Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 60

میں بھی اپکے ساتھ چلتی ہو وہاج؟
ارے میری جان اتنی جلدی جلدی تمہارا سفر کرنا سیو نہیں ہے ماما بھی یہ ہی ہیں ابھی تم اکیلی وہاں کیا کروگی۔۔
تمہاری کنڈیشن ابھی ٹھیک نہیں ہے۔۔
وہاج کے کہنے پہ عترت ایک دم منہ لٹکا کے بیٹھ گئ۔۔
وہاج جو اپنی پیکنگ کررہا تھا ایک گھنٹے میں اسکی فلائٹ تھی عترت کو ایسا افسردہ دیکھا تو پیکنگ چھوڑ کے اسکے پاس اکے بیٹھ اور کہا۔۔
ادھر دیکھو میری طرف!!!!
وہاج کے کہنے پہ عترت نے افسردہ شکل بنا کے اسے دیکھا ۔
اسکی شکل دیکھ کے وہاج کو اس پہ بہت پیار ایا اس نے جھک کے اسکے لبوں کو چوما اور کہا۔۔
اب ایسی شکل بناؤ گی تو میرا جانا مشکل ہوجائے گا!!!
تو پھر مجھے بھی ساتھ لے کر چلے نہ!!!
دیکھو عترت یہاں انٹی کو تمہاری ضرورت ہے مانا انکے ساتھ انکی پوری فیملی ہے مگر پھر بھی انہیں تمہاری ضرورت ہے مجھے نہیں لگتا آنٹی ابھی فلحال صنم سے کوئ بات کرینگی یہ اسکی شکل بھی دیکھے گی۔
پلیز مجھے ہنستے ہنستے وداع کرو دو ہفتوں کی تو بات ہے پھر آجانا پنڈی !!!
وہاج کے سمجھانے پہ عترت کافی سنبھل گئ تھی۔۔

#

بلاج صاحب نے فلحال صائم سے بلکل بات چیت بند کری ہوئ تھی انہیں کہی نہ کہی اندازہ تھا کے صنم کیساتھ صائم نے کچھ کرا ہے وہ دونوں پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔۔۔
اظہر صاحب کو ہسپتال سے چھٹی دے دی گئ تھی فلحال وہ وہاج صاحب کے گھر پہ تھے مگر جب سے ہسپتال سے ائے تھے بلکل خاموش تھے اگر کوئ بات کرتا تو کرتے ورنہ اکثر خاموش ہی رہتے ۔۔
شاہجاں بیگم کسی سائے کی طرح انکے ساتھ تھی جبکے نمرہ نے اپنے قدم۔پیچھے کرلیے تھے۔۔
اس دوران کسی ایک کو بھی ایک بار صنم کا خیال نہیں ایا اور یہ بات بہزاد کیلئے کافی حیران کن تھی اسے کہی نہ کہی شانزے کی بات کافی حد تک صحیح بھی لگی۔۔
یہاں تک کے ایک بار بھی عترت کو بھی اپنی بہن کا خیال نہیں ایا۔۔
دائ جان کو وہاج نے فلحال اپنے گھر میں بلالیا تھا اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کے انکی حالت بہت مشکل سے سنبھلی تھی۔۔
بلاج بازل سے کافی ناراض ہوکے پنڈی گیا تھا جس دن ہنزہ اور بازل کی لڑائ ہوئ اس دن بازل کے پاس کسی کام سے انے والا بلاج سب سن چکا تھا مگر اسنے بازل پہ یہ بات ظاہر نہیں کی تھی کے وہ ان دونوں کے خراب تعلقات جان چکا ہے ۔۔
ائیرپورٹ پہ ہی بلاج بازل کی کافی عزت افزائی کرچکا تھا اور اسنے صاف صاف لفظوں میں بازل کو کہہ دیا تھا اب وہ کراچی جبھی ائے گا اور جب ہنزہ اسے معاف کردے گی اور ان دونوں کے درمیان سب کچھ صحیح ہوجائے گا اس سے پہلے وہ اس سے بات بھی نہیں کرے۔۔

