Rate this Novel
Episode 53
خوشبو بیگم کو وہاج صاحب گھر تو لے ائے تھے مگر وہ خاموش تھی۔۔
وہاج صاحب نے ہر طرح سے ان سے معافی مانگی تھی انکا دل صاف کرنے کی کوشش کری تھی۔
مگر پھر وہ صحیح طرح سے اس گھر کیں ایڈجسٹ نہیں ہورہی تھی۔۔
وہاج صاحب نے جب اظہر صاحب سے اس متعلق ۔۔
تو انکا یہ ہی کہنا تھا۔۔
وہاج سالوں پر گردد ہے آہستہ آہستہ ہی چھٹے گی۔۔
مگر ہیر نہ تو اپنی ماں سے بات کرتی تھی نہ اپنے باپ سے بلکے زویان کی حرکت کے بعد اسنے خاموشی سے یہاں سے جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔۔
اسے نہیں پتہ تھا وہ کہاں جائے گی؟
مگر فل حال اسے یہاں سے جانا تھا ۔۔
وہ خاموشی سے اپنی پیکنگ کرچکی تھی بس 12 بجنے کا ویٹ کررہی تھی۔۔
12 بجے وہ اپنے کمرے کا گیٹ کھول کے جیسے ہی باہر نکلنے لگی تو صائم کو کھڑا پایا۔۔
ہیر کے ہاتھ سے بیگ چھوٹ کے نیچے گرا ۔۔
صائم نے بیگ زمین سے اٹھایا اور کمرے میں لیجاتے ہوئے ہیر سے کہا۔۔
اندر آؤ اور دروازہ بند کر دو۔۔
ہیر خاموشی سےا ندر ائ
صائم کے لہجے میں ایسا کچھ تھا جو ہیر کو ڈرانے کیلیے کافی تھا۔۔
صائم نے بلکل اسکے سامنے کھڑے ہوکے کہا۔
کہاں جارہی ہو رات کے اس وقت؟؟
اپکو کوئ حق نہیں مجھ سے کچھ بھی پوچھنے کا۔۔
ہیر نے صائم کو دیکھ کے کافی غصہ میں یہ بات کہی۔۔۔
۔میرا بیگ مجھے دے مجھے جانا ہے۔۔
اچھا کہاں جانا ہے؟؟
اپکو اس سے کوئ سروکار نہیں ہونا چاہیے میں کہاں جاؤ کہاں نہیں۔
کیوں سروکار نہیں ہونا چاہیے کیوں۔۔؟؟
بھائ ہو تمہارا دو تین مہینے چھوٹا ہو تو کیا ہوا مگر ہو تو بھائ ۔۔
صائم کے کہنے پہ ہیر نے چونک کے صائم کو دیکھا۔
صائم کی بات سن کے ہیر کی انکھوں سے انسو گررہے تھے تو صائم کا بھی کچھ حال ایسا تھا اسکی آنکھوں میں بھی نمکین پانی جمع تھا۔۔
تم اگر خوشبو ماما کی وجہ سے یہاں جارہی ہو تو ہیر تم سراسر انکے ساتھ غلط کررہی ہو ۔۔
میں مانتا ہو تمہارے ساتھ بہت زیادتی ہوئ ہے مگر تم انکی جگہ خود کو رکھ کے سوچو ۔۔۔
جو بھی ہو مگر میرے ساتھ زیادتی ہوئ ہے۔۔
اپکو کیا پتہ اپکے ساتھ تو پاپا بھی تھے اور اپکی ماما بھی۔۔
ہاں سچ کہہ رہی ہو مجھے کیا پتہ۔۔جس کی ماں محض دس سال کا اسے چھوڑ کے مرگئ ہو۔
ہاں سچ کہہ رہی ہو مجھے کیا پتہ جب راتوں میں مجھے ڈر لگتا تھا تو مجھے دلاسہ دینے والا کوئ نہیں تھا۔۔
ہاں سچ کہہ رہی ہو مجھے کیا پتہ جب میں نے پہلی بار سگریٹ پی تھی چھپ کے تو مجھ سے ناراض ہونے والا۔مجھے ڈانٹنے والا کون تھا۔؟
ہاں سچ کہہ رہی ہو مجھے کیا پتہ۔۔؟؟
اپ سمجھ نہیں رہے صائم بھای مجھے جانا ہے میں نہیں رہ سکتی !!!
یہ بول کے پیر بلک بلک کے روپڑی۔۔۔
ہیر کے بھائ کہنے پہ صائم اس تک ایا اور اسکے سر پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔۔
ماں کے علاوہ اور جس وجہ سے تم یہاں سے جانا چاہ رہی ہو میں وہ وجہ جانتا ہو۔۔
صائم کے بولنے پہ ہیر نے گھبرا کے صائم کو دیکھا تھا۔۔
میں سب جانتا ہو ہو ہیر زویان مجھے سب بتا چکا ہے اپنے اور تمہارے بارے میں۔۔
بے فکر رہو تم اب تمہار بھائ کھڑا ہے تمہارے ساتھ اگر تم زویان سے کوئ تعلق نہیں رکھنا چاہتی تو وہ تم تک پہنچ نہیں سکتا تمہاری مرضی کے بنا یہ میرا وعدہ ہے اپنی بہن سے۔۔۔
صائم نے یہ بول کے ہیر کو بہت احترام سے اپنے گلے لگایا جب ہیر بلک پڑی اور کہا۔۔
مجھے نفرت یے بھائ زویان سے مجھے اس سے کوئ تعلق نہیں رکھنا ۔۔
ہیر کی بات سن کے صائم خاموش رہا ۔۔۔
زویان کا ہیر کیلیے تڑپنا اس سے چھپا نہیں تھا۔۔
مگر وہ وہی کریگا جو ہیر کہے گی۔۔۔یہ وہ سوچ چکا تھا سالوں بعد ملی اپنی اس بہن کو وہ اپنے پچپن کی دوستی پہ فوقیت دے چکا تھا ۔
#
اظہر اپ سے ایک بات پوچھو؟؟
نمرہ بیگم نے انہیں چائے دیتے ہوئے کہا۔
ہاں پوچھو !!
