Dastaan Ishq Muhabbat By Mariyam Khan Readelle50216 Episode 62 Part 1
Rate this Novel
Episode 62 Part 1
(پارٹ 1)
زویان کے سینے سے خون نکلتا دیکھ سب کی ہی دلخراش چیخیں نکلی سوائے ہیر کے۔۔
نمرہ بیگم سکتے کی کیفیت میں وہی صوفے پہ گر گئ۔۔
زویان !!!!!!!
صائم نے پوری ڈھار کیساتھ زویان کے گرتے وجود کو سنبھالا ۔۔
بازل ہونقوں کی طرح گھٹنوں کے بل ذمین پہ بیٹھا تھا اس نے بھی بھر پور طریقے سے صائم کیساتھ زویان کے وجود کو سنبھالا تھا!!
ہیر جو سمجھ رہی تھی زویان خالی دھمکی دے رہا ہے اسنے جب زویان کے سینے سے بلڈ نکلتا دیکھا اگے بڑھ کے اسنے زویان کے دل کے مقام پہ اپنا ہاتھ رکھا پلٹ کر اپنا ہاتھ دیکھا تو زویان کا خون اسکے ہاتھ پہ لگا تھا۔۔
اسنے ایک نظر اپنے ہاتھ کو دیکھا اور بیہوش ہوگئ۔۔۔
اظہر صاحب سن کھڑے تھے جب کے بہزاد کے قدم ڈگمگائے تھے ۔۔
اسے یقین نہیں ارہا تھا کے یہ ایسا کچھ کرے گا مگر یہ وقت ہوش سے کام لینے کا تھا اسنے زویان کے وجود کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور باہر بھاگا۔۔
صائم نے ہیر کو گود میں اٹھایا تو اسکا ہاتھ ایک طرف ڈھلک گیا۔۔
ہیر ہیر ۔۔۔!!
انکھیں کھولو ہیر۔۔۔
بازل تم سب کو لے کر ہسپتال پہنچو میں ہیر کو لے کر جاتا ہو۔۔۔
بہزاد زویان کو لے گاڑی کی پچھلی سیٹ پہ پیٹھا اور اپنی قمیض اتار کے اسکے دل پہ رکھی جہاں بلڈ بہت تیزی سے نکل رہا تھا۔۔
مرتضی کسی سگنل پہ گاڑی نہیں روکنا جتنی اسپیڈ میں گاڑی چلا سکتے ہو گاڑی چلاو۔۔
بہزاد اتنی زور سے چیخا کے مرتضی اسکا گارڈ جو سالوں سے بہزاد کے ساتھ تھا نجانے کتنے لوگوں سے بہزاد کو بچاتے ایا تھا اج اسکے ہاتھ گاڑی کے اسٹیرنگ گھماتے ہوئے کپکپا رہے تھے۔۔
بہزاد زویان کے وجود کو ہسپتال کے اندر لے کر پہنچا ۔۔۔
ڈاکٹر ڈاکٹر !!
بہزاد کی ڈھار اتنی تھی کے اس وقت جتنے ڈاکٹرز ہسپتال میں موجود تھے سب تقریبا ڈورتے ہوئے باہر ائے۔۔
بہزاد نے اسے اسٹیچڑ پہ لیٹایا اور چیخ کے ڈاکٹرز کو کہا۔۔
اسے بچانا یے ڈاکٹر اپ نے ؟
مگر سر یہ توپولیس کیسس ابھی اگے کی بات ڈاکٹر کی مکمل نہیں ہوئ کے بہزاد نے اسکے کالر پکڑ کے چیخ کے کہا۔۔
بہزاد راجپوت ہو میں ایک سیکنڈ کے اندر اندر اگر اپنے اسکا علاج شروع نہیں کیا تو یہ ہسپتال اس شہر کے نقشے سے غائب ہوجائے گا۔۔۔
بہزاد راجپوت کی دھمکی سے ڈاکٹرز زویان کو فورا اپریشن ٹھیٹر میں لے کر گئے۔۔۔
اتنی دیر میں صائم ہانپتا کانپتا ہیر کے وجود کو اٹھا کے اندر لایا۔
بہزاد فورا اس تک لپکا جب صائم نے تقریبا روتے ہوئے کہا۔۔
ماموں اسکی سانسیں بہت اہستہ چل رہی ہیں۔۔
بہزاد نے ہیر کی ٹریٹمنٹ بھی فورا شروع کروائ۔۔
پورا خاندان جمع ہو چکا تھا بہزاد کا وائٹ بنیان پورا لال ہوچکا تھا۔۔
