Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41 (part 1)

بلاج اور عترت سفر کرکے تھک۔گئے تھے اسلیے آرام کرنے چلے گئے۔۔
لائبہ(ماسی)نے سارا گھر صاف کیا کھانا بنانے لگی جب عترت کی آواز پہ ایک دم چونکی۔۔۔۔
ہما کھانا میں بناونگی۔۔۔
مگر باجی آپ تو ابھی نئ نویلی دلہن ہیں کھیر میں بھی آپکا ہاتھ نہیں لگا ابھی تک۔۔
ارے یہ رسمیں میں نہیں مانتی جاؤ فریج سے چکن نکال کے لاؤ اور چاول بھی بھگو دو۔۔۔
عترت کی انسٹرکش پہ ہما پھرتی سے کام کررہی تھی سارا کھانا تیار کرنے کے بعد عترت فریش ہونے جیسی ہی روم میں گھسی اسے بلاج روم میں کہی دیکھائے نہی دیا اس نے سوچا شاید باہر ہوگا یہ سوچتے ہوئے اسنے جیسے ہی واش روم کا دروازہ کھولا اندر سے آتے بلاج سے اسکی زور دار ٹکر ہوئ۔۔
مگر بلاج نے اسے کمر سے تھام کے فل وقت تھام لیا۔واش روم لاکڈ کرکے بندہ وش روم یوز کرتا ہے۔۔۔
عترت نے بلاج سے دور ہوکے کہا۔
مجھے کیا پتہ تھا کوئ اچانک آئے گا اور سیدھا بنا ڈور ناکک کی واش روم کا دروازہ کھول دے گا۔۔
بلاج نے بھی دو دو جواب دیا۔۔
عترت کے لمبے سلکی بال جو جوڑے کی صورت میں تھے اوربلاج سے ٹکر ہونے پہ کھل گئے تھے۔۔
عترت انہیں باندھنے لگی اور ادھر بلاج اسکے لمبے بالوں کو دیکھتا رہ گیا۔۔
ویسے بال تو ڈائن جیسے ہیں تمہارے۔۔
بلاج نے واش روم کے اندر جاتی عترت پہ ٹونٹ کرتے ہوئے کہا۔۔
ظاہر سی بات ہے عشق جو افریقہ کے جن سے کر بیٹھی تھی تو اسکے مطابق کچھ تو موازنہ کرنا تھا نہ اپنا تو سوچا بال بڑھا لو کیونکہ کے وہ خود بالوں والا جن جو ہے۔۔
عترت کے جواب پر ایک بار پھر بیچارا بلاج لاجواب ہوچکا تھا۔۔
بریانی کا چمچ منہ میں ڈالتے ہی بلاج بول پڑا۔۔
ارے واہ ہما تجھے تو بریانی بنانا آگئ واہ بھئ کیا بریانی بنائ ہے۔۔۔
ارے بلاج بھائ یہ بریانی یہ سارا کھانا میں نے نہیں عترت باجی نے بنایا ہے۔۔
ہما کی بات سنتے ہی بلاج کے منہ میں نوالہ پھنس گیا۔۔
اسنے جلدی سے پانی پیا اور غور سے عترت کو دیکھنے لگا مگر عترت اسے کوئ فرق نہیں پڑا وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی۔۔
پورا کھانا بلاج کی پسند کا تھا۔یہ ہی دیکھ دیکھ کے بلاج مسکرا رہا تھا۔۔
کھانا کھا کے وہ کمرے میں آکے اپنا یونیفارم پہننے لگا عترت جو آرام کرنے غرض سے کمرے میں آئ تھی بلاج کو یونیفارم میں دیکھ کے پل بھر کی ٹہر سی گئ اسے اندازہ نہیں تھا بلاج پہ ائیر فورس کا یونیفارم اتنا اچھا لگے گا۔۔
کچھ یاد آنے پہ عترت نے اپنی نگاہوں کا زاویہ بدلہ اور سونے کیلے لیٹ گئ مگر ترچھی ترچھی نگاہوں سے بلاج کو دیکھ رہی اور یہ بات بلاج نوٹ کرچکا تھا ۔۔۔
بلاج نے عترت کے پاس رکھی سائیڈ ٹیبل پہ سے اپنی واچ اٹھائ اور دھیرے سے جھک کے عترت کو دیکھتے ہوئے کہا۔
تمہارا ذاتی پر منٹ شوہر ہو دور دور سے کیوں تاڑ رہی ہو یہ لو پاس آگیا ہو دیکھ لو جی بھر کے کیا پتہ پھر ملو نہ ملو۔۔
جن سے نفرت ہوتی ہوے انکے چہرے کو قریب سے دیکھنے میں گھن آتی ہے لہذا آئندہ میرے اتنے قریب مت آئیے گا۔۔
