Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

بلاج کروٹ لے کر لیٹ تو گیا تھا مگر اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کو اسنے نہیں روکا ۔۔
وہ آج عترت کے ساتھ سارے معاملات کلئیر کرنا چاہتا تھا پیار سے محبت سے مگر عترت کی بدزبانی نے اسے طیش دلادیا اور اسنے وہ گناہ کرلیا جسکی شاید معافی نہیں ۔۔۔
رات کے نجانے کس پہر اٹھ کے وہ نہایا اور اپنے رب کے آگے بلک پڑا اس گناہ کی معافی اپنے رب سے مانگنے لگا جو شاید رب اسے معاف کردے مگر جسکے ساتھ اسنے یہ قیامت ڈھائ وہ اسے معاف نہ کرے۔۔
دعا مانگ کے وہ اٹھا تو عترت کا جاکے چہرہ غور سے دیکھا ۔۔
ایک بار پھر اسے پچھتاوا ہونے لگا اپنے عمل سے مگر اچانک اس پپچتاوے کی جگہ غصہ نے لی ۔۔
بلاج نے اسکے بکھرے وجود کو بلیکنٹ سے دھکا اور خود صوفے پہ جاکے لیٹ گیا۔۔

#

ایکسکیوزمی۔۔؟؟
میں یہاں بیٹھ سکتا ہو۔۔؟؟
ہیر اور سدرہ جو کسی لیکچر پہ ڈسکشن کررہے تھے ایک اجنبی کو خود سے مخاطب کرنے پہ پہلے ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا مگر ہیر ایک منٹ کیلیے چونک گئ تھی اسکی آواز پہ ۔۔
ایک دم وہ لڑکا ہیر کے برابر میں بیٹھ گیا۔ہیر نے غصہ میں اس لڑکے کو گھورا۔۔
مگر جب غور سے اس لڑکے دیکھا تو فورا اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پہ رکھ کے کہا۔۔
“زویان”
شکر ہے میڈم تم نے مجھے پہچان تو لیا ویسے کیا اتنا چینج لگ رہا ہو میں۔۔۔؟
اوہ۔مائ گاڈ زویان یہ تم ہو آئ ڈونٹ بلیو دس۔۔
سدرہ تو مانو شاکڈ میں تھی زویان بلکل ہی الگ رہا تھا اسکے جان پہچان والے اگر پہلی دفعہ اسے دیکھتے اس حلیہ میں تو پہچانتے نہیں۔۔
سدرہ مسلسل شاکڈ سی کیفیت میں بات کررہی تھی مگر ہیر بس زویان کو دیکھے جارہی تھی وہ خاموش تھی ایک دم خاموش۔۔
سدرہ زویان کی گیٹ اپ سے بہت خوش تھی مگر زویان نے جسکے لیے یہ سب کیا وہ بلک خاموش تھی۔۔
چلو یار میں تو کینٹن جارہی ہو بہت بھوک لگ رہی ہے تم۔لوگ آرہے ہو؟
سدرہ کینٹین جارہی ہو تو میرے لیے بھی برگر لا دو میں یہی بیٹھا ہو۔۔
ہیر تو چل رہی ہے؟؟
نہیں مجھے ابھی بھوک نہیں تم جاؤ میں یہی ہو پھر ہاسٹل چلی جاؤنگی تم وہی اجانا۔۔۔
ہیر کے کہنے پہ سدرہ چلی گئ جسکے جاتے ہی ہیر ہاسٹل جانے کیلیے کھڑی ہوئ جب زویان نے اسکا ہاتھ تھام کے اسے دوبارہ بیٹھایا اور کہا۔۔
کیا بات ہے چپ کیوں ہوگئ تم اچانک۔۔۔؟؟
ہیر نے پہلے زویان کو دیکھا اور پھر کہا۔۔
یہ سب اپنے میرے لیے کرا ہے نہ اپنا حلیہ چینج ۔۔
ہاں تو کیا ہوا ۔۔۔
مجھے اخود بھی اچھا لگ رہا ہے اپنے چھوٹے بال کان اور ہاتھ آزاد ہیں میرے ہر اوٹ پٹانگ چیزوں سے مجھے اچھا لگ رہا ہے میرے کپڑے اچھے ہیں۔۔
مگر میرے لیے کیوں کیا آپنے یہ سب ؟؟.
ہمم یہ سوال اچھا ہے مگر اسکا جواب میں تمہیں کل دونگا جب جب یونی کے بعد تم۔میرے ساتھ لندن گھومنے جاوگی۔۔
اچھا اور یہ کب ڈیسائیڈ ہوا ہیر نے مسکراہٹ کیساتھ کہا۔۔
ابھی ہوا نہ اب کوئ بہانہ۔نہیں کرنا کل چلوگی نہ ؟؟
اچھا ٹھیک ہے مگر سدرہ بھی جائے گی۔۔
کیوں مجھ پہ بھروسہ نہیں ہے تمہیں؟
بات بھروسہ کی نہیں ہے زویان مجھے اچھا نہیں لگے گا ایسے آپکے ساتھ جانا اکیلے۔۔۔
تو پھر رہنے دو جا ہی نہیں رہے ہمممم۔زویان نے منہ بناکے کہا۔۔
ارے یہ کیا بات ہوئ۔۔۔ہیر نے زویان کو گھورتے ہوئے کہا۔۔
یہی بات ہے اب ہمارے درمیان بات تبھی ہوگی جب تمہیں بھروسہ ہوگا اور اگر کل تک تمہیں مجھ پہ اتنا بھروسہ ہوجائے کے اکیلے میرے ساتھ جا سکو تو آجانا یونی کے باہر میری گاڑی کے پاس ورنہ میں سمجھونگا کے تمہیں مجھ پہ بھروسہ نہیں۔۔
یہ کہہ کے زویان وہاں سے چلا گیا اور ہیر کتنی ہی دیر تک اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی۔

