Rate this Novel
Epiosode 8
ایک خوبصورت سے ہٹ کے اندر جیسی ہی ہنزہ نے قدم رکھا اسکی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئ۔۔
پوری ہٹ میں صرف ایک ہی ٹیبل تھی جیسے خوبصورت خوشبو دار کینڈل سے سجایا گیا تھا۔۔
ٹیبل کے چاروں طرف گلاب کے پھولوں کے خوبصورت بکے تھے۔۔
دیم لائٹ نے ایک الگ ہی ماحول بنایا ہوا تھا۔
ہنزہ نے پلٹ کے بازل کو دیکھا اور اندر بڑھتے ہوئے کہا۔۔
ویسے لگتے تو تم کافی ولن ٹائپ ہو یہ ہیرو والی خصوصیات کہاں سے آگئ تم میں۔۔
ہنزہ ولن لفظ کا استعمال کرکے بازل کی ہٹا چکی تھی ۔۔ہنزہ نے اپنی شیطانی مسکراہٹ چھپائی اور جاکے گلاب کے پھولوں کو چھونے لگی۔۔
ہنزہ کی بات پہ تپنے کے بعد اب باری ہنزہ کے تپنے کی تھی۔۔
ہمم وہ تو بلبٹوری کے ساتھ رہ رہ کے مجھ میں ولن کی خصوصیات ا گئ تھی۔۔
ہمم اکثر جو لوگ ہنزہ فہیم کی پرسنیلٹی سے جلتے ہیں وہ ایسی ہی بکواس کرتے ہیں۔ہنزہ نے ایک ادا سے اپنےبال۔پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔
ہاں جیسے تم مجھ سے جلتی ہو جبھی دل کی جلن کم کرنے کیلیے یہ ولن جیسے لفظ استعمال کرتی ہو۔
بازل نے بھی برابر کا جواب دیتے ہوئے کہا۔۔
اب صحبت کا بھی تو اثر ہوتا ہے نہ ۔۔اگے کی بات بازل نے ہنزہ کی طرف جھک کے کہی۔۔
ہاں رومینٹک میں تمہاری کس لینے کے بعدہوا۔۔
ک۔۔و۔۔ن۔سی کس ؟؟
بازل کی بات پہ ہنزہ کی گھبراگئ۔۔
اسکے لہجے کی لڑکھڑاہٹ بازل کو بہت مزہ دے رہی تھی۔۔
ارے ہنزہ بی بی وہی کس جو ہم نے ایک دوسرے کے اوپر۔۔اگے کا جملہ بازل نے جان بوجھ کے ادھورا چھوڑا کیونکہ اسے پتہ تھا اسکا تیر نشانے پہ لگا تھا ہنزہ کے ٹمپریچر ہائ ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔
وہ تو غلطی سے ہوا تھا اور بازل۔بہت ہی کوئ بے شرم ہو حد ہوگئ ۔ہنزہ نے اپنی جھینپ مٹاتے ہوئے کہا۔۔
وہ تو میں ہو ..
یہ بول کے بازل نے تیزی سے ہنزہ کو اپنی طرف کھینچا۔۔۔
۔یہ کیا کررہے ہو بازل؟؟
چلو وہ۔کس غلطی سے ہوئ تھی آج۔جان بوجھ کر کرتے ہیں ویسی غلطی۔۔
اتنا بول کے بنا ہنزہ کی بات سنے جیسی ہی بازل ہنزہ۔کے لبوں کو چومنے لگا تبھی اسکا موبائل رنگ ہوا۔۔
موبائل پہ بابر صاحب کا نمبر دیکھ کے بازل فورا ہنزہ سے الگ ہوا۔۔
بابر صاحب کی کال بند ہوتے ہی بازل نے ایک افسردہ سی نگاہ ہٹ پہ ڈالی اور ہنزہ کو کہا۔۔
پاپا کی کال تھی بلاج بھائ کو ائیر پورٹ لینے جانا ہے انکی فلائٹ لینڈ ہوچکی ہے۔۔
سو سوری یار آج کیلیے میں نے کیا کیا سوچا تھا۔۔
کوئ بات نہیں بازل چلو چلتے ہیں۔۔
#
صبح 6 بجے سے وہ لوگ انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہ تھے ۔
8 بجے کی ان لوگوں کی فلائٹ تھی اسکے ساتھ جانے والے سارے اسٹوڈینٹ تقریبا پہنچ چکے تھے چیکنگ اور بورڈنگ کے بعد آدھا گھنٹہ تھا ان کے پاس سارے تقریبا اپنے گھر والوں سے مل چکے تھے مگر ایک ہیر تھی جسکا رونا ابھی تک چل رہا تھا۔۔
ہیر بس کرو پچھلے آدھے گھنٹہ سے تم رو رہی ہو ارے یار آنٹی اپ تو سمجھائے ایسے الٹا آپ بھی اسکے ساتھ لگی پڑی ہے رونے میں۔۔
ہیر کی ایک دوست نے چڑ کے کہا۔۔
ہیر بیٹا بس کرو فلائٹ کا ٹائم ہورہا ہے۔۔
خوشبو نے اسے خود سے الگ کرکے اسکے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔۔
اپنا بہت سارا دیھان رکھنا ،روزانہ مجھے کال۔کرنا ،وقت پہ۔کھانا سدرہ بیٹا دیھان رکھنا اسکا۔۔
ارے آنٹی اپ فکر نہیں مگر پلیز ابھی تو جانے دیں فلائٹ کا ٹائم ہورہا ہے۔۔
