Rate this Novel
Episode 2
مگر صنم تجھے اچھا لگے یہ برا غلطی تیری ہے۔۔۔
صنم نے گھور کے شانزے کو دیکھا تو اس نے کندھے آچکا دیے۔۔
دیکھ صنم یہ بات تو تو تسلیم کر لے کے تیری نیچر میں اور عترت آپی کے نیچر میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔
آنٹی نے تم لوگوں کو ،گھر کو بزنس کو ،پھر تمہاری دادی کو کسطرح سنبھالا ہے تمہارے سامنے ہیں۔۔
ٹھیک ہے اگر تو انکی توقعات پہ پوری اترنا نہیں چاہتی تو انکو جلانا انکو غصہ دلانا بھی چھوڑ دے ۔
شانزے کی باتیں کافی حد تک صحیح تھی ۔۔
صنم گردن جھکا کے شانزے کی ساری باتیں چپ کرکے سن رہی تھی اور یہ بات شانزے کو صنم کی پسند تھی کے جب اسے کچھ سمجھاؤ تو وہ سمجھ جاتی ہے ۔
اب بتاؤ گھر چھوڑ رہی ہو مجھے ؟؟
کیوں کلب نہیں چلے گی؟
آج نہیں صنم آج میں ماما کو تھوڑی دیر کا بول کے آئ ہو اس ہفتہ پکا۔۔۔
چل ٹھیک ہے پھر….
#
وہاج بیٹا تمہاری چھٹیاں کب پڑینگی۔۔۔؟
ندا بیگم نے کمرے میں آکے یونیفارم پہنتے ہوئے اپنے فوجی بیٹے سے پوچھا۔
کیوں ماما آپکو کہی جانا ہے ؟
وہاج نے جوتے پہنتے ہوئے پوچھا۔۔
ہاں میں سوچ رہی تھی آپا کے پاس کراچی جانے کا۔۔
تو آپ میرا نتظار مت کرے تقریبا 10 15 دن لگ جائے ابھی چھٹیاں ہونے میں۔۔
نہیں جاؤنگی تو اب تمہارے ساتھ ہی جاؤنگی آپا بھی بول رہی تھی کے وہاج کو لے کے آنا جب سے اس نے ائیر فورس جوائن کی ہے اسکی شکل دیکھنے کیلیے ترس گئ ہو۔۔
اس بار ایک اور کام بھی ہے مجھے کراچی میں۔
وہاج نے بنا اپنی ماں کی طرف دیکھے کہا۔۔
میری شادی کا مت سوچیے گا؟
وہاج 28 کے ہوگئے ہو اکلوتی اولاد ہو میری کیا چاہتے ہو اپنے بیٹے کی خوشیاں دیکھے بغیر ہی اس دنیا سے چلی جاو۔۔یہ بول کے ندا بیگم کی آنکھیں بھر ائ۔۔
اوہ ہو اچھا نہ ڈھونڈ لیے گا میرے لیے لڑکی خوش۔۔
سچ کہہ رہے ہو نہ بعد میں مکرو گے تو نہیں ؟؟
میری پیاری امی جان نہیں مکرونگا اب جائے جلدی سے ناشتہ لگائے مجھے لیٹ ہورہا ہے۔۔
ہاں ہاں تم آجاؤ فٹا فٹ میں ہما (ماسی)سے کہہ کے ناشتہ لگواتی ہو۔۔
ندا بیگم کے جاتے ہی وہاج کے کچھ دیر پہلے مسکراتے لب ایک دم سکڑے۔۔اچانک کوئ چہرہ چھن کرکے اسکے سامنے ایا۔۔
دل کے کسی کونے نے گواہی دی۔۔
وہاج مان کیوں نہیں لیتے آج بھی تم اس سے محبت کرتے ہو؟؟.