#

اج وہاج مینشن میں قران خوانی رکھی گئ تھی۔۔۔
اظہر صاحب کی صحت یابی کے باعث ۔۔۔
پورا خاندان ہی انکا جمع ہونے والا تھا جب شاہجاں نے بہزاد کو کال کرکے صنم کو بھی لانے کو کہا۔۔
ملکہ کی بات پہ بہزاد کو دل بہت دکھا تھا اج ایک ہفتہ بعد اسے یاد ایا کے انکی ایک بیٹی بھی ہے ۔۔۔
بہزاد کو یہ سوچ سوچ کے حیرانگی ہورہی تھی کے یہ بات خالی شانزے اور وہ جانتے ہیں کے صنم گھر پہ نہیں ۔۔
مگر شاہجاں کے علم یہ ہی بات ہے وہ ایک ہفتہ سے گھر پہ ہے ۔
جوان جہاں بیٹی ایک ہفتے سے اکیلی ہے اور شاہجاں نے ایک بار بھی اسکی فکر نہیں کی اگر خود غصہ میں تھی تو کم از کم اسے یہ شانزے کو تو کال کرکے بول سکتی کے صنم کی خیریت لے لو۔۔۔
پوری قران خوانی ختم ہوگئ مگر صنم کو الٹے سیدھے الفاظ بولنے سے شاہجاں باز نہیں ائ۔۔۔
رات کے ڈنر کے بعد سب ہی لانج میں جمع تھے بازل کی تقریبا ساری فیملی چلی گئ تھی صرف ندا بیگم ہنزہ اور بازل تھے جنہیں شاہجاں نے روک لیا۔۔
سب ہی کے درمیان شاجہاں نے شانزے کو مخاطب کرکے کہا!
شانزے ؟؟
جی آنٹی!!!
شرم انی چاہیے ویسے صنم کو ؟
شاہجاں کا ایسا بولنا تھا کے شانزے نے ایک نے نظر وہاں بیٹھے سب نفوس کو دیکھا اور پھر ایک لمبی سانس لے کر کہا۔۔
سوری انٹی میں سمجھی نہیں اپکی بات !!
کون صنم ؟کس صنم کی بات کررہی ہیں اپ؟؟؟
وہی جو غلطی سے اپکی بیٹی ہے !!
شانزے !!!
بہزاد نے ایک دم اسے ٹوکا۔۔۔۔
اج نہیں بہزاد اج بلکل نہیں بولینگے اپ!!
معاف کریے گا انٹی مگر اپ کہی اپنی اس بیٹی کی تو بات نہیں کررہی جیسے اپ بچپن سے اس بات کی سزا دیتی ائ ہیں کے ایک تو وہ بیٹی ہے اور دوسرا وہ لڑکی پیدا ہوئ ہے اور تیسرا اپکا شوہر اسے اپکی وجہ سے چھوڑ کے چلا گیا۔۔
سب کے سامنے شانزے نے ایک ایک بات وہی دوہرائ جو اسنے بہزاد کے سامنے کہی۔۔
جیسے سن کے شاجہاں سن تھی وہی زویان نے گھوم کے اپنی ماں باپ دونوں کو دیکھا !!
معاف کریے گا انٹی اگر اپکو انکل کو معاف کرنا تھا تو پہلے کردیتی اپ اج سارے یہاں پر مل کے بیٹھے ہیں جو ماضی میں کوئ نہ کوئ گناہ کر چکا ہےنہیں ہے تو صرف وہ جسکا کوئ قصور ہی نہیں قصور ہے تو صرف اتنا کے وہ ایک لڑکی ہے اور اپ عترت اپی اپکی شان میں کونسی گستاخی کردی تھی صنم نے
اپی اپی کرتے وہ تھکتی نہیں تھی عترت اپی اپکو بھی اپنی بہن کا خیال نہیں ایا۔۔۔
عترت بھی کافی شرمندہ ہوئ!!
ایک بات یہاں بیٹھا ہر نفوس سن لے اج۔۔
چلی گئ ہے صنم اپ سب کی زندگی سے بہت دور کبھی واپس نہ انے کیلئے سکون سے رہے اپ سب!!
کہاں گئ ہے صنم؟؟
شہاجاں بیگم ایک دم بول پڑی۔۔
اپکے لیے تو وہ ایک ہفتہ پہلے مرگئ ہے انٹی اپ فکر نہ کرے۔۔
شانزے یہ کہہ کے صائم کی طرف مڑی اور کہا۔۔
صنم نے کبھی اپنی زندگی میں غلط فیصلہ نہیں لیا۔کبھی کوئ گھٹیا فیصلہ نہیں کرا۔۔
مگر تم سے تعلق جوڑنے میں واقعی وہ گھٹیا فیصلہ کرگئ ۔
تمہیں کبھی سکون نصیب نہیں ہوگا صائم یاد رکھنا۔۔
یہ بول کے شانزے وہاں رکی نہیں چلی گئ عاشر کو لے کے۔۔
جاری ہے۔۔