Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Episode 44 ( part 1)
Rate this Novel
Episode 44 ( part 1)
ندا بیگم نے جب بازل کی منگنی کا بتایا تو عترت کافی شاکڈ ہوئ اسے فورا ہنزہ کا خیال آیا نمبر تو وہ لے آئ تھی ہنزہ کا بات بھی تقریبا وہ روز ہی کرتی تھی مگر کبھی لگا نہیں اسکی باتوں سے کے وہ اتنے دکھ و تکلیف سے گزر رہی ہو۔۔
۔اچا عترت تم۔دیکھ لینا رات کے کھانے کی سیٹنگ ہلکا پھلکا جو بنانا چاہو بلاج تو مشن پہ ہے جب مشن پہ ہوتا ہے تو کئ کئ دن گھر نہیں آتا صبح جانے سے پہلے کال آئ تھی اسکی۔۔
جی ماما۔۔۔
عترت تھوڑی پریشان سی اپنے کمرے میں جانے لگی جب ندا بیگم نے اسکی پریشانی بھانپتے ہوئے کہا۔
کیا بات ہے عترت تم۔کچھ پریشان لگ رہی ہو؟
نہیں ماما وہ۔میں تو سمجھ رہی تھی تین چار دن سے گھر نہیں آئے اسنو فال ہورہا ہے اسلیے گھر نہیں آئے مگر مجھے نہیں پتہ تھا وہ مشن پہ گئے ہیں۔۔
ارے بیٹا پریشان مت ہو تمہیں اسلیے نہیں بتایا ہوگا کے تم پریشان نہ ہوجاو ۔۔
اجائے گا ایک دو دن میں۔۔
عترت خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئ اسکا ارادہ شاور لینا کا تھا اسنے الماری کھولی اپنے کپڑے نکال کے جیسے ہی پلٹی کچھ دیکھ جانے پہ وہ دوبارہ الماری کی طرف متوجہ ہوئ ۔۔
کچھ چابیاں تھی اسنے چابیاں ہاتھ میں لی اور غور سے دیکھنے لگی اسے نہیں یاد آیا کےاس کمرے میں ایسا کوئ لاک ہے جسکی چابیاں ہو سوائے ۔۔۔۔۔۔
کچھ یاد آنے پہ عترت نے اپنے کپڑے بیڈ پر پھینکے اور چابیاں اٹھا کے الماری میں بنے بلاج کے خانے کی طرف بڑھی ۔۔۔
اسکا خانہ کھلا تو وہاں ایک سییو تھی۔۔
عترت نے اسکی سیو کھولی تو وہاں اسکی۔کافی چیزیں تھی کچھ پیسے تھے کچھ فائلز تھی ایک باکس بھی تھا۔۔
عترت نے جیسے وہ باکس کھولا پہلی نظر اسکی جس چیز پہ پڑی وہ وہی شرٹ تھی جس پر عترت سے انکک گری تھی۔۔
عترت نے وہ شرٹ اٹھا کے دیکھی تو اسکی نیچے جو تھا وہ دیکھتے ہی عترت کی آنکھوں سے آنسوؤں گرنے لگے۔۔
اسکی اور بلاج کی بہت ساری پکس تھی یونی کے ٹائم کی ایک پکس دیکھ کے عترت نے اس پہ ہاتھ پھیرا جس میں بلاج عترت کے گال پہ زور سے کس کررہا ہے اور یہ پک انجم نے لی تھی۔
عترت نے ساری چیزیں دیکھ کے سییو اور الماری بند کی اور فریش ہونے چلی گئ۔۔
رات میں اسکے پاس بہزاد کی کال آئ جسے سنتے ہی اسنے بھر پور شکوہ کیا صنم اسے شانزے اور بہزاد کی شادی کیساتھ مراد کی اصلیت بھی بتا چکی تھی۔۔
زیادہ اترا رہی ہو شادی کے بعد۔۔۔بہزاد کے شکوے پہ عترت نے دوبدو جواب دیا ۔
