Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 52

ہیر کے ڈری سہمی سی آنکھیں دیکھ کے زویان کو شدت سے احساس ہوا کے وہ اس لڑکی کیساتھ کتنا بڑا ظلم کرچکا۔۔۔
ہیر نے فورا اپنے ڈر پہ قابو پایا دعا مانگ کے اٹھی اور زویان کے پاس سے گزر کے جانے لگی جب زویان نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔۔
“میں بہت شرمندہ ہو ہیر”
زویان کا ایسا کرنا تھا کے ہیر نے ایک نظر زویان کے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھا اور ایک زور دار طمانچہ زویان کے منہ پہ دے مارا۔۔
ٹھپڑ اتنا شدید تھا کے زویان کے چہرے پہ ہیر کی انگلیوں کے نشان چھپ چکے تھے۔۔
اج کے بعد مجھے چھوا تو جان سے ماردونگی۔۔
ہیر کے کہنے پہ زویان کے چہرے پہ مسکراہٹ ائ جو ہیر کا خون جلانے کیلئے کافی تھی ۔
مجھے پتہ ہے تمہاری اس طنزیہ مسکراہٹ کی وجہ۔۔۔
تم نے جو بھی میرے ساتھ نکاح کے نام پہ کیا اس میں میری رضا شامل تھی اس لیے شاید میں سزا بھگت رہی ہو اور شاید میرے ساتھ ایسا ہونا تھا کیونکہ جو لڑکیاں اپنے گھر والوں کے بھروسے کو توڑتی ہیں انکے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔۔
تم نے جو کرنا تھا میرے ساتھ کر چکے زویان تمہاری گرل فرینڈ بھی مجھ سے اپنا حسب برابر کرچکی تم نے بھی کوئ کسر نہیں چھوڑی مجھ سے بدلہ لینے میں تو اب کس حق سے تم نے میرا راستہ روکا؟؟
اب بھی تم میرے نکاح!!!!
زویان اس سے پہلے اپنی بات مکمل کرتا ہیر نے ایک بار پھر اپنا ہاتھ اٹھایا مگر زویان نے اسکا ہاتھ درمیان میں ہی روک لیا۔۔
اس بات کو تم جھٹلا نہیں سکتی ہیر!!
ہیر نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھرڑوایا اور کہا۔۔
اس پاک رشتے کا نام اپنی زبان سے مت نکالنا اس نام کا سہارا لے کر تم مجھ میرا سب کچھ چھین چکے ہو زویان ۔۔۔
اب کیوں میرے پیچھے ہو میں نے تمہیں کچھ کہا تمہیں کوئ الزام دیا کوئ شکوہ کیا تم سے ؟؟
نہیں نہ !!!!!
تو پھر اب کیوں میرے پیچھے پڑے ہو؟؟
ہیر نے تقریبا چیختے ہوئے کہا۔۔
مانا میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے تم سے محبت کا ڈراما کیا تم سے جھوٹ بولا تم سے نکاح کے نام پہ وہ سب۔۔
مگر ہیر میں بہت شرمندہ ہو۔۔
زویان ہیر کے سامنے بے بسی سے کہا۔۔
تمہاری شرمندگی مجھے میری عزت،میرا غرور ،میری محبت ،میرا بھرم لوٹا سکتی ہے۔۔
جب تمہاری محبت تمہیں کسی اور کی باہنوں میں دیکھی جب تمہارے بھروسہ کہ دھجیاں اری جب تمہیں یاد ایا کے تم نے میرے ساتھ غلط کرا زیادتی کری۔۔۔
نکاح کی بات کررہے ہو نہ تم۔۔
ہیر نے اسکا گریبان پکڑ کے کہا۔۔۔
نہیں مانتی میں اس نکاح کو سنا تم نے۔۔
زویان نے بہت غور سے ہیر کا چہرہ دیکھا تھا جہاں صرف تکلیف تھا کرب تھا۔۔
مانا میں نے سب تمہارے ساتھ دھوکے سے کیا تھا مگر ہمارا نکاح اصل تھا نکاح نامہ اصلی تھا۔۔
تم اتنی اسانی سے مجھ سے دستبردار نہیں ہوسکتی۔۔
زویان کے کہنے پہ ہیر نے اسکا گریبان چھوڑا اور کہا۔۔
محبت کی بہت بھاری قیمت چکائ ہے میں نے اب نہیں۔۔
کیا کروگے ؟
سب کو بتاؤ گے ہمارے نکاح کے بارے میں۔؟
بتاؤ شوق سے بتاؤ زویان اظہر۔۔۔
اچھا ہے میری جان بھی چھوٹے گی ۔۔
تمہاری سوچ ہے کے میں تم سے نکاح ختم کرونگا ہیر!!!