نہیں کرتا وہ بیووفا ہے ۔۔
دل کی گواہی کو روندھ کے وہاج ناشتہ کرنے نیچے چلا گیا۔۔
#
بلاج بیٹا یہ صائم نہیں آیا ابھی تک ناشتہ کرنے۔۔
رخسانہ بیگم نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرکے کے کہا۔
آپکو یاد نہیں کل سنڈے تھا تو آپکا لاڈلہ پوتا پوری رات اپنی دوستوں میں تھا رات دیر تک واپس آیا ہے۔۔
ہاں تو پورا ہفتہ تمہارے ساتھ آفس میں کام بھی تو کرتا ہے اگر دو دن اسے مل جاتے ہیں انجوائے کرنے کے تو اسمیں بھی تمہیں اعتراض ہے۔۔
بلاج صاحب نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ چائے کا گھونٹ لیا اور کہا۔۔
نہیں ماں آپکی کسی بات پہ اعتراض کرنا میں نے سالوں پہلے چھوڑ دیا ۔۔
بلاج کی اس بات پہ رخسانہ بیگم کا دل کٹ کے رہ گیا۔۔بلاج اب تو معاف کردو اپنی ماں کو اب تو اتنے سال ہوگئے اس بات کو۔۔
نہیں ماں آپکا حق ہے مجھ پہ ایسا مت کہے بس آپ کیساتھ ساتھ مجھ پہ کسی اور کا حق بھی تھا ماں جو اپنے زبردستی کسی اور کو دلوادیا۔۔
ناصرہ کو مرے ہوئے ہوئے آج پورے دس سال ہوگئے ہیں وہاج آج بھی تم اس بات پہ ناراض ہو کے میں نے تمہاری مرضی جانے بغیر تمہاری شادی زبردستی اپنی بھانجی سے کروادی۔
نہیں ماں ناراضگی کا لفظ اب بہت دھندلا پڑ گیا۔۔
اب نے کسی کو صرف محبت کرنے کی سزا دی ماں اپنی زبان کے پیچھے ناصرہ میری بیوی تھی مجھے پتہ ہے اسے مرے ہوئے دس سال ہوگئے مگر ماں وہ بھی میری بیوی تھی جیسے دیکھے مجھے بیس سال ہوگئے۔ ۔مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کے وہ زندہ ہے یہ مرگئ۔۔بس یہ ہی دعا ہے مرنے سے پہلے ایک بار اسے دیکھ لو اچانک ہی صحیح وہ کہی سے میرے سامنے اجائے تو اس سے معافی مانگ لو کیوں کے اس نے وہ ہجر کاٹا ہے ماں جسکی وہ حقدار نہیں تھی اس نے نہیں آپکے بیٹے نے اسے پسند کیا تھا ۔اپکی قسم نے ماں مجھ سے میرے جینے کی وجہ چھین لی آج اگر میں زندہ ہو تو صرف صائم کیلیے آپ کے لیے دوبارہ میرے ماضی کو مت کریدنا ماں ۔
ضروری نہیں ہے ماں کے جو ظاہری زخم ہو وہی کریدنے پہ تکلیف کا باعث بنتے ہیں کچھ اندرونی زخم ایسے بھی ہوتے ہیں ماں جو ہرگزرتے دن کیساتھ خود بخود ہرے ہوجاتے ہیں۔۔
یہ بول کے بلاج صاحب رکے نہیں چلے گئے۔۔
رخسانہ بیگم کے پاس اب پچھتانے کے علاؤہ کچھ نہیں تھا۔
بلاج مینشن میں کل پانچ لوگ رہتے تھے ۔
بلال صاحب اور انکی بہو یعنی ناصرہ اب اس دنیا میں نہیں تھے۔۔
