Rate this Novel
Episode 66
اچھے کام دھندے پہ لگایا ہے تو نے نہانہ تجھے ہے اور تیری ڈھیلی ڈھیلی شرٹس میں لاو۔۔۔
صائم کو پچھلے آ دھے گھنٹے سے لکی ون مال میں گھوم رہا تھا زویان کے کہنے پہ اب چڑنے لگا تھا۔۔
ہاں ہاں بھئ صحیح ہے ایک کام بولا ہے صائم بھائ اپکو وہ بھی اپ سے نہیں ہورہا مجبور ہو میں ذیادہ چل نہیں سکتا ورنہ میں خود ڈھونڈ لیتا اپنی شرٹس ۔۔۔
اچھا اچھا ذیادہ ڈرامے نہیں کرو ڈھونڈ رہا ہو جو ملے نہ خاموشی سے پہن لینا!!
ہاں ہاں بس کلر اچھے اچھے لانا بڈھو والے کلر مت لانا۔۔
زویان کی فرمائش پہ صائم کو تو مانو خون ہی کھول گیا اسنے تپ کے زویان سے کہا۔۔
زویان کوئ تو نو مہینے والی پریگننٹ عورت نہیں ہے جو تیرے لیے ڈھیلی شرٹس تو ڈھونڈو ڈھونڈو اوپر سے کلر بھی اچھے اچھے ۔۔
لاحول ولا قوت وہ تو اپکی بیوی ہوگی میری بیوی ہوگی۔۔زویان نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے صائم سے یہ بات کہی اور تصور میں اسکا چہرہ لاتے ہوئے اپنی ہنسی روکنے لگا۔۔
صائم نے ایک پھر دانٹ پیس کے کہا۔۔
کوئ بہت ہی بیہودہ بے شرم۔انسان ہے مجھے اج دلی ہمدردی ہورہی ہے اپنی بہن سے فون رکھ اب۔۔۔۔
ائے ہائ نوسو چوہے کھاکے بلا حج کو چلا جگہ جگہ گرم گرم حلوہ کھانے کے بعد اج صائم بھائ کو ٹھنڈا حلوہ چاہیے۔۔۔
زویان کے ٹونٹ کرنے پہ اس سے پہلے صائم اسے کوئ جواب دیتا سامنے کا منظر دیکھ کے اسکے لب تھم سے گئے۔۔
ہیلو ہیلو صائم بھائ۔
لگتا ہے کاٹ دی کال زویان نے خودی اندازہ لگاتے ہوئے کال کٹ کردی۔۔
#
تم ائے تو ایا مجھے یاد گلی میں اج چاند نکلا۔۔
بازل موبائل پہ گنگناتا ہوا لانج یں داخل ہوا۔۔
اسکے چہرے پہ بہت حسین مسکراہٹ تھی جو ہنزہ بہت غور سے دیکھ رہی۔۔
بازل اس بات سے بے خبر ہر گز نہیں تھا کے ہنزہ ٹی وی لانج میں بیٹھی ہے مگر وہ اسے جان بوجھ کے دیکھ کے بھی ان دیکھا کررہا تھا۔۔
افف نوشی تمہارے اواز بہت حسین ہے اور واقعی میں تم سے گانوں کے کمپیٹیشن میں کوئ نہیں جیت سکتا واقعی میں تم دل میں گھر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو میں تو یہ ہی سوچ رہا تھا کے اگر تم میری زندگی میں نہیں اتی تو جانے میرا کیا ہوتا ۔۔۔
ہاں ہاں میری جانو چلے گے نہ جہاں تم بولو ۔۔۔
بازل اپنی دھن میں بولے جارہا تھا اور ادھر ہنزہ کا وہاں سانس لینا مشکل ہورہا تھا اس نے فورا اپنے کمرے کی رہ لی۔۔
اسکے کمرے میں جاتے ہی زور سے دروازہ بند کرتے ہی بازل کے لب کھل کے مسکرائے اور اسنے فون پہ موجود نوشی سے کہا۔
کام ہوگیا نوشی بس اج اخری کیل اس تابوت میں ٹھو کنی ہے ۔۔
اج گھر میں کوئ نہیں صرف بازل اور ہنزہ تھے عترت اور ندا بیگم کو چلی گئ تھی اور باقی سب گاؤں کی طرف گئے تھے اور کل انا تھا کسی کی شادی تھی وہاں۔۔
ہنزہ نے کمرے میں اکے غصے میں اپنی پرفیوم کی بوتل توڑ دی۔۔
مگر یہ ہی تو وہ چاہتی تھی کے بازل اسے چھوڑ دے پھر اسے غصہ کیوں ارہا ہے۔۔
ہنزہ جس نے اج چھٹی لی تھی تھوڑی دیر کیلئے دوبارہ ہسپتال چلی گئ ۔۔
#
یار اسمیں ڈائمنڈ بہت چھوٹا نہیں۔
نہال نے رنگ ہاتھ میں لے کر دیکھتے ہوئے کہا۔۔
صنم اور نہال جیولری شاپ میں رنگ پسند کررہے تھے اور صائم ان دونوں کے پیچھے کھڑے ہو ان کو دیکھ رہا تھا۔۔
