Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43 (part 1)

بہزاد کی مٹھی میں شانزے کے بال تھے مگر اسنے پھر بھی بہزاد سے کہا۔۔
“مت سوچیے گا کے آپ مجھ پہ ظلم و ستم کرینگے تو میں سہتی رہونگی میرے ماں باپ نے بھلے مجبوری میں آپ سے شادی کری ہے مگر میں مجبور نہیں ہو۔۔”
چھوڑے مجھے آپ ایک نمبر کے گھٹیا انسان ہے جس نے صرف مجھ سے جسمانی دلچسپی رکھتے ہوئے میری زندگی برباد کردی۔۔
بہزاد بہت غور غور سے شانزے کا چہرہ دیکھ رہا تھا جہاں تکیلف کے آثار واضح نظر آرہے تھے مگر پھر بھی اسکی ہمت قابل دید تھی۔۔
یہ بات بہت پہلے ہی بہزاد ایکسپٹ کرچکا تھا کے شانزے جواد خوبصورت ہے۔۔۔
بہزاد نے بہت آرام سے اسکے بال۔چھوڑ دیے مگر اسے خود سے دور جانے نہیں دیا۔۔۔
بہزاد کی ہری آنکھیں میں غصہ کیساتھ ساتھ شانزے کو کچھ اور بھی محسوس ہوا اس نے بہزاد سے اپنے آپکو چھڑوانے کی بھی بھر پور کوشش کی مگر وہ دیو جیسا شخص شانزے جتنا اس سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتی بہزاد اسے اپنی باہنوں میں اتنا ہی قریب کرتا۔۔۔
فضول میں اپنی انرجی ویسٹ کررہی ہو دھان پان سی ہو جتنی اکڑ مجھے دیکھاوگی اتنا ہی نقصان اٹھاوگی۔
۔اپ سے شادی کرکے مجھے کونسی شہزادیوں والی فیلنگ آرہی ہے چھوڑے مجھے۔۔
شانزے ایک بات یاد رکھنا جو عورت مرد کو اکڑ دیکھاتی ہے خاص کر اسے جو اسکا محرم ہو تو یقین جانو اپنا ہی نقصان کرتی ہے اور نقصان بھی وہ جسکی بھرپائ وہ ساری زندگی نہیں کرپاتی۔۔
بہزاد نے اسکی کمر پہ اپنے مظبوط ہاتھ رکھ کے اسے خود سے اور قریب کیا اب عالم یہ تھا کے بہزاد کی ہری آنکھیں شانزے کی سمندر جیسی نیلی آنکھوں میں گڑی تھی۔۔۔
آپ میرا اور کتنا نقصان کرینگے بہزاد ۔۔۔
شانزے یہ بول کے روپڑی۔۔
ایک منٹ کے اندر اندر شانزے اگر تم نے اپنے یہ آنسوؤں نہیں روکے تو پھر تم مجھے نہیں روک سکوگی آج کی رات ۔۔
زہر لگتی ہیں مجھے تمہارے یہ۔انکھیں آنسوؤں کیساتھ۔بہزاد کے کہنے پہ شانزے نے اپنے دونوں ہاتھ ایک بار پھر اسکے سینے پہ رکھ کے اس سے دور ہونے کی۔کوشش کری اور کہا۔۔
میری آنکھوں میں آنسوؤں کی وجہ صرف آپ ہیں آپکو میری آنسوؤں زہر لگتے ہیں اور مجھے آپ ۔۔۔
زہر لگو یہ شہد اب تو تمہارا نصیب ہو۔۔۔
میں اپنا نصیب بدل لونگی۔۔
شانزے کی بات سن کے بہزاد کے لب مسکرائے اور اس نے کہا۔۔۔
جو شخص بہزاد کے نصیب میں اسکے رب نے لکھ دی ہے وہ اس سے صرف موت ہی چھین سکتی ہے ۔۔
میری نصیب میں میرے اللّٰہ نے تمہیں لکھا ہے اتنے چھوٹے سے دماغ میں یہ سوچ مت لانا کے اپنا نصیب تم بدل لوگی۔
اس سے پہلے شانزے ایک بار پھر اسے جدا ہونے کی کوشش کرتی بہزاد نے اسکا چہرہ تھاما اور اسکے لبوں پہ۔اپنے لب رکھ دیے۔۔
شانزے کو لگا اسکے لبوں پہ کسی نے دہکتا ہوا کوئلہ رکھ دیا وہ دائیں بائیں اپنی گردن ہلانے لگی اسکی آنکھیں ضرورت سے زیادہ کھل چکی تھی اسے لگا اسکا سانس بند ہو جائے گا۔
اپنی پیاس بجھانے کے بعد جب بہزاد نے اسکے لب چھوڑے تو شانزے کے لبوں سے خون رسسس رہا تھا۔۔
بہزاد نے اپنے ہونٹوں پہ لگا شانزے کا خون صاف کیا اور اسکے قریب آیا اسے قریب آتا دیکھ شانزے پیچھے ہونے لگی جب بہزاد نے اسے دوبارہ اپنے قریب کرتے ہوئے کہا۔
آئیندہ اپنے نصیب بدلنے کی سوچ اپنے دماغ میں لانے سے پہلے میرے اس عمل کو زرا یاد کرلینا ابھی ہونٹوں سے خون نکلا ہے آگے نجانے کہاں کہاں سے نکلے تمہاری سوچ ہے۔۔
بہزاد یہ بول کے کمرے سے چلا گیا اور شانزے ابھی تک یہ سمجھ نہیں پائ کے اسے بہزاد کے روپ میں کس گناہ کی سزا ملی ہے۔۔

