Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

خوشبو کے اسطرح بھاگنے پہ وہاں موجود ہر شخص حیران تھا۔۔
عترت جو مایوں کے ڈریس میں ابٹن لگائے بیٹھی تھی ایک دم پریشان ہوگئ۔۔
صنم اور ہنزہ نے انکے پیچھے جانے کی کوشش کری تو ندا بیگم نے انہیں روک دیا۔۔
وہاج ابھی تک اسی جگہ اس پوزیشن میں کھڑی تھے انہیں لگا انہوں نے کوئ خواب دیکھا جیسے وہ 20 سالوں سے ڈھونڈ رہے تھے جو انکی پہلی بیوی پہلی محبت کا درجہ رکھتی تھی ہ اچانک 20 سالوں بعد سامنے آجائیں گی ایسا تو انہوں نے سوچا ہی تھا۔۔
وہاج کو ایک دم نجانے کیا ہوا کے وہ بھی اسی سمت بھاگنے لگے جہاں خوشبو بھاگی تھی مگر درمیان میں اچانک شاہجاں اگئ۔۔
شہاجاں وہ خوشبو ہے وہی میری پہلی بیوی ہے شہاجاں میں نے تمہیں بتایا تھا نہ میری پہلی محبت یہ یہی ہے یہ بولتے ہوئے وہاج صاحب شہاجاں بیگم کو چھوٹے بچے معلوم ہورہے تھے جو برسوں پرانا کھویا کھولنا اچانک ملنے پہ خوش ہورہا ہو۔۔
وہاج صاحب جیسے ہی شاہجاں کو سائیڈ میں کرکے خوشبو کے پیچھے جانے لگے تب اچانک شاجہاں نے انکا ہاتھ پکڑ لیا۔
کہاں جارہے ہو؟؟
اندر شاہجاں۔۔۔
خوشبو کے پاس بیوی ہے میری وہ۔۔۔
وہاج اس وقت وہ میری مہمان ہے میں کوئ تماشہ نہیں چاہتی عزت اسی میں ہے کے تم ابھی اسی وقت گھر چلے جاؤ اس مسئلے میں ہم صبح بات کرینگے میری بچی کی خوشی کا معملہ ہے۔۔۔
شاجہاں کے لہجہ میں ایسا کچھ تھا کے وہاج کے قدم رک گئے اظہر صاحب بھی وہاں بت بنے کھڑے تھے انہیں اندازہ نہیں تھا کے ایسا کچھ ہوگا ۔۔
وہ تو رخسانہ بیگم ،صائم ،اور نمرہ بیگم آج آئ نہیں ورنہ تماشہ آج دوسرا ہوتا۔۔
نہیں میں ملے بغیر نہیں جاؤنگا اس سے بیوی ہے میری وہ۔
وہاج صاحب نے شاہجاں سے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے کہا ۔
20 سال بعد یاد آیا بیوی ہے تمہاری اس بیوی کو تمہاری دوسری بیوی کا بیٹے کا پتہ ہے ۔۔۔؟؟؟
شاجہاں کی بات پر وہاج کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرف وہی رکھی کرسی پہ بیٹھ گئے آنسوؤں تھے جو انکی آنکھوں سے مسلسل بہہے جارہے تھے۔
ایک دم وہ اٹھے اور محفل سے چلے گئے۔۔
شاہجاں نے ندا کو سب کچھ سنبھالنے کا اشارہ کیا اور اندر بڑھ گئ۔۔۔
خوشبو روتے جارہی تھی اورا پنا سامان پیک کررہی تھی لائبہ خالی بت بنی تھی اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کے کیسے روکے خوشبو کو۔۔
کہاں جارہی ہو؟ خوشبو پاگل مت بنو۔۔
تمہیں پتہ تھا کہ وہاج کون ہے ؟
خوشبو نے روتے روتے پوچھا۔۔
ہاں مگر جب جب تم نے کل مجھے اپنا سب کچھ بتایا میں تمہیں اسی لیے یہاں لے کر آئ تھی خوشبو کے تم قصور وار نہیں ہو جو دنیا سے چھپتی پھر رہی ہو کوئ گناہ نہیں نکاح کیا تھا وہ بھی سب کی موجودگی میں خالو نمرہ سب شامل تھے تو پھر اس طرح منہ چھپانے کا فائدہ۔۔
قصور وار جو ہے وہ اب دنیا کو جواب دے کے اگر تم بیوی ہو اسکی تو اتنے سالوں سے کہاں تھی؟؟.
