Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

داستان عشق محبت 🔥❣️
از قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر #19
صنم اگلا نمبر۔۔۔۔۔اگے کی بات صائم کے منہ میں ہی رہ گئ صنم کو دیکھ کے۔۔
وائٹ اور بلیک کلر کے کنڑاس میں گہیر دار فراک پہنے بالوں کی اونچی پونی ٹیل باندھے سپمل سے میک اپ میں آنکھوں پہ لائنر کا پردہ ڈالے صنم صائم کو کوئ ڈانسنگ ڈول لگی۔۔
صائم کے لب مسکرائے تھے وہ۔جو بات کہنے آیا تھا بھول گیا مگر صنم اسکے پکارنے پر پریشانی کے عالم میں اس تک پہنچی اور کہا۔۔
صائم سب نے ایک سے بڑھ ایک پرفامنس دی ہے صنم یہ کہتے ہوئے باقاعدہ اپنی انگلی اپس میں چٹخا رہی تھی۔
صائم نے اسے کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے اور اپنی گرین آنکھیں اسکی سیاہ آنکھوں سے ملا کر کہا۔۔
ادھر دیکھو میری طرف صنم ۔۔
صنم نے بہت ہی افسردہ شکل بنا کی اسکی آنکھوں میں دیکھا تو صائم نے کہا۔۔
مجھ پہ بھروسہ ہے نہ صنم؟
تمہارے بھروسہ پہ تو یہاں کھڑی ہوتو
بس ریڈی ہوجاو انشاللہ ہم ہی جیتتنگے ۔۔
اپنی نام اناونس ہونے پہ وہ دونوں اسٹیچ پہ پہنچے اور انکا سانگ پلے ہوا۔۔
In the sun and sand
And the sea the night
And I am feeling alright
And I am feeling alright
صائم نے صنم کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے قریب کیا۔۔
“کیوں لمحہ خراب کرے ۔۔
اغلطی بے حساب کرے۔۔۔
صائم نے صنم کے کو کندھے سے پکڑ کے گھمایا اور اسکی فنگر پکڑ کے گول گول گھمایا۔۔
صنم کا ایک ہاتھ اپنی کمر کے پیچھے تھا اور وہ واقعی کسی ڈانسنگ ڈول کی طرح ناچ رہی تھی۔۔
“دو پل کی جو نیند اڑی۔
اانپورے سارے خواب کرے۔۔
صائم نے صنم کو چھوڑا اور اپنے دونوں کندھے اوپر نیچے کرکے اسٹیپ کیا۔
کیا کرنے ہیں عمروں کے وعدے ۔۔
یہ جو رہتے ہیں رہنے نے ادھے۔۔
صائم نے صنم کے بیک پہ جاکے اسکے ساتھ ہاتھ نیچے کرکے دونوں ہاتھوں کو ملاکے ٹانگوں کو لفٹ رائٹ کرکے اسٹیپ کیا۔
دو بار نہیں ایک بار صحیح ۔۔
صائم۔نے صنم۔کے اپنے پاس کرکے اسکے لب کے بے حد قریب جاکے اسکے کس کرنے کی پوزیشن میں ایک اسٹیپ کیا۔۔

