Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

داستان عشق محبت 🔥❣️
از قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر #20
بہزاد کی دھمکی سے شانزے ڈر گئ تھی کیونکہ اسے لگا اس پاگل آدمی سے اچھائ کی امید نہیں کری جاسکتی۔ بہزاد نے موبائل والے سے موبائل لے کر شانزے کو دیا اور کہا۔
جو تمہیں پسند ہے وہ تمہارا ہے۔۔
بہزاد کی بات کا مطلب شانزے سمجھ نہیں پائے تھی اس نے بہزاد کے ڈر سے موبائل ہاتھ میں ضرور لیا تھا مگر اسنے پکا ارادہ کرلیا تھا کے وہ اس شاپ سے نکلنے کے بعد اس موبائل کیساتھ کیا کرے گی۔
شانزے کے اتنے آرام سے موبائل لینے پہ بہزاد کے لب طنزیہ مسکرائے تھے سمجھ تو وہ بھی شانزے کو گیا تھا اچھی طرح سے ۔
موبائل شاپ سے نکلتے ہی بہزاد کی گاڑی اور گارڈ سامنے کھڑے تھے۔شانزے کی نظریں سامنے چلتے ہوئے روڈ پہ تھی اور بہزاد کہ اس پہ شانزے نے جیسی ہی موبائل کا ڈبہ چلتے ہوئے روڈ پہ یہ سوچ کے پھیکنا چاہا کے کوئ بھی گاڑی اسے روندھ دے گی مگر شانزے خالی ایسا سوچتے ہوئے اپنا ہاتھ بلند ہی کیا تھا جو بلند ہوتے ہی بہزاد کے ہاتھ میں آچکا تھا
بہزاد نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنی طرف آرام سے کھینچا اور کہا۔
اگر یہ موبائل میں نے تمہیں یوز کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو جو تم۔اس موبائل کیساتھ ابھی کرنے کا سوچ رہی تھی وہ میں تمہارے ہونے والے شوہر مراد کیساتھ کرونگا۔۔
بہزاد کے منہ سے خالی اپنی سوچ سن کے ہی شانزے کی گہری نیلی آنکھیں پوری کھل گئ۔۔
یہ مت سمجھنا کے میں خالی خولی دھمکی دے رہا ہو چوبیس گھنٹے تم پہ نظریں ہیں میری اور تم یہ بات تو اچھے سے سمجھ چکی ہونگی کے میں ہو کیا چیز۔۔
لہزا اپنا ننھے سے دماغ پہ زیادہ زور مت دیا کرو بہزاد نے اسکی کنپٹی پہ اپنی دو انگلیاں مارتے ہوئے کہا جیسے شانزے نے بری طرح جھٹکا اور کہا۔۔
اپنے یہ غلاظت والے ہاتھ مجھ سے دور رکھا کرو بہزاد ۔
بہزاد نے اسے بھرپور طریقے سے دیکھ کے اپنے بلیک گلاسس لگائے اور گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے کہا۔
سوچ سمجھ کے اس موبائل کیساتھ کچھ کرنا بعد میں مجھے الزام مت دینا کیونکہ ویسے بھی کافی دن ہوئے کو ایڈوینچر کیے ہوئے۔۔
یہ بول کے بہزاد گلاسس نیچے کرکے شانزے کو آنکھ ماری جو شانزے کو تپانے کیلیے کافی تھی۔۔ گاڑی دھواں اڑاتے ہوئے وہاں سے چلی گئ۔۔
شانزے نے اپنے ہاتھ میں موبائل کو دیکھا اور پھر دور جاتی بہزاد کی گاڑی کو۔۔
شانزے نے چپ چاپ موبائل اپنے بیگ میں رکھ لیا اور رکشہ کرکے گھر کی طرف روانہ ہوگئ۔۔
شانزے کے وہاں سے جاتے ہی اسکے وہاں موجود ایک گارڈ نے بہزاد کو اپڈیٹ کیا جیسے سن کے بہزاد کے لب مسکرائے اور اس نے کہا۔
“ڈیٹس مائے گرل”

