Rate this Novel
Episode 36
اذ قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر#36
وہاج صاحب آج آفس نہیں گئے اور یہ بات بہت شاکڈ تھی صائم کیلیے کیونکہ جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا اپنے باپ کو صرف کماتے دیکھا تھا۔۔
پاپا آج اپ آفس نہیں آئے میں تو ویٹ کررہا تھا اپکا لنچ میں۔۔۔
صائم نے دوپہر میں وہاج صاحب کو کال کرکے کہا۔۔
ہاں بیٹا بس تھوڑی طبیعت عجیب تھی اسلیے پھر آج برات میں بھی جانا تھا تو سوچا آرام کرلو۔۔
مگر پاپا کونسا ہمارے سگے رشتے دار ہیں وہ جو آپکا جانا ضروری ہے میں اور پھپھو چلے جائیںگے۔۔
ارے نہیں نہیں بیٹا میں جاؤنگا تم بھی آفس سے جلدی گھر اجانا۔۔۔
جی پاپا اجاونگا چلے آپ میڈیسن کھاکے آرام کرے۔۔۔
صائم سے بات کرکے وہ نیچے آئے شاہجاں کے گھر جانے کیلیے ۔۔۔
کل انکی ہمت نہیں ہوئ مہندی میں جانے کی مگر آج انہوں نے ٹھان لی تھی خوشبو سے بات کرنے کی۔۔
رخسانہ بیگم کو نمرہ خوشبو کا بتا چکی تھی مگر اب وہ صرف افسوس کرسکتی تھی پچھتا سکتی تھی اپنے ہر عمل پہ وہاج کی سوجی آنکھیں دیکھ کے انکی ہمت نہیں ہوئ انہیں تسلی دینے کی کیونکہ اسکا۔حق اب وہ کھوچکی تھی۔۔
کیا سچ کہہ رہی ہو ملکہ؟؟
ہاں بہزاد وہاج کی پہلی بیوی کوئ اور نہیں بلکے خوشبو ہے اور ہیر وہاج کی بیٹی ۔۔
اففف یہ کیسی داستان لکھی ہے اللّٰہ نے وہاج بھائ کی ۔۔ایک بیوی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہوگئ اور ایک 20 سال بعد ملی ہے جو کے نہ ملنے کے برابر ہے۔۔
۔وہاج کی حالت سچ میں مجھ سے دیکھی نہیں جاتی میں اسکے ہر راز سے واقف ہو مگر خوشبو وہ۔واحد راز تھا جس سے اسنے مجھے بھی لاعلم رکھا۔۔
اس کہانی انجام کیا ہوگا بہزاد کیوں کے پہلے کا نہیں پتہ مجھے مگر اب جب خوشبو سامنے آگئ ہے تو وہاج پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ملکہ مجھے نہیں لگتا خوشبو آپی اتنی آسانی سے وہاج بھائ کو معاف کریگی انتظار کی سزا شاید وہ معاف کر بھی دے مگر وہاج بھائ کی دوسری شادی کو وہ شاید ۔۔۔
آگے کی بات بولتے بولتے بہزاد کو گلا روندھ گیا بہزاد راجپوت نے جب سے ہوش سنبھالا تھا حالات کو اہمیشہ مات دی تھی مگر بعض جگہ بہزاد بہت بے بس ہوجاتا تھا بہت ذیادہ۔۔۔۔۔
شاہجاں سمجھ چکی تھی بہزاد کی کنڈیشن اسنے بہزاد کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اسے دلاسا دیا اور پوچھا۔۔
بہزاد کیا تم خوشبو سے ناراض ہو ؟؟
نہیں ملکہ کس بات پہ ناراض ہونگا ان سے میں سمجھتا تھا میری بہن کو استعمال کیا گیا شاید انکی دولت کی وجہ سے جو پاپا نے انکے حصہ میں لکھی تھی کے زیادتی صرف ناصرہ اپا۔کیساتھ ہوئ مگر خوشبو آپی ان کی داستان سننے کے بعد مجھے ان سے دلی ہمدردی ہے ناصرہ آپا دس سال ہی صحیح رہی تو نہ وہاج بھائ کیساتھ صائم کو اسکا باپ کاساتھ آج تک میسر ہے مگر خوشبو آپی کو تو 20 سال سے نہ صرف انکے نام پہ بیٹھی ہے بلکے نہ کردہ جرم کی سزا بھگت رہی ہے اور ہیر اسے تویہ تک نہیں پتہ کے اسکے ماں باپ ہیں اور زندہ ہے تو اصل مظلوم تو خوشبو آپی اور ہیر ہوئ اور ظالم رہی رخسانہ پھپھو زندگی کے کسی حصہ میں بھی میں اس عورت کا چہرہ دیکھنا نہیں چاہتا ملکہ جس نے اپنی لالچ میں اتنی زندگیاں برباد کری۔۔