آپکا اپنے بارے میں کیا خیال ہے میں یاد نہیں آئ آپکو نکاح کرتے ہوئے۔۔۔
یار جانتی ہو تم کن حالات میں نکاح ہوا اب دیکھو کل ولیمہ ہے تو کال کری ہے نہ تمہیں اجاو کل صبح کی فلائٹ سے۔۔
بی ایم میں نہیں آسکتی ندا آنٹی کل آئ ہے آج میں انہیں بول دو جانے کا ۔۔۔
اکیلے انہیں چھوڑ کے میں جا نہیں سکتی۔۔۔وہاج بھی گھر نہیں آرہے دو تین دن سے۔۔۔
میں ندا باجی سے کنفرم کرکے تمہیں کال کری ہے کل صبح کی فلائٹ سے تم آجانا شام کی فلائٹ واپس چلی جانا یہ میرا کام ہے تمہیں واپس پہچانا کوئ کپڑے وغیرہ رکھ کے مت لانا تمہارا اور شانزے کا ڈریس میں ریڈی کروا چکا ہو بس انے کی کرو۔۔
رہا سوال بلاج کا اس سے تم پوچھ لو اور اتنا تو مجھے پتہ ہے منع کرے گا نہیں پہلی محبت جو ٹہری تم۔۔۔۔
بہزاد کی بات پہ عترت کے ہاتھ سے موبائل چھوٹتےچھوٹتے بچا۔۔
بی ایم آپ ۔۔۔مطلب۔۔
جو لوگ مجھے جان سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں انکی میں پل پل کی خبر رکھتا ہو مجھے سب پتہ ہے عترت۔بلاج اور تم ایک دوسرے کو جانتے بھی ہو پہلے سے اور محبت بھی کرتے ہو ۔۔
تو بی ایم آپ یہ بھی جانتے ہونگے کے ہمارا رابطہ ختم ہوچکا تھا۔۔
ہاں جانتا ہو اور ختم ہونے کی وجہ بھی مگر میں اس معاملے میں بلاج کی سائیڈ لونگا اسکی جگہ اگر میں ہوتا تو میرا ریکشن اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ۔بلکے ایک ریکشن تم جانتی ہو میرا ۔۔۔۔
قسمت والے ہو تم دونوں جو اللّٰہ تم پہ دوبارہ مہربان ہوا ہے لڑائ جھگڑے میں یہ پل ضائع مت کرو جو ہوا اسے بھول کے آگے بڑھنے کی کرو بلاج کی جو جاب ہے عترت اسمیں زندگی کی کوئ گارنٹی نہیں اور میں نے سنا ہے پہلے تو وہ مشن پہ جاتا تھا مگر ندا باجی کی وجہ سے کم جاتا تھا مگر اجکل وہ جس مشن پہ ہے وہ اسنے جان بوجھ کے لیا ہے اور سننے میں آیا کے مشن کافی خطرناک ہے۔۔
بہرحال تمہیں سمجھانا میرا فرض تھا تم بلاج سے بات کرکے پوچھ لو صبح 8 بجے کی ٹکٹ کنفرم کردی ہے میں نے تمہاری ایک گھنٹے بعد ٹکٹ تمہیں مل جائے گی۔۔
بہزاد کی کال رکھنے کے بعد عترت اپنے اور بلاج کے رشتہ پہ غور وفکر کرنے لگی اس نے ہمت کرکے واٹس اپ میں بلاج جو سلام کا ٹیکس کیا۔۔
#
ہیر سدرہ کی گودھ میں سر رکھ کے بے تحاشہ روئ تھی مگر ایک بار بھی اسنے زویان کو بدعا نہیں دی تھی ۔
سدرہ بھی اسکے ساتھ اسکا درد بانٹ رہی تھی مگر جو کل۔رات ہیر اور زویان کے درمیاں ہوا سے لےکر سدرہ کافی ڈری ہوئی تھی مگر وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔۔
۔۔
ہیر تم پاگل ہوگئ ہو ایسا موقع پھر نہیں ملے گا۔؟؟.