#

کہاں ہے وہ بیوفا دوست جس نے چپکے چپکے منگنی کرلی ۔۔۔
انجم نے ہال میں آتے ہی زور زور بولنا شروع کردیا۔۔
کیسی ہو بیٹا۔۔؟
شاجہاں بیگم جو کسی کام سے باہر نکل رہی تھی انجم کے اس طرح آنے پہ اور بولنے پہ مسکراتے ہوئے اسکا حال پوچھا۔۔
میں تو ٹھیک ہو آنٹی یہ آپکی بیٹی کہاں چھپی بیٹھی ہے چھوڑنا نہیں آج میں نے۔۔
شاہجاں بیگم نفی میں گردن ہلاتی ہوئی باہر کو چلی گئ
انجم نے باقائدہ اپنی آستینیں اوپر چڑھاتے ہوئے کہا۔۔
ارے انجم آپی آپ ؟
کیسی ہیں آپ ؟
آپکو کس نے بتایا آپی کی منگنی کا؟
صنم نے انجم کو آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
بس کردو تم دونوں یہ میلو ڈارمہ عترت کی آواز پہ وہ دونوں گھومی۔۔
اوپر آجاؤ ڈرامہ کوئن میں سب بتاتی ہو اور جس نے آپکو انفارمیشن دی ہے منگنی کی اس نے یہ نہیں بتایا کے منگنی ہونے سے 10 منٹ پہلے مجھے بتایا گیا کے میری منگنی ہے۔۔
عترت نے صنم کی طرف گھورتے ہوئے کہا۔
ارے انجم آپی آپ اوپر جائے آپی کے کمرے میں ۔۔صنم نے عترت کو اگنور کرتے ہوئے کہا۔۔
صنم۔نے باقاعدہ انجم کا ہاتھ پکڑ کے اسے سیڑھیوں کی طرف کرا۔۔
آپ جائے ہمارے بلاج بھائ کی پکس دیکھے میں گرما گرما اسنیکس لاتی ہو۔۔
صنم کے منہ سے ادا ہونے والا نام سن کے انجم جو سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی ایک دم لڑکھڑائ ۔۔
ارے آرام سے انجم آپی ۔۔
صنم نے آگے بڑھ کے اسے تھاما
کیا نام لیا صنم۔۔؟
کس کا؟
اپنے دولہے بھائ کا۔۔؟
بلاج بھائ۔صنم کے کہنے پہ انجم نے گردن گھما کے اوپر کھڑی عترت کو انکھیں بڑی کرکے دیکھا عترت انجم کے اس طرح سے دیکھنے پر اپنے کمرے میں چلی گئ۔۔
انجم بھی صنم کو چائے لانے کا بول کے تقریبا سیڑھیوں پہ بھاگنے والے انداز میں چڑھنے لگی۔۔
صنم کندھے آچکا کے کچن کی طرف چلی گئ۔۔
انجم نے عترت کے کمرے میں پہنچ کے لمبا سانس لیا۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہے صنم ؟
کہی میری چھٹی حس صحیح اشارہ تو نہیں دے رہی؟
یہ بلاج کہی وہ بلاج تو نہیں۔؟
انجم نے عترت کے روبرو آکے پوچھا۔
عترت نے ایک لمبی سانس لے کے منگنی تک کا سارا ڈرامہ بلاج کے طنز بھرے جملے سب انجم کو بتادیا۔۔
انجم سن کے خوش بھی تھی اور شاکڈ بھی۔
یار آج پکا یقین ہوگیا ۔
بے شک سچی محبت کرنے والوں کا اللّٰہ بھی ساتھ دیتا یے۔
جو سلسلہ ختم ہوچکا تھا امید بھی نہیں تھی جسکی وہ ہوا ہے عترت۔۔
بلاج کی آنکھوں میں میرے لیے صرف نفرت ہے انجم ۔۔مگر تم تو اس سے آج بھی محبت کرتی ہو۔۔
جب تم اسے حقیقت بتاوگی وہ نفرت محبت میں نہیں عشق میں بدل جائے گی۔۔عترت
جس رشتہ میں صفائیاں دینی پڑی وہاں محبت کیسی۔۔
جو اس نے دیکھا عترت اسکی جگہ اگر تم بھی ہوتی تو تمہارا بھی یہی ریکشن ہوتا۔۔
انجم نے عترت کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے کہا۔۔
نہیں انجم میں کبھی یقین نہیں کرتی کیونکہ محبت کی پہلی شرط بھروسہ ہے یقین ہے۔جب آپ کسی کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ لیتے ہو تو شک کی گنجائش باقی نہیں رہنی چاہیے میری اسنے اس وقت سنی نہیں مجھے اتنی بڑی سزا سنادی اس وقت انجم اور اب میں اسے کچھ بھی سنانا نہیں چاہتی میرے کرادر پہ انگلی اٹھا کے بنا میری بات سنے وہ مجھے چھوڑ گیا تھا انجم ۔۔
مگر ابھی وہ لوگ اور بات کرتے صنم چائے لےکر کمرے میںں اچکی تھی اور انجم یہ بات جانتی تھی کے بلاج اور عترت کی محبت سے اسکے گھر والے انجان یے۔۔

