Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

آج کچھ امپورٹڈ گیسٹ آرہے ہیں نفسیہ دوپہر میں لنچ کا ارینج کرلے نہ۔۔۔۔۔
کون آرہا ہے بابر؟
میرے بزنس فرینڈ اور انکی وائف آرہی ہیں۔
بازل کہاں ہے؟
ہنزہ کیساتھ ہے لان میں۔۔۔۔
اچھا چلو اچھا ہے گھر میں یے۔۔۔
بابر صاحب یہ بولتے ہوئے کمرے سے چلے گئے مگر نفیسہ بیگم کا دل ہولنے لگا۔۔

#

شانزے اللّٰہ کا واسطہ ہے گیٹ کھول دو میرا کیا قصور ہے یار۔۔
صنم مسلسل دروازہ بجا بھی رہی تھی اور رو بھی تھی۔۔
شانزے گھر تو اچکی تھی ۔مگر نہ تو کسی سے بات کررہی ہے تھی نہ کمرے سے باہر نکل رہی تھی جواد صاحب اپنی اکلوتی بیٹی کی حالت دیکھ کے بستر سے لگ چکے تھے انکی وہ بہن جسے انہوں نے بیوگی میں سہارا دیا انکی رویہ انکی آنکھیں اب بدل چکی تھی ۔۔
جواد صاحب آنکھیں موندیں لیٹے تھے جب انکی بہن انکے کمرے میں داخل ہوئ۔۔
بھائ صاحب مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔۔
ہاں بولو نائلہ۔۔۔
بھائ صاحب کمپنی کی طرف سے مراد کو گھر ملا ہے آج شام ہم لوگ وہی شفٹ ہورہے ہیں۔۔
اچھا اچھا چلو اچھی بات ہے ۔۔۔
بھائ صاحب ایک اور بات کہنی تھی ۔
جواد صاحب کا دل جس بات سے ڈر رہا تھا وہی بات انکی بہن نے کہہ دی ۔
بھائ صاحب پورا محلے کو پتہ چل چکا۔یے کے شانزے کیساتھ کیا ہوا اسلیے وہ۔۔۔۔۔۔
کھل کے کہو نائلہ کیا کہنا چاہ رہی ہو؟
بھائ صاحب مراد نے انکار کردیا ہے شانزے سے شادی کرنے کو اب جوان اولاد ہے میں اسکے ساتھ زبردستی کو کر نہیں سکتی اس وجہ سے یہ رشتہ بھی آپ ختم سمجھے ۔۔۔
یہ بول کے نائلہ بیگم رکی نہیں بلکے چلی گئ یہ جانے بغیر کے انکے بھائ کی انکھوں سے آنسوؤں جاری تھے۔۔
صنم نے جیسے تیسے کرکے شانزے سے دروازہ کھلوالیا تھا مگر اندر جاکے جب اسنے کمرے کیساتھ ساتھ شانزے کی حلات دیکھی تو اسے رونا اگیا۔۔
شانزے میری جان بس کردو کیوں کررہی ہو اپنے ساتھ ایسا؟؟
صنم سب کچھ ختم ہوگیا بہزاد نے سب ختم کردیا۔۔
ہوسکتا ہے شانزے جو تم بی ایم کے بارے میں سوچ رہی ہو ویسا نہ ہو۔۔۔
یعنی تمہیں میری بات پہ بھروسہ نہیں صنم مجھے اغواہ کروانے والا بہزاد تھا۔۔شانزے نے کافی غصہ میں یہ بات کہی تھی۔۔۔
مراد تو تم سے محبت کا دعویدار تھا تو کیوں چھوڑ گیا تمہیں اس حالت میں اکیلا یہ جانتے بوجھتے کے اسے اس وقت تمہیں اسکی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔۔
مراد چلا گیا ہے شانزے اس گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے۔۔
صنم کی بات پہ شانزے صنم کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔۔

$$$

تم جانتے ہو بہزاد تم۔کیا بول رہے ہو ؟؟
ہاں ملکہ مجھے پتہ بس تمہیں جو میں کہہ رہا ہو تم وہ کرو۔۔۔
مگر بہزاد وہ چھوٹی ہے تم سے بہت۔۔۔
تو کیا ہوا میں کونسا ساٹھ پینسٹھ کا ہو۔۔
جواد صاحب نہیں مانیں گے بہزاد اور نہ شانزے۔۔۔
وہ میرا کام ہے ملکہ جواد صاحب کو منانا تم بس پرسوں انکے گھر چلنے کی تیاری کرو۔۔۔
یہ کہہ کے بہزاد نے کال کٹ کر صنم کو ملائ۔۔۔