سدرہ اگر یہاں رہی تو وہ۔نظر آئے اسے دیکھنا نہیں چاہتی میں اب بس نہیں بننا انٹیریئر ڈیزائنر بس ۔۔۔یہ بول کے ہیر ایک بار پھر روپڑی۔۔
خوشبو آنٹی کو کیا بولوگی واپس جاکے کے کیوں آگئ لندن سے پڑھائ چھوڑ کے۔۔
وہ مجھے نہیں پتہ سدرہ کے آگے میرے ساتھ نجانے کیا ہو مگر میں فلحال یہاں سے واپس جانا چاہتی ہو۔۔
#
آج تین دن ہوگئے تھے ہنزہ کو ہسپتال میں۔۔
اس نے اپنی دن رات کی ڈیوٹی لگوائ ہوئ تھی اور وجہ تھی بازل وہ بازل کا سامنا کرنا نہیں چاہتی تھی وہ جانتی جب بازل اسکے سامنے آئے گا تو وہ بکھر جائے گی سارا اور بازل کا ساتھ اسنے قسمت کا فیصلہ سمجھ کے قبول کرلیا تھا مگر آج جب اسکی ماما کی کال آئ انکے اصرار پہ وہ گھر کیلے نکل رہی تھی۔۔
وہ نکلنے لگی جب ڈاکٹر ہارون سے اسکا ٹکراؤ ہوگیا شوخ چنچل ڈاکٹر ہارون جو پور ے ہسپتال کی جان تھے ۔
ارے شوخ حسینہ کہاں جلدی۔۔
ہنزہ جو اپنے کیبن میں اپنا سامان سمیٹ رہی تھی نفی میں سر ہلاتے ہوئے بول پڑی ۔
ڈاکٹر ہارون شرم کرلے تھوڑی کسی اینگل سے آپ ڈاکٹر نہیں لگتے۔۔
ہائے اب ہم نے کیا اپنی ادائیں دیکھائ ہیں جو آپ ہمیں شرم کرنے کا بول رہی ہیں۔۔
ہارون کے منہ بناکے بولنے پہ ہنزہ بے ساختہ ہنس پڑی ۔۔
ہنزہ اپنے سامان سمیٹ کے باہر نکلی تو ہارون بھی اسکے پیچھے پیچھے ایا۔
اسکا ارادہ ابھی اور ہنزہ کو تنگ کرنے کا تھا مگر نرس کے اواز دینے وہ پلٹ گیا۔
ہنزہ باہر نکلی تو بازل کو اپنا منتظر پایا۔۔
ہنزہ نے بنا کوئ بحس کیے بازل کی گاڑی میں بیٹھنے میں ہی عافیت جانی۔۔
کیوں کے بازل کے چہرے کے ایکسپریشن سے اسے اندازہ ہوگیا تھا کے وہ۔بہت غصہ میں۔۔
ہنزہ کے گاڑی میں بیٹھتے ہی بازل نے گاڑی تیزی سے آگے بڑھا دی
گاڑی ایک گھر پہ جاکے رکی جو ہرگز ان لوگوں کا نہیں تھا ۔
بازل۔نے گاڑی سے اتر کر ہنزہ کی طرف کا دروازہ کھولا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے تیزی سے اسے اپنا ساتھ اندرلے گایا۔۔
یہ کس کا گھر ہے بازل ہم یہاں کویں آئے ہیں۔۔؟؟
بازل نے اسکی کسی بات کا جواب نہیں دیا بلکے اسکے ہاتھ میں سامنے ٹیبل پہ رکھا باکس دیا اور چینج کرنے کو کہا۔
یہ کیا ہے ؟ اور میں چینج کیوں کرو؟
ہنزہ کے سوال پہ بازل نے اسے کہا۔
ہمارا نکاح ہے 10 منٹ کے اندر۔۔
تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے بازل میں ایسا کچھ نہیں کرونگی۔۔
ہنزہ میرے پاس وقت نہیں ہے بحس نہیں کرو چینج کرکے او۔۔
مجھے گھر جانا ہے یہ فضول کا تماشہ بند کرو۔۔
ہنزہ میں آج اس گھر سے تبھی نکلونگا اور تمہیں بھی تبھی جانے دونگا جب ہمارا نکاح ہوگا۔۔