#

ہیر اور اسکے گروپ والوں کو اس واقعے کے بعد زی گرپ نے تنگ نہیں کیا۔
یہ بات ہیر اور سدرہ کیلیے پر سکون تھی۔۔
ہیر اپنی اسٹڈی پہ ہی فوکس کررہی تھی اس نے ابھی تک لندن شہر دیکھا بھی نہیں تھا جبکے وہ پہلی بار اپنے شہر سے تو کیا اپنے ملک سے باہر نکلی تھی۔۔
آج وہ لوگ ایک اسائمنٹ بنانے کے چکر میں کافی تھک گئے تھے۔
ہیر کے گروپ کے باقی اسٹوڈینٹ ہاسٹل چلے گئے تھے مگر ہیر اور سدرہ ابھی ابھی لائبریری سے نکلی تھی۔۔
یار سدرہ کینٹین چلتے ہیں بہت بھوک لگ رہی ہے ۔؟
تو ہی کھا یہاں کا ابلا ہوا بد ذائقہ کھانا میں تو ہاسٹل جارہی ہو۔۔
یار چل تو لے کینٹین تک!
یار اللّٰہ کو مان ہیر تو نے اچھی خاصی میری بینڈ بجا دی ہے اس اسائمنٹ میں ۔۔
میں جارہی ہو ہاسٹل اگر ویج برگر ملے تو میرے لیے لیتی ہوئ آجانا ورنہ میں وہی ہاسٹل کا کھانا کھالونگی۔۔
اچھا چل صحیح ہے تو جا۔۔
سدرہ ہاسٹل کی طرف بڑھی تو ہیر نے بھی کینٹین کی طرف رخ کیا۔
ابھی وہ برگر لے کر مڑی ہی تھی کے سامنے زی کا گروپ کھڑا تھا مگر زویان ان میں شامل نہیں تھا۔۔
ہیر انکو اگنور کے کے فلحال جانے کا ارادہ رکھتی تھی کیونکہ ایک تو کینٹن تقریبا خالی تھی اوپر سے وہ اکیلی تھی اسلیے اسنے فلحال ان لوگوں کو اگنور کیا اور جانے لگی تبھی ماشا نے اسکا راستہ روکا اور اسکے ہاتھ سے جیسی ہی برگر چھینے لگی۔۔
کسی نے ماشا کا ہاتھ پکڑا۔۔
زی میں آج اسے چھوڑونگی نہیں اس تھپڑ کا بدلہ لے کر رہونگی۔چھوڑو میرا ہاتھ
ماشا میں نے تمہیں منع کیا تھا نہ کے ان کو تنگ نہیں کرنا ۔۔
زویان کے کہنے پہ ہیر نے نگاہ اٹھا کے اسے دیکھا۔۔
تم اسے کے پیچھے مجھے ہرٹ کررہے ہو زی۔۔۔
ماشا لیوو ہر۔۔
نو ۔۔
یہ بول کے ماشا نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور دوبارہ ہیر پہ حملہ کرنا چاہا جب زویان نے ایک گھومتا ہوا چماٹ ماشا کے منہ پہ مارا۔۔
ماشا سمیٹ اسکے گروپ کے سارے لوگ زویان کو دیکھنے لگے۔۔
ماشا نے آنکھوں میں حیرانی لے کر کہا۔۔
تم۔نے اسکے پیچھے مجھے مارا۔۔۔
آپ جائے پلیز۔۔
زویان نے ماشا کو اگنور کرکے ہیر سے کہا جو ڈری سہمی کھڑی تھی۔۔
زویان کے بولنے پہ تیزی سے کینٹین سے نکلی اور ہاسٹل میں جاکے ہی سانس لیا۔
کمرے میں پہنچ کے ہیر لمبی لمبی سانس لینے لگی۔۔
سدرہ جو واش روم سے نکلی تھی ہیر کی ایسی حالت دیکھ کے گھبرا گئ۔۔
کیا ہوا ہیر ؟
تم اتنا گھبرائے ہوئ کیوں ہو؟
سدرہ کے پوچھنے پہ ہیر نے جو اسے بتایا وہ سدرہ کے لیے ناقابل یقین تھا۔۔
یقین نہیں آرہا مجھے ہیر آج زی نے ماشا کو تھپڑ مارا وہ بھی تمہارے لیے۔۔
یقین تو مجھے بھی نہیں آیا تھا جب زویان نے ماشا کو روکا تھا۔
افف اچھا ہو اوقت پہ زویان اگیا۔۔
سدرہ کے کہنے پہ ہیر نے ہاں میں گردن ہلائی
جاری ہے۔۔۔
See translation