Rate this Novel
Episode 10
کھانے کے بعد بلاج اپنے دوستوں کے پاس چلا گیا اور یہ بات عترت کے لیے پر سکون تھی۔۔
ندا بیگم اور شاہجاں بیگم لان میں بیٹھی کافی پی رہی تھی جب ندا بیگم نے اظہر صاحب کا ذکر چھیرا۔۔
انکےذکر کرنے پہ شاہجاں بیگم نے جو ندا بیگم کو بتایا اسے سن کےندا بیگم کافی افسردہ ہونے کیساتھ ساتھ شاکڈ بھی تھی۔۔
شاجہاں مگر اظہر بھائ تو دیوانے تھے تمہارے تو پھر کیسے انہوں نے تم سے بیووفائ۔کرلی۔
بس ندا قسمتوں کے فیصلے ہیں یہ سارے مگر کبھی کبھی ڈر لگتا ہے ندا کے جب بیٹیوں کی شادی کرنے کھڑی ہونگی تو کیا جواب دونگی انکا باپ کہاں ہے۔۔؟
اللّٰہ سب بہتر کریگا شاہجاں تم پریشان مت ہو۔۔۔
ندا بیگم کی تسلی دینے پہ وقتی طور پہ ہی صحیح مگر شاجہاں بیگم پرسکون ہوگئ تھی۔۔
جاتے وقت ندا بیگم شاہجاں بیگم کے لاکھ منع کرنے پہ بھی عترت اور صنم کے ہاتھ میں کچھ کیش رکھ گئ تھی۔۔
بلاج نے جاتے ہوئے پلٹ کر ایک نگاہ عترت پہ ضرور ڈالی تھی مگر عترت اسنےایسا کرنے کا سوچا بھی نہیں تھا۔۔
#
بہزاد کے ہاتھ میں شانزے کا موبائل تھا جو اسنے جان بوجھ کے اپنے پاس روک لیا تھا ۔۔
بہزاد کیلیے موبائل کا لاک کھلوانا کوئ مشکل کام نہیں تھا۔۔
شانزے کا موبائل اون ہوتے ہی وال پیپر پہ شانزے اور مراد کی پک شو ہوئ دونوں ایک ساتھ کافی قریب تھے۔۔
بہزاد کی آنکھوں نے جب یہ پک دیکھی تو نجانے کیوں اسکا دل جلنے لگا اس نے اسی وقت وہ پک ڈیلیٹ کردی۔۔
شانزے کے نمبر پہ صنم کی کال آنے لگی۔۔
کال کے ساتھ پک دیکھ کے بہزاد سوچنے لگا ہےاس نے اسے کہا دیکھا ہے اور یاد آنے پہ خالی مسکرایا۔۔
بہزاد نے کئ بار صنم کی کال کٹ کری۔۔۔
بہزاد جسطرح سے شانزے کو دھمکی دے کر آیا تھا اسے اتنا تو یقین تھا کے وہ اپنی زبان بند رکھے گی۔۔
مگر یہ بہزاد کی سب سے بڑی بھول تھی۔۔
#
سارے کام نبٹا کے عترت اپنے کمرے میں آئ کچھ سوچتے ہوئے اس نے الماری میں سے ایک باکس نکالا ۔۔
اس باکس کو عترت نے آج تقریبا تین سال بعد کھولا تھا اور کیوں نہ کھولتی اسکا ماضی اسکی محبت آج تین سال بعد اسکےروبرو تھی۔۔
باکس میں سے ایک خوبصورت سی چاندی کی پائیل تھی جو شاید اپنا معیار اپنی چمک کھو بیٹھی تھی ۔عترت نے اسے ہاتھ میں لیا تھا پائیل ہاتھ میں لیتے ہی عترت کی آنکھیں بھیگنے لگی
نہ چاہتے ہوئے بھی عترت اپنے ماضی کو یاد کرنے لگی۔۔
اففف آج یونی کا پہلا دن ہے اور پہلے دن ہی میں لیٹ ہوگئی یہ سب صنم کی وجہ سے ہوا ہے کبھی جلدی نہیں اٹھتی۔۔
عترت اپنی ہی دھن میں اپنے ڈاکومنٹس صحیح کرتے ہوئے آرہی تھی۔۔
فورم جمع کروانے گئ تو پتہ چلا دو تین جگہ اسکے سائن نہیں تھے اس نے وہی سائیڈ میں کھڑے ہوکے اپنا پین نکالا اور سائن کرنے لگی مگر کہتے ہیں نہ جب کسی کام کی جلدی کرو وہ اور دیر سے ہوتا ہے ایسا ہی کچھ عترت کے ساتھ ہوا۔۔
اسنے جیسی ہی فوم پہ سائن کرنے کیلیے پین چلا مگر ہائے رے قسمت وہ نہیں چلا ۔۔
عترت نے دو تین بار جھٹکا پین تو چل گیا مگر سامنے کھڑے شخص کی سفید چمکتی شرٹ کو داغدار کرگیا۔
عترت نے جیسے ہی سائن کرکے مسکرا کے سامنے دیکھا ۔۔
اسکا ہاتھ ایک دم اپنے منہ پہ گیا اسکے سارے پیپر زمیں پہ بکھر گئے ۔
بلاج نے جب اپنی فیورٹ شرٹ پہ بلیک انکک کے دھبہ دیکھے تو اسکا صدمہ سے برا حال ہوگیا اسکے ساتھ موجود زین نے اس شخص کی سلامتی کی دعا مانگی جس سے یہ غلطی ہوئ۔
بلاج نے غصہ میں اپنی مٹھیاں بھینچ کے جیسے ہی سامنے دیکھا تو اسکا غصہ اسی وقت اڑن چھو ہوگیا۔۔
لائٹ پنک کلر کے نفیس سے سوٹ پہ ہم رنگ اسکارف پہنے ہاتھوں میں تھوڑی تھوڑی چوڑیاں ڈالے حواس باختہ وہ ڈری سہمی سے کھڑی تھی بلاج کے اس طرح دیکھنے پہ اسکی لائٹ براؤن شفاف آنکھوں میں جس میں کاجل کی ہلکی ہلکی سی لائن تھی آنسوں سےبھیگنے لگی ۔۔
بلاج کو ایسا لگا جیسے اسکا دل بہت زور زور سے ڈھرک رہا ہے کچھ تھا ایسا انجانا سا احساس جس نے بلاج خان کی دنیا ایک پل میں ہلا دی۔۔
عترت نے ڈرتے ڈرتے بلاج سے کہا۔۔
ائ۔ایم سو سوری میں نے جان بوجھ کے نہیں کیا۔۔
عترت کی اتنی مدہم آواز سن کے بلاج کے لب نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرائے اور اس نے کہا۔۔
کوئ بات نہیں اپنے جان بوجھ کے نہیں کیا ۔۔
بلاج کے منہ اسے اتنے میٹھی لفظ سن کے زین تو بیہوش ہوتے ہوتے بچا۔۔
بلاج نے جھک کے عترت کے سارے پیپر سمیت کے اسے دیے اور۔ زین کو کہا جو منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
چلے زین کلاس کا ٹائم ہورہا ہے۔۔۔
ہاں ہاں بھائ مجھے لے چل ایسا نہ ہو میں بیہوش ہوجاو۔۔
بلاج اور زین کے آگے جاتے ہی عترت بلاج کی پشت کو گھورنے لگی۔۔
مگر بوکھلائ تب جب بلاج نے بھی اسے پلٹ کر دیکھا۔۔
جاری ہے ۔۔
