Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 69

صائم نے ساری رات سوتے جاگتے گزاری زندگی میں کبھی اسے اتنا ڈر نہیں لگا جتنا اسے صبح ہونے سے لگ رہا تھا۔۔
فجر کی نماز پڑھ کے وہ ایا تو لان میں ہی بیٹھ گیا جب اسکے نمبر پہ بہزاد کی کال انے لگی۔۔
آسلام علیکم ماموں!!!
وعلیکم اسلام ۔۔۔
صائم بتایا نہیں پھر تم نے کل رات کا کچھ بھی !!
میں نے اپکو ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا دو دن بعد تو اپکی وائف گھر ائ تھی اور عاشر اور نانو بھی یہاں تھے تو مجھے مناسب نہیں لگا۔۔
یہ بات بول کے صائم نے اپنی مسکراہٹ چھپائ تو ادھر صائم کی بات کا مطلب سمجھ کے بہزاد نے مسکراتے ہوئے نفی میں گردن ہلائ اور کہا۔۔
اتنے سیدھے کب سے ہوگئے اپ صائم وہاج!!
جب سے اپکی بھانجی سے عشق ہوا ۔صائم کے جواب پہ دونوں کا مشترکہ قہقہ گونجا ۔۔!!
بہزاد نے بلکل سیریس ہوکے پوچھا!!
کہاں تک پہنچا مسئلہ یہ بتاؤ ؟؟
بہزاد کے پوچھنے پہ صائم نے کل رات ہوئ اپنی اور صنم کے درمیان ہوئ ساری بات بہزاد کو بتادی۔۔
مان جائے گی صائم محبت وہ تم سے اج بھی کرتی یے بس اس منظر کو بھولنا اسکے لئے مشکل ہے جس منظر نے اسکا۔دل توڑا۔۔
مگر میں اتنا بھی جانتا ہو تم وہ منظر اسکے دماغ سے نکال دوگے۔۔
بس ماموں اپ میرے لئے دعا کرے اج فیصلہ میرے حق میں۔۔
انشاللہ صائم تمہارے حق میں ہوگا۔۔

#

سب ہی ناشتے کی ٹیبل پہ بیٹھے تھے ہفتے کا دن تھا تو افس کا اج اوف تھا ۔۔
صائم بھی ٹیبل پہ موجود تھا اور بہت بیچینی سے صنم کا ویٹ کررہا تھا ۔۔
ہیر اور زویان ایک ساتھ بیٹھے تھے اور دونوں کسی بات پہ۔مسکرا رہی تھے ۔۔
زویان جو باتیں تو ہیر سے کررہا تھا مگر اسکا سارا دیھان صائم پہ تھا جو بار بار اوپر سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں سے صنم کو انا تھا صائم کو اتنا بیچین دیکھ کے زویان کے ہاتھوں میں کھجلی ہوئ اور اسنے صائم کے نمبر پہ ٹیکس کردیا۔۔
انتہا ہوگئ انتظار کی۔۔۔
ائ نہ کچھ خبر میرے یار کی۔۔۔
ٹیکس پڑھ کے صائم نے غصہ نہیں کیا بس زویان کو دیکھ کے مسکرایا ۔۔
جب زویان نے پھر ٹیکس کیا۔۔
اجائے گئ بھائ صبر صبر۔۔۔
ابھی وہ دونوں باتوں میں مصروف تھے جب ہال میں صنم کے سلام کی اواز گونجی۔
آسلام علیکم ۔۔۔
بوتل گرین اور بلیک کنٹراس کی سپل قمیض شلوار میں بالوں کا اونچا جوڑا بنائے وہ صائم کو اپنی طرف متوجہ کرچکی تھی۔۔
مگر وہ مسلسل صائم کی طرف دیکھنے سے گریز کررہی تھی جبکے صائم کی نگاہیں اسکے ہاتھوں کی طرف تھی وہ وہ انگوٹھی دیکھنا چا رہا تھا جو اس نے کل رات اسے دی تھی وہ انگھوٹی ہی صائم وہاج کی زندگی کا فیصلہ کرنے والی تھی۔۔
زویان بھی کس ایسی ہی سیٹویشن میں تھا مگر افسوس وہ بھی رنگ دیکھنے میں ناکام رہا صنم کے ہاتھ ڈوپٹے میں ذیادہ تھے اسی وجہ سے ۔۔۔