ادھر دیکھو میری طرف۔۔
شہاجاں نے خوشبو کا چہرہ تھام کے اسکے آنسوؤں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
بہت کاٹ لی تم نے محبت کرنے کی سزا خوشبو۔۔
اب بس دنیا کو فیس کرو ایسے گھوموں سب کے سامنے کے کوئ تم پہ انگلی نہ اٹھا سکے۔۔
آج وہاج آیا ہے برات میں سب آئینگے تم یہاں اپنی بھانجی عترت کیلیے آئ ہو اور ادھر دیکھو میری طرف اب تمہیں وہاج سے حساب لینا ہے اپنی ہجر تنہائ کا بھاگنا نہیں ہے اس سے میں ندا میرے گھر کا ایک ایک فرد تمہارے ساتھ ہیں ۔۔۔بہزاد کو تم جانتی ہونہ کتنا پاگل ہے پوچھنے نہیں دے گا تم تک کسی کو بھی ۔۔
کب تک بھاگو گی خوشبو تم تو ہم دونوں سے ذیادہ بہادر تھی ۔۔۔
شاہجاں مجھ سے نہیں ہوگا۔۔
کوشش کروں خوشبو ایسے شخص کے ساتھ کا کیا فائدہ جو 20 سال تک تم سے دور رہا۔۔۔
مگر میں آج بھی محبت کرتی ہو ان سے شاجہاں۔۔۔
جانتی ہو اسی لیے کہہ رہی ہو کے محبت فرض کے آگے کچھ نہیں ہیر کا سوچو خوشبو جانتی ہونہ اسے جب پتہ چلے گا سب کچھ تو پھر اسی لیے اسکے آنے سے پہلے پہلے یہ سارا قصہ ختم کردو۔۔۔
کیسا قصہ شاجہاں جس پہ انتظار کی دھول جم چکی ہے۔۔
تو پھر جب تم وہاج کی یادوں کو اپنے دل ودماغ سے خرچ کر نکل چکی ہو تو پھر اسطرح بھاگنا کے کیا مقصد ہے؟؟
شاہجاں مین۔۔مج ںھے۔۔ آگے کی بات بولتے بولتے خوشبو کی ہچکی بندھ گئ۔۔
شاہجاں نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا اور اسکے آنسوؤں پونچھتے ہوئے کہا۔۔
ہم اس بارے میں کل بات کرینگے ابھی تم آرام کرو ۔۔
شاہجاں نے اسے آرام کا کہاں اورا لائبہ کو لے کر باہر اگئ۔۔
مگر خوشبو اسکے آنسوؤں ایک بار پھر تیزی سے بہنے لگے۔۔
بیڈ پر لیٹتے ہی ایک بار پھر وہاج کا چہرہ اسکے سامنے آیا مگر اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی آنکھیں بند کری تو ماضی نے بند آنکھوں پہ دستک دے دی۔۔

#

واسق صاحب آپکے کچھ مہمان آئے ہیں بیٹھک میں بیٹھے ہیں۔۔۔۔
منشی جی نہ واسق صاحب سے کہا۔۔
میرے مہمان کون آیا ہے منشی ؟؟
پتہ نہیں صاحب کہہ رہے ہیں شہر سے آئے ہیں۔۔
شہر سے ؟؟
واسق صاحب کچھ سوچتے ہوئے بیٹھک میں گئے اور وہاں بلال صاحب کو دیکھ وہ ایک دم خوشی سے چیخ پڑے۔۔
ارے بلال تو یو اچانک ۔۔؟؟
واسق صاحب نے بلال صاحب کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔۔
دیکھ لے تیری یاد آئ تو اگیا مگر تجھے تو اتنی بھی فرصت نہیں۔۔
ارے یار تو جانتا ہے تیری بھابھی کے جانے کے بعد میرے پاس اب ٹائم کہا۔۔
ارے نمرہ بیٹی بھی آئ ہے۔۔
اسلام وعلیکم انکل۔۔۔
نمرہ نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔
وعلیکم اسلام جیتی رہو۔۔
ارے بلال بھابھی کو نہیں لایا۔۔
یار اصل میں وہ اپنی بہن کے پاس ہیں انکی طبیعت تھوڑی ٹھیک نہیں نمرہ اور بلاج کی یونی کی چھٹیاں تھی تو میں نے سوچا ان لوگوں کو تجھ سے ملا لاو۔۔
ارے یہ تو تونے بلال بہت اچھا کیا مگر یہ وہاج کہا ہے؟؟
ارے باہر ہے اسکی کوئ کال آگئ تھی مگر تو یہ بتا یہ حویلی کو اتنا سجایا ہوا ہے کہی خوشبو بیٹی کی شادی تو نہیں کررہا ۔۔؟؟
بلال صاحب کی بات پہ واسق صاحب نے قہقہ لگایا اور کہا۔۔
