Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 64 Part 1

تمہیں نہیں لگتا رات ذیادہ ہوگئ اور تمہارا یہاں اکیلے بیٹھنا سیو نہیں۔۔
صنم جو سمندر کی لہروں میں اپنا عکس تلاش کررہی تھی جیسے اندازہ ہی نہیں ہوا کے ایک تو کب سے اسکا موبائل بج رہا تھا اور دوسرا بہزاد اسکے بلکل برابر میں اکے بیٹھا ہوا تھا۔۔
بہزاد کے بولنے پہ صنم نے پلٹ کے اسے دیکھا تو بہزاد کو ایک بار پھر ندامت کا سامنا کرنا پڑا ۔۔
صنم کی آنکھوں میں آنسوں بھرے تھے۔۔۔
وہ بہزاد کو بنا کچھ بولے وہاں سے اٹھ کے جانے لگی اسے یہ بھی ڈر خوف نہیں تھا کے اتنی رات کو وہ اکیلے ڈرائیو کرکے گھر جائے گی۔
“کہتے ہیں جب اندر سے دل ویران ہو تو پھر کسی ویرانے سے ڈر خوف نہیں لگتا”
صنم میری بات سنو پلیز !!!
بی ایم مجھے اپ کی کوئ بات نہیں سنی !!!
صنم نے اسکے روکنے پہ کہا۔
شانزے کو چوٹ لگی ہے وہ وہاج بھائ کے گھر پہ ائ تھی وہاں سے گر گئ ہے کب سے تمہیں کال کررہے ہیں مجبورا مجھے پھر تمہارے کال ٹریس کرکے تم تک پہنچنا پڑا۔۔۔
کیا ؟کہاں ؟ کیسے؟ گر گئ شانزے اپ کہاں تھے۔۔؟
صنم نے فورا پریشان ہوکے بہزاد سے پوچھا!!
ارے چائے لا رہی تھی پاؤں پھسل گیا۔۔!!!
تو اسے ڈاکٹر کے پاس کیوں لے کر نہیں گئے اپ؟؟
وہ بار بار تمہیں بلا رہی ہے ایک تو اتنی ضدی ہے وہ !!
اففف چلے جلدی چلے!!.صنم تقریبا ڈور تے ہوئے بہزاد کی گاڑی تک پہنچی بہزاد نے مرتضی کو اشارہ کیا تھا صنم کی گاڑی گھر تک پہنچانے کا۔
بہزاد نے گاڑی اسٹارٹ کرکے اگے بڑھا دی مگر وہ یہ ہی سوچ سوچ کے پریشان ہورہا تھا کے عترت کی منتیں کرنے پہ شانزے نے یہ ڈراما کر تو دیا اور بہزاد کو بھی اسمیں شامل کیا کے وہ جاکے صنم سے بولے کے میں گر گئ ہو اسی صورت میں وہ پریشان ہوکے اپکے ساتھ ائے گی مگر اب بہزاد کو اپنی بیوی کو بچانا تھا صنم سے کیونکہ جب صنم کو پتہ چلے گا کے سب ڈراما تھا اسے عترت اور زویان سے ملانے کیلے تو نجانے وہ کیسا ریکٹ کرے۔۔۔