#

رات کے تقریبا 3 بجے کے قریب صائم کا موبائل رنگ ہوا۔۔
صائم نے نیند میں ڈوبی ہوئی آنکھوں سے جب موبائل اٹھا کے چیک کیا تو صنم کی کال آرہی تھی۔۔
صائم نے کال ریسیو کری۔تو آگے سے صنم نے کہا۔۔
صائم سورہے تھے ۔۔؟
نہیں صنم لڈدوں کھیل رہا اجاؤ تم بھی جوائن کرلو ۔
صائم کے تپا لہجہ محسوس کرکے صنم کا افسوس ہوا کے اسنے اس وقت صائم کو کال کیوں کردی۔۔۔
نہیں وہ اصل میں آج میں بہت اداس اور پریشان تھی تو میں نے سوچا شاید تم بھی جاگ رہے ہو ہوگے تو اسلیے کال ملادی۔۔
صنم یہ کیا بولے جارہی ہو یار یہ بتاؤ کال کیوں کی۔۔۔؟
وہ میں سمجھ رہی تھی کے میں جاگ رہی ہو تو تم بھی جاگ رہے ہوگے۔۔
صنم کونسی گھٹیا۔فلم کو ڈائیلاگ ہے یہ۔؟
کونسا تم نے فضول قسم کا نول پڑھا ہے تم نے۔۔؟؟
تم اگر پریشان ہو یہ جاگ رہی ہو تو کس نفسیاتی انسان نے کہا ہے تم سے کے میں بھی جاگ رہا ہونگا ۔۔
یہ کس قسم کا لاجک لے کے کر بیٹھ گئ ہو رات کے 3 بجے اللّٰہ کا واسطہ ہے صنم خود بھی سوجاؤ اور مجھے بھی سونے دو۔۔
یہ کہہ کے صائم نے بنا صنم کی بات سنے کال کٹ کردی ۔۔
صنم کی آنکھوں میں صائم کی باتیں سن کے نجانے کیوں آنسوؤں آگئے اسنے پڑھا تھا کہی کے جب دو لوگ ایک دوسرے سے محبت میں مبتلا ہو تو ایک کی پریشانی اسکی اداسی دوسرے کو پتہ چل جاتی ہے مگر یہاں تو صائم کی باتیں سن کے صنم کو لگا اسنے غلط پڑھا شاید۔۔۔

