Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Episode 58 Part 2
Rate this Novel
Episode 58 Part 2
شاہجاں پانی پی لو پلیز۔۔
تمہاری طبیعت خراب ہوجائے گی۔۔
نہیں خوشبو جب تک اظہر کو ہوش نہیں آ جاتا مجھے سکون نہیں ائے گا۔۔
نمرہ تم تو پی لو؟؟
نمرہ بیگم نے نفی میں گردن ہلا دی۔۔
بہزاد نے صنم کو سینے سے لگا کے کوئ شکوہ نہیں کیا اسے پتہ تھا وہ اپنی جگہ ٹھیک ہے۔۔
قصور ہے تو بس حالات کا۔۔
ہنزہ نے بھی اپنی ڈیوٹی صبح تک کی لگ والی تھی ۔منٹ منٹ وہ اظہر صاحب کی کنڈیشن چیک کررہی تھی۔۔۔
کچھ کھالو عترت پلیز میری خاطر۔۔
وہاج نے بہت منت کرکے اسے سینڈوچ کھلایا تھا اسکی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سب کے کہنے پہ وہاج اسے گھر لے گیا تھا۔۔
صنم ابھی بھی اسی جگہ بیٹھی تھی۔۔۔شانزے اسی کے پاس تھی ۔۔
صنم کچھ کھالو۔۔۔؟؟
صنم نے انکھیں بند کرے کرے نفی میں گردن ہلائ
۔شانزے نے فورا بہزاد کی طرف دیکھا ۔۔۔
بہزاد نے ایک بار پھر شانزے کے پاس اکے اسے کھڑا کیا اور کہا۔۔
صنم پلیز میری خاطر اندر چلو پلیز ۔
بی ا۔۔۔ایم۔۔۔و۔۔پ۔۔۔اا
صنم ہکلاتے ہوئے ایک بار پھر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بلک پڑی۔۔۔
صائم جو خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا اسکی انکھوں میں بھی نمکین پانی بڑھنے لگا اسے یہ سوچ سوچ کے اپنے اپ سے نفرت ہورہی تھی کے اپنے مزے کی خاطر اسنے صنم کی زندگی برباد کردی ۔۔
اصل غصہ اسی کا تھا جو صنم نے وہاج مینشن میں اتارا۔۔
بس کرو یار صنم جو ہوا اب تمہارے رونے سے بدلہ نہیں جائے گا ۔۔
مگر ایک بات ضرور کہونگا تمہیں اظہر بھائ سے اتنی بدتمیزی سے بات نہیں کرنی چاہیئے تھی ۔۔۔
جانتا ہو تمہارے ساتھ زیادتی ہوئ ہے مگر اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کے تم ملکہ کی تربیت کو سوالیہ نشان بنا دو۔۔۔
بہزاد کے بولنے پہ صنم ایک بار پھر رونے لگی۔۔
ویسے اسکے اس عمل کی وجہ اپ جانتے ہیں تو اس انسان کا دماغ تھوڑا درست کیوں نہیں کرتے جسکی وجہ سے اسکے غصہ کا نشانہ کوئ اور بنا۔۔
شانزے کو غصہ میں دیکھ کے بہزاد ایک دم حیران ہوا!!!
شانزے تم ابھی بات کو بڑھا رہی ہو۔!!بہزاد نے اسے روکنا چاہا!!
ہاں بڑھا رہی ہو میں اگر میں ابھی تک خاموش ہو تو وجہ صرف میری صنم کی قسم ہے ورنہ اسکو تکلیف دینے والوں کا دماغ میں بہت اچھے طریقے سے درست کرنا جانتی ہو۔۔۔
شانزے نے ایک غصیلی نظر صائم پہ ڈالی۔۔
اتنی سی بات اپ لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی کے اگر اسے اظہر انکل سے بدتمیزی کرنی ہوتی تو اتنے ٹائم سے یہاں ہے وہ کب کی کرچکی ہوتی کئ بار کرچکی ہوتی وجہ ہے تو صرف یہ کے اس سے بنا پوچھے اس شخص کیساتھ اسکی زندگی کا فیصلہ کیا جارہا تھا جس نے اسکی محبت کی اسکے بھروسہ کی ڈھجیاں اڑائ ہیں۔۔
اب شرفا بن کے گھوم رہاہے۔۔!!