صنم نے نگاہ اٹھا کے صائم کو دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
صنم کو اج وہاج کی لائٹ گرین انکھوں میں ایک امید دیکھی ایسی امید جسے مرنے والے کو زندگی کی نوید سنائ جانے والی ہو ۔۔
صائم کو دیکھتے ہوئے صنم نے اپنے الٹے ہاتھ سے چائے کا کپ پکڑا اور وہی لمحہ تھا جب صائم نے اسکے ہاتھ کی تیسری انگلی میں اپنی دی ہوئ انگھوٹی دیکھی جہاں صائم کے لبوں پہ حسین مسکراہٹ ائ وہی صنم نے بھی اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے چاہے کا کپ اپنے لبوں سے لگالیا۔۔
زویان نے جب ان دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو خود قہقہ لگاتے ہوئے ہنس پڑا ۔
بیٹا طبیعت ٹھیک ہے اپکی ؟اظہر صاحب نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔۔
کیونکہ زویان کو ایسا ہنستا ہوا دیکھ کے سب ہی اس کی طرف متوجہ ہوگئے تھے سوائے ہ صنم اور صائم کے کیونکہ وہ دونوں جانتے تھے اسکے ہنسنے کی وجہ۔۔جبکے ہیر بھی کنفیوز ہوکے زویان کو دیکھنے لگی
ہاں پاپا اب تو سب صحیح یے۔۔
صائم کا بس نہیں چلا رہا تھا جا کے صنم کو ابھی اسی وقت سب کے سامنے گلے لگا لے۔۔
مگر افسوس ایسا ناممکن تھا۔۔
صائم کی نظریں مسلسل صنم پہ تھی اور وہ تھی کے اب نگاہیں نہیں اٹھا رہی تھی۔۔۔
ہیر نے ناشتہ کرتے کرتے صنم سے پوچھا ۔۔۔
چلنا ہے کیا پھر ہنزہ کی طرف؟؟
ہاں ہاں بس ایک گھنٹے میں نکلتے ہیں شانزے بھی ابھی یہاں انے والی ہے۔۔
خوشبو میرے کمرے میں چائے لے آؤ ۔۔وہاج صاحب نے خوشبو بیگم کو بولتے ہوئے کمرے کی راہ لی
باقی سارے بڑے بھی اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے جب صائم نے اج ہی وہاج سے بات کرنے کی ٹھانی ۔۔
سب کے جاتے ہی صائم اٹھ کے صنم کے پاس انے لگا تو اس نے اسے انکھیں دیکھا کے انے سے روکا۔۔
زویان جو سارے اشارے دیکھ رہا تھا۔۔
ہیر کو مخاطب کرکے کہنے لگا۔۔
کچھ لوگوں نے اشارے کرنے میں اور سمجھنے میں پی ایچ ڈی کری ہوئ ہے
۔زویان کے بولنے پہ صائم نے کے اسکی گردن میں اپنا ہاتھ پھنسایا جب کے ہیر ابھی تک کنفیوز تھی کے ہو کیا رہا مگر جب صنم کو مسکراتا دیکھا تو معملہ سمجھ کے خوش ہوکے صنم سے پوچھنے لگی۔۔
صنم ادھر دیکھو ؟؟سچ میں!!
ہیر کے پوچھنے پہ صنم نے ہاں میں گردن ہلائ جب خوش ہوکے ہیر اسکے گلے لگ گئ۔۔ادھر زویان بھی خوشی میں صائم کے گلے لگ گیا۔۔
اج وہاج مینشن میں ایک بار پھر خوشیاں بکھر رہی تھی بس اب صائم کو وہاج کو منانا تھا تاکے وہ اظہر صاحب سے بات کرے شادی کی..
صائم نے وہاج کے کمرے کے باہر کھڑے ہو کے لمبی سانس لی اور دروازہ بجانے لگا۔۔
آجاؤ ۔۔۔۔۔
اجازت ملتے ہی صائم اندر گیا۔۔
وہاج کو دیکھ کے چائے پیتے وہاج نے ایک ائیبرو اچکا کے اسے دیکھا اور دوبارہ چائے پینے لگا جب کے وہاج کو ایسے کمرے میں دیکھ خوشبو بھی حیران تھی۔۔
پاپا مجھے اپ سے بات کرنی ہے!!.
