Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

رخسانہ بیگم بلکل نغمہ بیگم کے سامنے بیٹھی تھی مگر ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کے دو گھڑی اپنی بہن کے پاس بیٹھ جائے۔۔
وہاج نے دو تین بار بہزاد کو مخاطب کرا مگر بہزاد نے سن کے بھی ان سنا کرگیا۔۔
نمرہ بیگم کو دیکھ کے بہزاد نے بہت مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کیا تھا۔وہ بھی اپنی ملکہ کے کہنے پر۔۔
شاہجاں سب مہمانوں کو دیکھ رہی تھی کھانے کا دور چل رہا تھا دولہا دلہن۔کا فوٹو شوٹ تھا۔۔
ادھر میم تھوڑا اور قریب سر میڈم کے شولڈر پہ ہاتھ رکھے۔۔
فوٹوگرافر کے ایسے پوز کا بولنے پہ بلاج نے تو کوئ خاص ریکشن نہیں دیا مگر بلاج کے ہاتھ رکھتے ہی عترت کے تن بدن میں آگ لگ گئ اور اس نے کہا۔۔
ویسے تو بیوفا بیوفا کا راگ الاپتے رہتے ہیں اپپ اتنا چپک کے کیوں کھڑے ہیں منع کرے فوٹوگرافر کو کوفت ہورہی ہے مجھے۔۔۔
آپکے قریب آنے سےے۔۔
عترت نے مسکرانے کیساتھ ساتھ دانت پیس کے کہا ۔
زیادہ ہوا میں نہیں اڑنا بلکل بھی نہیں۔۔
آئ بڑی کہی کی کوفت ہورہی ہے ۔۔
تو جب خوشی خوشی ماتھا آگے کرا تھا میرے۔۔
جب کوفت نہیں ہورہی تھی مجھ سے اور بات سنو کہی کی لیڈی ڈائنہ نہیں ہو جو میں مرا جارہا ہو تمہارے ساتھ پکس کھیچوانے کیلے پالر والی کو سلام ہے میرا کے کسطرح ایک چڑیل کو انسان بنا دیا ۔۔
بدقسمتی سے اگر زرا سی اچھی لگ رہی ہو تو اپنے کو حسن کی ملکہ مت سمجھ لینا اصل ہو تم پچھل پیری ۔۔۔
بلاج کے دوبدو جواب پہ عترت نے گھور کے بلاج کو دیکھا اور بلاج نے اسے اور وہی پوز فوٹو گرافر نے اپنے کیمرے میں قید کرلیا۔۔۔
دادو یہ لوگ آپکے ریلیٹیو ہیں کیا؟
صائم نے کھانا کھاتے ہوئے شاہجاں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔
وہاج پانی پیتے پیتے رکا اور کہا۔۔
ہاں ریلیٹیو ہیں۔۔
آئے نہیں کبھی یہ گھر ہمارے؟؟
آئے تھے بیٹا تم گھر پہ نہیں تھے اس دن ۔
آگے کی بات رخسانہ بیگم نے پوری کی۔۔
صائم وہاج یہ تم ہو اوہہ مائ گاڈ یار۔۔۔
صائم کے پیچھے آتی آواز پہ سب ہی پلٹے مگر جب صائم نے بازل کو دیکھا تو خوش ہونے کیساتھ ساتھ شاکڈ بھی ہوا۔۔
ارے بازل بابر تم یہاں ؟
ہاں میرے کزن کا ہی نکاح ہے بلاج بھائ میری خالہ کے بیٹے ہیں۔۔
ارے یار اتنے سالوں کے بعد تم تو یونی کے بعد ایسے غائب ہوئے نہ کال نہ ملنا نہ کوئ رابطہ ۔۔
بازل نے ہلکا سا شکوہ کیا۔۔۔
یار میں لندن چلا گیا تھا پھپھو کے پاس وہاں سے آکے پھر پاپا کیساتھ بزنس میں مصروف ہوگیا۔
یہ ہیں میرے پاپا یہ دادو اور یہ میری پھپھو۔۔
صائم۔نے بازل کا تعارف اپنی فیملی سے کراتے ہوئے کہا ۔
ان لوگوں نے بھی مسکرا کے بازل سے ہیلو کیا۔۔
ارے بازل تمہیں ہنزہ بلا رہی ہے۔۔
اچانک صنم نے آکے بولا۔
صائم کی نظریں صنم کو دیکھ کے ایک دم چمکی تھی تو صنم کے لب بھی مسکرائے تھے اور آنکھیں شرم سے جھک گئ تھی۔۔
یہ عمل بازل سے نہیں چھپ سکا تھا مگر بازل خاموش ہوگیا تھا بولا کچھ نہیں اسکے لب سکڑے تھے مسکراتے ہوئے جو صائم نے نوٹ نہیں کیے۔۔
چل تو ٹچ میں رہنا صائم۔۔۔
بازل وہاں سے چلا گیا ۔۔
مگر صنم نے وہاں موجود سب سے کھانا کا پوچھا۔۔
رخسانہ بیگم نے پیار سے اسکے سر پہ۔ہاتھ پھیرا تھا ۔۔
نمرہ بیگم سے ابھی تک صنم کی ملاقات نہیں ہوئی تھی اور ابھی ہوئ بھی تھی تو اسے پتہ نہیں تھا کے وہ اسکی سوتیلی ماں ہے۔۔
بازل ہنرہ کی بات سن رہا تھا جو اسے بول رہی تھی کے ندا آنٹی سے بول کے تھوڑی دیر کیلے عترت بھابھی کو اپنے ساتھ لے چلے۔۔
مگر بازل کا دھیان صائم اور صنم پہ تھا۔۔
بازل سن رہے ہو نہ میری بات تمہارا دیھان کدھر ہے۔۔
ہاں ہاں سن رہا ہو یار بس تھوڑا پریشان ہو۔۔۔
پریشان ہو مگر کیوں کیا ہوا؟؟
ہیر تمہیں وہ میرا یونی کا دوست یاد ہے صائم جسکے قصہ میں تمہیں سناتا تھا؟؟.
وہی نہ جو تمہاری یونی میں پلے بوائے مشہور تھا۔۔۔
ہاں ہاں وہی۔۔
تو کیا ہوا سے؟؟
وہ بھی اس تقریب میں آیا ہے ہیر اور۔۔۔۔۔۔
اور کیا بازل ؟؟
ہنزہ مجھے لگتا ہے اب اسکا ٹارگٹ صنم ہے۔۔۔
واٹ؟؟
بازل کیا بکواس کررہے ہو۔۔ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔
تم خود بتاتے تھے کے وہ کس ٹائپ کا۔لڑکا۔ہے تو صنم ایک بہت اچھی اور سلجھی ہوئی لڑکی وہ۔کسے اسکے ساتھ کیا پاگل ہوگئے ہو۔۔؟
ارے ہنزہ تم سمجھ نہیں رہے میری بات۔۔میں یہ کہہ رہا ہو مجھے لگتا ہے صائم نے اس بار صنم کو اپنے جال میں پھنسایا ہے اور پھر بازل نے جو کچھ دیر پہلے دیکھا وہ ہیر کو بتا دیا ہو۔۔۔
ہوسکتا ہے بازل تمہاری غلط فہمی ہو۔۔
اللّٰہ کرے ہنزہ میری غلط فہمی ہی ہو کیونکہ صنم میری بہنوں جیسی ہو اب تک صائم جتنی لڑکیوں کیساتھ بھی کھیلا ہے ان میں سے تقریبا دو تین فیصد ہی اچھی تھی باقی سب ہی صائم۔جیسی تھی مگر اس بار صائم وہاج نے جس پار ہاتھ ڈالا ہے نہ۔ہیر وہ بہت معصوم ہے۔۔
بازل نے یہ بول کے سامنے کھڑی صنم کو دیکھا جو ہنس ہنس کے شانزے سے بات کررہی تھی۔۔

