Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

داستان عشق محبت 🔥❣️
از قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر# 13
واہ یار یو آر سو لکی۔۔
انجم نے اسکے پاؤں میں چاندی کی پایل دیکھ کے کہا ۔۔
ہاں انجم بس اللّٰہ تعالیٰ ہماری محبت پہ کن کہہ دے۔۔
عترت نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔
آمین آمین ۔۔
انجم نے عترت کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔
مگر انکے پیچھے کھڑا انکی باتیں سننے والا زین اس سے برادشت نہیں کرپایا۔۔
ایک دم۔ان دونوں کے سامنے آیا اور عترت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔
مجھے بات کرنی ہے تم۔سے عترت؟؟
ہاں بولے زین بھائ۔۔
یہاں نہیں زرا میرے ساتھ آؤ لائبریری کی طرف۔۔۔
عترت کیساتھ ساتھ انجم کو بھی زین کی یہ بات عجیب لگی۔۔
آپ کو جو کہنا ہے یہاں کہے۔۔
عترت نے روبرو جواب دیا کچھ ایسا زین کی آنکھوں میں تھا جیسے دیکھ کے عترت کو خوف آنے لگا۔۔۔
زین نےایک غصیلی نگاہ عترت پہ ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔۔
اسکے ارادے مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے عترت اس سے دور رہنا۔۔
ہاں انجم مجھے بھی آج زین بھائ کچھ عجیب لگے۔۔۔
ہیلو بیوٹی فل۔۔
بلاج نے آتے ہی عترت کی۔ناک دباتے ہوئے کہا۔
بلاج کو دیکھ کے عترت کے لبوں پہ مسکراہٹ آگئ ۔۔
لو بھی آگیا عشق کا استاد اب میں تو چلی انجم نے اپنی کتابیں سمیٹتے ہوئے کہا۔۔
انجم کی بات سن کے دونوں مسکرانے لگے اور بلاج نے کہا۔
ہائے سالی ہو تو ایسی ہو کسے پرائیویسی فراہم کرتی ہے۔
بلاج نے جاتے ہوئے انجم سے کہا۔
بے فکر رہے دولہا بھائ سے اس پرائیویسی کا بھاری معاوضہ لونگی۔۔
ضرور ضرور سالی صاحبہ۔۔
انجم مسکرا کے چلی گئ جب بلاج نے عترت کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔
کچھ پریشان لگ رہی ہو عترت۔۔؟؟
ارے نہیں نہیں پریشان کیوں ہونگی زین والی بات عترت چھپا گئ اور یہ ہی اسکی سب سے بڑی غلطی تھی۔۔
وہ آپ کل یونی نہیں آئینگے تو۔۔
ارے میری جان ایک دن کی تو بات ہے ایک دن میں کونسا ہم جدا ہوجائینگے۔۔
اللّٰہ نے کرے بلاج کیسی باتیں کرتے ہیں آپ ۔۔۔
عترت نے فورا بلاج کو ٹوکتے ہوئے کہا۔
آپکی جدائ مجھ سے برداشت نہیں ہوگئ یہ بولتے ہوئے عترت کی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔
ارے ارے میری جان میں مزاق کررہا تھا ادھر دیکھو میری طرف ۔
عترت کے دیکھنے پہ بلاج نے اسکے آنسو صاف کیے اور کہا۔
پاگل ہمیں اللّٰہ کی ذات کے علاؤہ کوئ جدا نہیں کرسکتا پاگل ہے بلکل میری باربی ڈول یہ بول کے بلاج نے اسے گلے سے لگالیا۔۔
بلاج یونی میں نہی تھا تو عترت بھی یونی نہیں آئ آج بلاج کو گئے دوسرا دن تھا مگر آج عترت کو یونی جانا پڑا لائبریری سے اسے کچھ نوٹس بنانے تھے۔۔
وہ لائبریری سے باہر نکلی تو سامنے زین کھڑا تھا۔۔
اسے اگنور کرکے عترت سائیڈ میں سے گزرنے لگی جب زین نے اسکا ہاتھ تھام کے اسے گھسیٹا ہوا اپنے ساتھ لائبریری کے ساتھ بنے لان میں لے ایا۔
کیا بدتمیزی ہے زین بھائ آپکی ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑنے کی۔۔
عترت کا غصہ عروج پہ تھا زین کی اس حرکت پہ مگر زین کو کوئ فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔
میری بات سنو عترت ۔۔
میں تم سے محبت کرتا ہو تم میری محبت قبول کرکے میرے گلے لگو مجھے بولو میں بھی آپ سے محبت کرتی ہو زین پلیز عترت اس بلاج کو چھوڑ دو۔۔
زین کی بات سن کے عترت کے پیروں کے نیچے زمین کھسک گئ۔اسے زین کی دماغی حالت پہ شک ہونے لگا
۔
اس نے دور ہوتے ہوئے زین سے کہا۔۔
آپکا دماغ خراب ہوگیا ہے آپ ہوش میں تو ہیں میں بلاج سے محبت کرتی ہو مرتے دم تک کرتی رہوگی ۔۔