مگر نہال یہ بہت اچھی ہے !!صنم نے اس رنگ کو بہت غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
تمہیں پسند ہے؟؟
ہاں بہت ۔۔۔
صنم نے کہنے پہ نہال نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسکے ہاتھ۔ میں موجود رنگ اسکی فنگر میں ڈال دی۔۔
صائم نے جب یہ منظر دیکھا تو اسکی انکھوں کو اگے منظر دھندلا نظر انے لگا اور وجہ تھی اسکی انکھوں میں جمع ہونے والے آنسوؤں اسے لگا وہ اگلا سانس نہیں لے پائے ایک دم اسکی انکھوں سے تیزی سے آنسوؤں جاری ہونے لگے۔۔
اسنے ایک نظر صنم کو دیکھا اور اسکے ساتھ کھڑے نہال کو جیسے دیکھ کے صائم کا بس نہیں چل رہا تھا کے اسے جان سے مار دے۔۔
صائم نے اپنے آنسوؤں صاف کیے اور جیسے تیسے زویان کی شرٹس لے کے مال سے نکل گیا۔۔
#
زویان کے ٹانکے اب کھل چکے تھے اج اسے نہانہ تھا جبھی اس نے ڈھیلی سی شرٹیں صائم سے منگوائی تھی تا کے زخم پہ نہ ٹچ ہو۔۔
زویان کو ٹانکے کھلواتے ہوئے بہت تکلیف ہوئ اور اس بات کا اندازہ ہیر کو اس بات سے ہوا کے اس نے بہت طاقت سے ہیر کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔۔۔
ہیر کا دل شاید اب پگھلنے لگا تھا ایک ہفتے سے وہ زویان کیساتھ اسی کے کمرے میں تھی اور جب تک وہ اسکے کمرے میں رہتی زویان اسے اپنی نگاہوں میں رکھتا اور مسکراتے رہتا۔۔
ہیر زویان کا کھانا بنانے گئ تھی جب صائم اسکے کمرے میں شرٹس دینے ایا۔۔
ابھی فلحال مجھے یہ ہی ملی بعد میں اور لادونگا۔۔
صائم نیچے نگاہیں کرکے شرٹس رکھ کے جانے لگا جب زویان نے ایک دم اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
صائم بھائ کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں مجھے کام ہے بعد میں بات کرتا ہو ۔۔
صائم اپنا ہاتھ چھڑا کے دوبارہ جانے لگا جب ایک بار پھر زویان نے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔
ادھر دیکھے میری طرف کیا ہوا ؟؟
زویان کے پوچھنے پہ صائم نے مال میں نہال اور صنم کا انکھوں دیکھا منظر اسے بتا دیا ۔
زویان دیکھ سکتا تھا کے صائم کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو گرنے لگے۔۔۔
صائم بھائ مجھے ایک بات کا جواب دے اج سچ سچ۔۔۔
ہاں پوچھو۔۔۔
محبت کرتے ہیں صنم سے۔۔۔؟؟
یہ سوال تم پوچھ رہے ہو جو سب جانتے ہو!
مجھے جاننا ہے !!
اپکو محبت ہے صنم سے اسے شامل کرناچاہتا ہے اپنی لائف میں؟؟
ہاں محبت نہیں عشق ہونے لگا ہے اس سے نہیں جی سکتا اس کے بنا نہ اسے کسی اور کا ہوتے دیکھ سکتا ہوا۔۔۔
تو پھر جائے اج اسے بتائے کے اپ سے غلطی ہوگئ منائے اسے بتائے اپ اسے کے محبت نہیں عشق کرنے لگے ہیں۔۔
مگر وہ نہال کیساتھ۔۔
ابھی رنگ انگلی میں پہنی ہے نکاح نامے پہ سائن نہیں کیا ۔۔۔
اج گھر میں خالی میں اور اپ ہیر اور صنم ہیں۔۔
سب گھر والے بازل کی فیملی کیساتھ کسی گاؤں میں گئے ہیں جو ریلیتف ہیں دونوں فیملی کے۔۔
وہاں بازل بھی اج اپنا معملہ کلئیر کرنے والا ہے اور اج میرا بھی کچھ ایسا ارادہ ہے ۔۔
اج اس قصہ کو فائنل کردے بھائ یقین سے تو مانگی تو دعا بھی تقدیر بدل دیتی ہے پھر تو یہ صنم کا دل ہے جائے۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