$

یار ابھی رک جا نہ تھوڑی دیر۔۔
یار صنم تجھے پتہ ہے نہ وہ ویسے ہی پاگل چل رہا ہے ابھی خاماخای میں باتیں سنائے گا اگر دیر ہوگئ۔۔
چل ٹھیک ہے پھر کل ائے گی نہ ۔۔؟؟
ہاں یار ۔۔
یہ بول کے شانزے ہال سے باہر نکلی تو مراد غصہ میں لالا پیلا گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑاتھا۔۔
شانزے تیزی سے اس تک پہنچی اس سے پہلے وہ ایکسکیوز کرتی مراد بھڑک اٹھا۔۔
کیا تماشہ کیا ہے تمہارا؟؟
میں پاگل لگ رہا ہو تمہیں پچھلے آدھے گھنٹے سے میں تمہارا ویٹ کررہا ہو کے کب میڈم باہر ائینگی۔۔
کچھ احساس ہے تمہیں شانزے اپنی عیاشیوں سے فرصت نہیں تمہیں ۔۔۔۔۔۔
مراد میں عیاشی نہیں۔۔
بس بلکل چپ بکواس نہیں کرنا ورنہ یہی چھوڑ کے چلا جاونگا۔۔
شانزے نے آنکھوں میں آنسوؤں بھرے اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھا جو اسکی پچپن کی پسند تھی ۔۔
شانزے گاڑی میں بیٹھنے لگی جب اسکی نظر سامنے کھڑی بہزاد پہ پڑی۔۔
جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ایک عجیب سی شرمندگی نے اسے ان گھیرا۔۔
نگاہوں میں سے آنسوؤں صاف کرتی ہوئ وہ گاڑی میں بیٹھ گئ ۔
بہزاد جو کسی سے کال پہ بات کرتے کرتے باہر نکل آیا تھا کسی کے چیخنے پہ جب وہ پلٹا تو اسکی نظر مراد اور شانزے پہ پڑی مراد اسے بری طرح ڈانٹ رہا تھا ۔۔
بہزاد نے بہت غور سے یہ منظر دیکھا اور طنزیہ نگاہوں سے شانزے کو جو کسی مجرم کی طرح نگاہیں جھکا کے کھڑی تھی ۔۔
انکی گاڑی کے جاتے ہی بہزاد نے کسی کو کال ملائ۔۔کتنا ٹائم لگاے گا تمہیں؟؟.
آگے سے نجانے کیا کہاں گیا جیسے سننے کے بعد بہزاد کے لبوں پہ مسکراہٹ آگئ ۔

#

مان جائے نہ آنٹی پلیز۔۔۔
ہنزہ نے تقریبا انکے گلے میں باہنیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔
ہم بھابھی کو دو گھنٹے بعد خود چھوڑ جائینگے۔۔۔
شاہجاں بیگم کی نظریں عترت پہ تھی جو مسلسل نفی میں گردن ہلا رہی تھی سب سے پیچھے بیٹھے ہونے کی وجہ سے وہ کسی کی نگاہوں میں نہیں تھی۔۔
مگر بلاج کی نگاہیں اس پہ پڑ چکی تھی۔۔۔
آنٹی میں خود چھوڑنے اجاونگا عترت کو۔۔
بلاج کے کہنے سب نے ہی ہوٹنگ کی اور شاہجاں بیگم داماد کے آگے ہار مان گئ۔۔
بلاج نے پلٹ کے عترت کی طرف دیکھا اور طنزیہ۔مسکرایا۔
جاری یے۔۔۔