ارے سو سوری یار وہ سامان مل نہیں رہا تھا ۔۔خو شبو نے گاڑی کا گیٹ کھول کے ایک دم بہزاد اور شاہجاں سے ایکسکیوز کیا تو دونوں نے اپنی باتوں کا سلسلہ وہی روک دیا کچھ ضروری سامان لینے خوشبو کو اپنے فلیٹ پہ جانا تھا اور شاہجاں کو مارکیٹ سے کام تھا اسلیے شاہجاں نے بہزاد سے کہا انہیں لے کر جانے کو۔۔
0
ویسے بہزاد ایک بات پوچھو۔۔۔۔
ہاں خوشبو آپی پوچھے۔۔
تم چھوٹے تھے تو سمجھ میں آتا تھا تم ڈرتے تھے واش روم جانے سے بھی باہر جانے سے ہر جگہ اپنی ملکہ عالیہ کو لے کر جاتے تھے ۔۔شاہجاں بیگم خوشبو کی بات کو مطلب سمجھتے ہوئے اپنی ہنسی کنٹرول کررہی تھی ۔
مگر اب تو اچھے خاصی بڑے ہوگئے اب کس چیز سے ڈرتے ہو جو اتنے گارڈز لے کر چلتے ہو۔۔۔۔
خوشبو کی بات پہ بہزاد نے ہنستے ہوئے انہیں دیکھا شاجہاں بیگم بھی ہنسنے لگی تھی۔۔
خوشبو آپی آپ آج بھی مجے چھیڑنے سے باز نہیں آئینگی ۔۔۔
نہیں بلکل نہیں تم ہونگے بزنس ٹائیکون مگر میرے لیے تو وہ ہی بہزاد ہو جو واش روم جانے سے بھی ڈرتا تھا
خوشبو کی بات پہ ان تینوں کا قہقہ گاڑی میں گونجا تھا۔۔
#
یار حد ہوگئ انسانیت نام کی بھی چیز ہوتی ہے اگر بلاج بھائ لینے آگئے تمہیں تو کونسی قیامت آگئ تھی کہی کا ڈاکو نہیں آیا تھا تمہیں اغواہ کرنے اپکا۔خود کا ذاتی شوہر آیا تھا ۔۔
صنم کی اب صحیح مانو میں ہٹ چکی تھی کل مہندی سے جو عترت اسے اس بات پہ سنا رہی تھی کے وہ۔اسے پالر لینے کیوں نہیں آئ آج برات کا دن ان پہنچا تھا مگر عترت کا شکوہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔
افف انجم آپی سلام ہے آپکو جو آپ انہیں جھیلتی ہیں۔صنم نے ڈریسنگ روم میں اپنے آپکو شیشہ میں دیکھتے ہوئے انجم سے کہا۔۔
ہاں ہاں چلی جاؤنگی آج پھر کسی کو بھی مجھے جھیلنا نہیں پڑے گا یہ بولتے ہوئے عترت کا لہجہ اور انکھیں دونوں بھیگ گئ۔۔
انجم کے اشارہ کرنے پہ صنم نے پیچھے سے آکے عترت کو زور سے ہگ کیا اور کہا۔۔
ارے ہم پنڈی آکے جھیل لینگے آپکو شہر بدل رہا ہے آپکا ہمارا دل نہیں۔۔
صنم کی بھی آنکھیں بھیگنے لگی تھی اسکا بھی دل چاہ رہا تھا عترت کے گلے لگ کے رونے کا مگر وہ ضبط کرکے باہر نکلی تو شانزے بہزاد سے الجھ رہی تھی۔۔
مسئلہ کیا ہے آپکے ساتھ شرم نہیں آتی آپکو اپنے سے دس گناہ چھوٹی لڑکی پہ ٹرائ کرتے ہوئے ۔
شانزے کی بات پہ بہزاد اسکے تھوڑا قریب آیا تو وہ گھبراکے پیچھے ہوئی جب بہزاد نے اسکا بازو دبوچتے ہوئے کہا۔۔
ابھی قریب آیا تو شیرنی سے بھیگی بلی بن گی ہو اگر ٹرائ کرا نہ تم پہ کچھ بھی تو دو دن تک بستر سے نہیں اٹھوگی اور ہاں دس گناہ نہ نہیں صرف 8 سال چھوٹی ہو مجھ سے۔۔
میں بتا رہی ہو آپکو کے شانزے نے اسکی طرف انگلی وارن کرنے والے انداز میں کرکے کہا
۔۔۔کے اب اگر آپ نے مجھے تنگ کیا تو۔۔۔۔۔
تو۔۔۔۔۔۔
بہزاد نے اسکی انگلی میں اپنی انگلی پھنسا کے اسکی گہرے نیلی آنکھوں میں اپنی ہری آنکھیں گاڑتے ہوئے کہا۔
حد ہوگئ ہے یار شانزے اور بی ایم محفل موقع دیکھ کے بندے لڑتے ہیں ۔۔۔
میرے یہ۔کوئ۔جاننے والے نہیں ہیں جو میں ان سے محفل میں بہس کرو ا بیل مجھے مار یہ مثال ہے انکی شانزے نے اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے کہا۔۔
