا تھا۔۔۔
وقت اور حالات انسان کو وقت سے پہلے بڑا کردیتے ہیں۔۔
بہزاد کے دو ٹوک جواب پہ شاجہاں بیگم پھر بولی۔۔
انہوں نے جو کیا بہزاد اسکی سزا اللّٰہ انہیں دے چکا ہے اور دے رہا ہے۔۔
انکی موت اللّٰہ نے مشکل بنادی ہے تین دن سے وہ بلکل زندگی لاش کی طرح بستر پہ پڑھی ہیں اس صورت میں اگر اللّٰہ نے ہمیں چنا ہے کے ہم انکی موت آسان کرنے کا ذریعہ بنے تو تم انکی قبر بھی بھاری کرنے پہ تلے ہوئے ہو۔۔۔
یہ صحیح ہے بھئ ساری زندگی دوسروں کی زندگیوں سے کھیلتے رہو اور جب خود کو موت نظر آئے تو معافی معافی کا نعرہ لگانے لگ جاؤ ۔۔
بہزاد نے غصہ میں تقریبا چیختے ہوئے کہا ۔
غلط بات مت کرو بہزاد انہیں اپنی غلطی کا احساس ناصرہ باجی کی موت سے بھی پہلے ہوگیا تھا وہ تقریبا سب سے ہی سے ہر دوسرے تیسرے دن معافی مانگتی تھی ۔
ٹھیک ہے ملکہ مجھے تو تم اتنا بڑا لیکچر دے رہی ہو تم اظہر بھائ کو معاف کرسکتی ہو؟؟؟
بہزاد کی بات پہ ملکہ نے بہت غور سے بہزاد کو دیکھا اور کہا۔۔۔
میرے معاف کرنے سے اگر انکو سکون ملے گا یہ نمرہ کو سکون ملے گا تو میں اللّٰہ کی رضا کیلیے انہیں معاف کردونگی بہزاد۔
اللّٰہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔
اب سیدھی شرافت سے تم چل رہے ہو میرے ساتھ بنا کوئ بکواس کیے کوئ اپنا پرانا لوجک جھاڑے۔۔۔
شاجہاں بیگم نے کافی غصہ میں یہ بات کہی تھی جیسے سن کے بہزاد نے اچھا خاصا سڑا ہوا منہ بنایا۔۔
میں شانزے کو بتا کے آتا ہو کے آج ہم معافی معافی سیزن کھیلنے جارہے ہیں۔۔
بہزاد طنز کے تیر چلانا بند کرو اور جلدی شانزے کو بتا کے آؤ ۔۔

$

بس کردے صنم یہ سوچ وہ تیرے نصیب میں نہیں تھا۔۔
اللّٰہ نے تجھے اس سے بچالیا۔
شانزے میں اسے کبھی معاف نہیں کرونگی اللّٰہ اسے کبھی سکون نصیب نہیں کرے گا۔۔صنم نے یہ بول کے بے دردی سے اپنے آنسو پونچے۔۔۔
اچانک بہزاد کی آواز کمرے کے باہر سے آنے لگی۔۔
شانزے شانزرے۔۔۔
بہزاد کی آواز پہ صنم نے فورا اپنے آنسوؤں صاف کیے اور شانزے کا ہاتھ تھام کے کہا۔
شانزے بی ایم کو کچھ نہیں بتانا پلیز ۔۔
صنم اسکے آگے منتیں کرنے لگی۔
صنم صنم کیا ہوگیا ہے یار تجھے۔۔
اچھا کھڑی ہو جاؤ فریش ہو میں انہیں دیکھو ۔۔۔
تو کچھ نہیں بتائے گی بی ایم کو؟صنم نے ایک بار پھر شانزے سے یقین دہانی چاہی۔۔
ہاں ہاں نہیں بتاونگی۔۔۔شانزرے کے بولتے ہی صنم واش روم میں گھسی اور وہاں سے بہزاد کمرے کا دروازہ کھول کے اندر ایا۔۔
شانزے بہزاد کو دیکھتے ہی فورا بیڈ کی چادر ٹھیک کرنے لگی اور اسی انداز میں بہزاد سے پوچھنے لگی۔۔
آپ آواز دے رہے تھے؟
ہاں وہ میں کہہ رہا تھا یہ بولنے کیساتھ بہزاد نے ایک دم شانزے کا ہاتھ پکڑ کے اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔
اچانک بہزاد کے اس عمل سے شانزے بوکھلا گئ۔
بہزاد نے اسے اپنے بے حد قریب کرکے اسکی کمر پہ۔دونوں ہاتھ رکے اور کہا۔
مجھ سے نظریں کیوں چرا رہی ہو اور ایک منٹ بہزاد نے یہ بول کے غور سے اسکی نیلی آنکھوں میں جھانکا اور کہا۔۔
تم روئ ہو ؟
نہیں کیا ہوگیا آپکو میں کیوں روئنگی۔۔۔
شانزے مجھ سے جھوٹ بولنے کیلے ابھی تم بہت چھوٹی ہو سچ سچ بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے؟
یہ صنم کہاں ہے؟؟
بہزاد کے پوچھنے پہ شانزے نے پہلے واش روم کے بند دروازے کی طرف دیکھا اور بہت دھیمی آواز میں کہا۔
“بہزاد ابھی پلیز کوئ سوال نہیں کرے میں آپکو سب کچھ بتاونگی مگر پلیز ابھی نہیں۔ ۔۔
اچھا ٹھیک ہے یہ کہہ کے بہزاد نے اسے خود سے دور کیا اور کہا ۔
ایک ضروری کام سے ملکہ کیساتھ جارہا ہو تھوڑی دیر بھی لگ سکتی ہے تب تک صنم کو یہ ہی روکنا ملکہ نے کہا ہے۔۔
ٹھیک ہے آپ جائے ۔
بہزاد نے آگے بڑھ کے شانزے کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور ایک نظر واش روم کے بند دروازے پہ ڈال کے چلا گیا۔