ہیر کو بھی ابھی تک ہوش نہیں ایا تھا اسے اکسیجن لگا تھا ڈاکٹروں کا کہنا تھا اسکی ہارٹ بیٹ بہت سلو ہے۔۔۔
زویان کا آپریشن ابھی چل رہا تھا شانزے کو بھی بہزاد نے انفارم کردیا تھا ۔۔
نمرہ شاہجاں عترت تقریبا وہاں موجود ہر شخص زویان کہ صحت کیلئے دعاگو تھا۔۔۔
صائم اور بازل سن تھے دونوں کے کپڑوں پہ زویان کا خون لگا لگا ہوا تھا۔۔ انہیں رہ رہ کے زویان کا ہنستا ہوا چہرہ یاد ارہا تھا۔۔
بہزاد تو بس ادھر سےا دھر ٹہل رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کے اپریشن ٹھیٹر کے اندر چلے جائے۔۔۔
بہزاد اب بیٹھ جائے انشاء اللہ زویان کو کچھ نہیں ہوگا۔۔
شانزے اج ہی تو اس نے مجھے ماموں کہا تھا اج ہی تو ہم۔لوگ قریب ائے تھے شانزے یہ بولتے ہوئے بہزاد کی آنکھیں بھیگنے لگی۔۔۔۔
بہزاد اپ دعا کرے اسکے لیے۔۔
ہیر کے پاس گئ تھی تم؟
ہاں بہزاد ابھی تک اسے ہوش نہیں ایا یے ۔۔
اظہر بھائ پلیز رونا بند کرے اپکی طبیعت بگڑ جائے گی۔۔
کیسے نہ رو وہاج یہ میرے ہی برے کرموں کا نتیجہ ہے جو اج میری اولاد کے سامنے اراہا ہے ۔۔
ایسا نہیں بولے ااظہر بھائ اللّٰہ سے دعا کرے۔۔۔
ہیر کو ہوش ایا؟؟
نہیں بھائ خوشبو اسی کے پاس ہے !!!
آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھول ڈاکٹرز باہر ائے !!.
بہزاد تیزی سے ان تک پہنچا اور پوچھا۔۔
کیسا ہے زویان؟؟
دیکھے بہزدا سر ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے بلٹ ہم نے نکال دی ہے مگرا نکا بلد کافی ضائع ہوگیا ہے اگر اگلے دس منٹ کے اندر اندر انہیں بلڈ نہیں ملا تو وہ بچ نہیں پائینگے۔۔۔
کونسا بلڈ گروپ ہے اسکا ڈاکٹر ؟صائم نے ایک دم پوچھا۔۔۔
0نگیٹو !!
100 میں سے 10 لوگوں کا یہ بلڈ گروپ ہوتا ہے بہزاد صاحب ہم بلڈ بینک میں چیک کروایا ہے اپ بھی معلومات کرے۔۔۔
میرا گروپ ہے 0 نگیٹو!!!
انے والی آواز پہ سب نے مڑ کے دیکھا تو صنم کھڑی تھی سب ہی حیران ہوئے اسے اس وقت یہاں دیکھ کے۔۔
صنم سب کو اگنور کرکے ڈاکٹرز تک پہنچی اور کہا۔۔
میرا بلڈ 0 نگیٹو ہے ڈاکٹر !!
اوکے اپ ائے میرے ساتھ۔۔
ڈاکٹر صنم کو لے کے تیزی سے روم میں گئے۔۔
سب ہی حیران تھے صنم کی اس اچانک آ مد پہ مگر بہزاد وہ صرف شانزے کی طرف دیکھ رہا تھا اسے شک نہیں یقین تھا کے صنم کو یہاں لانے والی اور کوئ نہیں صرف شانزے ہے۔۔!!!
#
صنم کہی نہیں بلکے شانزے کے والدین کے گھر تھی ۔۔
اج شانزے نے اسے زویان کا بتایا جسے سن کے اسے کافی دھچکا لگا ساتھ میں ہیر کی بھی اسے فکر ہونے لگی مگر پھر بھی وہ ہسپتال نہیں آرہی تھی مگر جب شانزے نے اسے سمجھایا تو وہ انسانیت کے ناطے ہسپتال اگئ۔۔۔
#
زویان اب ائ سی یو میں شفٹ تھا صنم جیسے ائ تھی ویسے چلی بھی گئ تھی نہ تو اس نے کسی سے بات کی نہ کسی سے ملی۔۔۔
ہیر کو ہوش تو اچکا تھا مگر وہ بلکل خاموش تھی بلکل خاموش !!!