#

شانزے شانزے؟؟
صنم نے گھر میں داخل ہوتے ہی اسے پکارنا شروع کردیا۔۔
ا گئ عترت اپی صنم شانزے نے فورا اسکی اواز سن کے کہا!!.
زویان صائم بھی اسکی اواز سن چکے تھے صائم کے لاکھ منا کرنے کے باوجود زویان کی ضد پہ صائم اسے لے کر نیچے جانے لگا ۔
صنم نے جب شانزے کو اپنے سامنے صحیح سلامت دیکھا اور برابر میں عترت کو دیکھا تو اسکا غصہ ساتویں اسمان پہ پہنچنے لگا۔۔
صنم نے بولا کچھ نہیں بس غصہ میں وہان سے جانے لگی جب عترت اور زویان دونوں نے ایک ساتھ اسے پکارا۔۔
اظہر صاحب شاہجاں بیگم بھی چاہتے تھے اج وہ نہ جائے سارے گلے شکوے دور کردے۔۔۔
زویان دھیرے سے چلتا ہوا صنم کے پاس ایا جو رخ موڑے کھڑی تھی ۔۔
زویان دھیرے سے چلتا ہوا صنم تک ایا اور ایک ہاتھ سے اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔۔
صنم نے نگاہ اٹھا کے زویان کو دیکھا!!
جانتا ہو اپکا بہت دل دکھایا ہے اپکو جانتا بھی نہیں تھا پھر بھی اپ سے بہت تلخ لہجے میں اپ سے بات کی پھر بھی اپنے میری جان بچانے کیلئے مجھے بلڈ دیا۔۔۔
تمہاری جگہ کوئ اور بھی ہوتا تب بھی میں اسے بلڈ دیتی۔۔۔
صنم نے ہلکا سا اپنا موقف بیان کیا۔
مگر مجے تو پتہ چلا تھا اپکو انجیکشن سے بہت ڈر لگتا ہے اور خاص کر بلڈ دینے سے۔۔۔
زویان کی بات کا صنم کے پاس جواب نہیں تھا۔۔
اپی بھی بول سکتا ہو اپکو مگر ہم دونوں میں ذیادہ فرق نہیں اگر بچپن سے اپکی ذات کو مجروح کیا گیا یے تو عرش پر مجھے بھی نہیں بیٹھایا گیا شاید تربیت کی خامی تھی جبھی عورت ذات کی ذات میری سامنے کچھ نہیں تھی۔
موت کی دہلیز کو چھوا ہے جبھی رشتوں کا تقدس جانا ہے۔۔
بچپن سے اکیلا رہتا ایا ہو صنم اب اللّٰہ نے جب دو دو بہنوں سے نوازا ہے تو انکا ساتھ کھونا نہیں چاہتا مجھے نہیں پتہ ہمارے پیرنٹس کے بیچ کے معملات کیا ہے !!
مگر میں اب اپنی فیملی کیساتھ رہنے چاہتا ہو جسمیں میری دو مائیں میری دو بہنیں میری کزن میرے ماموں اور میری بیوی شامل ہیں۔۔
بیوی کے لفظ پہ جہاں ہیر نے زویان کو پر شکوہ نگاہوں سے دیکھا تھا وہی زویان نے بھی اسے اپنی نگاہوں میں سمایا تھا۔۔
زویان کے چپ ہوتے ہی صنم کی ہچکیاں ہال میں گونجنے لگی جو نگاہیں نیچیں کرکے رونے میں مصروف تھی۔شانزے اگے بڑھی اسے سہارا دینے کیلئے مگر بہزاد نے اج اسے روک لیا وہ چاہتا تھا اج صنم ایک اخری بار رو کے دل ہلکا کرلے۔۔
صنم کو روتا دیکھ عترت نے بھی اگے بڑھ کے اسکے سامنے اپنے دونوں کان پکڑ کے سوری کہا ۔۔
یار تمہارے چنوں منوں روز اپنی خالہ کو پوچھتے ہیں۔۔
عترت کے ایسے بولنے پہ صنم نے روتے روتے مسکراتے ہوئے عترت کو دیکھا اور کہا۔۔
نام میں رکھو نگی ان دونوں کا !!
یہ کہہ کے وہ عترت کے گلے لگ گئ۔۔
یار میں بھی کھڑا ہو سینے پہ گولی کھاکے مجھے بھی تو پتہ چلے میرے لیے دوسری بہن کے جزبات۔
۔۔زویان کی انکھوں سے بھی آنسو گر رہے تھے۔۔
صنم نے ایک نظر زویان کو دیکھا اور اسکے کھلے ہاتھ کو ا!
کچھ سوچتے ہوئے وہ زویان کے ہاتھوں میں سما گئ اور ایک بار پھر بلک بلک کے رونے لگی زویان نے عترت کو بھی اشارہ کیا تو وہ اپنے بھائ کے گلے لگ گئ۔۔
اج دونوں بہنوں کو انکا محافظ مل گیا تھا ایک ہی صحیح مگر انکا اج مان تھا کے انکا بھی بھائ ہے۔۔
اس ملن پہ وہاں کھڑے ہر شخص کی انکھیں نم تھی۔۔
صنم کی نظر اظہر صاحب بھی گئ۔۔
جو نگاہیں نیچے کرکے شاید رو رہے تھے ۔۔
صنم زویان سے الگ ہوئ اور اظہر صاحب کی طرف بڑھنے لگی شاجہاں بہزاد وہاج اور خاص کر زویان کو پل بھر کو سانپ سونگھ گیا۔۔
صنم اظہر صاحب کے پاس پہنچی اور دھیرے سے انہیں پکارا۔۔
“پاپا”
صنم کے بولنے پہ وہاں کھڑا ہر شخص شاکڈ ہونے کیساتھ ساتھ خوش بھی تھا۔۔
صائم اج بہت غور سے صنم کو دیکھ رہا تھا اس نے کیا کھویا تھا صنم کے روپ میں اج اسے شدت سے افسوس ہورہا تھا مگر وہ جانتا تھا وہ اسے حاصل کرلے گا۔۔۔
صنم کے پاپا بولنے پہ اظہر صاحب نے شاکڈ انداز میں نگاہ اٹھا کے اپنے سامنے کھڑی صنم کو دیکھا۔۔
اس سے پہلے اظہر صاحب کچھ اور کہتے صنم انکے سینے سے لگ کے روتے روتے کہنے لگی۔۔
ائ ایم سوری پاپا مجھے اپ سے بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔
اظہر صاحب کی تو سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کے انکا رب ان پہ اتنی جلدی مہربان ہوجائے گا انکی بیٹی اتنی جلدی انہیں معاف کردے گی۔۔
نہیں میرا بچہ معافی تو مجھے مانگنی چاہیے !!
میں نے تو تمہارا بچپن تم سے چھینا ہے ۔
بس پاپا پرانی باتین بھول جائے اب مجھے اب کسی سے کوئ شکوہ نہیں مجھے میری فیملی مل گئ یہ ہی بہت ہے۔۔
جیسے زویان کی دو دو مائیں ہیں ایسی میری بھی ہیں۔۔
یہ بول کے پہلے صنم نمرہ کے گلے لگی تو ایک بار نمرہ بیگم نے اس سے معافی مانگی۔۔
جب شاجہاں کے پاس گئ صنم تو انہوں نے بھی اسکے اگے ہاتھ جوڑے مگر صنم نے فورا انکے ہاتھوں کو پکڑ کے چوما اور کہا۔۔
ماما مجھے اتنا گہنگار مت کرے۔۔
یہ بول کے صنم انکے گلے لگ کے پھر رونے لگی ۔۔
عترت بھی انکے گلے اکے لگ گئ جب شاہجاں بیگم نے زویان کی طرف اشارہ کیا ۔۔
وہ بھی اکے ان تینوں کے گلے لگ گیا۔۔
اج سب کے ہی دلوں سے سب کیلئے نفرت ،بدگمانی نکل گئ تھی مگر صائم وہاج یہ سوچ سوچ کے پریشان تھا کے وہ کسے صنم سے بات کرے اس سے معافی مانگے تا کے وہ اسے ایک چانس دے دے۔۔