زویان نے ایک بار پھر اسکے ہاتھ کو تھامتے ہوئے کہا اب کی بار اسکی گرفت میں سختی تھی۔۔
اس بار تم ہیر کو شکست نہیں دے سکتے تمہارے کوئ بھی لفظ کوئ بھی بہانہ کوئ بھی چال مجھے میرا فیصلہ بدلنے پہ مجبور نہیں کرسکتی ۔۔
جاؤ میرا بلا سے اعلان کر دو اس رشتے کا مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔
میں تم سے الگ ہوکے بھی دیکھاؤ نگی اور تمہارے سامنے تمہیں کسی اور کی ہوکے بھی دیکھاؤ نگی یہ وعدہ ہے میرا تم سے زویان۔۔
ہیر یہ کہہ کے کمرے سے جانے لگی جب زویان کی مٹھی میں ہیر کے بال اچکے تھے۔۔
ااا چھوڑے مجھے بدتمیز انسان چھوڑو۔۔۔۔زویان اپنا چہرہ ہیر کے قریب لایا
اس نے غصہ سے پھنکارتے ہوئے کہا۔۔
سوچنا بھی نہیں کسی اور کی ہونے کا تم صرف میری ہو سوچا تھا تم سے معافی مانگونگا جب تک تمہیں مناؤ گا جب تک تم مجھے معاف نہیں کردیتی ۔۔
مگر اب نہیں ۔۔۔۔
میں بھی دیکھتا ہو تمہیں مجھ سے اللّٰہ کی ذات کے علاوہ کون چھینتا ہے تمہیں سب کی موجودگی میں رخصت کرکے اپنے گھر نہیں لایا تو میرا نام بھی زویان اظہر نہیں۔۔
زویان نے کہہ کے جھٹکے سے اسکے بال چھوڑے۔۔
ہیر نے بھی بنا ڈرے اسے کہا۔
لگاؤ ایڑھی چوٹی کا زور زویان اظہر ۔۔
تمہارے ساتھ دوبارہ تعلق جوڑنے سے پہلے میں موت کو گلے لگاؤ نگی زویان مجھے گھن اتی ہے اپنے اپ سے کے میں تم نے سے محبت کی ۔۔
گھن اتی ہے اپنے جسم سے دل چاہتا کے جلا لو خود کو اس حصہ کو جہاں تم نے چھوا مجھے۔۔
کاش کوئ ایسا معجزہ ہو اور ایک بار مجھے موقع ملے اپنی پچھلی زندگی کے گزرے لمحوں میں جانے کا تو اگ لگا دو ان لمحوں کو جن لمحوں میں مجھے تم سے محبت ہوئ جن لمحوں میں تم میرے قریب ائے۔۔
یہ بولتے ہوئے ہیر زویان کے بے حد قریب تھی اسکی آنکھیوں سے آنسوؤں جاری تھے۔۔
زویان نے بے خودی میں اسکا چہرہ تھاما اور کہا۔۔
ایک موقع دے دو ہیر مجھ سے غلطی ہوگئ میں تم سے بہت محبت کرنے لگا ہو۔۔۔
زویان کی بات سن کے ہیر نے قہقہ لگایا اور کہا۔۔
“آ زمائے ہوئے کو ازمایا نہیں جاتا”
محبت کا لفظ اپنے منہ سے نکال کے اسکی توہین نہیں کرو۔
مجھے تم سے نفرت ہے زویان گھن اتی ہے تمہیں دیکھ کے بہتری اسی میں ہے کے مجھے طلاق دے دو ۔
ورنہ الگ تو میں تم سے ہوہی جاؤ نگی کسی اور کی بن کے۔۔
جب میں طلاق ہی نہیں دونگا تو کسی اور کی کیسے بنوگی؟؟
طلاق نہیں دوگے تو میں خلا لونگی بولتا رہے زمانہ کچھ بھی مجھے کسی کی پرواہ نہیں
یہ بول کے ہیر نے جانے کیلئے جیسی ہی کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے نمرہ بیگم کو کھڑا پایا ۔۔
انکی شکل دیکھ کے ہیر کو اندازہ ہوگیا تھا کے وہ سب کچھ سن چکی ہیں۔۔
ہیر نے ایک نظر انہیں دیکھا اور چلی گئ۔۔
نمرہ بیگم اندر بڑھی تو زویان گھٹنوں کے بل بیٹھ کے رورہا تھا۔
زویان ؟؟؟
نمرہ بیگم کی اواز پہ زویان نے نگاہ اٹھا کے اپنی ماں کو دیکھا کھڑے ہوکے انکے گلے لگ گیا۔
زویان جو بھی ہیر نے کہا سچ ہے ؟تم نے اس سے نکاح کیا ہے؟؟
نمرہ کے پوچھنے پہ زویان نے انہیں سب کچھ بتادیا جیسے سن کے خوشبو جھٹکے سے بیڈ پہ بیٹھ گئ۔۔
تمہیں پتہ ہے ہیر کون ہے زویان؟وہ کیوں اس گھر میں ہے؟
نہیں ماما مجھے!!!
