Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 55 Part 2

بازل ہنزہ کے کمرے سے نکلا تو اپنی ماں کو کھڑا پایا۔۔
بازل نے ایک پر شکوہ نظر اپنی ماں پہ ڈالی اور گھر سے باہر نکل گیا ۔
رش ڈرائیونگ کرکے وہ سی سائیڈ کی سب سے خاموش جگہ پہ جاکے چیخ چیخ کے رونے لگا۔۔۔
اسکے نمبر پہ گھر سے باری باری سب کال کررہے تھے مگر اسنے کسی بھی کال نہیں اٹھائ !!!
بازل کے سامنے بار بار ہنزہ کا وہ مسکراتا چہرہ گھوم رہا تھا جس مسکراتے چہرے کیساتھ وہ ہارون سے ویڈیو پہ بات کررہی تھی۔۔
بازل نے اپنے موبائل نکالا اور اپنی اور ہنزہ کی وہ پک نکالی جو پرائیویٹ فولڈر میں تھی جس پک میں بازل ہنزہ کے لبوں کو چوم رہا تھا۔۔
بازل تصویر دیکھ کے ایک بار پھر روپڑا۔۔
“نادان دل!!!
ہے ڈھونڈتا!!!!!
قربت تیری
تصویر میں!!!!
ممکن نہیں ہے۔۔
تجھ جو بھلانا۔!!
دیکھے خدایا
دو عاشقاں دیا تباہیاں!!!!
وے بڑی لمبی سی جدائیاں۔۔۔
ایک بار پھر بازل کا موبائل بجنے لگا مگر اس بار اسکے نمبر پہ وہاج کی کال تھی۔۔
بازل نے کال اٹھائ تو اس سے پہلے بازل کچھ بولتا وہاج بول پڑا۔۔
او بھائی کہاں ہے آدھا گھنٹہ ہوگیا مجھے ائے ہوئے۔۔۔۔
اپ پہنچ گئے؟؟
ہاں !
کب ائے گا۔۔۔؟
بس آرہا ہو۔۔۔
بازل کی کال کٹ ہوتے ہی وہاج نے اپنے برابر میں بیٹھے نفوس کو دیکھا مگر وہ نفوس خاموشی سے وہاج کے برابر میں سے اٹھ گیا۔۔

#

ویسے ہیر تمہاری چوائس بہت اچھی ہے۔۔۔
ہیر نے صنم کی بات پہ مسکرا کے کہا۔۔
مگر بعض دفعہ ہم اپنی زندگی کیلئے سب سے گھٹیا چیز کا انتخاب کر لیتے ہیں۔۔۔
ہیر کی بات سیدھا صنم کے دل پہ لگی اسے شروع دن سے ہیر بہت افسردہ لگی اسکی آنکھیں نے کبھی اسکی مسکراہٹ کا ساتھ نہیں دیا۔۔
ویسے بازل کے نکاح کیلیے میں بہت ایکسائیٹیڈ ہو!!!
صنم کے کہنے پہ ہیر مسکرائ اور کہا۔۔
ہاں میں تو خیر جا بھی نہیں رہی مگر صائم بھای نے زبردستی کہا چلنے کو تو اسی وجہ سے تھوڑی بہت شاپنگ کرنے اگئ۔
صائم کا نام سنتے ہی صنم کی انکھوں میں غصہ ابھرنے لگا مگر فل حال اسنے اپنے دل و دماغ سے صائم کا خیال جھٹکا اور کہا ۔۔
اچھا میں شانزے سے پوچھتی ہو کہاں تک پہنچی پھر ایک ساتھ لنچ کرتے ہیں ۔۔
ہاں ٹھیک ہے پوچھ لو میں جب تک سامنے اسٹال سے چوڑیاں لے لو ۔
ہیر چوڑیاں لے کر مڑی تو شانزے اچکی تھی۔۔
تینوں نے ہائپر اسٹار میں بنے فوڈ کوٹ میں لنچ کرنے کا سوچا۔۔
تینوں اپنا اڈر دے کر بیٹھی باتیں کررہی تھی ہیر کافی گل مل گئ تھی ان دونوں سے ۔۔
شانزے کی اسٹوری صنم ہیر کو سنا چکی تھی اسے بہت ا اشتیاق ہورہا تھا پرسنلی بہزاد سے ملنے کا۔۔
وہ لوگ کھانے میں مگن تھی جب صنم کو کسی نے پکارا۔۔
صنم !!!
اپنے نام کی پکار پہ جب صنم نے پلٹ کے دیکھا تو نہال کھڑا تھا۔۔۔
ارے اپ !!
صنم نے بھی مسکرا کے نہال سے کہا۔۔!!
اپ تو عید کا چاند ہوگئ نہ کال کی نہ کوئ بات۔۔۔
نہال کے شکوے پہ صنم مسکرائ اور کہا۔۔
ایکچوئلی اپ کا کارڈ مجھ سے مس ہوگیا تھا۔۔۔
شانزے اور ہیر دونوں بہت اشتیاق سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔۔
ایک دم نہال کی نظر ہیر اور شانزے پہ پڑی تو وہ ایک دم چپ ہوا۔۔
نہال کے چپ ہوتے ہی صنم کی نظر نہال پہ پڑی جو ہیر اور شانزے کو دیکھ رہا تھا۔۔
اوہ ائ ایم سو سوری میں تعارف کروانا بھول گئ۔۔
یہ ہیر اور یہ شانزے دونوں میری بیسٹ فرینڈ اور کزن بھی ہیں۔
اسلام وعلیکم ۔۔۔
خوشی ہوئ اپ لوگوں سے مل کے۔۔۔
ہمیں بھی ۔۔۔۔
ان دونوں نے ایک ساتھ کہا۔۔
نہال تھوڑی دیر ان لوگوں کیساتھ بیٹھا اور پھر وہاں سے چلا گیا مگر صنم کو اپنا نمبر دینا نہیں بھولا ۔