#

سب ہی اپنے اپنے کمروں میں تھے اظہر صاحب اب ذیادہ تر شاہجہاں بیگم کے ساتھ ہوتے تھے اور نمرہ بیگم کو اب کوئ اعتراض بھی نہیں تھا۔۔صنم بھی اب وہی تھی مگر صائم کو اسنے ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا تھا ہاں عترت چلی گئ تھی کیونکہ اسکی کل دوپہر کی آسلام آباد کی فلائٹ تھی ۔۔
شانزے اور بہزاد بھی جا چکے تھے کیونکہ کے عاشر کے اسکول میں رزلٹ تھا جو شانزے کو لینے جانا تھا۔۔
خوشبو بیگم کمرے میں ائ تو کچھ پریشان سی تھی وہاج صاحب کو بھی چائے دیتے ہوئے وہ بہت چپ چپ تھی اور یہ بات وہاج صاحب سے چھپ نہیں سکی ۔۔
کیا بات ہے خوشبو ؟اتنی چپ چپ کیوں ہو؟
وہاج میں ہیر کی طرف سے پریشان ہو پتہ نہیں اسکا کیا ہوگا وہ زویان کیساتھ رہنا نہیں چاہتی اور زویان اسکا رد عمل اسکے سامنے ہے۔۔۔
وہ ہیر کو کسی قیمت پہ نہیں چھوڑے گا۔۔
وہاج نے خوشبو بیگم کو اپنے پاس بیٹھایا اور کہا۔۔
اللّٰہ کے ہر کام میں کوئ نہ کوئ مصلحت ہوتی ہے تم ہیر کا معملہ اللّٰہ پہ چھوڑ دو بیشک وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔۔

#

بیٹا مان جاؤ میری بات تم کیسے کروگے شرٹ چینج ؟؟
نمرہ بیگم پچھلے بیس منٹ سے اسکے اگے منتیں کررہی تھی مگر وہ تھا کے ضد پہ اڑا تھا کے شرٹ وہ خود چینج کرلے گا۔۔یہ پھر اسکی بیوی اسکے کام کرے گی اور اگر اسنے منع کیا تو وہ خود کرے گا اپنے کام کسی کا حسان نہیں لے گا۔۔
زویان یہ سب اس لیے کررہا تھا تاکے ہیر اسکے پاس ائے اس سے لڑے اس سے بات کرے تاکے اسے موقع ملے پہلا جیسا سب ٹھیک کرنے کا۔۔
اپنے اس پلین میں وہ صائم کو شامل کرچکا تھا اور اپنے پاپا اور بہزاد کو بھی!
نمرہ بیگم ہار مانتی ہوئ باہر نکلی تو رونے لگی انہیں دیکھ رہا تھا کے زویان کا ہاتھ پلسٹر بیگ سے زرا سا ہلنے پہ ہی اسکو تکلیف ہورہی تھی مگر وہ تھا کے ضد پہ اڑا تھا۔۔
وہ اپنے انسو صاف کرتے ہوئے کچن میں ائ تو ہیر سے انکا سامنا ہوا۔۔
ہیر انکی آنکھوں میں نمی دیکھ چکی تھی اسلیے فورا پریشن ہوکے پوچھنے لگی۔۔
انٹی کیا بات ہے اپ رو رہی ہیں ؟
کیا کرو بیٹا رو نہیں تو وہ زویان۔۔۔۔۔
کیا ہو ازویان کو ہیر کا دل ایک دم تیز ڈھرکا!!
پاگل ہوگیا ہے کہتا ہے شرٹ خود چین کرونگا !!.
اب بتاو وہ کیسے کرسکتا ہے خود سے ابھی تو ہسپتال سے ایا ہے ۔۔۔
میں نے کہا میں چینج کروادیتی ہو تو غصہ کرنے لگا ۔۔
کہنے لگا یہ تو خود چینج کرونگا یہ پھر !!!!اگے کی بات بولتے ہوئے نمرہ بیگم کو تھوڑی جھجھک ہوئ۔۔
یہ پھر انٹی ؟کیا بولا انہوں نے ۔۔
یہ پھر میری بیوی میرے سارے کام کریگی !!!.نمرہ بیگم کے بولنے ہیر کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔
اسے زویان پہ بہت غصہ ایا جو بہر حال اس نے نمرہ بیگم کے سامنے ظاہر نہیں کیا اور خاموشی سے کچن سے چلی گئ۔۔
کچن سے نکل کے اسکا رخ سیدھا صائم کے کمرے کی طرف تھا ۔
دروازہ ناک کرکے اسنے اندر جھانکا تو صائم کچھ فائلوں کو دیکھ رہا تھا ہیر کو دیکھ کے اس نے فائلوں کو بند کیا اور کہا۔۔
خیریت ہیر تم اس وقت ؟
ہاں بھائ وہ اصل میں ہیر نے یہ بات بول کے نمرہ بیگم والی ساری بات صائم کو بتا دی۔۔
بھائ اپ جاکے چینج کروادے!!
ہیر میں گیا تھا میں نے کہا بھی کے میں رکتا ہو تیرے پاس تو غصہ سے کہنے لگا مجھے احسان نہیں چاہیے۔۔
اب تم بتاو میں کیا کرو۔۔
میں نے کہا میں بازل سے کہہ کے ہنزہ بھابھی کے ہسپتال سے کوئ وراڈ بوائے رکھوا دیتاہو تو اور غصہ کرنے لگا وہی نمرہ انٹی والی بات دہرائ اگر میری بیوی میرا کام کریگی تو صحیح ہے ورنہ میں خود کرونگا بھلے میرے دل میں کتنی بھی تکلیف ہو۔۔
صائم یہ بول کے غور سے ہیر کا چہرہ دیکھنے لگا جہاں فکر مندی کے ساتھ ساتھ غصہ بھی تھا۔۔
ہیر ایک بات پوچھو؟
جی بھائ۔۔
اللّٰہ کو حاضر رکھ کے جواب دینا!!
پوچھے بھائ۔۔
تم اج بھی محبت کرتی ہو نہ زویان سے؟
اج بھی اسے شوہر مانتی ہو نہ اپنا؟
صائم کے پوچھنے پہ ہیر تھک کے وہی صوفے پہ بیٹھ گئ اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا۔۔
ہیر ادھر دیکھو میری طرف !!!.صائم نے اسکا چہرہ تھام کے اوپر کیا تو وہ رو رہی تھی۔
ہیر اج بھی وہ تمہارا شوہر ہے بھلے تم اس سے غصہ ہو اسکے دھوکے سے تمہارا دل توٹا ہے مگر یقین جانو وہ تم سے دیوانوں کی طرح محبت نہیں عشق کرتا ہے۔۔
ایک بار اسے موقع دے کے دیکھ لو ۔۔
اج وہ بہت تکلیف میں ہے محبت کے ناطے نہ صحیح شوہر ہونے کے ناطے اسکی خدمت کرلو۔۔
میں جانتا ہو اسے بہت ضدی ہے وہ اگر تم نہیں گئ تو وہ غصہ میں شرٹ چینج کرلے گا اور اپنے اسٹیچس بھی خراب کرلے گا۔۔۔
ہیر نے اپنے انسو صاف کیے اور کھڑے ہوکے کہا۔۔۔
محبت کا گلا اپنے ہاتھوں سے گھوٹا ہے زویان نے بھائ ہاں مگر میں پھر بھی جاؤں گی کیونکہ میں اج بھی اسکے نکاح میں ہو۔۔
اسلیے نہیں کیونکہ مجھے اس سے محبت ہے بلکے اسلیے کیونکہ اللّٰہ کا فرمان ہے ۔۔
“کے اگر میرے بعد دوسرے سجدے کا حکم ہوتاتو شوہر کو ہوتا”
صرف اللّٰہ کی رضا کیلئے میں انکی خدمت کرونگی جب تک وہ صحیح نہیں ہوجاتے رہونگی انکے ساتھ کرونگی سارے کام نہیں چھورنا چاہتے نہ چھوڑے مجھے مگر میں اب کبھی ان سے محبت نہیں کرسکوں گی ۔
اتنا بول کے ہیر کمرے سے نکلی تو صائم نے اپنی جیب میں رکھا موبائل اپنے کان سے لگایا جس میں زویان کی کال لگی تھی جو صائم نے زویان کے کہنے پہ کری تھی زویان نے کہا تھا جیسی ہیر تیرے پاس ائے تو مجھے کال لگا کے موبائل جیب میں ڈال لینا۔۔تاکے وہ ہیر کی باتیں سن سکے۔۔
سن لیا تونے ؟؟
صائم کے کہنے پہ زویان مسکرایا اور کہا۔۔
ایک بار میرے پاس انے دیں اسے صائم اتنا یقین ہے مجھے خود پہ اور اپنی محبت پہ کے دوبارہ اسے خود سے محبت کرنے پہ مجبور کردونگا۔۔