بہزاد خاموشی سے شانزے کو دیکھ رہاتھا اور صائم گردن جھکا کے کھڑا تھا۔۔۔
بھانجا ہوگا وہ اپکا لحاظ کرے اپ اسکا اگر اب میری صنم اسکی وجہ سے ہرٹ ہوئ تو ساری زندگی اپکا بھانجا سکون کیلئے ترس جائے گا۔۔
یہ بول کے شانزے نے بہزاد کا ہاتھ صنم کے ہاتھ سے الگ کیا اور اسے اپنے ساتھ کینٹین کی طرف لے گئ۔
بہزاد کو نہیں یاد جب سے شانزے اور وہ ایک رشتے میں بندھے تھے شانزے کو کبھی اسنے اتنے غصہ میں دیکھا ہو یہ اتنی غصہ میں اسنے اس سے بات کری ہو۔۔
شانزے کے جانے کے بعد بہزاد نے صائم کو دیکھا جو خاموش تھا اسنے اگے بڑھ کر اسکا کندھا سہلایا اور کہا۔۔
اب اتنا تو برداشت کرنا پڑے کا صائم۔۔!!!
جانتا ہو ماموں مگر ایک موقع تو ملنا چاہیے مجھے پلیز۔۔۔۔!!
صائم کے لہجہ میں کیا کچھ نہیں تھا
بے سبی ،پچھتاوا،افسوس!!!!!!!!
مگر اج بہزاد کے پاس اسے دینے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا تسلی بھرے الفاظ بھی نہیں!!!
#
فجر کے بعد جاکے اظہر صاحب کو ہوش ایا تھا ۔۔۔
شاہجاں اور نمرہ فورا شکرانے کے نفل ادا کرنے چلی گئ۔۔
وہاج صاحب کی جان میں جان ائ تھی کیونکہ ایک یہ ہی رشتہ اب انکے پاس تھا انکے بڑوں کے روپ میںں۔
دائ جان کو ابھی تک اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا نے انکا بیٹا موت اور زندگی کے درمیان ہے۔۔۔
نہ بہزاد کی ماں کو خبر کی گئ۔۔۔
صبح ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ائ جنہوں نے اظہر صاحب کو چیک کیا۔۔
فلحال تو انہوں ہوش اگیا تھا مگر انکی کنڈیشں ٹھیک نہیں تھی۔۔
دیکھے فلحال اظہر صاحب کو ہوش اگیا ہے مگر ابھی ہم انہیں ائ سی۔یو میں شفٹ کررہے ہیں شام تک اپ لوگ ان سے مل سکتے ہیں۔۔۔
یہ بول کے سارے ڈاکٹرز چلے گئے۔۔
پلیز بہزاد تم بات کرو ان سے بس ایک بار میں بات کرلو ان سے۔۔
ملکہ ملکہ دیکھو شام میں دل کھول کے بات کرلینا ابھی ڈاکٹرز منع کرکے گئے ہیں۔
وہاج بھائ اپ ملکہ کو لے کر گھر جائے ۔۔۔
زویان تم بھی گھر جاو نمرہ اپی کو لے کر میں ہو یہاں صائم ہے میرے ساتھ۔۔
بہزاد بھای میں یہاں رکتا ہو پاپا کیساتھ!!