عترت کا ایسا بولنا بلاج کے غصہ کو ہوا دینے کیلے کافی تھا۔۔
اسنے جھٹکے سے عترت کو اپنے روبرو کھڑا کیا اور کہا۔
تو دعا کرو میرے مرنے کی عترت۔۔۔
بیوفائ تم نے کی میرے پیار کا مذاق تم۔نے بنایا میری محبت میں شرک تم نے کیا اور سزا مجھے دے رہی ہو تم۔۔۔
آپ مرے یہ جیے میری صحت پر اب کوئ اثر نہیں پڑے گا عترت نے اپنے آپکو چھڑواتے ہوئے کہا۔۔
پہلے بھی بولا تھا آج بھی بول رہی ہو جب دل چاہے یہ بے نام اذیت بھرا رشتہ ختم کردیجیے گا مجھے فرق نہیں پڑے گا بہت بھگت لی میں نے سزا بنا جرم۔کے اب بس اور ایک بات اور دوبارہ میرے قریب مت آئیے گا ورنہ مجھے نہیں پتہ میں کیا۔کر بیٹھونگی۔۔
ایک بار محبت کرنے کی قیمت چکا چکی ہو بار بار نہں چکاونگی۔۔
عترت کی بات سن کے بلاج غصہ میں چلا گیا اور عترت وہی رونے بیٹھ گئ۔۔

#

شانزے اور مراد کے ساتھ واقع کا سن کے شانزے کی ماں کا برا حال تھا جواد صاحب ہر جگہ شانزے کی تلاش کرچکے تھے ۔
صنم بھی بھر پور طریقہ سے شانزے کو ڈھونڈ رہی تھی مگر کوئ سوراخ نہیں مل رہا تھا اگلے دن کی صبح ہوگئ تھی۔۔جوان بیٹی ساری رات گھر سے باہر تھی یہی۔ سوچ سوچ کے شانزے کی ماں کی بری حالت تھی۔۔
مراد کے سر پہ دو ٹانکے آئے تھے اس لیے وہ سو رہا تھا ۔۔
یااللہ میری بچی کی حفاظت کرنا اسے اپنے حفظ وامان میں رکھنا۔۔۔شانزے کی ماں کا رو رو کر برا حال تھا۔۔
فکر نہیں کرے بھابھی شانزے ساتھ خیریت سے اجائے گی۔۔
جواد صاحب بلکل نڈھال گھر آئے اور آتے ہی رو ہڑے۔۔
ارے انکل۔اپ۔تو ہمت نہیں ہارے مل جائے گی انشاء اللہ شانزے مجھے بھروسہ ہے۔۔
صنم شاہجاں بیگم دونوں ہی انکے گھر پہ موجود تھی صنم کا خود برا حال تھا مگر وہ سب کو سنبھالے ہوئے تھے۔۔
صائم 10 دنوں کیلے لاہور گیا ہوا تھا کام۔کے سلسلے میں اسلیے صنم اپنے آپکو بہت اکیلا محسوس کررہی تھی۔۔۔
صنم کو اچانک کچھ یاد آیا اور وہ شاہجاں بیگم کو کچھ دیر میں آنے کا بول کے گھر سے نکلی اور نکلتے ہی اس نے بہزاد کو کال ملائ۔۔
آگے سے بہزاد کے کہنے پہ وہ دس منٹ گاڑی کا ویٹ کرنے لگی ۔گاڑی آتے ہی صنم اس میں سوار ہوگئ۔۔
گاڑی سیدھا بہزاد کے فارم ہاؤس پہ جاکے رکی ۔۔
صنم تیزی سے اندر بھاگی تو سامنے ہی اسے بہزاد دیکھائ دیا۔۔
بی ایم آپکو پتہ ہے شانزے کل رات سے غائب ہے اور آپ اتنے سکون سے یہاں بیٹھے ہیں۔؟
صنم کی بات سن کے بہزاد اسے ایک روم میں لے گیا جہاں وہی تین لڑکے آدھ مری حالت میں تھے۔۔۔۔
یہ لوگ کون ہے؟؟
یہی وہ لوگ ہیں صنم جنہوں نے شانزے کو اغواہ کیا تھا۔۔
بہزاد کے بولنے پہ صنم نے حیرت سے بہزاد کو دیکھا اور پوچھا۔۔
یعنی شانزے آپکے پاس ہے؟
ہاں ۔
افف شکر ہے اللہ تعالیٰ کا کہاں ہے شانزے؟
صنم ابھی بیہوش ہے کافی مقدار میں اسے کلورفام سنگھایا گیا ہے۔۔
بی ایم اسکا گھر جانا ضروری ہے اسکے والدین بہت بری حالت میں ہے۔۔
صنم تم نے پوچھا نہیں شانزے کو اغواہ کس نے کیا ؟؟
بی ایم انہیں لڑکوں نے کیا ہے نہ۔
نہیں صنم یہ تو مہرے ہیں اصل کھلاڑی تو کوئ اور ہے۔۔
مطلب میں سمجھی نہیں بی ایم۔۔۔