#

زویان کافی دیر سے ہیر کا ویٹ کررہا تھا مگر وہ نہیں آئ ۔۔
زویان افسردہ سے وہاں سے جانے لگا جب پیچھے سے ہیر نے اسے پکارا۔۔۔
زویان۔۔
اپنے نام کی پکار پہ زویان پلٹا تھا اسنے ہیر کو مسکرا کے دیکھا تھا مگر زویان کی نظر ہیر کے ہاتھوں پہ۔تھی۔جہاں اسنے زویان کی دی ہوئی رنگ پہنی تھی۔۔
زویان نے ہیر کے ہاتھ میں انگھوٹی دیکھ کے اسے گلے لگالیا۔
مگر دوسیکنڈ میں ہی اس ے الگ ہوکے کہا۔
ہیر تم کانپ کیوں رہی ہو؟؟
ہیر نے بہت مشکل۔سے اپنے آنسوؤں کو روکتے ہوئے کہا۔
کبھی کسی نے اسپیشل فیل نہیں کروایا سوچا نہیں تھا کے محبت کا احساس اتنا حسسین ہوتا ہے۔۔
ہیر بول کے مسکرانے لگی اور زویان اسکے لفظوں میں کہی کھویا۔
آگے بڑھ کے زویان نے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے اور اسکے آنسوؤں صاف کرتے ہوئے کہا۔
تمہارا ساتھ کسی نعمت سے کم نہیں میرے لیے ہیر سوچا نہیں تھا کے کبھی کسی لڑکی سے سچی محبت ہو جائے گی پہلی نظر کا پیار ہو جائے گا۔۔۔۔۔ہیر نے بھی اسے کمر سے تھام لیا تھا۔۔
آنی سے شروع سے ہوکے آنی پہ ہی ختم تھی میری دنیا زویان ۔۔کچھ بھی کریے گا ڈانٹیے گا ،مار بھی لیے گا ،مگر کبھی مجھے دھوکا مت دیجئے گا میں برداشت نہیں کرپاونگی۔۔
ہیر کے بولنے پہ زویان کے الفاظ ختم ہوگئے تھے اسنے اپنے گردن ہاں ہلائی اور اسے اپنے باہنوں میں اور مضبوطی سے لے لیا۔۔