یہ بات بولتے ہوئے زویان چونکا اس نے یہ تو سوچا ہی نہیں کے ہیر یہاں کیا کررہی ہے اسکا اس گھر سے کیا رشتہ ہے۔۔
نہیں ماما؟؟؟
زویان یہ تم نے کیا کیا؟
ایک بار پھر ماضی دہرایا ہے پھر ایک بار اس خاندان کا فرد کسی کیلئے تکلیف کا باعث بنا ہے۔۔
ماما اپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں ؟کھل کے کہے ؟؟
زویان ہیر تمہارے ماموں کی بیٹی ہے اور صائم کی بہن۔۔۔۔۔
نمرہ کے انکشاف پہ زویان نے حیران کن نظروں سے خوشبو کو دیکھا اور کہا۔
یہ کیا کہہ رہی ہیں ماما اپ؟
زویان کے ایسے شاکڈ انداز پہ نمرہ نے زویان کو ایک بار پھر ماضی بتایا مگر صرف وہاج صاحب کا ۔۔۔
شاید وہ اپنا کیا اپنے بیٹے کو بتانے کی ہمت نہیں کرپارہی تھی۔۔

#

لائبہ تم نے اسے دوائ دی۔۔
ہاں شاجہاں اپا مگر وہ نہیں لے رہی بس ایک جگہ بیٹھی رہتی ہے بہت زبردستی کرنے پہ کچھ کھاتی ہیں۔۔۔
اور کل وہ؟؟
کیا کل ؟لائبہ کچھ مت چھپانا مجھ سے ۔۔۔
اپا کل وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلیے گاؤں جارہی ہیں کبھی نہ انے کیلئے ۔۔۔
شاجہاں اپا کچھ کرے پلیز۔۔۔
یہ کہہ کے لائبہ نے کال کٹ کردی۔۔
وہاج صاحب کو ابھی ابھی شاجہاں بیگم نے خوشبو کا کیا فیصلہ اور اسکی طبیعیت دونوں بتائ۔۔
کیا سوچ رہے ہو وہاج ؟؟
انکے ساتھ تم نے زیادتی کری ہے وہاج ۔۔۔
اظہر بھائ میں نے کب منع کرا ہے مگر وہ کچھ سنے تو ۔۔۔
اتنی ضدی تو مجھے نہیں لگی تھی وہ جب مجھ سے ملی تھی۔۔
22 سالوں سے جو کسی کی راہ تک رہا ہو جس نے کسی کو اسکو چھوڑ جانے کی وجہ بھی نہیں بتائ ہو جس نے نکاح کرکے بنا رخصتی کے اس سے اپنا حق مانگ لیا ہو اور پھر انتظار کی سولی پہ لٹکا دیا ہو ۔۔
اس شخص سے کیا تم صبر کی امید رکھتے ہو !!
