Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Episode 46 Part 1
Rate this Novel
Episode 46 Part 1
گاڑی ٹکراتے ہی صنم بیہوش ہوچکی تھی۔۔
جس گاڑی سے صنم کی گاڑی ٹکرائی تھی وہ کسی نہال نام کے بندے کی تھی جو سامنے بنے بنگلے میں موجود تھا.
ایک دم شور کی آواز پہ جب اسنے کھڑکی سے جھانکا تو تیزی سے بنگلے سے نکل کے صنم کی گاڑی تک پہنچا۔۔۔
صنم تقریبا بیہوش تھا گاڑی میں سے پیٹرول بھی گررہا تھا ۔
سب سے پہلے نہال نے رسیکیو پہ کال کی اور پھر جیسے تیسے صنم کو باہر نکالا ۔۔
نہال نے اسے گودھ میں اٹھا کے اپنی ڈیمج گاڑی میں ڈالا اتنا میں ریسکیو والے بھی اچکے تھے۔۔
انہوں نے گاڑی کو فورا سیدھا کیا ۔۔
نہال صنم کو لے کر فورا ہسپتال کی طرف بھاگا ۔۔۔۔۔
ایمرجنسی میں اسنے صنم کو دیکھایا۔۔
ہاتھ پہ بہت گہرا زخم تھا سر کی چوٹ معمولی تھی اس لیے آدھے گھنٹے بعد صنم کو ہوش آگیا تھا۔۔
اب کیسی ہیں اپ؟
میں ٹھیک
ہو۔۔صنم نے بہت مشکل سے اپنے چہرے پہ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا ۔
اگر آپ بہتر محسوس کررہی ہیں تو گھر چھوڑ دو اپکو؟
جی ۔۔۔
نہال نے اسے سہارا دینا چاہا تو اسنے منع کردیا۔۔نہال کو صنم کی یہ بات بہت اچھی لگی۔
صنم جب نہال کی گاڑی میں بیٹھنے لگی تب اسنے نہال کی گاڑی کا پچھلا حصہ دیکھا جو کافی ڈیمج تھا۔
آئ ایم سو سوری میری وجہ سے آپ کی گاڑی کا کافی نقصان ہوگیا
میں پے کردونگی اپکو۔۔
ہممم ۔اسکی ضرورت نہیں مسسسسس۔۔؟نہال نے آگے کی بات اُدھوری چھوڑی جیسے صنم سمجھ چکی تھی
صنم۔۔۔۔
واؤ نائس نیم ۔۔
نہیں اسکی ضروت نہیں آپکی جان بچ گئ یہی بہت تھی ویسے ایک پرسنل سوال پوچھو اگر آپ مائنڈ نہ کرے تو۔.
جی پوچھے۔۔
اپ ہارٹ بروکن ہو؟
نہال کے سوال پہ صنم نے چونک کے اسے دیکھاتھا ا سے اندازہ نہیں تھا وہ یہ سوال پوچھے گا۔۔
صنم نہال کے سوال پہ خاموش رہی۔۔۔
اٹس اوکے اگر آپ بتانی نہیں چاہتی میں نے اسلیے پوچھا کے آپکی گاڑی کا کوئ شیشہ نہیں توٹا سوائے آگے کی ہیڈ لائٹ کے جب کے آپکے ہاتھ کے زخم میں کافی کانچ تھے ۔۔صنم نے زخمی مسکراہٹ کیساتھ نہال سے کہا۔۔
“جب ہم غلط انسان اپنی زندگی میں شامل کرلیتے ہیں ہ تو بدلے میں ایسے زخم ہی ملتے ہیں۔۔”
صنم کے بولنے پہ نہال نے اس چھوٹی سی لڑکی کو غور سے دیکھا تھا تھی تو وہ عمر میں نہال سے بہت چھوٹی مگر اس کا لہجہ میں چھپا دکھ اسے عمر سے زیادہ بڑا بتا رہا تھا۔۔
صنم کے ایڈریس بتانے پہ نہال نے اسے گھر کے پاس اتارا اور اپنا کارڈ دیتے ہوئے کہا۔
کہتے ہیں جب دو توٹے دل اپنا غم بانٹتے ہیں تو غم تھوڑا کم ہوجاتا ہے ۔۔
میں آپکی کال کا ویٹ کرونگا۔۔۔۔
صنم نے مسکراتے ہوئے نہال سے کارڈ لے لیا اور اندر بڑھ گئ۔۔
شاہجاں بیگم سو چکی تھی اسلیے انہوں نے صنم کی۔کنڈیشن نہیں دیکھی۔۔۔
