Rate this Novel
Episode 27
ساحل سمندر پہ بیٹھے صنم آنسوؤں سے رو رہی تھی جب بھی وہ اداس ہوتی یہی آتی ایک مخصوص جگہ تھی اسکی جس پر وہ اورشانزے اکثر آکر بیٹھتے تھے ۔
صنم کے موبائل پہ صائم کی کال آنے لگی۔۔جیسے صنم ڈسکنیکٹ کرچکی تھی ۔۔۔
آج دوسرا دن پورا ہونے والا تھا عترت کے نکاح کی تیاریوں میں وہ بہت ذیادہ مصروف تھی۔۔اسلیے صائم سے بات نہیں ہو پارہی تھی۔۔۔
دوسری دفعہ جب صائم کی کال آنے لگی تب صنم نے اپنے آنسو پوچ کے کال ریسیو کی..
بڑے افسوس کی بات ہے صنم کوئ ایسے کرتا ہے کل سے نہ کوئ میسج نہ وائس نہ کال کہاں بزی ہو تم؟؟
صائم جو شروع ہوا تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔
ہیلو صنم ہیلو۔۔۔
صائم کو لگا شاید اسے اسکی آواز نہیں آرہی ۔۔
صائم۔۔۔
صنم کے بولنے پہ صائم ایک دم چپ ہوا ۔۔
کیا میں رات میں بات کرو تم سے؟؟
تم رو رہی ہو صنم ؟
صائم کے سوال پہ صنم نے بہت مشکلوں سے اپنے آنسوؤں کا گلہ گھونٹا۔۔۔
نہیں میں تو نہیں رو رہی آواز خراب ہے میری۔۔
جھوٹ مت بولو صنم تم رو رہی ہو ۔تمہاری آواز سے صاف پتہ چل رہا ہے اور یہ تم ہو کہاں ہ؟
بہت شور ہورہا ہے جیسے بہت تیز ہوا چل رہی ہو۔۔
صائم۔ ے بیچینی سے صنم سے سوال کیا مگر صنم نے اسکی بات کا جواب دیے بنا کال کٹ کری اور موبائل اووف کردیا ۔
دوبارہ گھٹنوں میں سر دے کے رونے لگی۔۔
جب رو رو کے تھک گئ تو وہاں سے جانے کا سوچا کیونکہ اندھیرا پھیلنے لگا تھا۔۔
صنم کھڑے ہوکے جیسی مڑی تو بہزاد کو خود کو تکتا پایا۔۔
بہزاد کو دیکھ کے صنم ایک دم غصہ میں ہوکے بہزاد سے روبرو آکے پوچھنے لگی۔۔
آپ مجھے فالو کررہے ہیں؟
یعنی حد ہوگئ پرائیویسی نام کی چیز اب میری زندگی میں ہے یہ نہیں۔۔
اگر پرائیویسی کا اتنا شوق ہے تو بند کمرے میں رونا تھا نہ یہاں کھلے آسمان کے نیچے سمندر کے سامنے کیوں میلو ڈرامہ لگایا ہوا ہے۔
بہزاد کے بولنے پہ صنم اسے اگنور کرکے جانے لگی۔۔
بہزاد بھی اسکے ساتھ چلنے لگا اور کہا۔
باپ ہے تمہارا دنیا کی کوئ طاقت یہ رشتہ بدل نہیں سکتی اب تم مانو یہ نہ مانو۔۔۔
بہزاد کے بولنے پہ صنم چلتے چلتے رونے لگی ۔۔
بہزاد کو اس لڑکی کو دیکھ کے کافی دکھ ہوا۔۔پیدا ہوتے ہی یہ باپ کے پیار سے محروم ہوگئ تھی۔۔
شاہجاں نے ابھی اسے آدھا گھنٹہ پہلے کال کرکے گھر میں ہوا تماشہ بتایا تھا اور صنم کا اسطرح جانا بھی صنم کو ڈھونڈنا بہزاد کیلیے کوئ مشکل نہیں تھا۔۔
آپ بول سکتے ہیں بی ایم۔۔
غصہ میں ہی صحیح مگر صنم بہزاد کے ساتھ اپنا اصل رشتہ قبول کرکے اسے نام دے چکی تھی اور بہزاد اسکا یہ لقب خود کیلے سن کے مسکرایا تھا۔۔
