Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

صنم اس واقعے سے کافی ڈر گئ اسے اندازہ نہیں تھا کے کلب میں ایسا کچھ میں ہوسکتا تھا۔۔
وہ صائم کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔
اپنی کار کے پاس پہنچ کے صنم نے جیسی ہی صائم سے کچھ کہنا چاہا صائم نے اس سے چابی مانگی۔۔
میں چلی جاؤنگی۔۔
صنم کے کہنے پہ صائم نے اپنی آستین فولڈ کی جو شاید پھٹ گئ تھی۔۔
مجھے پتہ آپ خود ڈرائیو کرکے جاسکتی ہیں مگر فلحال آپ اس پوزیشن میں نہیں کے اکیلے جاسکے ۔
لائیے چابی دے دیں۔۔
صنم نے کافی ہچکچاتے ہوئے اسکے ہاتھ میں چابی دی۔۔
صائم گاڑی کا گیٹ کھول کے جیسی اندر بیٹھا DIVA پرفیوم کی مہک اسکے ناک سے ٹکرائی اور اس نے دل ہی دل میں صنم کی چوائس کی داد دی ۔ ۔۔
صنم کے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھتے ہی صائم نے گاڑی ایک جھٹکے سے آگے بڑھادی۔۔
آپکا نام کیا یے؟؟.
صنم نے صائم کے سوال پہ اسے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا۔۔
“صنم”
اوہ نائس نیم میں صائم وہاج وہاج گروپ اوف انڈسٹری کا CEO صائم نے یہ کہہ کے اسکے آگے ہاتھ بڑھایا تو صنم نے گردن جھکا کے دھیرے سے کہا۔۔
میں لڑکوں سے ہاتھ نہیں ملاتی۔۔
اوہہ۔۔
صنم کی بات پہ صائم نے اپنے ہونٹ پورے گول کرکے کہا۔۔
ویسے آج اگر آپکی پارٹنر نہیں آئ تھی تو آپکو نہیں آنا چاہیے تھا کلب میں کلب کتنا ہی ہائے فائے ہو مگر اسکا ماحول اچھانہیں ہوتا۔
اگر ا بھی گئ تھی آپ تو جلدی چلی جاتی۔۔
وہ اصل میں میں اس کلب میں بس ڈانس کمپیٹیشن جیتنے کے لیے آئ ہو۔۔
میں جلدی چلی جاتی مگر گھر میں ماما آپی اور دائ جان تھے نہیں تو اکیلے رہنے سے خوف آتا ہے مجھے اس لیے بس ٹائم گزار رہی تھی۔۔
تو پاپا تو ہونگے نہ گھر پہ وہ نہیں بولتے آپکو کچھ۔۔۔
پاپا لفظ پہ صنم کی آنکھیں ایک دم بھیگنے لگی آنکھوں کے نم گوشے اس نے بہت مہارت سے صاف کیے مگر پھر بھی اسکا یہ عمل صائم کی نگاہوں میں آچکا تھا۔۔
لگتا ہے میں نے کوئ غلط سوال پوچھ لیا۔۔
صائم کے بولنے پہ صنم نے نگاہ اٹھا کے اسے دیکھا کالی گہری سیاہ آنکھیں جنہیں دیکھ کے صائم پل بھر کیلیے مہبوت رہ گیا۔۔
نہیں ایسی بات نہیں پاپا ہمارے ساتھ نہیں رہتے انہیں آپی کے بعد بیٹا چاہیے تھا اور ہو گئ میں دوبارہ ماما انہیں اولاد کی خوشیاں دے نہیں سکتی تھی اس لیے انہوں نے ہمیں اور ماما کو چھوڑ کے دوسری شادی کرلی بیٹے کیلیے ۔۔
آئ ایم سو سوری صنم آپ کو ہرٹ کرنے کا میرا ارادہ نہیں تھا۔۔
نہیں کوئ بات نہیں۔۔
یہاں سے رائٹ موڑ کے بس سامنے میرا گھر ہے۔۔
صائم نے گاڑی روکی اور اتر کے صنم کو اسکی چابی واپس کرکے کہا۔۔
اپنا دیھان رکھیے گا۔۔صائم کے کہنے پہ صنم نے ایک دم نگاہ اٹھا کے اسے دیکھا اور کہا۔۔
آپ کیسے جائینگے؟؟
ایسے۔۔
یہ بول کے صائم نے صنم کے پیچھے اشارہ کیا جہاں صائم کا ڈرائیور گاڑی لے کر آچکا تھا۔۔
صائم نے ایک نظر بھر کے صنم۔کو دیکھا اور گاڑی میں جاکے بیٹھ گیا۔۔
صائم کے جاتے ہی صنم بھی گھر کے اندر داخل ہوئ مگر پلٹ کے صائم کو دیکھنا نہیں بھولی۔۔