#
اظہر صاحب زویان کا حلیہ دیکھ کے کافی خوش تھے اور زویان نے جب سے ہوش سنبھالا تھا پہلی بار اسنے اپنے آپ سے اپنے باپ کو اتنا خوش دیکھا تھا۔۔
ویسے کون تھا ایسا جس نے زویان اظہر کو بدل دیا۔۔
نمرہ بیگم کے کہنے پہ زویان کے سامنے فورا ہیر کا سراپا ایا تھا زویان پل بھر کیلے سٹپٹایا مگر فورا اسنے اپنے دماغ سے ہیر کا خیال جھٹکا۔۔
نمرہ بیگم کی بات پہ زویان کا دل ہیر کو دیکھنے کیلیے مچلنے لگا جب سے ہیر والا معاملہ ہوا تھا تب سے وہ اسے دیکھائے نہیں دی تھی مگر وہ تھا کے یونی میں بھی اسکا تماشہ لگانے کا خواہشمند تھا ماشا کے کہنے پہ۔۔
مگر وہ تھی کے اسے نظر ہی نہیں آرہی تھی۔۔۔
آج اس نے فیصلہ کرلیا تھا کے وہ یونی میں جاکے اسے ڈھونڈے گا اسے ایک بار اور سبق سیکھائے گا۔۔
یہ سوچتا ہوا وہ اٹھ کے جانے لگا جب نمرہ کے نمبر پہ کال کال آنے لگی جسے سنتے ہی وہ چیخ پڑی ۔
زویان اور اظہر صاحب تیزی سے نمرہ کی طرف بھاگے نمرہ بیگم موبائل میں پکڑے زور زور سے رو رہی تھی۔۔کیا ہوا نمرہ؟
ماما کیا ہوا؟؟.
اظہر ماما سیڑھیوں سے گر گئ ہیں وہاج بھائ انہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے ہیں ڈاکٹر بول رہے ہیں انکی کنڈیشن ٹھیک نہیں ہے۔۔
آپ فلائٹ بک کروائے میری ۔۔۔
اچھا اچھا میں کرواتا ہو بک زویان تم بھی ماما۔کے ساتھ جاؤ ۔۔
مگر پاپا اج میرا لاسٹ پیپر ہے۔۔
ہاں تو آج کی سیٹ کنفرم ہوگی بھی نہیں کل کی ہی فلائٹ ہوگی تم لوگوں کی ۔۔
نمرہ بیگم آپ اپنا اور زویان کا سامان جلدی سے پیک کرے میں بھی تین چار دن میں وہاں پہنچتا ہو ویسے بھی سار ابزنس میں وائنڈ آپ کرکے پاکستان ٹرانسفر کرچکا ہو دو تین فرامیلیٹی رہ گئ ہے میں بھی پہنچ جاؤنگا پاکستان۔۔
زویان کے دل کو کچھ ہونے لگا پاکستان جانے کا سن کے بظاہر تو اسکا دماغ یہ سگنل دے رہا تھا کے بھاڑ میں جائے ہیر ۔۔
مگر دل بول رہا تھا جاتے وقت ایک بار اسے ملنے کا۔۔
زویان کچھ سوچتے ہوئے یونی کیلیے نکل پڑا۔۔۔
#
اچھا ہوا میری تم سے شادی نہیں ہوئ ورنہ تمہارے زنا کا قرض ہماری اولاد کو اتارنا پڑتا اور اگر ہماری پہلی اولاد بیٹی ہوجاتی تو اسکے نصیب میں بھی تمہارے جیسا زناکار شخص ہوتا”
جس حالت میں صائم صنم کے سامنے تھا کافی گھنٹوں تک وہ اسی حالت میں گھنٹوں کو فولڈ کیے اپنا سر اسے پہ رکھے بیٹھا تھا۔۔
اسکے کانوں میں بار بار صنم کے کہے الفاظ گونجنے لگے۔۔
لیلہ کب گئ صائم کو کچھ نہیں پتہ چلا بس صنم کے جانے کے بعد وہ جیسے ساکن رہ گیا اسے لگا اسکا ضمیر کسی نے جھنجھوڑ کے اٹھا دیا۔۔۔
اسکی ٹانگیں ایسے بیٹھے بیٹھے شل ہونے لگی تھی جسم اکڑنے لگا تھا مگر صائم تو جیسے سن تھا ۔۔
اچانک فجر کی اذان کی آوازیں آنے لگی۔۔
پہلی بار شاید صائم وہاج نے اذان سنی تھی ۔۔۔
اسکی آنکھوں سے آنسوؤں بہنے لگے اسنے سب سے پہلے غسل کیا اور نماز پڑھنے لگا مگر جب دعا کیلیے ہاتھ اٹھانے لگا تو اسکی خالی بہتی آنکھیں دعا مانگ رہی تھی اسکے لب خاموش تھے مگر ہمارا رب ہمارے دلوں کے حال جانتا ہے۔۔