آنی پلیز اپنا دیھان رکھیے گا پلیز میڈیسن ٹائم پہ لیجیے گا۔۔
اللّٰہ حافظ۔۔
ہیر کے اندر جاتے ہی خوشبو پلٹ گئ اس ائیر پورٹ سے اسے وحشت آنے لگی ہیر کے جانے کے علاؤہ بھی بہت سی تلخ حقیقت خوشبو کی اس ائیر پورٹ سےجڑی تھی۔۔
#
ماشاءاللہ ماشاءاللہ تم تو بہت خوبصورت ہوگئے ہو ینگ میںن۔
بابر صاحب کی تعریف پہ بلاج مسکرانے لگا۔۔
بلاج بھائ آپ مجھے کب بیٹھائینگے اپنے ائیر فورس کے جہاز میں۔۔؟؟
ہنزہ بھی اسے گھیرے بیٹھی تھی ۔
اب کے چلنا ہمارے ساتھ پھر جنتا دل کرے اتنا بیٹھنا۔۔ہنزہ بلاج کی بات پہ۔خوش ہوگئ تھی کبھی اسے اپنے پاس بازل کی سرگوشی سنائی دی
ابھی تم بازل کے نام کی ڈولی میں بیٹھنے کی تیاری کرو۔۔
بازل جو ہنزہ کے پاس ہی بیٹھا تھا اس نے ہلکی سی سرگوشی کی جو وہاں بیٹھے کسی نے سنی ہو یہ نہیں مگربلاج اسے سن چکا تھا اور سنتے ہی وہ ان دونوں کو دیکھ کے مسکرانے لگا ۔
دو بہنیں آپس میں بیٹھی تو نہ تھمنے والا باتوں کا سلسلہ چل۔نکلا۔۔
بس آپا دعا کرو اس بار مجھے اپنے بلاج کیلیے کوئ اچھی سے لڑکی مل جائے اب وہ شادی کیلیے مانا ہے تو بس میں اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتی۔۔
ہاں ہاں ندا اللّٰہ سب بہتر کرے گا۔۔
آپ بتائے بازل کیلے بات کری ہاجرہ بھابھی سے ہنزہ کی۔۔
ندا بیگم کے پوچھنے پہ سفیہ بیگم نے بابر صاحب کا فیصلہ اسے سنا دیا جیسے سن کے وہ بھی کافی افسردہ ہوئ۔۔
آپا کبھی تو بابر بھائ اپنے آپ سے نکل کے کچھ سوچے۔۔۔
بس ندا چھوڑو یہ باتیں۔
یہ بتاؤ کل جاؤ گی شاہجاں کے گھر۔۔؟
ہاں آپا میں نے کال کردی تھی اسے یہاں آنے سے پہلے کل انشاللہ جاؤنگی بلاج کیساتھ ہی۔۔
ہمم چلو اب تم آرام کرو کافی تھک گئ ہوگی۔۔
#
بازل اوربلاج بیڈ پہ بیٹھے تھے جب بلاج نے اسکا خوشی سے دمکتا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ویسے مجھے پتا تھا تم دونوں کی داستان عشق محبت 🔥 ضرور ہوگی۔۔
بازل جو اپنی سوچوں میں ہنزہ کے سمائے خوش ہورہا تھا۔بلاج کے بولنے پہ ایک دم گھبرا گیا اور کہا۔
کن دونوں مطلب کن کی بات کرہے ہیں بھائ؟؟
او ننھے کاکے کو تو کچھ پتہ ہی نہیں بلاج نے بازل کی ناک کھینچتے ہوئے کہا۔۔
میرے سامنے تو یہ ڈرامہ بند کرو۔۔
بلاج کے کہنے پہ بازل مسکرا کے اسکے گلے لگ گیا۔۔
بس بھائ دعا کرے وہ میری ہوجائے۔ ۔۔
آمین آمین۔۔
میری دعا ہے تم دونوں کیساتھ۔۔۔
#
یار پہلے بولنا تھا تجھے پتہ ہے یہ راستہ کتنا سنسان ہے ی
اتنی دور تونے پالر کی بکنگ کروادی اور اب تو خود نہیں آرہی میں کیسے جاونگی یارصنم۔۔۔؟؟
یار ایڈجسٹ کرلے ماما کی بہت پرانی دوست آرہی ہیں اسپیشلی ماما نے گھر میں رکنے کو کہا ہے ۔۔
چل میںcareem منگواتی ہو پھر۔۔
ہاں پلیز یار سوری ۔۔
صنم کی۔کال کٹ ہوتے ہی شانزے نے گاڑی منگوائ ابھی وہ بات ہی کررہی تھی کے ایک گاڑی تیزی سے اسکے آگے سے گزری اور آگے جاکے پلٹ گئ۔۔
اسکے پیچھے دو گاڑیاں آئ ۔۔
دونوں گاڑیوں ایکسیڈینٹ ہوئ گاڑی کے پاس اکے روکی۔۔
ان میں ایک گاڑی میں سے ایک شخص اترا اس نے الٹی پڑی گاڑی میں سے ایک زخمی شخص کو باہر نکالا ۔۔
شانزے دیکھ رہی تھی کے زخمی شخص گڑگڑا کر اپنی زندگی کی بھیگ مانگ رہا تھا مگر اس شخص کو رحم نہیں ایا اور اس نے اس شخص پہ ایک ساتھ تین فائر کرے۔۔۔
یہ منظر دیکھ کے شانزے کی دلخراش چیخ نکلی جیسی سن کے مطلوبہ شخص اور اسکے ساتھ موجود اسکے گارڈز نے پلٹ کو شانزے کو دیکھا مگر شانزے زیادہ دیر تک نہیں دیکھ پائ اور اسی وقت سڑک پہ بیہوش ہوگئ۔۔۔
جاری ہے۔۔