آپکو کیا پتہ باپ کے ہوتے ہوئے بنا باپ کے زندگی گزارنا کیسا ہوتا ہے۔۔۔
صنم کے کہنے پہ بہزاد کے چہرے پہ افسردگی چھائ اسنے صنم کو چلتے چلتے کہا۔۔
صحیح کہہ رہو جسکا باپ محظ 15 سال کے لڑکے کو اس دنیا میں اکیلا چھوڑ کے چلا گیا اسے کیا پتہ کے بنا باپ کے زندگی گزارنا کیسا ہوتا ہے ۔تم خوش قسمت ہو صنم تمہارا باپ زندہ ہے تمہارے سامنے ہے جب چاہو ان سے غصہ شکوہ پیار کرسکتی ہومگر میں اس احساس سے محروم ہو۔۔
صنم نے جب بہزاد کی بات سنی تو رک کے انہیں دیکھنے لگی مگر ڈھونڈنے سے بھی صنم کو بہزاد کے چہرے پہ تکلیف کے آثار نہیں ملے۔۔کیونکہ بہزاد راجپوت کو اپنا درد چھپانا اچھے سے آتا تھا۔۔
ایسے نہیں دیکھو مجھے پتہ ہے میں بہت ہینڈسم ہو۔۔
بہزاد کے اسطرح بولنے پہ صنم نے منہ بنایا۔۔
بہزاد نے اپنے گارڈز کو اشارہ کیا وہ صنم کی گاڑی میں بیٹھے اور صنم کو بہزاد نے اپنی گاڑی میں گھر چھوڑا۔۔۔
#
جسطرح سے اظہر صاحب گھر آئے تھے نمرہ کی ہمت نہیں ہوئ تھی کے ان سے پوچھے وہاں کیا ہوا۔۔
اگلے دن صائم کو وارن کردیا گیا تھا کے آج اسے فیملی کیساتھ ایک۔ایونٹ میں جانا ہے پوچھنے پہ صائم کو بتایا گیا کے رشتہ داروں کے ہاں انکی بیٹی کا نکاح ہے۔۔
بلاج نے وائٹ کاٹن کے سوٹ پہ گولڈن واسکٹ پہنی تھی اپنا پٹھانی قلہ پہن کے بلاج پہ بھی روپ آیا تھا دولہا بنے کا۔۔بلاج نے طنزیہ مسکراتے ہوئے اپنے آپکو شیشیہ میں دیکھ کے کہا۔۔
دن آیا بھی کب آیا جب دل اسکو اپنانے کے حق میں نہیں ۔۔
دروازے کی ناکک پہ ہنزہ نے اپنا ڈوپٹہ سیٹ کیا اور دروازے بجانے والے کو آنے کی۔جازت دی۔۔
دروازہ کھول کے بازل اندر آیا جو ہنزہ کو دیکھ اپنے سارے اوسان خطا کرچکاا تھا۔۔۔
لائٹ پپیچ اور سلور کلر کے انگ رکھے میں لمبے بالوں کو کرل کیے تھوڑی ہیوی جیولری پہنے ہنزہ پورے حق سے بازل کے دل پہ براجمان ہوچکی تھی ۔
جب آنے والا دو منٹ تک کچھ نہیں بولا تو ہنزہ نے پلٹ کے دیکھا اور بازل کو دیکھ کے اسے حیرت ہوئ
۔
بازل تم دروازہ ناکک کرکے آئ ہو رئیلی۔۔۔؟؟
ہنزہ کی بات پہ بازل جو وائٹ کاٹن کے سمپل شلوار قمیض پہ بلیک پشاوری پہنے ہنزہ کی بھی دل کی دنیا ہلا رہا تھا۔ اسکے قریب آیا اور اپنا موبائل نکال کے اسکی اور اپنی سیلفی لیتے ہوئے کہا۔۔
مجھے کسی نے کہا ہے کے جب تک لڑکی محرم نہ بن جائے اسے فاصلہ رکھو بھلے محبت نہیں عشق کرو مگر حلال طریقے سے۔۔۔
بازل کی بات پہ ہنزہ دل کھول کے مسکرائ اور اپنے ہاتھوں سے بازل کی نظر اتارتے ہوئے کہا۔۔
ہائے میں صدقے۔۔۔
بازل نے مسکراتے ہوئے ہنزہ کی ناک کھینچی اور کہا۔۔
پتہ اس وقت میرا دل چاہ رہا ہے کم از کم 10 منٹ تک میں تمہارے لبوں کو چومتا رہو۔۔