#
لیکن بیٹا ایکسیڈینٹ ہوا کیسے؟
شاہجاں بیگم کو صبح پتہ چلا۔جب کوئ صنم کی گاڑی چھوڑ کے گیا۔
ماما میں ٹھیک ہو ہلکا سا ایکسیڈینٹ ہوا تھا مگر اللّٰہ کا شکر ہے بس ہاتھ پہ زرا سی لگی ہے۔۔۔
خاماخای میں آپ پریشان ہورہی ہیں۔۔
صنم نے اپنی ماما کو اپنے سینے سے لگایا تھا وہ کمال مہارت سے اپنا درد چھپا گئ تھی جو زخم اسکے دل پہ لگے انکی تکلیف اب اسے ہی برداشت کرنی تھی اور خاموشی سے کرنی تھی کیونکہ وہ بزدل لڑکی نہیں تھی جو کسی کی وجہ سے اپنی زندگی برباد کرلے۔۔
#
سدرہ اپنا پروجیکٹ سمٹ کرواکے باہر آئ تو اسے زویان نظر آیا اسے اگنور کرکے وہ آگے جانے لگی جب زویان نے اسکے ساتھ چلتے ہوئے تمسخرانہ انداز میں کہا۔۔
کہاں منہ چھپا کے بیٹھی ہے تمہاری دوست ؟؟
سدرہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا۔۔
کیوں میری دوست کیوں منہ چھپائے گی اسنے کون سا کسی کی فیلنگ کو نیلام کرا ہے، اسنے کونسا کسی کو محبت میں پھنسا کے اسکے جسم کو ہوس کا نشانہ بنایا ہے ،اسنے کونسا کسی کو اپنی مرنے کی جھوٹی کہانی سنا کے اپنی طرف راغب کیا یے۔۔اسنے کونسا اپنے عمل سے اسکو یہ ثابت کرا کے وہ مرد ہے یہ عورت یہ کھڈرا۔۔۔۔
سدرہ تم ۔۔۔زویان غصہ میں اسے انگلی دیکھانے لگا جب سدرہ نے اسکی انگلی نیچے کرتے ہوئے کہا ۔۔
یہ غصہ سنبھال کے رکھو آگے کام آئے گا۔۔۔۔
الحمداللہ اسے منہ چھپانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس نے زنا نہیں نکاح کرا تھا گناہ نہیں محبت کری تھی دغابازی نہں بھروسہ کرا تھا تم جیسے گھٹیا انسان پہ ۔۔
وہ الگ بات ہے کے وہ تمہارا یہ منحسوس چہرا دیکھنا نہیں چاہتی اسلیے پاکستان چلی گئ اپنا خواب ادھورا چھوڑ کے اپنی محنت پہ پانی پھیر کے۔۔
یہ کہہ کے سدرہ زویان کو حیران چھوڑ کے وہاں سے جانے لگی مگر کچھ یاد آنے پہ دوبارہ پلٹ کے اس تک آئ اور کہا۔۔
“کہتے ہیں ہماری زندگی میں کوئ نہ کوئ ایسا شخص ضرور آتا ہے جو کسی ہیرے سے کم نہیں ہوتا مگر یہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے کے ہم اس ہیرے کو حاصل کرے یہ گنوا دے”
میں نے وعدہ کرا تھا کسی سے کے تمہارے منہ نہیں لگونگی مگر کیا ہے نہ کبھی کبھی کسی کو آئینہ دیکھنا بہت ضروری ہوتا ہے تم نے جس کے کہنے پہ جسکے لیے ہیر کی محبت کو روندھ ڈالا اسکے جسم کا استعمال کیا ۔جاو جاکے اسٹور روم میں دیکھو کس طرح اسنے تمہاری محبت کا جنازہ تیار کرا ہو اہے ۔۔
یہ بول کے سدرہ وہاں سے چلی گئ۔۔
زویان نے پہلے واپسی جانے کا سوچا مگر پھر اسٹور روم کا رخ کیا اور اندر کا نظارا جو زویان کو دیکھنے کو ملا وہ اسے منہ کے بل گرانے کیلیے کافی تھا ۔ماشا روبرٹ کیساتھ نازیبا حرکت میں مصروف تھی۔۔
زویان جھٹکے سے نیچے گرا اور تقریبا ڈورتے ہوا یونی سے باہر نکلا۔۔
جاری ہے ۔۔