#

بابا اپنے کس سے پوچھ کے میری شادی کی ڈیٹ فکس کردی میں سارا سے شادی کرنا نہیں چاہتا میں آپکو بول رہا۔ہو میں ہنزہ سے محبت کرتا ہو۔۔
بازل کی بات سن کے بازل صاحب نے غصہ میں اسکو دیکھا اور کہا ۔
میں بھی تمہیں بتا چکا ہو کے سارا بھی میرے گھر کی بہو بنے گی ہنزہ اچھی ہے بہت اچھی مجھے عزیز کے مگر اس سے ذیادہ مجھے میری زبان عزیز ہو جو میں نعمان سے کرچکا ہو۔۔۔
میری زندگی گزارنے کا مجھے پورا حق ہے بابا۔۔
ماں باپ کا بھی اتنا ہی حق ہوتا ہے اپنی اولاد پر کے وہ اسکے لیے اچھا فیصلہ کرے اور میں فیصلہ کرچکا ہو۔۔
مگر مجے آپکا فیصلہ قبول نہیں بابا۔۔۔۔
تو تھیک ہے پھر توڑدو مجھ سے اپنا ہر تعلق جو دل میں آئے وہ کرو مگر اتنا یاد رکھنا میرے مرنے پہ بھی تمہیں حق نہیں ہوگا کے میرا جنازہ دیکھ سکو ۔۔
بابا یہ آپ کیا بولے جارہے ہیں؟؟!بابر صاحب کی بات پہ بازل ایک دم چیخ پڑا ۔۔
وہی جو تم نے سنا اور تم جانتے ہو تمہارا بابا زبان کا کتنا پکا ہے جو کرنا سوچ سمجھ کے کرنا۔۔
بقبر صاحب کی بات سن کے بازل غصہ میں کمرے سے نکل گیا اور کمرے کے باہر دیوار کے پیچھے کھڑی ہنزہ وہی دیوار کا سہارا لے کر بیٹھتی چلی گئ۔۔۔

#

کچھ دن اور رک۔جاتے اظہر بھائ؟؟
نہیں وہاج وہاں جاکے سارا بزنس وائینڈ اپ کرنا کے اب آؤنگا تو ہمیشہ کیلیے آؤنگا کیا پتہ سامنے رہو تو شاہجاں معاف کردے صنم کا دل بھی میری طرف سے صاف ہو جائے ۔۔
انشاء اللہ بھائ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
نمرہ بھی وہاج کے گلے لگی اور کہا۔۔
ایک بار اور خوشبو سے رابطہ کرو بھائ مجھے یقین ہے تمہیں معاف کردے گی۔۔
نہیں نمرہ جب تب میں نے اسکا خیال نہیں کیا تو آج وہ میرا خیال نہیں کرے گی چھوڑو ایک دفعہ اسے دیکھ لیا بس اب سکون سے مرسکونگا۔۔
وہاج صاحب کو دیکھ کے نمرہ بیگم روپڑی۔۔
ایک تو تمہارے آنسوں بلکل سامنے رکھے ہوتے ہیں اظہر صاحب نے اسکے کندھے پہ اپنی باہینں پھیلاتے ہوئے کہا۔۔
ایک بات بولونگا وہاج جب قسمت آپکو ایک موقع اور دے اپنی محبت کو حاصل کرنے کا تو وہ موقع گوانا نہیں چاہیے روٹھی ضرور ہے خوشبو بھابھی مگر میں گارنٹی سے کہہ سکتا ہو وہ آج بھی تم سے محبت کرتی ہے اور اس بات کا ثبوت انکا انتظار ہے جو ابھی تک وہ تمہارا کررہی تھی۔۔
اظہر بھائ کی بات پہ وہاج صاحب طنزیہ مسکرائے اور کہا۔
صاف کہا ہے اس نے کے وہ اب کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرکے دیکھائے گی مجھ سے ۔۔
واہ بھئ واہ اور تم نے خاموشی سے یہ بات مان لی انکی اگر ایسا کرنا ہوتا تو وہ کب کی کرچکی ہوتی تمہیں خالی وہ اپنی ضد دیکھا رہی ہیں اور ایک مشورہ ہے میرا تمہیں ۔۔
“اگر محبوب کو منانے کیلیے تھوڑی بدمعاشی کرنی پڑی تو کوئ مضائقہ نہیں””
اظہر صاحب کی بات پہ وہاج صاحب مسکرا کے انکے گلے لگے اور کہا۔
ٹرائ کرتا ہو ورنہ بدمعاشی چھوٹے ہوئے زمانہ ہوا۔۔۔
وہاج صاحب کی بات پہ اظہر صاحب کا قہقہ گونجا