#

بابر صاحب کے دوست نعمان صاحب کی فیملی اچکی خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا جارہا تھا۔۔
ہنزہ ان سب کے درمیان نہیں تھی کیونکہ آج ہسپتال میں ایمرجنسی ہوگئ تھی
نعمان صاحب وقفے وقفے سے بازل سے کوئ نہ کوئ سوال کرہے تھے نعمان صاحب کی مسسز حاجرہ بیگم نفیسہ اور ندا بیگم سے باتوں میں لگی تھی مگر وقفے وقفے سے بازل پہ نگاہ ڈال رہی تھی جبکہ انکی بیٹی سارا مکمل خاموش تھی ۔۔۔
جاؤ بازل بیٹا سارا کو لان میں لیجاو یہاں بڑوں میں بیٹھی بور ہورہی ہے ۔۔
نہیں انکل میں صحیح ہو۔۔۔۔
سارا تو ہلکا سا احتجاج کیا مگر اپنے پاپا کے گھورنے پہ وہ بازل کیساتھ لان میں آگئ بازل کو بھی اپنے پاپا کی یہ بات تھوڑی عجیب لگی مگر اس نے کوئ خاص ریکٹ نہیں کیا۔۔
سارا خاموشی سے لان میں ٹہل رہی تھی بازل۔اور وہ دونوں خاموش تھے جب بازل نے اس افسردہ سی لڑکی کو دیکھ کے کہا۔۔
ایسی خاموش رہتی ہیں یہ آج ہی زیادہ خاموش ہیں؟؟
نہیں ایسی بات نہیں ہے بس میں ذیادہ بات چیت نہیں کرتی ۔۔
ہممم ۔۔۔کیا مصروفیات کے آپکی اجکل۔۔؟
بازل خود بھی کنفیوز ہورہا تھا سارا کیساتھ اسلیے وہ اپنی جھینپ مٹانے کیلے وہ سارا سے باتوں میں لگ گیا۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ لوگ لان میں آئے تو سارا کی ممی نے اسے صوفے پہ بیٹھایا تو سفینہ بیگم نے اسے لال ڈوپٹہ اڑوادیا۔۔
اس سے پہلے بازل کچھ سمجھتا بابر صاحب نے اسے رنگ دے کے سارا کو پہنانے کو کہا۔۔
بازل کو لگا اس کو اوپر پورا گھر گھرگیا۔۔۔اسکے قدم ڈگمگائے تھے اسنے آنکھوں میں آنسوؤں لیے بے یقینی سی کیفیت میں بابر صاحب کی طرف دیکھ کے نفی میں گردن ہلائی ۔۔
بابا میں یہ نہیں کرسکتا..
میری عزت کا تماشہ نہیں بنانا سب کے سامنے اس لڑکی کو دیکھو خاموشی سے اپنے ماں باپ کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا اور تم ہو خیال نہیں میرا ۔۔
یہ پکڑو انگھوٹی اور پہناؤ سارا کو۔۔
بازل نے ایک شکوہ بھری نظر سفینہ بیگم پہ ڈالی تو وہ نگاہ جھکا گئ فہیم صاحب حاجرہ بیگم بھی گم سم۔کھڑی تھے۔۔انہیں اندازہ نہیں تھا کے بابر صاحب ایسا کچھ کرینگے۔۔۔
بازل کسی لاش کی مانند سارا کے برابر میں بیٹھ گیا سفینہ بیگم نے بازل کا ہاتھ پکڑ کے اس سے سارا کو انگھوٹی پہنائ۔۔
تبھی کسی چیز گرنے کی آواز پہ سب دروازہ کی طرف متوجہ ہوے۔۔
جہاں ہنزہ ساکن نظروں سے یہ منظر دیکھ رہی جسکے ہاتھ سے بازل کیلے لایا ہوا گفٹ زمین بوس ہوچکا تھا۔۔
ایک جھٹکے سے وہ پلڑ سے لگی تھی۔۔
حاجرہ بیگم جو اپنی بیٹی کے دل کی ہر بات جانتی تھی ڈورتی ہوئ ہنزہ تک پہنچی اور اسکا ہاتھ تھام کے بازل اور سارا کے پاس لائ۔۔
ہنزہ نے بہت مشکل سے اپنے ہاتھوں سے ان دونوں کا منہ میٹھا کیا اور ایکسکیوز کرکے کمرے میں چلی گئ ۔
بابر صاحب نے نعمان صاحب کو جو کے کافی مشکوک نظروں سے ہنزہ کو دیکھ رہے تھے انکا شک دور کرنے کیلے بول پڑے۔۔
اصل میں بازل اور ہنزہ بہت اچھے دوست ہیں آج بازل کی منگنی ہے یہ بات اس نے ہنزہ سے چھپائ جبھی وہ ناراض ہوگئ۔۔
اوہ اچھا اچھا۔۔۔
بابر صاحب کے کہنے پہ نعمان صاحب نے سکون کا سانس لیا۔۔