ایک منٹ یہ بول کے بہزاد نے ان لڑکوں کے پاس رکھا موبائل اٹھایا اور ایک نمبر ملا کے اس لڑکے کو ایک گھونسا مار کے بات کرنے کو کہا۔۔
کال پک ہوتے ہی جو آواز صنم نے سنی اگر ساتھ میں بہزاد نہیں کھڑا ہوتا تو یقینا صنم زمین بوس ہوجاتی۔۔
۔میں نے تم سے کہا تھا نہ جو کرنا ہے اس لڑکی۔کیساتھ کرو بس مارنا نہیں اسے اور اب فون نہیں کرنا مجھے تمہارے پیسے پہنچ جائینگے تم تک۔۔۔
مراد تو کہہ کے کال کٹ کرچکا تھا مگر صنم کتنی ہی دیر تک صدمے میں رہی ٹپ ٹپ اسکے آنسوؤں جاری تھے۔۔
بہزاد نے اس سے پہلے کچھ کہتا ماسی نے آکے بتایا کے کمرے والی بی بی کو ہوش اگیا ہے وہ چلا رہی ہے۔۔۔
صنم اور بہزاد فورا شانزے تک پہنچے۔
صنم کو بہزاد خاموش رہنے کیساتھ کمرے کے باہر ہی کھڑا ہونے کو کہا۔
بہزاد جیسی ہی کمرے کے اندر داخل ہوا۔
شانزے نے پہلے اپنے سر کو تھامتے ہوئے بہزاد کو دیکھا ۔۔
اپنے مجرم کے روپ میں بہزاد کو سامنے دیکھ کے شانزے آپے سے باہر ہوگئ۔
تم نے مجھے اغواہ کروایا۔۔؟؟
شانزے کے سوال پہ بہزاد چونکا نہیں کیونکہ اسے اندازہ تھا مگر اگلا عمل جو شانزے نے کرا اسکی توقع بلکل بھی بہزاد نے نہیں کری تھی۔
ایک زور دار چماٹ شانزے نے بہزاد کے منہ پہ دے مارا اسکا کالر پکڑ کے چیخ کے کہا۔
تم گھٹیا تو تھے یہ تو مجھے پتہ تھا مگر اتنا گھٹیا ہوگے اسکا مجھے اندازہ نہیں تھا اپنے مزے کی خاطر تم کسی لڑکی کی عزت سے کھیل گئے میں نے تم سے کہا تھا میں مراد سے محبت کرتی ہو دور رہو مجھ سے مگر تمہاری تو رال ٹپک گئ اپنی سے کئ گناہ چھوٹی لڑکی کو دیکھ کے صحیح کیا تھا تمہاری بیوی نے کسی اور کیساتھ۔۔
بسسسسس۔۔۔۔۔۔
آگے کی بات اس سے پہلے شانزے بولتی بہزاد اتنی زور سے چیخا کے شانزے کیساتھ ساتھ باہر کھڑی صنم بھی ڈر گئ۔۔
شانزے کے بال بہزاد کی مٹھی میں تھے ۔۔۔
اہہہہہ چھوڑو مجھے جنگلی جانور چھوڑو مجھے۔۔شاںزے تکلیف سے کراہنے لگی۔۔
چھوڑونگا تو میں اب تمہیں بلکل بھی نہیں ابھی تک جو ہوا ہنسی مذاق تھا میری نظر میں مگر اب جو میں تمہارے ساتھ کرونگا تماری روح تک کانپ جائے گی ۔۔
یہ بول کے بہزاد نے شانزے کو زور سے زمین پہ پھینکا اسکا سر بری طرح زمیں سے ٹکرایا اور وہ بیہوش ہوگئ۔۔
بہزاد گیٹ کھول کے باہر آیا تو۔ صنم ڈری سہمی سی کھڑی تھی۔۔
صنم تم گھر جاؤ ابھی اور کسی سے بھی کوئ بات نہیں کرنا۔۔
بی ایم مجھے شانزے سے بات کرنے دے میں بتاونگی کے وہ غلط سمجھ رہی ہے آپکے بارے میں۔۔
میں تم سے کہا نہ صنم کے تم گھر جاو۔ممم
بہزاد کے لہجے میں ایسا کچھ تھا کے صنم ایک بار پھر ڈر گئ۔۔
شانزے کے والدین بہت ذیادہ پریشان ہیں بی ایم ۔۔
ہونے دو پریشان تین دن اور اب یہ یہاں سے میری مرضی سے ہی جائے گی یاد رکھنا صنم اگر تم نے اپنا منہ کھولا تو اچھے کی امید مجھ سے بھی نہیں رکھنا
۔
بہزاد کی ہری آنکھیں آج انگارا بنی ہوئ تھی صنم نے بہزاد کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا اسے پتہ تھا بہزاد جو بولتا ہے وہ کرکے رہتا ہے اسلیے وہ بنا بحس کیے وہاں سے چلی گئ۔۔۔
بہزاد نے صنم کے جاتے ہی ایک بار پھر شانزے کے کمرے کی راہ لی۔۔
جاری ہے۔۔۔