Rate this Novel
Episode 6
کیا بات ہے شانزے کافی چپ چپ ہو۔۔؟؟
صنم جو آخری کلاس اٹینڈ کرکے آئ تھی یونی کے لان میں چپ چاپ بیٹھی شانزے اسے ہضم نہیں ہورہی تھی۔۔
کیا ہوا ہے شانزے کیوں اداس ہے بتا؟؟
یار جب سے مراد کی۔جاب لگی ہے بدل سا گیا ہے اب جبکہ پھپھو نے میری ایگزائم کے بعد کی تاریخ رکھی ہے شادی کی تب بھی اسکے چہرے پہ وہ خوشی نہیں ہے۔۔
اوہ شانزے یار کیا الٹا سیدھا سوچے جارہی ہے اسکی جاب تو دیکھ کتنی ٹف ہے اتنی بڑی کمپنی میں وہ ایمپلائے ہے یار بزی ہوگا۔۔
شاید تو بھول رہی ہے تجھ سے محبت کرتا ہے یار ۔کچھ الٹا سیدھا نہیں سوچ پاگل اب تو دو مہینے بعد ایک ہوجائوگے ۔۔تم دونوں۔۔
فضول میں تو ٹینشن لے رہی ہے۔۔
صنم اسکو سمجھا رہی تھی مگر شانزے کے دماغ میں صبح کا منظر گھوم رہا تھا جب پھپھو کے شادی کی ڈیٹ فکس کرنے پرمراد کے چہرہ کا زاویہ ایک دم بدل گیا اور اسنے ناشتہ سے ہاتھ کھینچ لیا۔۔
اچھا یہ بتا آج کتنے بجے لینے او کلب کیلیے؟؟.
صنم کے پوچھنے پہ شانزے نے ایک لمبی سانس لی اور کہا۔۔۔
تو اکیلی چلی جا یار آج میرا موڈ نہیں طبیعت بھی خراب لگ رہی ہے مجھے اپنی۔۔
اچھا چل کوئ بات نہیں آجا چل تجھے گھر چھوڑ دو۔۔
#
وہاج؟؟؟
ہمممم۔۔
بیٹا نساء آرہی ہے تین چار مہینوں میں پاکستان شفٹ ہورہی ہے ہمیشہ کیلیے۔۔۔
ہاں ماں اظہر بھائ سے بات ہوئ تھی میری ارادہ تو انکا یہی کراچی میں رہنے کا ہے۔۔
مگر ایک بار وہ۔اجائے میں انہیں مشورہ دونگا بلکے درخواست کرونگا کے یہی روک جائے اس گھر میں اتنا بڑا گھر ہے خالی خالی رہتا ہے تھوڑا اپکا۔دل بھی لگ جائے گا۔۔۔
ہاں بیٹا یہ تو تم نے بہت اچھی بات کہی پر کیا اظہر مانے گا۔۔
دیکھ لیتے ہیں ماں بات کرکے ۔۔۔
#
ساری پیکنگ ہوگئ اپکی۔۔؟؟
بالاج نے ندا بیگم کے کمرے میں آکے کہا۔۔
ہاں بیٹا کب نکلنا ہے ؟.بس آدھے گھنٹے میں نکلتے ہیں انشاللہ کل شام تک پہنچ جائے گے کراچی۔۔
بالاج نے فون استعمال کرتے ہوئے کہا۔۔
ہاں میں آپا کو کنفرم کردو۔۔
نہیں رہنے دے میں نے بازل کو ٹیکس کردیا ہے اجائے گا وہ ائیرپورٹ لینے ۔۔
اچھا چلو پھر ۔۔
ندا بیگم نکلنے لگی جب انہیں کچھ یاد ایا۔۔
بلاج ؟؟
جی ۔۔
پکا کروگے نہ شادی اس بار؟؟
ندا بیگم کی بات پہ وہاج مسکرایا اور کہا۔۔
ہاں ماں اس بار انکار نہیں پکا اب چلے۔۔..
#
ہنزہ آج اپنا آخری پیپر دے کے آئ تھی بہت خوش تھی کیونکہ اب وہ رزلٹ آنے کے بعدا پنی ہاؤس جاب کرے گی ۔۔
ابھی ابھی نہا کے نکلی تھی کے اسکے نمبر پہ بازل کی کال آنے لگی۔۔
ہاں ہیلو۔۔۔
فریش ہوگئ ؟؟
ہاں ابھی کوئ کام تھا؟؟.