ایک رات کی کرلے تو یاری۔۔۔
صائم نے صنم۔کو آنکھ مارتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے اپنے چاروں طرف گھمایا۔
صبح تک۔مان کے میری بات
تو اسے زور سے ناچی اج۔۔
کے گھنگھور ٹوتھ گئے۔۔
صائم اور صنم نے پھر اس گانے کا ہوک اسٹیپ ایک ساتھ کیا۔۔
چھوڑ کے ساری شرم اور لاج۔۔
صنم نے آگے بڑھ کے صائم کہ شرٹ پکڑ کے نیچے بیٹھتے ہوئے ایک اسٹیپ کیا۔
میں ایسے زور سے ناچی اج۔۔کے گھنگرو ٹوتھ گئے۔۔۔
صائم نے نیچے بیٹھی صنم گول گول گھماتے ہوئے اپنے قریب کھڑا کیا۔
دونوں اسی انداز میں بلکل گانے کے اوریجنل اسٹیپ پہ۔ناچ رہے تھے ہر طرف تالیوں کا شور تھا دونوں کی کیمسٹری لاجواب تھی۔۔
کئ بار دونوں ڈانس کرتے ہوئے ایک دوسرے کے بے حد قریب آئے تھے۔۔
صائم کا دل آج الگ انداز میں ڈھرک رہا تھا صنم بھی آج خوشی سے بھر انجوائے کررہی تھی۔۔
انکی پرفامنس ختم ہوئی انکے بعد ایک اور پرفامنس کے بعد رزلٹ اناونس ہوئے۔۔
اس کمپیٹیشن کے ونر اناونس ہوتے ہی جو صنم اور صائم تھے۔
صنم اپنا اور صائم کا نام سن کے خوشی سے صائم کے زور سے گلے لگ گئ۔۔
خوشی خوشی ان لوگوں نے ڈانس ٹرافی لی اور ایک پک ساتھ بنوائی ٹرافی لیتے ہوئے۔۔
سب ہی ان لوگوں کو مبارک باد دے رہے تھے صنم خوشی خوشی سب سے داد وصول کررہی تھی۔مگر اسکی نظر صائم پہ تھی جو موقع دیکھ کے وہاں سے جارہا تھا جب سب سے ایکسکیوز کرکے صنم نے اسے پکارا۔۔
صائم صائم۔۔۔
اپنے نام کی پکار پہ صائم مڑا تو صنم کو تیزی سے اپنی طرف آتا پایا۔
کہاں جارہے ہو؟؟
اپنے گھر تم جیت گئ تم خوش ہو بس میں یہی چاہتا تھا۔
اپنی دوست کو چھوڑ کے جارہے ہو۔۔؟
صنم کے بولنے پہ صائم مسکرایا اور کہا۔۔
چلو گی میرے ساتھ؟؟
صائم نے صنم کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا۔
جب صنم نے اسکے پھیلے ہاتھ کو دیکھا اور اس پہ اپنی اور اسکی ٹرافی کیساتھ لی گئے پک جو ایک مخصوص کیمرے سے لی گئی تھی اور ہاتھ کے ہاتھ انہیں مل گئ تھی اسکے ہاتھ پہ رکھی اور ٹرافی بھی۔۔
ابھی انہیں گھر لے کر جاؤ ہماری دوستی کی پہلی نشانی میں جب تھام کے چلونگی تمہارا ہاتھ جب وقت آئے گا۔۔
صنم کے کہنے پہ صائم نے مسکرا کے ان دونوں چیزوں کو تھاما اور کہا۔
مجھے اس وقت کا انتظار رہے گا صنم جب تم میرا ہاتھ تھام کے میرے ساتھ چلو گی۔۔
صنم نے ایک نظر مسکرا کے صائم کو دیکھا اور کلب سے چلی گئ۔۔
صائم نے بھی اسی وقت گھر کی طرف چل پڑا۔۔

#

بہزاد کی گاڑی سگنل پہ رکی جب اسے ایک موبائل شاپ پہ شانزے کھڑی دیکھائے دی۔۔
بہزاد نے اسی سگنل پہ اتر کے ڈرائیور کو گاڑی آکے پارک کرنے کو کہا۔
بھائ مجھے گولڈن کلر میں ہی چاہیے پلیز۔۔
صنم موبائل والے سے کسی بات پہ بہس کرہی تھی بہزاد خاموشی سے اسکے پیچھے جاکے کھڑا ہوگیا۔
تو میں آپکو کہہ تو رہا ہو کہ آپ آئ فون پرو میکس لے لے گولڈن میں اس پہ آپ کہہ رہی ہیں آپ افورڈ نہیں کرسکتی۔۔موبائل۔والے کے کہنے پہ
شانزے نے بہت دھیمی لہجے میں کہا۔
اچھا رہنے دے موبائل گولڈن میں وہ سلور ہی دے سیم سنگ کا ۔۔
شانزے موبائل لے کر جیسی ہی پلٹی تو پیچھے کھڑے بہزاد سے ٹکرائ۔
اگر بہزاد کے کوٹ کو نہیں پکڑتی تو دھرم سے نیچے گرتی۔۔
بہزاد کا ہاتھ شانزے کی کمر پہ تھا اسے تھامنے کیلیے اور شانزے کو بہزاد کا ہاتھ کسی گرم سلاخ جیسا لگا اپنی کمر پہ اس نے غصہ میں بہزاد کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹایا اور جانے لگی جب بہزاد نے اسکی کلائ تھام کے اسے اپنے قریب کیا اور موبائل والے کو آئ فون گولڈن والا پیک کرنے کو کہا۔۔
چھوڑے مجھے کیا بدتمیزی ہے یہ ؟؟.
چپ چاپ کھڑی رہو شانزے ابھی بدتمیزی کری نہیں میں نے کرونگا تو دو دن تک اپنا چہرہ آئینے میں دیکھ نہیں سکوگی یہاں تماشہ نہیں کرو چپ چاپ کھڑی رہو ورنہ رسوائ تمہاری ہوگی کیونکہ اگر تم چپ چاپ کھڑی نہی رہی میرے ساتھ تو جو بدتمیزی اسکے بدلے میں تمہارے ساتھ کرونگا وہ تمہیں تو ناگوار گزرے گی مگر یہاں کے لوگ بہت انجوائے کرینگے۔۔
جاری ہے
See translation