#

شانزے جواد کیا آپکو بہزاد راجپوت سے 1 کروڑ حق مہر سکہ رائج الوقت نکاح قبول ہے ؟؟؟
شانزے نے ایک۔نظر اپنے بابا کی طرف دیکھا جنکی آنکھوں میں صرف التجا تھی شانزے نے بہتی آنکھوں کیساتھ نکاح نامے پہ دستخط کردیے۔۔
بہزاد کے پرپوزل پہ جواد صاحب کافی حیران تھے مگر انکی بیوی کے سمجھانے پہ انہوں نے بنا شانزے کی مرضی جانے ہاں کردی۔۔
بہت زیادہ سادگی سے یہ نکاح ہوا تھا جسمیں صرف شاہجاں بیگم کی فیملی شامل تھی۔
بہزاد کی طرف سے دیے گئے جوڑے میں شانزے دولہن بن کے بہت حسین لگ رہی تھی مگر شانزے کو وہ سب کفن جیسا معلوم ہورہا تھا۔۔
شانزے نہ صنم سے کوئ بات نہیں کی۔اور نہ رخصت ہوتے ہوئے وہ اسکے گلے لگی۔۔
بہزاد مینشن میں قدم رکھتے ہی شانزے کی۔انکھیں حیرت سے کھل گئی ۔کیونکہ۔زندگی میں اسنے کبھی اتنا بڑا گھر نہیں دیکھا تھا نہ اس نے یہ سوچا تھا کے اسکا استمال دلہن بن کے ایسا ہوگا۔بہزاد اسے چھوڑ کے جا چکا تھا ۔۔
نغمہ بیگم نے اسکو گلے لگاکے اسکا استقبال کیا۔۔
نورا ماسی کے ذریعے اسے اسکے کمرے میں پہنچایا گیا ۔
شانزے نے جب کمرہ دیکھا جو بہت ہی شاندار فرینچر سے فرنشڈ تھا ۔سامنے دیوار پہ بہزاد کی بہت بڑی تصویر لگی تھی۔۔
پورا کمرے میں جگہ جگہ ریڈ روز کے بوکیڈ تھے۔۔
مگر شانزے کارل کررہا تھا اس کمرے کو آگ لگا دے۔۔
اچانک دروازہ کھلا اور بہزاد اندر ایا۔۔
بہزاد کمرے میں آیا تو وہ آئینہ کے سامنے بیٹھی جیولری اتار رہی تھی ۔وہ ترچھی انکھوں سے بہزاد کا آنا کمرے میں دیکھ چکی ہے تھی۔۔
بیشک وہ نیلی آنکھوں والی آج بہت زیادہ حسین لگ رہی تھی دلہن بن کے مگر بہزاد جسکو اب صرف نفرت تھی اس سے صرف نفرت ۔۔
بہزاد نے اسکی پیچھے آکے اسکے کندھوں کو سختی سےتھاما۔۔
دو پل کیلیے اس نے نگاہ اٹھا کے سامنے دیکھا مگر فورا نگاہ جھکا گئ ۔۔
جب بہزاد نے طنزیہ اسکے کندھے پہ اور زور دے کر پوچھا۔۔
کیسا لگ رہا ہے ایک بچے کے باپ سے شادی کرکے افسوس ہورہا ہوگا نہ بہت شرم آرہی ہوگی کہاں تم کہاں میں اب کیسے بتاؤ گی سب کو کے تمہاری شادی 32 سال کے مرد سے ہوگئ جو کے ایک بچے کا باپ ہے۔۔
بہزاد کی بات سے سن کے وہ مسکرا کے کھڑی ہوئ اور اسکے روبرو آکے کہا۔۔
مجھے کیوں افسوس ہوگا بھئ ؟؟
مجھ سے تو اپنے دھوکے سے شادی کری ۔۔
یہ بول کے شانزے جانے لگی جب جاتے جاتے مڑ کے کہا۔۔
ہاں مگر آپکو شرم نہ آئے جب آپکے ریلیٹیو یہ۔اپکے دوست آپ سے پوچھے کے اتنی کم عمر لڑکی سے شادی کیوں کری ؟
یہ بول کے وہ بہزاد کے آگ لگا چکی تھی جانے کیلے مڑی جب اسکے پال بہزاد کی مٹھی میں تھے۔۔
جاری یے