مگر اب جب تم محرم بن کے میری زندگی میں شامل ہوگی تو دس منٹ نہیں جب جب میرا دل چاہے گا میں تب تب تمہیں چومونگا۔۔
اففف ۔۔
ہنزہ نے دل پہ ہاتھ رکھ کے گرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا۔۔
تو بازل نے قہقہ لگایا ۔
#
ایک خوبصورت سا حال بہزاد نے ارینج کیا تھا جسے اوریجنل وائٹ پھولوں سے سجایا گیا تھا اسٹیج کو دو حصوں میں بانٹا گیا تھا اور بیچ میں اصلی گلاب اور موتیے کے پھولوں کا پردہ تھا۔۔
حال کی شان اپنی آپ تھی اور کیوں نہ ہوتی اسے سجانے کی زمیداری بہزاد راجپوت نے جو لی تھی ۔
#
وائٹ اور گولڈن کلر کے بہت ہی خوبصورت شرارے میں ہیوہ میک اپ کیساتھ ہیوی جیولری پہنے ناک میں بڑی سی مغلیائ نتھ ڈالے ہاتھوں میں گولڈن کلر کی چوڑیاں پہنے ہاتھوں میں ٹکیوں کی صورت میں مہندی لگائے ریڈ کلر کے ڈوپٹہ سے گھوگھنٹ ڈالے عترت خود کو بھی پہچاننے سے انکار کرچکی تھی۔۔
اہستہ۔اہستہ سارے مہمان کی آمد ہونا شروع ہوگئ تھی ۔۔
وہاج کی فیملی بھی اچکی تھی۔۔
صائم خاموشی سے بور ہونے والے انداز میں ایک ٹیبل۔پہ بیٹھا تھا جب اسے ٹی پنک کلر کے شرارہ میں گھومتی صنم دیکھائے دی جو میک اپ میں بہت حسین لگ رہی تھی اور ساتھ میں شانزے بھی سیم سیم ڈریس پہہنی ہوئ تھی ۔
صائم کا دل صنم کو دیکھ کے باغ باغ ہوگیا۔صنم کی نظر ابھی تک صائم پہ نہیں پڑی تھی۔۔
بہزاد آج کے دن تو اپنے گارڈز چھوڑ کے آتے ۔۔
شاہجاں بیگم نے اسکے گارڈز کو دیکھ کے منہ بناتے ہوئے کہا ۔
ارے ملکہ تمہیں پتہ نہیں آج ہنگامہ آرائ لوگوں کی آمد ہے کچھ بھی وبال مچ سکتا ہے ۔
بہزاد کی بات کا مطلب سمجھ کے شاہجاں نے اسکے ہاتھ پہ ہلکا تھپڑ لگایا۔۔۔
اظہر صاحب جیسی ہی ان دونوں کے قریب آئے بہزاد وہاں سے چلا گیا۔۔
بہزاد نے ایک نظر بھی اظہر صاحب پہ نہی ڈالی تھی اور ایسا کرنے پہ اظہر صاحب کو بہزاد کی پچپن میں کہی بات یاد ائ۔۔
اظہر بھائ اگر اپنے کبھی بھی میری ملکہ کا دل دکھایا تو میں آپ سے ایسا ناراض ہونگا کے آپکی طرف دیکھوں گا بھی نہیں ۔
بلیک کلر کے سمپل شلوار قمیض پہنے اس پہ گرین انکھیں بہزاد کی شخصیت وہاں سب کی توجہ کا مرکز بنا رہی تھی ۔۔
شانزے نے جب بہزاد کو وہاں دیکھا تو بہت مشکلوں سے صنم نے اسے جانے سے روکا تھا اور وجہ بتائ تھی بہزاد کے یہاں ہونے کی جیسے سن کے شانزے شاکڈ تھی۔۔
صنم نے اس سے کہا وہ صرف عترت آپی کا نکاح انجوئے کرے بہزاد سے وہ بات کرچکی ہے اب وہ اسے تنگ نہیں کرے گے۔
صنم نے شانزے کو تسلی دینے کیلیے یہ بات کہہ تو دی تھی مگر اسے آج خود بہت ڈر لگ رہا تھا نجانے کیوں۔۔
جاری ہے ۔