اپ نے ابھی تک شاہجاں سے معافی نہیں مانگی مجھے اس نے معاف کردیا تو اپ کو بھی۔۔۔اگے کی بات نمرہ بول نہیں پائ۔
نمرہ کسی بھی عورت کیلئے بہت مشکل ہوتا ہے اپنی محبت کو باٹنا۔۔
میں بچپن سے محبت کرتا ہو شاجہاں سے مگر کیا کرا سکے ساتھ۔۔
دوسری بیٹی کی پیدائش پہ چھوڑ دیا اسے یہ کہہ کے کے وہ مجھے بیٹا نہیں دے سکتی۔۔
کہاں گئ تھی اس وقت میری محبت جب میں تم سے محبت کے وعدے کررہا تھا۔۔
میں اگر اس سے معافی مانگ لو بظاہر وہ مجھے معاف کردے گی مگر دل سے یہ بات شاید ہی نکال پائے کے میں اسکی محبت میں شرک کیا اسکی محبت میں کسی کو حقدار بنایا۔
اسکی جگہ میں ہوتا تو شاید اسے چھوڑ چکا ہوتا۔۔۔
اظہر صاحب کی بات سن کے نمرہ رونے لگی۔۔
سب میری غلطی ہے کاش میں امی!!!
نہیں نمرہ اب خالہ اچھی جگہ ہیں ہمیں انکی مغفرت کی دعا مانگنی چاہیے۔۔
جو ہوا اب اسے بدلہ نہیں جاسکتا تم تھی میری قسمت میں۔۔
میری لیے یہ ہی بہت ہے کے وہ مجھ سے بات کرلیتی ہے ،میری طرف دیکھ لیتی ہے ۔۔
بس بہت ہے اتنی سزاتو بنتی ہے میری۔۔
اظہر صاحب کے لہجہ انکے دل کی عکاسی کررہا تھا ایک بار پھر نمرہ بیگم پچھتا رہی تھی کے کاش وہ ان دونوںکے درمیان نہیں اتی۔۔۔
#
کیا بات ہے بھائ بہن کیا ملی مجھے بھول گئے اپ؟؟
صائم عشاء کی نماز پڑھ کےا یا تو لان۔میں اسے زویان نے روک لیا۔
صائم نے زویان کی بات پہ مسکرا کے کہا۔
ایسی بات نہیں ہے بس تھوڑا مصروف تھا اگر میں نے ایا تم تک تو تم مجھ تک اجاتے۔۔
ہمممم۔۔زویان مسکرایا۔۔۔
ہیر کو تو پہچان چکے ہونگے اپ؟؟
ہمم جب پہلی بار اسے موت کے منہ سے بچایا تھا جبھی پہچان گیا تھا۔۔
موت کے منہ سے مطلب ؟؟زویان نے گھبرا کے پوچھا۔۔
زویان کے پوچھنے پہ صائم۔نے اسے خوشبو بیگم کے فلیٹ والا قصہ سنایا۔۔
صائم کی بات سن کے زویان چپ ہوگیا جب ایک بار پھر صائم نے کہا۔۔
اسکی اس نفرت کا تم اندازہ نہیں لگا سکتے جو وہ تم سے کرتی ہے مجھ سے اسنے کہا ہے وہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ۔۔
مگر شاید اس نے اپکو یہ نہیں بتایا کے میں اسے کسی قیمت پہ نہیں چھوڑونگا یہ بات نہیں بتائ اس نے!!!!!
۔!!زویان کی شدت پسند لہجے پہ صائم کے ماتھے پہ تیوریاں چڑھی اور اس نے بھی زویان کے ہی انداز میں اسے کہا۔۔
میں اپنے بہن سے وعدہ کرچکا ہو کے جیسا وہ چاہے گی ویساہی ہوگا۔۔
صائم کی بات پہ زویان طنزیہ مسکرایا اور کہا۔
اچھا یعنی اپنے کل کی ملی بہن کو بچپن کی دوستی پہ فوقیت دے دی ۔۔
چلو اچھا یے جو ہو اب سارے لحاظ مروت سائیڈ میں رکھ کے ہو۔۔
ایک بات اپ بھی سن لے ہیر کے بھائ صائم بھائ میں نےبھی اپنی محبت کی قسم کھائ ہے کے وہ صرف میری ہی رہے گی ۔۔
یہ بول کے زویان جانے لگا جب پیچھے سے صائم نے کہا۔۔
اس تک پہنچنے سے پہلے تمہیں اسکے ہر راستے میں میں ملونگا۔۔
زویان نے بنا مڑے مسکراتے ہوئے کہا۔
میں ہر اس چیز کو روندھ دونگا جو اسکے اور میری درمیان میں ائے گی۔۔
جاری یے۔۔