#

ہیر کا موڈ اج بہت اچھا تھا اسے صنم اور شانزے کیساتھ ٹائم گزار کے کافی اچھا لگا۔۔
وہ اپنے اور صائم کیلئے اچھی سی کافی بنا رہی تھی جب زویان کچن میں پانی پینے ایا اور ہیر کو دیکھ کے اسکا موڈ بھی خوشگوار ہوگیا۔۔
لائٹ پرپل اور وائٹ کلر کے سادے سے سوٹ میں اپنے بالوں کو فولڈ کرکے ہلکا سا کیچر لگائے وہ مگن انداز میں کافی بنا رہی تھی۔۔ہلکا۔ہلکا مسکرا بھی رہی تھی۔۔
زویان کا دل کیا شدت سے اسے اپنے سینے سے لگانے کا مگر فلحال اسنے اپنی اس خواہش کو سائیڈ میں کیا اور بنا اواز کیے ہیر کے پیچھے جاکے کھڑا ہواا۔
ہیر جو اتنی مگن انداز میں کافی مگوں میں نکال رہی تھی کے اسے پتہ ہی نہیں چلا کے کب زویان اسکے پیچھے اکے کھڑا ہوا۔۔
زویان نے بہت ارام سے جھک کے اچانک ہیر کے گال کو چوم لیا۔۔
ہیر اس افت پہ ایک دم بوکھلائ۔م
مگر زویان کو اپنے سامنے مسکراتا دیکھ ہیر کا دل کیا یہ گرم گرم کافی اس کے منہ پہ پھینک دے۔۔
یہ کیا بیہودگی ہے؟؟
ہیر نے دانت پیس کے کہا۔۔
اسے بیہودگی نہیں پیار کہتے ہیں۔
زویان نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
ویسے ایک کپ مجھے بھی بنادو کافی۔۔
ہیر اسے مکمل اگنور کرکے کافی کے مگ ٹرے میں رکھنے لگی۔
زویان دیکھ رہا تھا اسکے گال ایک دم ریڈ ہورہے تھے۔۔
اس سے پہلے زویان اور کچھ کہتا ایک دم صائم نے کہا۔
ہیر !!!
جی بھائ ۔۔صائم کی اواز سن کے ہیر کو تھوڑا حوصلہ ہوا۔۔
کوئ مسئلہ؟؟
ہاں مسئلہ ہے نہ مسئلہ فلسطین۔۔
مسئلہ کشمیر۔۔۔
زویان کے جملے پہ صائم نے بہت گھور کے زویان کو دیکھا اور کہا۔۔
مسئلہ نمٹانے میں بہت ماہر ہو زویان۔۔
بھائ میں جارہی ہو اجائے کافی پی نے فالتو لوگوں کے منہ نہ لگے۔۔
ہیر کے کہنے پہ صائم نے گھور کے زویان کو دیکھا اور اسکے پیچھے چل دیا۔۔
اس سالے کا تو کچھ کرنا پڑے گا ۔۔
اچھا خاصا اپنی بیوی کو کسس کرنے والا تھا میں !!!!
کس رو میں اج لے کر رہونگا۔۔۔
جاری ہے ۔۔