نہں زویان تم ہیر اور نمرہ اپی کو لے کر گھر جاؤ ۔۔
ہیر جو صائم۔کے پاس بیٹھی تھی چونک کے ایک دم بہزاد کو دیکھنے لگی۔۔
مگر یہ وقت بحس کا نہیں تھا اسی وجہ سے وہ خاموشی سے زویان کے پیچھے چل دی۔۔۔
#
صنم شانزے کیساتھ کینٹین سے اچکی تھی اور ائ سی یو کے شیشے سے اظہر صاحب کے وجود کو دیکھ رہی تھی جو مشینوں میں جکڑا ہوا تھا۔۔
صائم بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا جبکہ شانزے بہزاد سے اچھا خاصا منہ بنائے ہوئے تھی اور بہزاد کو سمجھ میں نہیں ارہا تھا اسکا کیا قصور ہے۔۔۔
ارے صنم تم یہاں؟؟؟
اچانک انے والی اواز پہ صنم چونک کے پیچھے مڑی تو نہال کھڑا تھا جسکی صبح کی ڈیوٹی لگی تھی اور وہ اظہر صاحب کو چیک کرنے ایا تھا۔۔
صائم کے کان ایک دم کھڑے ہوئے نہال کے منہ سے صنم کا نام سن کے۔
نہال تیزی سے اسے تک پہنچا تو وہ نہال کو دیکھ کے ایک بار پھر رونے لگی۔۔
نہال وہ پاپا !!
صنم نے روتے ہوئے ائ سی یو کی طرف اشارہ کرا۔۔۔
اوہہ۔
نہال نے اگے بڑھ کے صنم کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے کے کرسی پہ بیٹھا۔۔
صائم کی انکھوں سے یہ منظر چھپ نہیں سکا جبکہ بہزاد ایک نظر ان دونوں کو دیکھ کے صائم کو دیکھا جسکی نگاہیں مسلسل نہال کے ہاتھ میں موجود صنم کے ہاتھ میں تھی۔۔
سب سے پہلے اپنے یہ آنسو صاف کرو بہت بری لگتی ہو روتے ہوئے ۔۔
نہال کے کہنے پہ صنم نے اپنے انسو صاف کیے اور کہا۔
نہال پاپا کی طبیعت ؟؟؟
انکل ٹھیک ہے اب ۔۔۔
تم بلکل پریشان نہ ہو۔۔۔کون ہے تمہارے ساتھ!؟
میں ہو نہال بھائ!!!
شانزے کے کہنے پہ نہال نے پلٹ کے دیکھا اور مسکرایا۔۔
کیسی اپ شانزے ؟
جی میں اللّٰہ کا شکر !!
نہال یہ میرے ماموں ہیں!!.
صنم نے بہزاد کی طرف اشارہ کیا ۔۔
ارے اپ تو بہزاد راجپوت ہے نہ !!
بہزاد نے مسکرا کے نہال سے ہاتھ ملایا۔۔
اپ ؟؟؟
یہ میرے دوست ہیں بی ایم کچھ ٹائم پہلے جو میرا ایکسیڈنٹ ہوا نہ انہیں کی گاڑی سے ٹکرائ تھی۔
نہال اس سے پہلے جواب دیتا صنم نے بولا
صنم نے یہ بات بول کے صائم کو دیکھا تھا جس کی نگاہیں نیچیں تھی۔۔۔
اچھا اب تم جاو گھر فریش ہوکے ملو مجھ سے مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔
اوکے !!تم یہی ہوگے۔۔۔؟؟
ہاں !!!
اوکے اب میں چلتا ہو راوئنڈ کا ٹائم ہے میرا دیھان رکھنا اور اب رونا نہیں انکل ٹھیک ہے۔۔
نہال نے یہ بات بول کے صنم کے گال پہ ہاتھ رکھا اور بہزاد سے مل کے چلا گیا۔۔
صائم شاید تھوڑے فاصلے پہ تھا اسلیے اس سے تعارف نہیں ہوا۔۔
شانزے تم چھوڑ دو مجھے!!
ہاں ٹھیک ہے ۔
بہزاد میں اسے چھوڑ کے گھر چلی جاؤ نگی۔۔
اوکے دیھان سے جانا۔۔
صنم اور شانزے نکلے جب بہزاد صائم کے برابر میں اکے بیٹھا اور کہا۔
اللّٰہ سے دعا مانگو صائم وہ دل سے نکلی دعا رد نہیں کرتا۔۔
صائم نے اسے آنسوؤں سے لبریز انکھوں سے دیکھا اور ایک دم اسکے گلے لگ گیا۔۔
جاری ہے۔۔۔