تمہاری الماری میں ایک پیکٹ رکھا ہے کھولو پانچ منٹ بعد میں کال کرتا ہو؟
بازل کے فون رکھتے ہی ہنزہ نے اپنی الماری کھولی تو سامنے ایک گفٹ باکس رکھا تھا۔۔۔بازل کی دوبارہ کال اٹھانے میں بازل نے صرف اتنا کہا۔۔
میں ویٹ کررہا۔ہو۔۔؟؟
ہنزہ نے گفٹ اٹھایا تو اسکے نیچے ایک کارڈ تھا۔
ہنزہ نے کارڈ پڑھنا شروع کیا۔۔
اگر تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو ہنزہ تو یہ ڈریس پہن کے نیچے آجانا میں انتظار کررہا ہو اپنی کار میں۔۔
پیچھے کے دروازہ سے انا۔۔۔
ہنزہ نے کارڈ نیچے رکھ کے ڈریس دیکھا۔۔
ایک خوبصورت سی وائٹ کلر کی انارکلی فراک تھی جس پہ خوبصورت سی گولڈن کڑھائی ہوئ تھی ۔۔
ہنزہ نے اپنے دل کو ٹٹولا وہ کوئ بھی فیصلہ جزبات کی رو میں بہہ کرنہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
بازل کے نام کی صدائیں اسکے دل کے چاروں طرف گونج رہی تھی۔مگر ابھی بھی ہنزہ کا دل بیچین تھا اسے ہمیشہ ایسا لگتا تھا کے بازل اور اسکے درمیان کچھ غلط ہونے والا ہے ۔
ہنزہ ڈریس اٹھاکے چینج کرنے چلی گئ۔
وائٹ فراک میں وہ کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی میچنگ کی چوڑیاں بالیاں اور کھوسے پہن کے وہ پیچھے کے دروازے سے نکلی تو بازل سامنے وائٹ کاٹن کے سوٹ میں اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا ۔
ہنزہ کو سامنے سے آتا دیکھ بازل ایک دم ساکن رہ گیا اسے نہیں یاد اسے کبھی ہنزہ اتنی حسین لگی ۔۔
ادھر ہنزہ کا نگاہ اٹھانا مشکل ہورہا تھا شرمائ۔شرمائ سی وہ بازل تک پہنچی۔۔۔
بازل نے دومنٹ تک مہبوت ہوکے اسکو دیکھتا رہا ہنزہ کے دل کی دھڑکنیں عجیب ہورہی تھی اسکاے بازل کی طرف دیکھا بہت محال ہو رہا تھا ۔
اگر مجھے اسی ہی گھور کے کنفیوز کرنا ہے تو میں جارہی ہو۔۔
یہ بول کے ہنزہ مڑنے لگی تو بازل نے اسکی کلائ تھام کے کہا۔
ارے ارے میری شیرنی جانا نہیں پلیز ۔
یہ بول کے بازل نے اسکے لیے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول دیا۔۔
#
صنم آج ڈانس فلور پہ نہیں ایک ٹیبل پہ بیٹھ کے جوس پی رہی تھی اور مسلسل کسی کی نگاہوں میں تھی۔۔۔
شانزے نے آج آنے سے معزرت کرلی تھی دل اسکا بھی نہیں تھا آنے کا مگر گھر میں بیٹھ کو وہ بور ہوجاتی شاہجاں بیگم عترت اور دائ جان شاہجاں بیگم کی دوست کے پوتے کے عقیقہ میں گئے تھے صنم کو بھی انہوں نے چلنے کو کہا تھا مگر اس نے صاف منع کردیا۔۔
ہیلو جانمن یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟؟.
دو تین لڑکوں نے صنم کی ٹیبل پہ آکے ہوٹنگ شروع کردی۔۔
کلب میں اتنا شور اتنا رش تھا کے صنم کے طرف وہاں موجود کسی کا دیھان نہیں گیا ۔
نشے میں موجود ان لڑکوں کو دیکھ کے صنم کی بھی ہوائیاں اڑنے لگی کیونکہ شانزے ساتھ ہوتی تھی تو ایک سہارا ہوتا تھا۔۔
ارے یار او ہم اس حسینہ کو زرا سی کمپنی دے دیں۔۔
یہ بول کے ان تینوں لڑکوں نے صنم کو قابو کیا۔۔
صنم نے اپنے آپکو چھڑوانے کی کوشش کی چیخی مگر میوزک اتنا لاؤڈ تھا کے صنم کی آواز کسی کو سنائ نہیں دے رہی تھی۔۔
ان میں سے ایک لڑکے نے جیسی ہی صنم کی جیکٹ کی طرف ہاتھ پڑھایا ایک دم کسی نے اس لڑکے ہاتھ وہی سے پکڑ کے اسے گھمایا اور ایک زور دار گھونسا اسکے منہ پہ مارا۔۔
دیکھتے دیکھتے صائم اور ان تینوں لڑکوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئ۔۔وہ تین تھے صائم ایک ۔صائم جتنا ان سے لڑ سکتا تھا لڑا مگر اچانک فیضاں نے آکے بیچ بچاؤ کروایا۔۔ایک عجیب سا ماحول بن گیا تھا۔۔
صائم نے فیضان کو اپنے آپ سے چھروایا اور غصہ میں کہا۔۔
یہ کس قسم کے لڑکوں کو تم نے اپنے کلب میں اینٹری دی۔۔
کلب کے گارڈ نے ان تینوں لڑکوں کے کلب سے باہر پھینکا۔۔
جب اچانک صائم ڈری سہمی صنم کی طرف مڑا۔۔
تم ٹھیک ہو؟؟
صنم نے ایک نظر صائم کو دیکھا جسکے ہونٹ کے سائیڈ میں سے خون نکل رہا تھا ماتھے پہ سے بھی ہلکا سا بلڈ نکل رہا تھا۔۔۔
صائم نے سوال پہ صنم نے ہاں میں گردن ہلائ۔۔
گاڑی لائ ہو آپ ساتھ اپنے۔۔؟؟
صائم کے سوال پہ ایک بار پھر صنم نے ہاں میں گردن ہلائ۔۔
آئیے میں آپکو چھوڑ دو ٹائم زیادہ ہوگیا ہے۔۔
جاری ہے۔۔
