Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

عترت نے فورا اپنا فورم سمیٹھ کروایا اور تقریبا ڈورتے ہوئے وہ کلاس میں پہنچی مگر افسوس کلاس اسٹارٹ ہوچکی تھی۔۔
اسٹوڈینٹ سے بھری کلاس دیکھ کے عترت کا تھوڑا بہت کانفیڈینس اڑن چھو ہوگیا ۔
اس پہ سونے پہ سہاگا سر بھی اسے کافی کھڑوس لگ رہے تھے ۔
آئ ایم۔کمن ان سر؟؟
سر جو بورڈ پہ لکھنے میں مصروف تھے نگاہ اٹھا کے عترت کو دیکھا اور کہا ۔
اتنی جلدی آپ کہاں سے آگئ مس ابھی تو یونی کا گیٹ کھولنے والا واچ مین بھی نہیں ایا۔۔۔
سر کی طنز پر پوری کلاس ہسنے لگی۔۔
مگر کوئ موجود تھا کلاس میں جس کی نگاہ عترت کی جھکی گردن پہ تھی۔۔
سوری سر آئندہ لیٹ نہیں ہونگی۔۔
عترت کی رونے جیسی آواز سن کے شاید سر کو اس پہ رحم آگیا انہوں نے عترت کو کلاس اٹینڈ کرنے کی اجازت دے دی۔۔
عترت خاموشی سے چلتی ہوئی پیچھے جاکے بیٹھ گئ مگر مسلسل کسی کی نگاہوں کے حصار میں تھی۔۔
عترت نے ایک دو دوفہ نگاہ اس پاس ڈورائ مگر اسکی نگاہیں ناکام لوٹی مگر تیسری بار میں اسکی نگاہ بلاج سے ٹکرائی جو اسی کلاس میں تھا۔۔۔
بلاج کو دیکھ کے اسکی شرٹ کا حال دیکھ کے عترت کو کافی شرمندگی ہوئ مگر اب وہ بیچاری کربھی کیا سکتی تھی۔۔
اج یونی کا دن جیسے تیسے گزر ہی گیا۔۔
گھر جاکر جہاں عترت تھک ہار کر سونے کا ارادہ رکھتی تھی۔ وہی صنم اسکی راہ تک رہی تھی بازار جانے کیلے اپنی فرینڈ کی برتھڈے کا گفٹ لینے کیلیے۔۔
عترت نے خاموشی سے صنم کیساتھ جانے میں ہی عافیت جانی کیونکہ اسے انکار کرنے کا مطلب گھر میں بھونچال لانا ۔
تقریبا کوئ دس۔ بیس دکانیں ڈھونڈنے کے بعد آخر کار صنم کو گفٹ پسند ا ہی گیا وہ لوگ وہاں سے نکلنے لگے جب۔۔ عترت کی نگاہ شرٹ کی دکان پہ پڑی۔۔
صنم چوڑیاں دیکھنے میں لگ گئ اور عترت موقع سے فائدہ اٹھا کے دکان میں چلی گئ
اچانک اسکے سامنے بلاج کا سراپا آگیا کچھ سوچتے ہوئے وہ دکن دار کو سائز بتا کے شرٹ نکلوائ
اپنے اندازے کے مطابق اسنے ایک وائٹ کلر کی خوبصورت سی شرٹ پیک کروالی۔۔۔
۔۔۔
اگلے دن یونی میں پھر اسکی بلاج سے ملاقات ہوئی کلاس میں لائبریری میں مگر اس میں ہمت ہی نہیں ہورہی تھی بلاج کو شرٹ دینے کی ۔۔
یونی ختم ہونے پہ بس 5 منٹ باقی تھے اور عترت منہ لٹکائے یونی کی پارکنگ ایریا کی طرف بڑھ رہی تھی جب اسکی نگاہ بلاج پہ پڑی جو اپنی کار میں بیٹھ رہا تھا پتہ نہیں عترت کو کیا ہوا ہے اسنے بلا جھجھک بلاج کو اسکے نام سے پکارا۔۔
اپنے نام کی پکار پہ بلاج نے ادھر ادھر دیکھا مگر جب اسکی سامنے نگاہ پڑی تو عترت تیزی سے اسکی طرف آرہی تھی اور بلاج کے حیرت ہورہی تھی کے اسنے اسے اوازدی۔۔