#

بلاج کی آنکھ کھلی تو اسے عترت کہی دیکھائ نہیں دی اس سے پہلے کے بلاج اسے ڈھونڈتا وہ واش روم سے نکلی لائٹ پنک کلر کے ڈریس میں۔
آنکھوں کی سوجن بتا رہی تھی وہ کتنی ہی دیر روتی رہی ہے۔۔
عترت بہت آرام آرام سے چل رہی تھی اسکے چہرے سے اسکی تکلیف کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا۔۔اسے اس حالت میں دیکھ کے بلاج نے نگاہیں جھکالی۔۔۔
اب بلاج کو یہ فکر ہونے لگی تھی کے کہی عترت ابھی اپنے گھر والوں کے سامنے اسکا رویہ ظاہر نہ کردے۔
عترت نے ہلکا سا میک اپ کیا اور بنا بلاج پہ نگاہ ڈالے کمرے سے چلی گئ۔۔۔
اسکے جاتے ہی بلاج نے لمبی سانس لی غصہ میں جو اس نے کیا اسے خود بھی پچھتاوا تھا مگر افسوس اب کوئ فائدہہ نہیں ۔۔
بلاج فریش ہوکے نکلا تو عترت اپنا ضروری سامان۔ پیک کررہی تھی کیونکہ آج ولیمہ سے واپسی پہ انکی اسلام آباد کی فلائٹ تھی۔۔۔
بلاج کو کل صبح ہر حال میں بیس پہ ریپورٹ کرنی تھی اسی لیے وہ اور عترت ولیمہ سے واپسی پہ اسلام آباد جارہے تھے۔۔
جو ضروری سامان ہو تمہارا وہ رکھ لینا باقی ایک دو دن میں بازل پہنچا دے گا پنڈی۔۔
بلاج کے بولنے پہ بھی عترت نگاہیں جھکائیں خاموشی سے اپنا کام کرہی تھی اور بلاج چاہ رہا تھا وہ اس سے بات کرے۔۔
عترت اپنا کام مکمل کرکے نیچے ناشتہ کرنے جانے لگی جب بلاج نے کہا۔۔
ایسی شکل بنا کے بیٹھوگی تو سب یہی سمجھے گے کے میں نے کل رات تم پر بہت ظلم کیے ہیں لہزا اپنی یہ شکل درست کرو اور یاد رہے اگر کل رات کے بارے میں کوئ بھی بکواس تم۔نے روتے دھوتے کسی سے کری تو انجام کی ذمیدار تم خود ہوگی۔۔۔
بلاج کی بات ختم ہوتے ہی عترت باہر جانے لگی جب بلاج نے اسے کھینچ کے اپنے سامنے کیا ۔
کچھ بول رہا ہو تم سے ؟؟.
بلاج کے کہنے پہ عترت نے نگاہ اٹھا کے بلاج کو دیکھا ۔۔
میرے غصہ کو بار بار کیوں آزما رہی ہو عترت تمہیں پتہ ہے تمہاری خاموشی مجھے غصہ دلاتی ہے۔۔
تو اتار لے مجھ پہ غصہ کہاں سے اتارنا شروع کرینگے سیدھی لیٹو یہ پھر۔۔
عترت غصہ میں ایک دن پھٹ پڑی۔۔
۔۔اگے کی بات اس سے پہلے عترت بولتی بلاج اسکا جبڑا دبوچ چکا تھا۔۔
عترت زبان سنبھال کے بات کرو۔۔
میں نے ایسا کیا بول دیا اجو آپکو گوراہ نہیں ہوا وہی کہا جو اپنے کل رات کیا میرے ساتھ جانوروں جیسا سلوک ۔۔۔
ایک بات یاد رکھیے گا بلاج خان مجھے عترت اظہر کو تم سے نفرت ہے صرف نفرت ۔۔۔
مگر اسکا یہ مطلب نہیں کے مجھے آپ سے نفرت ہے تو آپکی راحت کا سامان نہیں بنوگی۔۔
بنوگی جب جب بولینگے بنونگی میں بھی اپکی حیوانیت کی آخری حد دیکھنا چاہتی ہو بلاج مجھے اور اذیت دیجیے گا تاکہ مجھے ہر لمحہ آپکی قید میں احساس ہو کے میں نے غلط وقت پہ غلط انسان سے محبت کری تھی۔۔۔۔یہ بولتے ہوئے عترت نے بے دردی سے اپنے آنسوں رگڑے۔۔
یہ بول کے عترت نے بلاج کو اسی کی نگاہوں میں شرمندہ ر کردیا ۔
مجے شوق نہیں اپنی اجڑنے کی داستان دنیا والوں کو سنانے کی بے فکر رہے جب تک سانس ہے عترت اظہر آ۔۔۔
عترت اظہر نہیں عترت بلاج ہو اب تم۔۔۔
بلاج نے اسکی بات کاٹتے ہوئے غصہ سے کہا ۔
آپ کہہ سکتے ہیں مگر میں آج بھی عترت اظہر ہو کیونکہ کل رات میری شادی ہوئ تھی مگر میرے شوہر نے مجھ سے پیار نہیں میرے ساتھ زنا کرا ہے اور ایک عورت ایک زناکار کا نام کبھی اپنے نام کیساتھ نہیں جوڑتی۔۔۔۔
یہ بول کے عترت نیچے چلی گئ اور بلاج نے غصہ میں دیوار پہ مکا۔مارا۔۔۔
جاری ہے ۔۔