#

شانزے کی عادت تھی فجر میں اٹھنے کی اسی لیے وہ فجر میں آٹھ گئ۔
اٹھتے کیساتھ ہی اسکی نظر جب سامنے پڑی تو بہزاد الٹا سیدھا صوفے پہ سویا تھا۔۔
سب کرکے آپ شرافت تو چیک کرو اس جن کی صوفے پہ جاکے سوگیا ۔
شانزے نے بہزاد کو دیکھتے ہوئے غصہ میں اپنے بال لپیٹے ہوئے کہا۔۔
نماز پڑھ کے وہ تھوڑی دیر نیچے اگئ۔۔
اچانک قدرتی طور پہ اسکے قدم نغمہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھ گئے اسنے آہستہ سے انکے کمرے کا دروازہ ناکک کیا۔
اندر آنے کی اجازت پہ شانزے اندر گئ تو نغمہ بیگم قرآن پاک پڑھ رہی تھی ۔شانزے کو دیکھ کے ایک دم خوش ہوگئ اور اسے دعائیں دینے لگی۔۔
نفرت اسے بہزاد سے تھی اس گھر کے مکینوں سے نہں۔
ان سے باتوں میں شانزے کو ٹائم کا پتہ ہی نہیں چلا وہ ان سے اجازت لے کر اپنے کمرے کی طرف جانے لگی جب ایک روم کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے کسی بچے کی رونے کی آواز ائ۔۔
بچے کی آواز سن کے شانزے کو ایک دم یاد آیا کے بہزاد کا ایک بیٹا بھی تھا۔۔
شانزے نے کمرے کا دروازہ جیسی کھولا تو اندر کا نظارہ دیکھ کے چونک گئ۔۔
اس گھر کی ملازم عاشر کا منہ پکڑ کے زبردستی اسے دودھ پلارہی تھی۔
یہ کیا کررہی ہو تم؟؟
ماسی کسی کی آواز سن کے ایک دم ڈر گئ۔۔
یہ دودھ نہیں پہ رہا تھا اسلیے میں اسے پلارہی تھی۔۔
یہ۔کونسا طریقہ ہے پچے کو ٹریٹ کرنے کا ۔؟
آپ کون ہے اور ایسے کیسے مجھے ٹوک رہی ہیں میں گورنس ہو عاشر کی۔
میں کون ہو یہ تمہیں ابھی پتہ چل جائے گا مگر تم اسکی گورنس تھی ہو نہیں نیچے جاو فورا تم سے میں نیچے آکے بات کرتی ہو۔
شانزے کے غصہ سے کہنے پہ گورنس غصہ میں عاشر کو گھورتی ہوئی نیچے چلی گئ۔۔
عاشر شانزے کو پہچان چکا تھا مگر وہ بہت ڈرا ہوا تھا۔۔
شانزے اسکے پاس آئ اور اسے اپنے سینے سے لگالیا۔۔
یہ پہلی بار ہوا تھا جب عاشر کو نغمہ بیگم کے علاؤہ کسی نے اپنی سینے سے لگایا تھا۔۔
شانزے نے عاشر کا منہ ہاتھ دھلوایا اسکا یونیفارم چینج کروایا ۔
عاشر یہ ساری کاروائی بہت خاموشی سے دیکھ رہا تھا جب شانزے اسکے بال بناے لگی تب عاشر نے کہا۔۔
آپ پاپا کی نئ وائف ہیں؟
