Rate this Novel
Episode 39
بلاج کے ایک بار پھر عترت کو دیکھ کے دنگ رہ گیا لائٹ پستائ کلر کی میکسی میں ماڈل میک اپ کیساتھ عترت آج برات سے ذیادہ حسسین لگ رہی تھی۔۔
صبح ناشتہ کی ٹیبل پہ عترت نے واقعی بلاج کو حیران کردیا تھا اسے دیکھ کے کوئ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کے اسکے تعلقات بلاج سے خراب ہیں۔۔
فوٹو سیشن کے دوران کئ اسے پوز آئے جہاں عترت اور بلاج ایک دوسرے کے قریب آئے ایک پوز میں تو عترت اور بلاج ایک دوسرے سے اپنا سر ملا رہے تھے اور یہ پوز دیتے ہوئے عترت کا تو پتہ نہیں مگر بلاج کے سامنے اسکے اور عترت کے یونی کے لمحات گھومنے لگے۔۔۔
آج شانزے کافی خوش تھی اور اسکی خوشی کی وجہ مراد تھا جسکا رویہ آج شانزے کے ساتھ پہلے جیسا تھا بہزاد کو دیکھ دیکھ کے شانزے کافی اٹیٹییوڈ کا مظاہرہ کررہی تھی مراد کیساتھ مگر بہزاد کی جوتی کو بھی پرواہ نہیں تھی کیونکہ اسنے ایسی حرکت کراوئ تھی مراد سے کے شانزے کا بس نہیں چل۔رہا تھا بہزاد کا منہ نوچ لے۔۔
ارے شکریہ مراد میرے لیے تم جوس لے ائے۔۔۔
ارے نہیں بہزاد سر مجھے خوشی ہوگی کے میں آپکے کسی کام او۔۔۔
مرد بہزاد سے باتیں کررہا تھا جی جی کرکے اور بہزاد نے ایک ہی کام کیا تھا شانزے کو دیکھ کے جو شانزے کو آگ لگانے کیلیے کافی تھا۔۔
بہزاد کے آنکھ مارنے پہ شانزے کو آگ لگ چکی تھی اور اس سے بھی زیادہ مراد کا بہزاد کے آگے پیچھے گھومنے پہ۔۔۔..
بازل ؟؟
ہمم ۔۔۔
یار کیسے دو اجنبی نکاح کے دو بولوں پہ ایک۔ہوجاتے ہیں۔۔۔
ہنزہ نے عترت اور بلاج کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
مگر میں تو اجنبی نہیں ہو۔۔
بازل نے ہنزہ کا ہاتھ تھامے ہوئے کہا۔
اگر بالفرض سوچ لو ایک مثال دے رہی ہو اگر میری شادی تم سے نہیں ہوئ یہ تمہاری مجھ سے نہیں ہوئ تو تم اپنی بیوی سے تو محبت کرنے لگو گے میں تویاد بھی نہیں اونگی تمہیں۔۔
ہنزہ کا کہنا تھا کے بازل نے ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ چھوڑا اور وہاں سے اٹھ کے چلا گیا۔۔۔
ہنزہ اسے آوازیں دیتی رہ گئ مگر وہ نہیں رکا اب ہنزہ کو اور بھی زیادہ اپنے پوچھنے پہ افسوس ہونے لگا کے کیوں اس نے اس قسم کی بات بازل سے پوچھی۔۔۔
کیونکہ بازل کو منانا سو عورتوں کو منانے کے برابر تھا۔۔۔
آج کیوں نہیں آئے تم۔؟؟
صنم نے صائم کو کال کرکے غصہ میں پوچھا۔۔
یار ایک دوست کے گھر آیا ہوا ہو اسکی طبیعیت سہی نہیں تھی اسلیے نہیں ایا۔۔