ٹھیک ہے تو پھر یہ دیکھ لو شاید تمہارا فیصلہ بدل جائے
زین نے یہ بول کے بلاج اور ان دونوں کے درمیاں پایل پہنانے سے کے کر گلے لگنے تک بلاج کا عترت کے ماتھے پہ اپنے لب رکھنے تک پوری وڈیو اسکے سامنے چلادی۔۔
وڈیو دیکھ کے عترت کے ہوش وحواس اڑ گئے۔۔
اب بتاؤ کیا فیصلہ ہے تمہارا اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو یہ وڈیو نہ صرف پورے کالج میں پھیلا دونگا بلکے تمہاری ماما کو بھی بھیج دونگا۔۔
زین آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کررہے ہیں میں نے کیا بگاڑا ہے آپکا؟؟ پلیز مجھ پہ رحم کرے پلیز
عترت نے باقاعدہ زین نے آگے ہاتھ جوڑ دیے زین نے وہی ہاتھ تھام کے کہا مان لو میری بات عترت ورنہ انجام کی ذمیدار تم خود ہوگئ۔۔
عترت نے ابھی فلحال زین کو چپ کرانے میں ہی عافیت جانی بلاج کے آنے تک ۔۔
عترت نے کہا۔۔
ٹھیک میں مان لونگی آپکی بات مگر آپ بلاج سے کچھ نہیں کہینگے میں خود انہیں سمجھا دونگی۔۔
ٹھیک ہے ٹھیک آؤ پھر لگو میرے گلے اور کہو میں تم سے پیار کرتی ہو۔۔
عترت اپنے دل پہ پتھر رکھ کے زین کے گلے لگی اور کہا ۔
میں بلاج سے نہیں آپ سے محبت کرتی ہو زین۔۔
عتتترررت۔۔۔
ایک دلخراش چیخ کیساتھ عترت کو اپنا نام سنائ دیا جو بولنے والا کوئ اور نہیں بلاج تھا۔۔
جو آج سرپرائز دینے عترت کو یونی آیا تھا انجم سے پوچھنے پہ اسے پتہ چلا کے عترت لائبریری میں ہے۔۔
یہ عترت کی بدقسمتی تھی کے بلاج نے وہی جملہ سنا جو اسکی دنیا ہلانے کیلے کافی تھا۔۔
بلاج کو سامنے دیکھ کر عترت کی روح فنا ہوگئ اور زین موقع سے فائدہ اٹھا کے وہاں سے نکل گیا۔۔
بلاج کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے ریڈ روز اسکے ہاتھ سے نیچے گرگئے۔۔
الٹے قدم اٹھاتا ہوا وہ واپس مڑگیا۔۔
بلاج بلاج میری بات سنے ایسا نہیں ہے جیسا اپنے دیکھا اور سنا۔۔
عترت نے ڈورتے ہوئے اسے پکڑا۔۔
عترت روتے روتے بلاج کے سینے سے لگنے لگی جب بلاج نے اسے خودسےالگ کرکے زور سے دھکا دیا۔۔عترت منہ کے بل زمین پہ گری
بلاج نے چیخ کے کہا۔۔
تم قابل نہیں ہو میرے مجھے اسی دن سمجھ جانا چاہیے تھا جب تم پہلی ہی ملاقات میں میری لیے شرٹ لے کے آئ تھی۔۔کے تمہارا کیریکٹر کیسا ہے۔۔
بلاج نے نیچے جھک کے اسکا منہ پکڑ کے کہا۔۔
عترت کا ہونٹ پھٹ چکا تھا مگر بلاج کو پرواہ۔نہیں تھی ۔
میری بات سن لے ایک بار بلاج پلیز ۔۔عترت نے اسکے پاؤں پکڑتے ہوئے کہا۔۔
نام مت لو میرا اپنی گندی زبان سے ۔۔
نفرت کرتا ہو میں تم سے عترت نفرت زندگی میں کبھی میں تمہارا چہرہ دیکھنا نہیں چاہونگا۔۔
یہ بول کے بلاج نے اسے خود سے دور کیا اور چلاگیا۔۔
عترت کے کانوں میں بلاج کے کہے لفظ گونجنے لگے۔۔
انجم جو ان دونوں کو تنگ کرنے آئ تھی عترت کو ایسا راستہ میں پڑا دیکھ تیزی سے اسکے قریب آئ مگر عترت تو ہوش میں نہیں تھی۔۔
گھر پہنچ کے عترت نے بے شمار وائس کال کیے بلاج کو مگر بلاج اسکا نمبر بلاک۔کرچکا تھا۔۔
عترت اسکے گھر بھی گئ مگر وہ وہاں بھی نہیں تھا۔۔
ایک ہفتہ دیوانہ وار عترت نے بلاج کے گھر کے کئ چکر لگائے یونی میں اسکا انتظار کیا مگر وہ نہیں ایا۔۔
پھر اسے انجم سے پتہ چلا وہ یونی چھوڑ چکا ہے۔۔
عترت نے بھی یونی چھوڑدی۔۔
زین بھی اس دن سے غائب تھا بلاج کی کوئ خبر عترت کو نہیں ملی۔۔۔
عترت اپنا ماضی یاد کرکے تڑپ اٹھی چاندی کی پایل باکس میں رکھ کے اسے اپنے سینے سے لگاکے سو گئ۔۔
بلاج گھر آیا تو بنا کسی سے بات کیے کمرے میں چلا گیا۔۔
سالوں بعد عترت کو دیکھ کے اسکا دبا غصہ ایک بار پھر ابھرنے لگا ۔۔
اسنے زور سے اپنا ہاتھ دیوار پہ مار کے کہا۔۔
بیوفا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
ہوسکتا ہے میں کل اپیسوڈنہیں دو مجھے جانا ہے۔۔
See translation