ارے نہیں نہیں خوشبو تو ابھی پڑھ رہی ہے اصل میں اسکی پچپن کی دوست کی شادی ہے یہی پاس میں ہی رہتی ہو اب اسکا گھر چھوٹا پڑ رہا تھا باراتیوں کیلے تو بس اس نے فیصلہ کرلیا کے اسے اپنے گھر سے رخصت کرے گی۔۔۔
اچھا اچھا ۔۔۔
واسق صاحب کے ساتھ بلال اور نمرہ اندر چلے گئے تھے ۔
ارے یار بول تو رہا ہو کے اجاونگا تین چار دن میں بابا کی خواہش پہ آیا ہو وہاج جھنجھلا کے اپنے دوست سے بات کررہا تھا وہ سمجھا تھا اسکے بابا اسے ویکیشن پہ کہی اچھی جگہ لے کر جائینگے مگر جب انکی گاڑی گاؤن میں اینٹر ہوئ تو وہاج کا۔اچھا خاصا منہ۔بن گیا تھا
ارے خوشبو بیبی ارام سے۔۔
کسی کی اتنی تیز آواز پہ وہاج کال کٹ کرکے جیسی ہی پلٹا کوئ اسے لے کر دھرم سے نیچے گرااا۔
وہاج کا سر بر طرح زمین پہ لگا ۔۔
مگر سر سے زیادہ اسے اپنے سینے پہ زور محسوس ہوا۔۔
وہاج نے جیسی گردن نیچے کرکے دیکھا تو کوئ چہرہ دیکھا اسے نروس سا آنکھیں بند کیا ہوا اسکی شرٹ کو مظبوطی سے تھاما ہوا۔۔
خوشبو جو لان میں پانی ڈال رہی تھی اچانک پانی آنا بند ہوگیا وہی چیک کرنے وہ بیچارے نل کے پاس جارہی تھی جب اچانک اسکا پاوں پائپ میں اٹکا اس نے خود کو سنبھلنے کے چکر بلاج کا سہارا لیا تھا مگر وہ خود تو گری گری وہاج کو بھی لےکے گری ۔
وہاج نے ایک دم جھٹکے سے اسے اپنے اوپر سے ہٹایا اور کھڑا ہوا ۔
خوشبو نے جیسی ہی اس سے ایکسکیوز کرنا چاہا اس نے اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے کہا۔۔
“جاہل ان پڑھ”
تیزی سے وہاں سے اندر چلا گیا۔۔
دوپہر کے کھانے پہ سب ٹیبل پہ بیٹھے اور باتوں میں مصروف تھے جب اچانک سلام کی آواز پہ سب سلام کرنے والے پر متوجہ ہوئے۔۔۔
ارے ارے آو او بیٹا یہ بلال انکل ہیں یہ نمرہ اور یہ ہیں وہاج بلال انکل کا بیٹا۔۔
اور بلال تم خوشبو کا پوچھ رہے تھے یہ ہے میری بیٹی خوشبو۔۔۔
کیسے ہیں انکل اپ؟
میں ٹھیک ہو بیٹا او ہمیں جوائن کرو کھانے پہ ۔۔
جی جی انکل ۔۔
وہاج نے ایک نظر اپنے سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھا جو لائب پیرٹ کلر کے انگ رکھے میں بالوں کو کھلا چھوڑے ہاتھوں میں میچنگ کی چوڑیاں ڈالے اسکا حسن کسی کو بھی گھائل کرسکتا تھا ایسا اب وہاج کو لگا مگر تھوڑی دیر پہلے ہونے والے واقع کو سوچتے ہوئے وہاج نے ایک بار پھر سڑا ہوا منہ بنایا۔۔۔
خوشبو بیٹا کیا مصروفیات ہیں آپکی اجکل۔۔۔بلال صاحب کے پوچھنے پہ وہاج نے اپنی برابر میں بیٹھی نمرہ سے سرگوشی کرنے والے انداز میں کہا۔۔
ادھر ادھر گرنا اور فیشن کرنا ،مجھے نہیں لگتا پڑھائ سے اسکا کوئ تعلق ہے ویسے بھی گاؤں کی جو ہے ۔۔
وہاج کی سرگوشی پہ نمرہ نے اسے گھور کے دیکھا۔۔
انکل ابھی فزکس میں گریجویشن کیا ہے۔۔۔
خوشبو کی بات سن کے وہاج کو پانی پیتے ہوئے ایک دم پھندا لگا۔۔
اس نے حیران کن نظروں خوشبو کو دیکھا جو بلکل اسے اگنور کررہی تھی۔
بیٹا یہ بھی تو بتاؤ پوری یونیورسٹی میں تم نے ٹاپ کیا ہے بھئ بلال ہماری بیٹی گولڈ میڈل جیت کے لائ ہے۔۔
واسق صاحب کے اگلے انکشاف پہ نمرہ نے وہاج کا چہرہ دیکھا جو کسی دکھی اتما سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔
اب کی بار بہت غور سے خوشبو نے وہاج کو دیکھا جو اب اسے شرمندگی کی وجہ سے اگنور کررہا تھا۔۔۔
بھائ یہ کہاوت تو اب آپ پہ فکس ہوگی ہے۔۔
ڈونٹ جج بائے بک ۔
اٹ کوررررر۔۔
جاری ہے ۔۔