انہیں سمجھاؤ صنم اچھے سے سمجھاؤ مجھے ان سے نفرت ہے گھن آتی ہے انہیں دیکھ کے میں صرف مراد سے محبت کرتی ہو آج کے بعد یہ میرے اس پاس بھی دیکھائی دییے یہ انہوں نے مجھے تنگ کیا تو پہلے تو میں اپنے بابا کو بولونگی دوسرا شاہجاں آنٹی کو اور تیسری میں کمپلین کرونگی انکے خلاف پولیس اسٹیشن جاکے کے انہوں نے میرے آنکھوں کے سامنے مڈر کیا یے۔۔
شانزے کے اس طرح بولنے پہ بہزاد سینے پہ۔ہاتھ باندھے اسے گھور رہا تھا مگر صنم کو فکر تھی کے شانزے کی اتنی باتیں سن کے بہزاد کچھ الٹا سیدھا نہ کردے مگر شکر ہے شانزے کی باتوں پہ بہزاد خاموش رہا۔۔
بارات کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔۔
بلیک کلر کی شیروانی میں ہلکی سے بریڈ کیساتھ بلاج جہاں بہت حسین لگ رہا تھا وہی عترت کو جب اسکے برا ر میں لاکے بیٹھایا گیا تو بلاج اسکا روپ دیکھ کے ہل گیا۔۔
سارے مہمان کو آؤ بھگت میں صنم اور شانزے لگے تھے آج مراد بھی آیا تھا تو بہزاد نے فلحال شانزے سے دوری بنائے رکھی مگر جسطرح شانزے کے والد اور مراد بہزاد کے آگے بچھے جارہے تھے یہ چیز شانزے کو برداشت نہیں ہورہی تھی۔۔
صنم کی نگاہیں مسلسل صائم کو ڈھونڈ رہی تھی اسکی فیملی اچکی تھی مگر وہ کہی اسے دیکھائے نہیں دے رہا ۔۔
صنم واہج سے دودھ پلائ کے پیسے لے کر ہٹی تو اسکے نمبر پہ صائم کا میسج آیا جسے پڑھ کے صنم کو تھوڑا تعجب ہوا اور وہ حال کے پیچھے چلی گئ ۔۔صنم فلحال تو سب سے بچتی بچاتی حال کے پیچھے گئ تھی مگر کوئ تھا جس نے اسکے پیچھے اپنے قدم بڑھا لیے تھے۔۔
صائم صائم کہاں ہو؟؟
صنم نے اندھیرا ہونے کی وجہ سے صائم کو آوازیں دی کے جبھی اسکا چوڑیوں سے لبریز ہاتھ کسی نے پکڑ کر کھینچا۔۔۔
اس سے پہلے صنم چیختی صائم نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے جب آئے ہوئے تو حال کے اندر کیوں نہیں آئے تم۔۔
صنم کے غصہ کی پرواہ کیے بغیر صائم نے اسکے ہاتھ میں ایک رنگ پہناتے ہوئے کہا۔۔
ہیپی برتھڈے مائ ڈانسنگ ڈول۔۔۔
صائم کے وش کرنے پہ صنم نے حیران ہوکے اپنے منہ پہ۔ہاتھ رکھا اسکی آنکھیں خوشی سے بھیگنے لگی۔۔
تمہیں یاد تھا۔۔۔
ہاں میری جان۔۔
اسنے اپنے ہاتھ میں انگھوٹھی دیکھتے ہوئے کہا ۔
صائم یہ بہت۔نن
چپ ابھی ایک تحفہ باقی ہے ۔۔اپنی آنکھیں بند کرو۔۔
صائم کے کہنے پہ صنم نے اپنی آنکھیں بند کری صائم نے اسکا چہرہ تھاما اور اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔
صائم کی اس حرکت پہ صنم کی آنکھیں پوری کھل گئی اسے اندازہ نہیں تھا کے صائم ایسا کچھ کریگا۔۔۔
صنم نے اسے خود سے دور کیا اور لمبی لمبی سانس لینے لگی۔۔
ایک اور صنم پلیز ابھی دل نہیں بھرا میرا۔۔
صائم تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے یہ کیا حرکت کری تم نے اور ایک اور کا کیا مطلب ہے۔۔
کیوں کیا غلط کیا میں نے محبت کرتا ہو تم سے دل چاہ رہا تھا تمہیں پیار کرنے کا اتنی اچھی لگ رہی ہو اج۔۔
مگر صائم۔۔
اگر مگر کچھ نہیں ادھر آؤ میرے پاس صائم نے اسے دوبارہ اپنی طرف کھینچا اور اسکے لبوں پہ دوبارہ جھک گیا صنم نے اسکی قمیض کو مظبوطی سے تھام لیا صائم نے اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر پہ رکھ اسے خود سے اور قریب کرلیا ۔۔۔
صائم مدہوش ہونے لگ تو صنم نے اسے ایک بار خود سے دور کیا اور وہاں سے ڈور کے جیسی حال کے اندر آنے لگی سامنے کھڑے نفوس کو دیکھ کے اسکے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کے نیچے گر گیا۔۔
جاری ہے۔۔