معافی کی امید رکھتے ہو۔۔
22سالوں کا غبار ہے وہاج نجانے کتنے دونوں میں نکلے۔۔
ضدی ضرور ہوگئ ہونگی بھابھی مگر مجھے اتنا پتہ ہے وہ اج بھی تم سے محبت کرتی ہیں جبھی تمہارے نام پہ بیٹھی ہیں۔۔
اظہر بھای میں اسے اگر لے بھی آؤ تو کیا صائم اسے قبول کرے گا۔۔
ابھی تک اس نے ہیر کو قبول نہیں کیا اپ کو اندازہ نہیں ہورہا سب جاننے کےبعد مجھ سے دور ہوگیا ہے۔۔
میں دور نہیں ہوا پاپا اپ سے؟
صائم کی آواز پہ ان دونوں نے گھوم کے اسے دیکھا جو لان میں انہیں کھانے کیلیے بلانے ایا تھا ۔۔۔
مجھے خوشبو ماما سے کوئ اعتراض نہیں انکے ساتھ واقعی زیادتی ہوئ ہے اور رہا سوال ہیر کا تو اسکے معملے میں اپ نہ پڑے اسے میں دیکھ لونگا ۔۔۔
اپ جائے خوشبو ماما کو لائے۔۔۔۔انہیں بھی حق ہے خوشیوں کا۔۔
صائم کی بات پہ وہاج صاحب نے صائم کو گلے سے لگالیا۔۔
انکی انکھوں سے چند آنسوؤں گر پڑے۔۔۔
انہوں نے فورا خوشبو کے گھر کی راہ لی۔۔
انہیں پتا تھا انہیں کیا کرنا ہے اظہر صاحب پہلے ہی انہیں آئیڈیا دے چکے تھے۔۔

#

وہاج صاحب کو دیکھ کے لائبہ نے بنا خوشبو کی اجازت لیے فلیٹ کا دروازہ کھول دیا۔۔
لائبہ نے انہیں ایک کمرے کیطرف اشارہ کیا اور خود تھوڑی دیر کیلئے باہر چلی گئ۔۔
وہاج کمرے میں گئے تو وہ بیڈ پہ سورہی تھی۔۔
وہاج صاحب انکے بے حد قریب جاکے بیٹھ گئے۔۔۔
بے خودی میں انہوں نے خوشبو بیگم کے چہرے پہ ہاتھ پھیرا۔۔
کسی کا لمس اپنے چہرے پہ محسوس کرکے خوشبو بیگم نے پٹ اپنی آنکھیں کھولی۔۔
اپنے سامنے وہاج صاحب کودیکھ کے وہ ایک دم اٹھ کے بیٹھی اور اپنا دوپٹہ ڈھوڈنے لگی۔
جو وہاج صاحب کے پیچھے تھا۔۔
خوشبو نے لائبہ کو اوازیں لگائ جب وہاج صاحب نے کہا وہ گھر پہ نہیں ہیں۔۔
تو اپ کیا کررہے ہیں یہاں؟
اپکی اولاد پہنچا تو دی اپ تک اب اپ یہاں کیا کررہے ہیں؟؟
خوشبو بیگم ڈوپٹہ سے بے نیاز انکے روبرو کھڑی تھی۔۔
وہاج صاحب کو ایسا لگا وقت 20 سال پیچھے چلا گیا۔۔
میں اپنی بیوی لینے ایا ہو!!!
وہاج صاحب کی بات پہ خوشبو بیگم طنزیہ ہنسی اور کہا۔۔
20 سال بعد اپکو یاد ایا کے اپکی ایک بیوی ہے۔۔۔۔
ماما تمہیں سب بتا چکی ہیں خوشبو اپنے گھر چلو اب۔۔
اپ جائے یہاں سے مجھے کہی نہیں جانا۔۔۔
یہ بول کے خوشبو بیگم کمرے سے نکلنے لگی جب وہاج صاحب نے انکا ہاتھ پکڑ کے تیزی سے اپنی طرف کھینچا۔۔
خوشبو بیگم ایک دم انکے سینے سے لگ گئ۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ؟ چھوڑے مجھے!!!
