Rate this Novel
Episode 31
کیا؟
تم سچ کہہ رہی ہو؟
ہیر کو لگا اس نے کچھ غلط سنا۔۔۔
ہاں ہیر ابھی ابھی مجھے پتہ چلا ہے کے کل روبرٹ اور اسکے دوستوں نے زویان پہ حملہ کردیا تھا اکیلا دیکھ کے جب وہ ائیرپورٹ سے واپس آرہا تھا۔۔
سدرہ کی بات سن کے ہیر کو نجانے کیوں ہول اٹھنے لگے ۔۔
ہیر اس نے تمہارے لیے روبرٹ اور اسکے دوستوں سے پنگا لیا تھا اب دیکھو اس پنگا لینا کتنا مہنگا پڑ گیا۔۔
سدرہ کی باتوں سے ہیر کافی پریشان ہوچکی تھی شروع میں اسے زویان بہت برا لگتا تھا مگر جسطرح اس نے اسے۔ دو دفعہ پروٹیکٹ کیا تھا اس کے دل میں ایک سوفٹ کارنر زویان کیلیے بننا شروع ہوگیا تھا ۔
پتہ چلا کچھ بہزاد؟
شاجہاں بیگم نے بہزاد کو کال کرکے کسی کا پوچھا۔۔
کل ہی انہوں نے نکاح سے واپسی پہ بہزاد کو کسی کی تلاش کرنے کو کہا تھا۔
اب ملکہ کچھ بولے اور بہزاد نہ کرے ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔
ہاں ہاں ملکہ کنفرم ایڈریس ہے اور مزے کی بات یہ ہے اسی شہر میں ہے اب بولو کب چلنا ؟؟
شکر ہے اللّٰہ کا بہزاد وہ مل گئ۔۔
شکریہ شکریہ بہت بہزاد ۔۔
اب بتاؤ ملکہ میں ساتھ چلو یہ ایڈریس سینڈ کردو چلی جاوگی۔۔۔؟؟
ہاں تم ایڈریس سینڈ کرو میں اور ندا چلے جائینگے۔۔
چلو ٹھیک ہے ملکہ ۔۔۔
بہزاد سے بات کرنے کے بعد شاہجاں بیگم نے ندا بیگم کو کال کرکے فورا ریڈی ہونے کو کہا۔۔
ندا بیگم کو جب یہ پتہ چلا کے شاہجاں انہیں لے کر کہاں جارہی ہے تو وہ اب بیچینی سے انکا انتظار کرنے لگی۔
#
کمر پہ کچھ چھبنے کی وجہ سے بلاج کی نیند ڈسٹرب ہوئ۔
بلاج نے کمر کے نیچے ہاتھ ڈال کے مطلوبہ چیز باہر نکالی تو وہ کان کا جھمکا تھا کچھ یاد پہ بلاج ججھٹکے سے اٹھ بیٹھا کل رات جو اس نے عترت کے رویہ کی وجہ سے جو اسکے ساتھ رویہ رکھا تھا زرا بھی افسوس نہیں تھا بلاج کو اپنے رویہ پہ زرا بھی بچھتاوا نہیں تھا۔۔
بلاج نے موبائل سے اس جھمکے کی پک لی اور ایک وائس کری۔۔
کل رات کا ٹریلر تو تمہیں اچھے سے یاد ہوگا اور یہ بھی یاد ہوگا کے میں نے ایسا کیوں کیا لہزا یہ مت سمجھنا نے وہ پرانا والا بلاج ہو جو تمہارے ایک آنسوؤں گرنے پہ۔ہریشان ہوجاتا تھا یہ جو بلاج ہے یہ تمہاری آنکھوں میں صرف آنسوؤں دیکھنا چاہتا ہے آج کے بعد مجھ سے تہزیب اور تمیز میں رہ کر بات کرنا اپنی اکڑ اپنے گھر چھوڑ کے آنا عترت بیبی۔۔
یہ وائس بلاج نے عترت کے نمبر پہ بھیج دی اور ساتھ میں اس جھمکے کی پک بھی ۔۔
بلاج نے دیکھا کے وائس سین ہوچکی ہے اور پک بھی مگر کوئ ریپلائے نہیں آیا عترت مسلسل ان۔لائن۔شو ہورہی تھی مگر اس نے بلاج کو جواب نہیں دیا۔۔
اچھا ہے ڈر کے رہے مجھ سے۔۔
بلاج نے طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا اور موبائل سائیڈ میں پھینک دیا۔۔
ادھر عترت وائس سن کے صرف اپنے آنسوؤں کو بے دردی سے صاف کررہی تھی اسے پتہ تھا کے بلاج اپنی جگہ صحیح ہے بھلے اس پہ غصہ ہے مگر محبت وہ اس سے آج بھی کرتا ہے مگر آج جب عترت نے اپنے گلے پہ ریڈ نشان دیکھا بلاج کے رات والے رویہ سوچ کے وہ پھوٹ پھوٹ کے رودی اور اس نے خود سے ایک فیصلہ کیا۔۔
ارے لائبہ دیکھو کون ہے؟دروازے پہ۔۔
خوشبو آپ دیکھو میں زرا سالن بھون لو۔۔
خوشبو جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی نماز پڑھ کر لیٹی تھی نہ چاہتے ہوئے بھی دروازہ کھولنے چلی گئ
خوشبو نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو سامنے والے نے کچھ دیر اسے دیکھا اور گھومتا ہوا تھپڑ اسکے گال پہ مارا۔۔
کچھ دیر کیلے خوشبو کا لگا اسے دن میں تارے دیکھنے لگے ۔۔
#
تمہارا دماغ خراب ہے مراد میں ایسا کچھ نہیں کہونگی بھائ صاحب کو۔۔۔
نائلہ بیگم نے غصہ میں مراد کو گھورتے ہوئے کہا۔۔
ماما اگر آپ نہیں بول سکتی تو میں بول دونگا ۔۔
مراد تمہاری ہی ضد پہ میں نے شانزے کا ہاتھ مانگا تھا بھائ صاحب سے اور اب تم شادی سے ایک مہینہ پہلے بول رہے ہو کے میں یہ رشتہ ختم کردو۔۔
ہاں میں ہی کہہ رہا ہو کے اب مجھے شانزے سے شادی نہیں کرنی۔۔
کیوں نہیں کرنی کیا وجہ ہے؟
نائلہ بیگم کا پارہ کافی ہائ ہوچکا تھا مگر پھر بھی انہوں نے اپنا لہجہ بہت دھیما رکھا تھا ۔
بس ابھی آپکو میں وجہ نہیں بتا سکتا مگر بہت جلد میں آپکو وجہ بتا دونگا۔۔
مراد ابھی اسی وقت میرے سامنے سے دفعہ ہوجاو میری بہو خالی شانزے ہی بنے گی۔
یہ آپکا آخری فیصلہ ہے؟؟
مراد کے پوچھنے پہ نائلہ بیگم رخ موڑ گئ اور مراد کو اپنا جواب مل گیا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