بلاج کسی مشین کی طرح دن رات کام کرتے تھے نجانے وہ کس سے بھاگ رہے تھے ۔۔انکا ایک ہی بیٹا تھا صائم جو انہیں عزیز تھا جسکی خاطر وہ جی رہے تھے وہاج صاحب کی ایک ہی بہن تھی جو لندن میں اپن
اپنے شوہر کیساتھ رہتی تھی اور ہر سال پاکستان آتی تھی۔۔
#
نہیں سر ابھی تک اسکا کچھ پتہ نہیں چل سکا…
بہزاد کا مینجر اسکے سامنے گردن جھکا کے کھڑا تھا۔۔
زمیں کھا گئی یہ آسمان نکل گیا بہزاد نے ہاتھ میں پکڑا کافی کا کپ دیوار پہ مار کے کہا۔
سر ہم کئ دفعہ اسکے گھر گئے ہیں مگر ہر دفعہ اسکی بیوی بولتی ہے کے نہیں ہے گھر پہ۔۔
نظر رکھو اس گھر پہ کوئ تو ایسی کمزوری ہوگی دلاور کی جس کیلیے وہ ہمارے سامنے آئے گا۔۔
جی سر۔۔
جواد صاحب آگئے ہو تو انہیں میرے کیبن میں بھیجو۔۔
جی سر ۔
بہزاد فائنل دیکھنے میں مصروف تھا جب جواد صاحب کیبن میں ائے۔۔
جی سر اپنے بلایا۔۔
ہاں جواد صاحب وہ اپنے اپنے بھتیجے کی بات کی تھی میری ایک کولیگ کی کمپنی میں ویکنسی ہے کل آپ اسے وہاں بھیج دیجیے گا انشاء اللہ کام بن جائے گا۔۔
شکریہ سر اپکا۔۔
کوئ بات نہیں جواد صاحب آپ ہمارے اتنے پرانے ایماندار ایمپلائ ہیں اتنا تو کر سکتا ہو آپکے لیے۔۔
“#########
مس لیلی آپ نے فائل سائن نہیں کروائی ابھی تک سر وہاج سے۔۔
سر وہ ابھی میٹنگ میں ہے۔۔
مس لیلی جو کے ایک ہاٹ سی نازک سی لڑکی تھی جسے صائم نے اپنی پرسنل سیکریٹری کے طور پہ ہائر کیا تھا ۔
صائم اپنے کالج کے زمانے سے ہی پلے بوائے کے نام سے مشہور تھا ایسی کوئ لڑکی نہیں جس پہ صائم وہاج نے اپنی پسند کی نگاہ ڈالے اور وہ اسکے جھانسے میں نہ پھنس جائے۔۔
اللہ نے شکل و صورت اتنی حسین دی تھی کے لڑکیاں ایک جھلک میں فدا ہو جاتی تھی اوپر سے دولت مند۔۔
صائم اب تک کافی لڑکیوں سے فلرٹ کرچکا تھے نجانے کتنوں کا دل توڑ چکا تھا ۔۔
مگر صائم پر کوئ فرق نہیں پڑتا کون روئ کون گئ کس کا دل ٹوتا۔۔
کیونکہ صائم کا ماننا تھا آج کے دور میں ایسی کوئ لڑکی نہیں جو دولت پہ نہ مرتی ہو۔
میٹنگ کا نام سنتے ہی صائم کا پلے بوائے والا روپ اون ہوا۔
مس لیلی آج تو آپ کافی ہاٹ لگ رہی ہیں۔۔۔
مس لیلی جو آج خاص کر شارٹ شرٹ جسکا گلہ کافی دیپ تھا اسکے ساتھ تنگ کیپری پہن کر آئ تھی صائم کی توجہ حاصل کرنے کیلیے اور اسکی محنت رنگ لے آئ تھی ۔
شکریہ سر۔۔
صائم کی تعریف پہ لیلی شرمانے لگی۔۔
مگر کیا ہے نہ لیلی مجھے آپ دور سے تھوڑی کم ہاٹ لگی رہی ہیں زرا قریب آئ تو پتہ چلے آپ کتنی ہاٹ ہیں۔۔
شاید لیلی صائم کے بولنے کا ہی ویٹ کررہی تھی۔۔
صائم کے ایک دفعہ کے بلانے پہ ہی لیلی صائم کی ران پہ جاکے بیٹھ گئ۔۔
