Rate this Novel
Episode 47
قسط نمبر #47
زویان ٹیک اوف کرنے لگا تو اسکے پاس ماشا کی کال آنے لگی مگر اسنے ایک کال بھی ریسیو نہیں کی۔۔
کل یونی سے نکلنے کے بعد نجانے کتنی ہی دیر وہ یونی کے بیک سائیڈ پہ بیٹھا،ا رہا اسنے ماشا کیلیے کیا کچھ نہیں کیا اپنے پاپا کے پیسے تک چرائے تھے ۔۔
ماشا کے کہنے پہ وہ جہاں ہیر کو اچھا خاصا سبق سیکھا چکا تھا جس دن اسکی ہیر سے لڑائ ہوئ تھی اسنے اسکی کہی بات کو اگنور کردیا تھا۔ مگر وہ ماشا اور روبرٹ ہی تھے جنہوں نے زویان کو اکسایا تھا ۔
پاکستان سر زمین پہ پیر رکھتے ہی زویان نے صرف ایک ہی دعا مانگی تھی ۔۔
کاش اسے ایک بار ہیر مل جائے تو میں اس سے معافی مانگ لو۔
“کیوں یہ مرد ذات عورت کی ذات کو اسکی عزت کو کھلونا بناتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کے اگر اس نے اپنا معملہ اللّٰہ پہ چھوڑ دیا تو ہمارا کیا ہوگا ؟اگر اسکے دل سے نکلی اہہ سیدھی عرش تک گئ تو ہمارا کیا ہوگا؟
کوئ بھی ہو اس میں یاد رکھو جب ظلم سہنا والا،عزیت سہنا والے آپکے ہر ظلم پہ خاموش ہوجائے پلٹ کر آپ پہ وار نہ کرے تو ڈرو کیونکہ وہ اپنی شکایت اللّٰہ تک پہنچا چکا ہوتا ہے اپنی جنگ میں اللّٰہ کو شامل کرچکا ہوتا ہے اور بیشک میرا رب بہترین انصاف کرنے والا ہے”
نمرہ بیگم نے جب اپنی ماں کی حالت دیکھی تو بلک پڑی کیونکہ انکی ریڑھ کی ہڈی توٹھ چکی تھی اور گرنے کی وجہ بنی
ہارٹ اٹیک۔۔۔
نمرہ بیگم کے سر پہ اور ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ آئ تھی وہ پیرا لائز حالت میں بستر پہ پڑی تھی۔۔
نمرہ بس کرو یار تمہیں امی کو حوصلہ دینا چاہیے اور تم ہی ہمت ہار رہی ہو۔۔
وہاج صاحب نے نمرہ بیگم چپ کرواتے ہوئے کہا ۔
صائم اور زویان دونوں ہی خاموش تھے ایک دوسرے سے بھی رسما دعا سلام ہوئ ورنہ یہ لوگ اسکائپ پہ۔جب بات کرتے تھے تو ان لوگوں کی باتیں کبھی ختم ہی نہیں ہوتی تھی صائم کی پاس باتیں ہوتی تھی کے کتنی لڑکیوں کو وہ بیوقوف بنا چکا اور زویان کی پاس باتیں ہوتی کے یونی میں اسکی پاپولیشن کتنی بڑھ گئ ہے ماشا کے ساتھ آج اسنے یہ کیا وہ کیا اتنی بار کسس کی بلا بلا ڈھیروں باتیں کرتے تھے دونوں مگر آج دونوں ہی خاموش تھے۔۔
ہاں صائم شاکڈ ضرور ہوا تھا زویان کا حلیہ دیکھ کے کیونکہ زویان کو اپنے حلیے سے عشق تھا خاص کر اپنے لمبے بالوں سے مگر اب جو زویان صائم دیکھ رہا تھا اسنے اسکی شخصیت کو ایک نئی پہچان دی تھی۔۔
نمرہ بیگم نے وہاج کو دیکھا جو پہلے سے بھی زیادہ توٹے ہوئے لگ رہا تھے۔۔۔
نمرہ بیگم کو رخسانہ بیگم نے ہوش میں آتے ہی بلایا۔۔
نمرہ بیگم نے جب اپنی ماں کی بات سنی تو بول پڑی۔۔
امی یہ نہ ممکن ہے وہ نہیں مانے گی؟؟.