میں اپنی جان لے لونگی مگر نکاح نہیں کرونگی تم سے تایا ابو نے تمہاری منگنی کردی ہے اگلے تین ہفتوں میں شادی ہے تمہاری۔۔
میں نہیں کرونگا سارا سے شادی سنا تم نے۔۔
وہ تمہارا مسئلہ ہے مگر میں اسطرح اپنے ماں باپ کی عزت نیلام کرکے اپنے باپ کو اسکے بھائ کے سامنے شرمندہ کرکے نکاح نہیں کرونگی۔۔
بھول جاؤ مجھے بازل سارا ہی تمہارا نصیب تھی۔۔ہنزہ نے اچانک بازل کا چہرہ تھامتے ہوے کہا۔۔
میں سارا سے شادی نہیں کرونگا مگر آج ایسا ضرور کچھ کرونگا کے تم مجھ سے نکاح کرنے پہ راضی ضرور ہوگی۔۔
یہ کہتے ہی بازل نے بنا ہنزہ کو موقع دیے اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے۔۔
ہنزہ اپنے ہاتھ پاؤں چلانے لگی مگر بازل پہ جنون سوار تھا ہنزہ کو پانے کا ایک یہ ہی راستہ اسے دیکھا ہنزہ کا نام اپنے نام سے جڑنے کا۔۔
ہنزہ نے اپنے آپکو پوری طاقت سے بازل سے چھڑایا اور کہا۔
بازل پاگل ہوگئے ہو کیوں ہماری محبت کا تماشہ بنا رہے ہو۔
تماشہ بن چکا ہنزہ خاموشی سے میرے پاس اجاو۔۔
بازل اس وقت ہنزہ کو کوئ جانور معلوم ہورہا تھا اسنے وہاں سے بھاگنے میں ہی۔عافیت جانی جیسی ہی وہ بھاگنے لگی بازل نے پھر اسے قابو کیا اور زمیں پہ اسے دھکا دیا ۔۔
اس پہ جھک کےبازل نے اسکے ہاتھوں کو قابو کیا اور اسکی گردن پہ جھک کے جابجا چومنے لگا۔۔
بازل کے ہاتھ ہنزہ کے جسم کے ہر حصہ میں چل رہے تھے ۔۔
ہنزہ زور زور سے رو رہی تھی منع کررہی تھی بازل کو ۔۔
مگر بازل پہ جنون سوار تھا۔۔
جیسی ہی حدیں کراس ہونے لگی بازل نے ہنزہ کے سینے پہ سے اسکی شرٹ ہٹانی چاہی وہی ہنزہ بول پڑی۔۔
تمیں میری قسم بازل اب اگر تم نے اس سے ذیادہ کچھ کیا۔
بازل کے ہاتھ وہی رک گئے ہنزہ نے جب دیکھا کے بازل رک چکا ہے تو اسنے اپنے اوپر سے بازل کو دھکا دیا اور فورا کھڑی ہوئ اپنا ڈوپٹہ اٹھا کے اوڑھا تو بازل پھر اسکے راستہ میں آیا اسکی آنکھیں ضروت سے زیادہ سرخ ہورہی تھی ۔۔
یہاں سے نہیں جاسکتی تم ہنزہ۔۔۔
یہ کہنا تھا کے ہنزہ نے ایک زور دار تھپڑ بازل کے منہ پہ مارا اور اسکا کالر پکڑ کر کہا۔
مجھ سے غلطی ہوئی جو تم جیسے حیوان سے محبت کری میری عزت کے آگے میری محبت بھاڑ میں گئ سنا تم نے آج کے بعد اگر میرے اس پاس بھی دیکھائی دیے تو جان لے لونگی خود کی سنا تم ۔۔۔
یہ کہہ کے ہنزہ نے بازل کو دھکا دیا تو وہ بھی چیخ پڑا۔۔
میں مرجاونگا ہنزہ تمہارے بغیر محبت کرتا ہو تم سے یار ۔
یہ بولتے ہوئے بازل گھٹنوں کے بل بیٹھ کے رونے لگا مگر ہنزہ نے اسے ایسا ہی روتا چھوڑا اور اس گھر سے نکل گئ۔۔
جاری ہے۔۔