ہاں پاپا کی وائف بھی ہو اور آپکی ماما بھی۔۔
نہیں میں آپکو ماما نہیں بولونگا..
کیوں میں آپکو پسند نہیں ائ۔۔ن
نہیں اگر میں آپکو ماما بولونگا تو پاپا آپکو بھی ماردینگے جیسے میری ماما کو مارا تھا۔
اتنی چھوٹے بچے کے منہ سے ایسے بات سن کے شانزے کافی شاکڈ ہوئ ۔
وہ عاشر کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور کہا۔۔
بیٹا پاپا کے بارے میں ایسا نہیں بولتے اپکی ماما نے کچھ کرا ہوگا تبھی پاپا نے انہیں مارا نہ۔۔
مگر اشعر اسے کیوں مارا اسنے تو کچھ نہیں کرا تھا نہ اپکو پتہ ہے وہ روزانہ مجھ سے کہتا ہے میرے پاس اجاو۔۔..میں بھی چلا جاؤنگا ایک دن پاپا کو چھوڑ کے۔۔
عاشر کی باتیں سن کےشانزے کی آنکھوں سے آنسوؤں بہنے لگے۔۔۔
نہیں بیٹا ایسے نہیں کہتے آپ چلے جاوگے تو میرا دوست کون بنے گا۔۔؟
آپ مجھ سے دوستی کرینگی؟؟
ہاں نہ آج سے میں آپکی ماما بھی ہو اور دوست بھی اور میرا آپ سے وعدہ ہے نہ مجھے آپکے بابا کچھ کہینگے نہ اپکو ۔۔
مگر بابا مجھ سے پیار نہیں کرتے۔۔۔
کرتے ہیں بلکل کرتے ہیں کل رات ہی انہوں نے مجھ سے کہا کے عاشر تو میرا شہزادہ ہے پرنس ہے اور شہزادہ پرنس تو ہم اسی کو کہتے ہیں نہ جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔۔
آپ سچ کہہ رہی ہیں پاپا نہ ایسا بولا۔۔۔؟؟
ہاں بلکل سچ ۔۔۔
اچھا اب آپ آج سے مجھے ماما بولوگے آپکو جو بھی بات کرنی ہو ماما سے کروگے پرامس۔۔۔
عاشر نے تھوڑی دیر شانزے کے پھیلے ہوئے ہاتھ کو دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے شانزے کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھنے بجائے شانزے کے گلے لگ گیا۔۔
شانزے نے اسے گودھ میں اٹھایا جیسے نجانے کتنے بچوں کی اماں ہو عاشر کی ایک ٹانگ شانزے کی کمر کے اس طرف دوسرے اس طرف ۔
اب نیچے چل کے ناشتہ کرتے ہیں اور تمہاری اس گورنر کو بتاتے ہیں کے میں ہو کون؟؟
شانزے اسے لے کر نیچے اتری اور انکی پیچھے انکی باتیں سننے والا بہزاد جو اٹھنے کے بعد روزانہ عاشر کے روم میں آتا تھا
۔آج پہلی بار دل کھول کے مسکرایا اور کہا۔۔
چلو ہم بھی نیچے چل کے دیکھتے ہیں کے پٹاخہ ہے کون۔۔
جاری ہے۔۔