#

ہیر زویان کے کمرے کے پاس کھڑی تھی اندر جانے کیلئے اسکے پاؤں بہت بھاری ہورہے تھے مگر اسے کرنا تھا یہ سب ۔۔۔
اس نے کمرے کا دروازہ کھول کے اندر جھانکا تو زویان الماری میں سے اپنی شرٹ نکل کے کھڑ ا تھا۔۔
ہیر نے کمرے کا دروزہ بند کیا تو زویان نے پلٹ کے دروازہ کی طرف دیکھا۔۔
لائٹ اورنج اور یلو کلر کے سوٹ میں بالوں کا اونچا سا جوڑا بنائے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
زویان لمحہ بھر کیلئے اسے دیکھ کے ساکن رہ گیا۔۔
ہیر خاموشی سے چلتے ہوئے اس تک ائ اور اس کے ہاتھ سے شرٹ لے کر کہا۔۔
اب بیٹھ جائے میں کروادیتی ہو چینج !!
ہیر کی نگاہیں نیچیں تھی جبھی وہ زویان کے چہرے کی مسکراہٹ نہ دیکھ سکی۔۔
زویان خاموشی سے جاکے بیڈ پہ بیٹھ گیا۔۔
ہیر اس تک ائ بہت ارام سے اسنے پلسٹر بیگ میں سے اسکا فولڈ ہوا ہاتھ باہر نکالا۔اور نگاہیں نیچے کرکے شرٹ کے بٹن کھولنے لگی۔۔
جاری ہے ۔