#

ہنزہ خاموشی سے گردن جھکا کے بیٹھی تھی اور بازل کو اسکی خاموشی چھب رہی تھی۔۔
ہنزہ ؟؟
ہاں۔
تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ۔؟
کیوں کیا ہوا.؟؟
نہیں مجھے لگا شاید تم زبان گھر چھوڑ کے آئ ہو۔۔
بازل نے مسکرا کے کہا تو ہنزہ بھی مسکرانے لگی۔۔
ایسی بات نہیں ہے ۔
ہنزہ نے بہت ہلکے سے کہا۔۔
ایک ایک منٹ ہنزہ یہ کیا ؟؟
کیا ہنزہ نے ایک دم کہا۔۔
یہ ہی کے تم مجھ سے شرما رہی ہو تمہارے گال یہ جو ریڈ ہورہے ہیں شرمانے سے ہورہے ہیں۔۔
بازل کی بات سن کے ہنزہ اور زیادہ بلش کرنے لگی اور اپنی نروس کو چھپانے کیلیے بازل کے ہاتھ پہ مارنے لگی۔۔
تم بہت زیادہ بدتمیز ہو بازل۔۔
مگر ہو تو تمہارا نہ یہ بول کے بازل نے ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ سنبھالا اور دوسرے ہاتھ ہنزہ کی۔گردن میں ڈال کے اسے خود سے قریب کیا ۔۔ہنزہ کے
ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے بازل نے کہا۔۔
ہنزہ عشق محبت دونوں ہوچکا ہے تم سے سانس کی طرح ہوتم بازل بابر کیلے۔ ۔
بازل کے اتنے شدت والے انداز بیان پہ ہنزہ اسکے سینے سے سر ٹکا گئ۔۔
بازل کے دل کی ڈھرکن ہنزہ کے اندر ایک سرشاری پیدا کررہی تھی دو آنسو ہنزہ کی آنکھ سے بہہ نکلے اور اسنے بازل کے دل کے مقام پہ اپنے لب رکھ دیے ۔
ہنزہ کی اس حرکت پہ بازل اندر سےنہال ہوگیا اسنے دوبارہ ہنزہ کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے ۔۔
ہنزہ اس سے دھیرے سے الگ ہوئ اور بازل کی طرف دیکھنے سے کترانے لگی۔۔
گاڑی ایک خوبصورت سے ہٹ کے پاس جاکے رکی ۔۔
ہنزہ ایک نظر ہٹ کو دیکھا اور پھر بازل کو۔۔
اندر سرپرائز ہے تمہارے لیے چلو ۔۔۔

#

صنم تجھے شکریہ ادا کرنا تھا صائم کا۔۔
یار یاد ہی نہیں رہا اب کلب جاؤنگی تو خصوصی کردونگی ۔۔
تو بتا مراد کے کیا حال چال ہیں؟؟
کبھی بات کرلیتا ہے اور کبھی پاس سے بھی گزر کر ایسا بیہیو کرتا ہے جیسے جانتا نہیں۔۔۔
تو کیوں نیگیٹوو سوچ رہی ہے شانزے اچھا اچھا سوچ ۔۔
تو اسکی بچپن کی محبت ہے ۔۔
اچھا اچھا ہی سوچ رہی ہو ۔۔
ہممم گڈ گرل۔۔
ویسے ایک بات تو بتا صنم ؟؟
ہمم ۔۔
دیکھنے میں کیسا تھا صائم ؟؟
میں غور سے نہیں دیکھا۔۔
اووووووو۔۔۔
شانزے نے اتنا لمبا اوووو کیا جس پہ صنم نے دانت پیس کے کہا۔۔
شانزے بی بی اپنے دماغ زرا کم چلایا کرو اور سو جاؤ صبح تم نے اپنی موچھیں بھی صاف کروانی یے۔۔
یہ بول کے صنم نے کال کٹ کردی ۔۔
ادھر شانزے صرف افسوس ہی کرسکی صنم کی بات پہ اسے جواب نہ دینے پہ کیونکہ اسے پتہ تھا اب صنم موبائل بند کرچکی ہوگی۔۔
صنم نے آنکھیں بند کری تو صائم کا چہرہ چھن کرکے اسکے سامنے ایا۔۔
صنم جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔
نیند اب اسکی آنکھوں سے اڑ چکی تھی۔۔۔

#

جاری ہے۔۔