میں نے بھی تمہیں کہا تھا کے جب تک صنم تمہیں معاف نہیں کردیتی ہمارے درمیان کوئ اور بات نہیں ہوگی۔۔
ارے یار ماما اپنے شوہر کو بولے دو منٹ بات سن لے میری نخرے ایسے دیکھا ریے جیسے میں نے شاہ رخ خان سے اپوائنٹمنٹ مانگنے کا بولا ہو۔۔صائم کی بات پہ وہاج نے ا ہونقوں کی طرح اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔۔
وہاج صحیح بول رہا یے صائم بات تو سنو اسکی کہہ کیا رہا ہے۔
ہاں تو !!صائم بھی بول پڑا۔۔
وہاج نے گھور کے دونوں کو دیکھا اور دوبارہ چائے پینے لگا جب خوشبو کے اشارہ کرنے پہ صائم نے اپنی بات کہنا شروع کی۔۔
پاپا اپ اج اظہر چاچو سے میری اور صنم کی شادی کی بات کرے۔۔۔
وہاج صائم کی بات سن کے طنزیہ ہنسا اور کہا۔۔
مجھے لگتا ہے اج تم نے اپنے بیٹے کو ناشتے میں کوئ نشہ اوار چیز کھلائ ہے جبھی بہکی بہکی باتیں کررہا ہے جاو جاکے اسے لیموں چٹاو۔۔۔
پاپا میری بات تو سنے پوری!!!!
کیا سنو تم بول کیا رہے ہو تمہیں پتہ ہے ایک بار پہلے بھی اس بات کو لے کر تماشہ ہوا تھا یاد تمہیں اب تم کیا چاہتے ہو دوبارہ کوئ تماشہ؟؟؟
پاپا میری بات سنے پہلے۔!!
صائم کے بولنے پہ لمحہ بھر کیلئے وہاج خاموش ہوا جب صائم نے کہا۔۔
پاپا میں نے صنم کیساتھ اپنے معاملات کلئیر کرلیے ہیں اسنے معاف کردیا ہے مجھے !!.
کیا ؟؟
سچ کہہ رہے ہو؟؟
ہاں پاپا اسلئے میں چاہتا ہو اپ اج ہی اظہر چاچو سے بات کرے میری شادی کی۔۔
ہان ہاں کرلینگے بات ابھی ہاتھ پہ سرسوں مت جماؤ ۔۔
وہاج صاحب نے فلحال اسے ٹالا۔۔۔
پاپا خود تو اپ دو دو کرکے بیٹھ گئے دونوں سے ایک ایک سیمپل بھی اپنے لانچ کردیا میرے باری میں اپ مجھے بول رہے ہیں رکو۔۔۔
صائم کے بولنے پہ جہاں چائے پیتے وہاج کے منہ سے چائے چھلکی اور وہ ہونقوں کی طرح وہاج کو دیکھنے لگا وہی خوشبو کی بھی ہنسی نکلی۔۔
میں بتا رہا ہو پاپا اج رات تک اپ اظہر چاچو سے بات کرلے ویسی ہی میرے بچے بہت لیٹ ہوگئے ہیں دنیا میں انے کیلئے ۔۔
اتنا بول کے صائم وہاج کو حیران چھوڑ کے کمرے سے باہر نکلا وہی خوشبو بیگم ہنسنے لگی۔۔
اج بہت دونوں بعد وہاج صاحب نے انہیں ہنستے ہوئے دیکھا تو اٹھ کے انکے قریب اکے انہیں کمر سے تھام کے خود سے لگایا اور کہا۔۔
اپنے بیٹے کی بات پہ بہت ہنسی آرہی ہے ؟؟
یہ بول کے وہاج صاحب جیسی ہی خوشبو بیگم کو چومنے کیلئے جھکے خوشبو بیگم نے انکے سینے پہ ہاتھ رکھ کے روکا اور کہا۔۔
وہاج کچھ تو عمر کا لحاظ کرے۔۔۔
جان وہاج مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا وہ جب چاہے جس وقت چاہے جس عمر میں چاہے پیار کرسکتا ہے اپنی بیوی کو۔۔
مگر پاپا مجھے ابھی جوانی میں ہی اپنی بیوی کو پیار کرنا۔ہے اپکی طرح بڑھاپے میں نہیں۔۔
صائم نے ایک دم دروازہ کھول کے یہ بات کہی !!
جہاں خوشبو بیگم گڑبڑائ کچھ ایسا ہی حال وہاج کا بھی تھا۔۔
ویسے پاپا رومینس میں اپنے اپنے بیٹے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اتنا بول کے صائم مسکراتا ہوا چلا گیا ۔۔
اسکے جاتے ہی وہاج نے افسوس کہا۔۔
زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی اس نالائق کو بہزاد کے ہاتھوں سے گھٹی دلوانا۔۔
جاری ہے۔۔