ہیر کچھ تو کھالو ۔۔؟؟
ہیر نے نفی میں گردن ہلا دی۔۔
صائم اور بہزاد ڈاکٹرز سے ملنے انکے روم گئے۔۔۔
ڈاکٹر اپنے بلایا۔۔۔؟؟
دیکھے بہزاد صاحب بیشک زویان کو بلڈ مل گیا ہے مگر ا سے ہم فلحال بچا پائے ہیں !!
فلحال بچا پائے ہیں مطلب ڈاکٹر ؟؟صائم نے پریشان ہوکے پوچھا۔۔
دیکھے زویان کا ہارٹ ایک انچ بلٹ سے بچا ہے بہزاد صاحب اسے کوئ معجزہ کہہ لے کے انکی سانسیں چل رہی ہیں مگر بہزاد صاحب ۔۔۔۔
مگر کیا ڈاکٹر کلئیر بولے۔۔!!!
کب انکی سانسیں بند ہوجائے میں کچھ کہہ نہیں سکتا ابھی ہم نے انہیں ونٹیلیٹر پہ رکھا ہے انکا بلڈ پریشر بھی کافی ہائ ہے اللّٰہ نہ کرے انکی دماغ کی رگ بھی پھٹ سکتی ہے۔۔
میں صرف اتنا کہونگا کے اگر دو گھنٹے میں اگر انہیں ہوش نہیں ایا تو وہ بچ پائینگے یہ نہیں ہم کہہ نہیں سکتے !!!یہ ہوسکتا ہے ہمیشہ کیلئے کومہ میں چلے جائے۔۔۔
#
چلو خوش ہوجاو ہیر !!!
سانسیں رکنے والی ہیں اسکی کبھی بھی وہ تمہارا پیچھا ہمیشہ کیلئے چھوڑ کے جاسکتا ہے۔۔۔
صائم جب ڈاکٹر کے روم سے نکلا سیدھا ہیر کے روم میں پہنچا جہاں وہ چھت کو گھورنے میں مصروف تھی صائم کے بولنے پہ اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔
معافی مانگ تو رہا تھا ہیر تم سے پاؤں بھی پکڑے تمہارے اگے ٹرپا بھی پھر بھی تمہیں رحم نہیں ایا ۔۔۔
نعوذباللہ تم خدا سے بڑھ کے ہوگئ ارے وہ بھی ہمارے اتنے گناہ پہ ہمارے ایک دفعہ معافی مانگنے پہ ہمیں معاف کردیتا ہے ۔۔
اب پڑھو شکرانے کے نفل !!!
دو گھنٹے میں اگر اسے ہوش نہیں ایا تو مرجائے گا وہ یہ ہمیشہ کیلے کومہ میں چلا جائے گا۔۔۔
صائم یہ بول کے کمرے سے باہر چلا گیا اور اسکے جاتے ہی ہیر رونے لگی۔۔
#
بہزاد کے کہنے پہ ہیر کو ائ سی یو میں جانے کی اجازت ملی تھی۔۔
ہیر نے اندر قدم رکھا تو سامنے ہی اسے زویان دیکھا مشینوں میں جکڑا ہوا۔۔
مجھے معاف کردو ہیر۔۔۔
میں بہت محبت کرنے لگا ہو تم سے !!
ایک موقع دے دو!!!
جب تم ہی زندگی میں نہیں تو اس وجہ ہی کو ختم کردو جو جینے کی وجہ ہو ۔۔
ایک دم ہیر کے سامنے زویان کو خود کو گولی مارنے کا سین چلنے لگا۔۔
اسکے دماغ میں اسکے کانوں میں اسکی منتیں کرنا اسکی فریاد کرنا اسے معافی مانگنے یاد انے لگا۔۔
ہیر کی انسو ایک بار پھر گرنے لگے۔۔
“دکھ لاندے نیں دل وچ ڈیرے!
چارے پاسے دسن ہنیرے!!
دنیا وچھڑے نیں پراوہ!!
دلدار نہ بچھڑے۔۔۔
کسے دا یار نہ وچھڑے”
ہیر انکھوں میں آنسو لیے زویان کی طرف بڑھی۔۔
وہ زویان کی موت نہیں چاہتی تھی صرف اسے یہ بتانا چاہتی تھی کے جب دل ٹوٹتا ہے تو کیسا لگتا یے۔۔جب بھروسہ توٹتا ہے تو زندگی کیسی ہو جاتی ہے جب جان سے عزیز جان کا دشمن بن جائے تو زندگی عزاب لگنے لگتی ہے مگر یہاں تو سب کچھ الٹا ہوگیا زویان اظہر ایک بار پھر اسے خود کی طرف لانے میں شاید کامیاب ہو چکا تھا مگر شاید اب دیر ہوگئ تھی ۔۔
جاری یے ۔