آپ تو کافی ہاٹ ہیں مس لیلی ۔۔اور یہ ڈریس آپ پہ کافی سوٹ کررہا ہے صائم نے یہ بات بول کے مس لیلی کے چہرے کے بال کان کے پیچھے کیے۔۔اسے اندازہ نہیں ہوا کے اسکا یہ رومینٹک سین کوئ بہت غصہ سے دیکھ رہا ہے
یہ بول کے صائم اسکے لبوں پہ جھکنے لگا جب ایک دم کسی نے چیخ کے کہا۔
تو یہ تمہاری بہت اہم میٹنگ جسکی وجہ سے تم مجھے اگنور کررہے ہو۔۔
صائم جو اپنا کام پورا ہوتا دیکھ بہت خوش ہورہا تھا ایک دم کسی جانی پہچانی آواز پہ ایک دم ہڑبڑایا۔۔
آپنے سامنے اپنی پرانی گرل فرینڈ جسی وہ اب اکتانے لگا تھا اور اسکے اکتانے کی وجہ تھی۔مدیحہ کا بار بار شادی پہ اصرار کرنا۔۔
مدیحہ کو تیزی سے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کے صائم نے تقریبا پھیکنے والے انداز میں لیلی کو اپنی گودھ سے نیچے اتارا۔
مدیحہ نے آگے بڑھ کے صائم کا گریبان پکڑ کے کہا ۔۔
یو چیٹر،لائر، تم نے مجھے دھوکا دیا چھوڑونگی نہیں میں تمہیں۔۔
یہ بول کے جیسی ہی مدیحہ نے صائم کے منہ پہ چماٹ مارنا چاہا ویسے ہی صائم نے اسکا ہاتھ روک کے کہا۔
سوچنا بھی نہیں مدیحہ ڈارلنگ ورنہ مجھے جانتی نہیں تم ابھی۔
ہوٹل میریٹ کے سوئیٹ روم میں گزارے ہمارے کچھ پلوں کی ویڈیو ہے میرے پاس جیسے لیک کرنے میں مجھے زرا بھی افسوس نہیں ہوگا۔۔
صائم کے منہ سے سنے والی دھمکی سے مدیحہ کے چہرے پہ گھبراہٹ کے آثار رونما ہونے لگے۔۔
لیلی نے جب ان دونوں کے درمیان گہماگہمی ہوتی دیکھی تو فورا کیبن سے باہر چلی گئ۔۔
تم۔میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے صائم میں تم سے محبت کرتی ہو اپنا سب کچھ تو تم پہ وار چکی ہو پلیز میرے ساتھ ایسا نہیں کرو میں مرجاونگی۔۔
مدیحہ نے صائم کے بےحد قریب ہوکے اسکا چہرہ تھام کے کہا ۔
بے بی مجھ سے پہلے تم اپنا سب کسی اور پہ بھی وار چکی ہو اگر چاہو تو ڈیٹیل دے سکتا ہو۔۔
صائم کے انکشاف پہ مدیحہ کی ساری اکڑ خاک میں مل گئ۔۔
تم کس ٹائپ کی ہو مدیحہ بے بی یہ تو میں اسی وقت سمجھ چکا تھا جب تم نے مجھ سے مہنگے مہنگے گفٹ مانگنا شروع کرے ،تمہاری شرافت کا اندازہ یہاں سے لگالو کے اپنے ماں باپ کو جھوٹ بول کے ایک غیر آدمی کیساتھ تم ہوٹل کے کمرے میں مزے لے رہی تھی ۔۔
شرافت اور عزت تمہاری اسی میں ہے کے چپ چاپ یہاں سے چلی جاؤ اگر زرا بھی ہوشیاری کی نہ صائم وہاج کیساتھ تو یقین مانو اس شہر میں سانس لینا بھی مشکل کردونگا تمہارا
۔
مدیحہ جوشیرنی کی طرح ڈھارتی ہوئ آئ تھی بھیگی بلی کی طرح چلی گئ ۔۔
جاری ہے ۔