اس سے پہلے صنم۔اور کچھ پوچھتی صائم سے کے جبھی اسے صائم کے پیچھے سے کسی لڑکی آواز آئ جو صائم کا نام پکار رہی تھی۔۔۔
تمہارے ساتھ کون ہے صائم؟؟
ارے واہ میری ڈانسنگ ڈول ابھی شادی ہوئ نہیں اور بیویوں والی حرکتیں شروع کردی۔۔
صائم نے صنم کی بات کو مزاق کا رنگ دیا۔۔صائم۔نہیں اسنے عاصم پکارا ہے اسکی بہن ہے جوس دینے آئ ہے اور مجھ سے بہت چھوٹی ہے میری جانمن۔۔۔
اچھا اچھا چلو پھر کل ملتے ہیں ؟؟
ضرور میری ڈانسنگ ڈول۔۔۔
صنم نے مسکراتے ہوئے کال کٹ کی تو اسے بہزاد کھڑا دیکھائ دیا جو شاہجاں بیگم سے کچھ بات کررہا تھا اور اشارہ اسکا صائم کے پاپا کی طرف تھا صنم نے سمجھنے کی بہت کوشش کی مگر بے سود۔۔
عترت اور بلاج کا ولیمہ خیرو عافیت سے نبٹ چکا تھا تھوڑا آرام کرکے وہ لوگ اب ائیرپورٹ کیلیے نکل گئے تھے بہزاد کی ایک ضروری کال آگئ تھی اس وجہ سے وہ عترت کو سی اوف کرنے نہیں گیا۔۔
شاہجاں بیگم نے عترت کو ہزاروں نصیحتیں کی اور عترت نے صنم کو۔۔
اظہر صاحب نے بھی اپنی بیٹی کو سینے سے لگایا اور داماد کو بھی ۔۔
سب کی نظروں میں خود کو خوش رکھنے والی عترت سب کو الوداع کرتے ہوئے روپڑی۔۔۔
ایسا لگ رہا ہے میں اغواہ کرکے لے جارہا ہو جو رونا دھونا ہی کم نہیں ہورہا تمہارا۔۔
بلاج نے چیکنگ کرتے ہوئے اپنی برابر میں کھڑی روتی ہوئی عترت کو کہا۔
زنا تو کرہی لیا ہے اغواہ بھی کرلے آپکے لیے کونسی بڑی بات ہے۔
ایک بار پھر عترت اپنے جواب سے بلاج کو اندر تک ہلا۔گئ تھی۔۔
#
آئسکریم کھاو گی جان میری۔۔۔۔
آج بہت دونوں بعد اچھا موڈ ہوا ہے تمہارا مراد آج جو بولوگے میں کرونگی۔۔
تو ایسا کرتے ہیں رائل چلتے ہیں ۔
مگر مراد وہ تو یہاں سے بہت دور ہو جائے گا۔۔
تو لانگ ڈرائیو بھی ہوجائے گی۔۔
مراد کی بات پہ شانزے مسکرانے لگی۔۔
ابھی انکی گاڑی مسلم سوسائٹی کے روڈ پہ آئ تھی کے ایک دم انکی گاڑی کے آگے پیچھے گاڑیوں نے مراد کی گاڑی کو روکنے پہ۔مجبور کیا
شانزے اور مراد ایک دم ڈر گئے۔۔
گاڑی میں سے دو تین لڑکے اترے ان میں ایک نے مراد پ۔پسٹل تانی اور اسسے سب لے لیا۔۔
باقی دولڑکوں کی نظر سجی سنوری شانزے پہ پڑی۔۔
ارے اسے چھوڑ یہاں دیکھ پوری رات مست ہو جائے گی اپنی۔۔
خبر دار اسے ہاتھ لگایا تو۔۔
مراد کے بولنے کی دیر تھی کے ان میں سے ایک نے مراد کے سر پہ پسٹل کا بیک مارا۔۔
مرادددددڈ۔۔
شانزے مراد کے سر سے خون نکلتا دیکھ ایک دم چیخ کے گاڑی سے باہر نکل ائ۔۔۔
ان تینوں نے شانزے کو پکڑا اور گھیسٹتے ہوئے گاڑی میں ڈال کے لے گئے ۔۔
جاری یے۔۔۔