#

جی جی نعیم صاحب وہ فائل شاید میرے پاس ہے آپ دس منٹ رکے میں فائل دیکھ کے آپکو کال بیک کرتا ہو۔۔
صائم کال کٹ کرکے الماری میں فائل ڈھونڈنے لگا جب الماری میں موجود اسکی نظر اپنی اور صنم کی کمپیٹیشن کی تصویر پہ نگاہ پڑی ۔۔
اسکے فائل ڈھونڈتے ہاتھ ایک دم تھم گئے۔۔۔
صائم نے وہ تصویر الماری میں چھپا کے رکھ دی تھی وہاج اور رخسانہ بیگم کی وجہ سے تاکے انکی نگاہوں میں یہ تصویر نہ ائے۔۔
صائم نے وہ تصویر نکالی اور آکے بیڈ پہ بیٹھ گیا۔
بے خودی میں صائم کے ہاتھ تصویر میں موجود صنم کے مسکراتے چہرے پہ چلنے لگے۔۔۔۔
صائم جب ہماری شادی ہوجائے گی نہ ہم اپنی کمپیٹیشن والی تصویر انلاج کرکے دیوار پہ لگائینگے۔۔
صنم کی بات پہ صائم مسکرایا اور کہا ۔
اچھا اور ہم ایسا کیوں کرینگے۔۔؟؟
ارے کل کو ہمارے بچے ہونگے تو انہیں بھی تو پتہ چلنا چاہیے نہ کے انکے ماں باپ کتنے ہونہار تھے۔۔۔
صنم نے مسکراتے ہوئے یہ بات کہہ کے صائم کے دونوں گال نوچے۔۔
ااااہہہہہ صنم میرے گال !!!!!
تم بلکل پاگل ہو صنم۔۔۔۔۔صائم نے اپنے دونوں گال سہلاتے ہوئے کہا۔۔
ہممم کہہ سکتے ہو مجھے پاگل کیوں کے میں ہوگئ ہو پاگل تم سے محبت کرکے۔۔۔۔۔
پرانی باتیں یاد کرکے صائم کی آنکھیں بھیگنے لگی۔
” مانا کے تم ساتھ نہیں ہو۔۔۔۔
میرے دل کے پاس نہیں ہو۔۔۔۔۔
میں نے یہ مانا۔۔۔۔۔۔
پھر بھی اس لگی ہے دل میں۔۔۔۔۔
تم آؤ گی مجھ سے ملنے۔۔۔۔۔
چپکے چپکے کہہ دل میں۔۔۔۔
“دیوانہ”
پھر سے آئینگی وہ راتیں۔۔
وہ میٹھی میٹھی سی باتیں۔۔۔۔۔
کرتی تھی جو دیوانہ۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں تیرا ہی چہرہ۔۔۔
ڈھرکن میں تیری ہی یادیں۔۔۔
کرتی ہیں دیوانہ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