عترت بلاج کو آواز تو دے بیٹھی مگر اب اسمیں ہمت نہیں ہورہی تھی اسےشرٹ دینے کی۔۔
بلاج نے اسکا۔گھبرایا چہرہ دیکھا تو پوچھ بیٹھا ۔
کوئ پریشانی ہے آپکو عترت؟؟
نہیں نہیں وہ مج ھے ۔۔میر۔ امطلب۔۔۔
عترت کی لڑکھڑاہٹ سے بلاج نے اندازہ لگایا تھا کے ضرور کوئ بات ہے۔۔
عترت جو بھی بات آپ مجھ سے کہہ سکتی ہیں ڈرے نہیں۔۔
بلاج کے ایسے میٹھے لہجہ پہ عترت کو تھوڑی ہمت ہوئ اور اسنے کہا۔۔
وہ بلاج میں یہ آپکے لیے لائ تھی۔۔
اپنے بیگ سے ایک پیکٹ نکال کے اسنے بلاج کے آگے کیا ۔
بلاج نے خاموشی سے وہ پیکٹ تھاما اور سوالیہ نظروں سے عترت کی طرف دیکھا۔۔
وہ مجھ سے کل آپکی شرٹ خراب ہوگئ تھی تو میں آپکی لیے شرٹ لائ تھی۔۔
عترت کی بات سن کے بلاج کو ایسا لگا اس نے کچھ غلط سنا۔۔
کیا کہا عترت دوبارہ کہے؟؟
میں آپکے لیے شرٹ لائ تھی مگر بلاج آپ یہ مت سمجھیے گا کے میں کوئ ایسی ویسی لڑکی ہو۔۔۔
۔وہ مجھے پتہ ہے عترت جی آپ ایسی ویسی لڑکی بلکل نہیں ہے بلاج نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
وہ اصل میں میرا کوئ بھائ نہیں ہے تو۔۔۔۔
او ہیلو مجھے بننا بھی نہیں تمہارا بھائ ؟؟اس نے پیکٹ تقریبا عترت پہ پھینکتے ہوئے کہا۔۔
بلاج کے پیروں کی نیچے سے زمین کھسک گئ عترت کی بات سن کے اس بہت شدید قسم کا شاکڈ لگا تھا۔۔
عترت نے بلاج کی بوکھلاہٹ دیکھ کے مسکرائے بنا نہ رہ سکی اسنے پیکٹ دوبارہ اسے تھماتے ہوئے کہا ۔
ارے پوری بات تو سن لے بلاج میں یہ کہہ رہی ہو میں کبھی ایسی چیزیں خریدیں نہں اسلیے کوئ آئیڈیا نہیں ہے پتہ نہیں آپکو کیسی لگے۔۔
آپ نے دی ہے تو اچھی ہوگی ۔۔
شکریہ عترت ۔۔۔
نہیں شکریہ کہہ کر مجھے شرمندہ نہ کرے یونی کا پہلا دن اور آپکی شرٹ خراب کردی تھی۔۔
اٹس اوکے۔۔۔
اوکے میں چلتی ہو اب ۔۔
عترت مسکراتے ہوئے پلٹ گئ۔۔
بلاج نے پیکٹ کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے گاڑی کا لاک کھولا اور یونی سے نکل گیا۔۔
گھر جاکر بلاج نے جب پیکٹ کھولا تو اسمیں وائٹ کلر کی حسین شرٹ تھی بلاج نے عترت کی چوائس کو داد دی اور شرٹ پہننے لگا ۔
بلاج کافی شاکڈ تھا شرٹ پہن کے کیونکہ شرٹ اسکے بلکل پرفیکٹ آئ تھی ۔۔
بلاج شرٹ پہنے پہنے بیڈ پہ لیٹ گیا ۔
ایک انجانی محبت کا آغاز ہوچکا تھا مگر انکی محبت کا انجام اتنا خطرناک ہوگا یہ عترت اوربلاج دونوں نے نہیں سوچا ہوگا وہ کہتے ہیں نہ۔۔
“شمع ہوئ ہے روشن جلنے لگے پروانے۔۔
آغاز تو اچھا ہے انجام خدا جانے..”
جاری ہے۔۔