میری زندگی کا کوئ بھروسہ نہیں بیٹا میں اپنی بچی کچی زندگی میں سب ٹھیک کرنا چاہتی ہو کیا پتہ اسکے بعد میری قبر کا عزاب تھوڑا کم ہوجائے۔۔۔
#
اماں میں سوچ رہی تھی کے اب صنم کیلیے بھی کوئ رشتہ دیکھو۔۔
ہاں شاہجاں یہ تو اچھی بات ہے بیٹیاں جتنی جلدی اپنے گھر کی ہوجائے اتنا اچھا ہے۔۔
وہ دونوں باتوں میں مصروف تھی جب ڈور بیل بجی۔۔۔
شاجہاں بیگم نے جب گیٹ کھولا تو نمرہ بیگم کو کھڑا پایا۔۔
انکی آنکھوں سے شاہجاں اندازہ لگا چکی ہے تھی کے وہ کتنا روئ ہے ۔۔
مگر ان سب سے ذیادہ انہیں تشویش اس بات کی تھی کے اتنی جلدی نمرہ لندن سے واپس کیسے اگئ؟
کہی اظہر کو تو کچھ۔۔۔۔۔۔۔
شاجہاں بیگم نے دماغ میں بے شمار سوچیں ابھرنا شروع ہوگی ۔۔
میں اندر آجاؤ شاہجاں ۔۔۔
نمرہ نے پوچھنے پہ شاہجاں نے اسے اندر آنے کا راستہ دیا ۔۔
اندر آتے ہی نمرہ شاجہاں کے پیروں میں گر گئ ۔
نمرہ کے اس عمل سے شاہجاں ایک دم بوکھلا گئ کچھ ایسا ہی حال ہال میں بیٹھی نغمہ بیگم کا بھی تھا۔۔
ارے نمرہ یہ کیا کررہی ہو ؟؟
ہوا کیا ہے ؟؟
شاجہاں بیگم نے نمرہ بیگم کو اپنے پیروں پہ سے اٹھاتے ہوئے پوچھا نمرہ بیگم کا بلکنا شاجہاں بیگم کو کسی انہونی کا پتہ دے رہے تھے۔۔۔
نمرہ ہوا کیا ہے ؟بتاو پلیز؟؟؟
شاہجاں ماما سیڑھیوں سے گر گئ ہیں ۔۔
یاالٰہی۔۔۔
نغمہ بیگم نے ایک دم اپنےدل پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔
ماما کی ریڑھی کی ہڈی توٹھ گئ ہیں شاہجاں ڈاکٹر کوئ مسبت جواب نہیں دے رہے ہیں ہم انہیں گھر لےکے آگئےہیں وہ بس تم سے ملنا چاہ رہی ہیں۔۔
پلیز شاہجاں منع نہیں کرنا تمہیں اللّٰہ کا واسطہ میرے ساتھ چلو ماما نے تمہیں لینے بھیجا ہے۔۔
اچھا اچھا چلتی ہو رونا تو بند کرو۔۔
خالہ اپ۔۔۔۔۔؟؟
ہاں ہاں میں چلتی ہو چلو۔۔۔
#
مسلسل کسی کی نظروں کی تپش اپنے چہرے پہ محسوس کرکے شانزے کی نیند میں خلل پڑا اس نے آدھی بند آدھی کھلی آنکھوں سے دیکھا تو بہزاد اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
صبح بخیر !!!
میری جان۔۔۔
یہ کہہ کے بہزاد نے جھک کے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے۔
آپ کب سے جاگ رہے ہیں؟
شانزے نے اپنی نگاہیں نیچے کرتے ہوئے کہا اور بہزاد دیکھ سکتا تھا کے وہ اس سے شرما رہی تھی۔۔۔
میں تو پوری رات سویا ہی نہیں….
کیوں؟..
شانزے نے اپنے کندھے سے ڈھلکتی بہزاد کی شرٹ ٹھیک کرتے ہوئے کہا جو کل رات اسنے بہزاد کے کہنے پہ پہنی تھی۔۔۔
بس اتنا سکون جو ملا تمہاری باہنوں میں ویسے میں سوچ رہا تھا بہزاد نے ایک دم اس پہ جھکتے ہوئے کہا۔
بہزاد سوچیے گا بھی نہیں!!! شانزے نے اسکی آنکھوں میں خمار دیکھتے ہوئے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔
کیا ؟؟
میں کیا سوچنے لگا ہو زرا بتانا؟؟
بہزاد نے اسکے لبوں کو نشانہ بناتے ہوئے پوچھا۔۔
بہزاد نہ کرے پلیز ۔۔۔
میں یہ ہی تو پوچھ رہا ہو میں ایسا کیا کررہا ہو ؟
جو تم مجھے روک رہی ہو؟؟.
بہزاد نے اسکے اوپر آکے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں دباتے ہوئے پوچھا۔۔
شانزے کے چہرے پہ ایک بار پھر شرم کے دھنک رنگ بکھرنے لگے چاہتے ہوئے بھی وہ بہزاد کی بڑھتی ہوئی گستاخی نہ روک سکی ۔
بہزاد نے اسکی گردن پہ اپنے لب رکھے اور کہا۔
مجھے نہیں پتہ تھا کے میری زندگی میں بھی کوئ رات اتنی حسین آئے گی۔
تمہاری جسم کی خوشبو سے دل ہی نہیں بھر رہا ۔۔
بہزاد ایک بار پھر اسکے جسم پہ قابض ہونے لگا ۔۔
دھیرے دھیر اسنے ایک بار پھر شانزے کو بے بس کردیا۔۔
شانزے کی شرٹ کے بٹن کھولے بنا اسے نیچے کرکے شانزے کے دل کے مقام پہ بہزاد اپنے لب رکھ چکا تھا۔۔
ایک پھر خماری کا عالم تھا ایک بار پھر دونوں نفوس ایک دوسرے میں گم ہونے لگے ۔۔
تبھی ایک دم دروازہ بجا۔۔
بہزاد بہزاد۔۔۔۔؟؟
ہما بیگم کی آواز اپنے کمرے کے باہر سے سن کے بہزاد اور شانزے دونوں بوکھلائے۔۔
شانزے نے تو ڈور کے واش روم کی راہ لی اور بہزاد نے پریشانی کے عالم میں جلدی سے دروازہ کھولا۔۔
جاری ہے۔۔