بدتمیزی کرے ہوئے تو مجھے 20 سال ہوگئے اگر تم بولو تو ابھی دوبارہ کرسکتا ہو بدتمیزی۔۔
وہاج صاحب کی انکھوں میں اج عجیب سا نشہ تھا خوشبو بیگم نے اپنے اپکو چھڑواتے ہوئے کہا۔۔
مجھے اپ سے اب کوئ تعلق نہیں رکھنا سنا اپنے نہیں جانا اپکے ساتھ جانے دے مجھے۔۔
میں ایک بار پھر معافی مانگتا ہو خوشبو پلیز بس کردو پتہ نہیں کب یہ سانسیں بند ہوجائے۔۔
وہاج صاحب کے لہجے میں ایسا کچھ تھا جسے محسوس کرکے خوشبو بیگم لرز گئ۔۔
مگر اپنی ضد پہ قائم رہی۔۔
اچھا ٹھیک ہے نہیں رہنا میرے ساتھ ٹھیک ہے ۔۔
یہ کہہ کے وہاج صاحب نے خوشبو بیگم کو الگ کیا اور اپنی جیب میں سے ڈیورس پیپر نکال کے انکے اگے رکھے اور کہا۔۔
ٹھیک ہو آزاد ہوجاو اج تم اس رشتے سے یہ لو سائن کردو ان ڈیورس پیپر پر۔۔۔اپ زبردستی نہیں باندھ کے رکھونگا اس رشتے میں تمہیں۔۔
وہاج صاحب نے پین نکال کے پیپرز پہ زور سے رکھا۔۔
خوشبو بیگم کے اگے کاغز رکھ تو دیے تھے وہاج صاحب نے مگر انکا دل لرز رہا تھا یہ پلین اظہر صاحب کا تھا کیونکہ انہیں اندازہ تھا وہ کبھی سائن نہیں کرینگی۔۔
خوشبو بیگم نے سکتے کی کیفیت میں پہلے وہاج صاحب کو دیکھا اور پھر پیپرز کو۔۔
کانپتے ہاتھوں سے پیپرز کھولے تو وہ واقعی ڈیورس پیپرز تھے۔۔۔
انہوں نے پین اٹھایا سائن کرنے کیلئے تو وہاج صاحب کا دل ایک دم ڈھرکا۔۔۔
مگر سائن کرتے وقت خوشبو بیگم رونے کیساتھ ساتھ کپکپا بھی رہی تھی۔۔
انکے ہاتھ میں پین تھامتے ہوئے اتنی لرزش تھی کے پین بھی پورا ہل رہا تھا۔۔
انکی ایسی حالت دیکھ کے وہاج صاحب کو انکا جواب مل گیا تھا انکے لب کھل کے مسکرائے تھے۔۔
انہوں نے خوشبو بیگم کے اگے سے پیپرز اٹھا کے انہیں پھاڑا تو خوشبو بیگم کے رونے میں شدت اگئ۔۔
جب نہیں چھوڑ سکتی مجھے تو چلو نہ میرے ساتھ ایک بار پھر تھام لو میرا ہاتھ اس بار موت ہی وہاج کو خوشبو سے دور کریگی۔۔
یہ کہہ کے وہاج صاحب نے خوشبو بیگم کی طرف اپنی باہینں کھولی۔۔
مگر خوشبو بیگم ٹس سے مس نہیں ہوئ اپنی جگہ سے۔۔
وہاج صاحب نے پھر کہا ۔۔
“اجاو یار ترس گیا ہو تمہیں سینے سے لگانے کیلیے “
یہ بولتے ہوئے وہاج صاحب کی انکھوں سے آنسو گرنے لگے۔۔
خوشبو بیگم نے جب وہاج صاحب کی انکھوں سے آنسو گرتے دیکھے انکی پھیلی باہیں دیکھی تو خاموشی سے اانکے سینے سے لگ گئ ۔
خوشبو بیگم کے سینے سے لگتے ہی وہاج صاحب نے انہیں اپنے سینے میں بھینچ لیا ۔۔
خوشبو بیگم نے بھی انہیں کس کے کمر سے تھام لیا۔۔
دونوں ہی بے اواز رو رہے تھے دونوں کا ہی 20.سالوں کا انتظار ختم ہوچکا تھا۔۔
وہاج صاحب نے خوشبو بیگم کو خود سے الگ کیا اور غور سے انکا چہرہ اج بھی انکے چہرے پہ پہلی جسی معصومیت تھی۔۔
وہ بے خودی میں انکے لبوں پہ جھک گئے۔۔
وہاج صاحب کی اس حرکت پہ خوشبو بیگم شرمسار ہوکے انکے سینے سے دوبارہ لگ گئ۔۔۔
جاری ہے۔۔