Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

عترت شرارہ سنبھالے بلاج کی گاڑی میں بیٹھ گئ اور باقی سارے اپنی اپنی گاڑیوں میں ۔۔
عترت منہ پھلائے بیٹھی تھی۔
بلاج نے اسے ایک نظر دیکھا اور گاڑی اسٹارٹ کردی۔۔
عترت خاموشی سے منہ پھلائے بیٹھی تھی ایک نظر بھی اس نے بلاج پہ نہیں ڈالی تھی۔۔
بلاج بھی گاڑی چلانے میں مصروف تھا مگر اسکی نگاہیں بھٹکی بھٹک کے عترت کے وجود سے ٹکرا رہی تھی۔۔
زین کے کیا حال چال ہیں؟؟
.بلاج نے جان بوجھ کے زین کا ذکر چھیڑا تھا اپنے اندر کی بھڑاس غصہ وہ عترت کو ایریٹیٹ کرکے نکلتا تھا۔۔
آپکو زیادہ پتہ ہوگا مجھ سے پہلے وہ آپکا دوست تھا۔۔
عترت نے آنکھیں بند کرکے سیٹ سے ٹیک لگائے لگائے جواب دیا۔۔
میرا تو دوست تھا مگر تمہارا تو۔۔۔۔
آگے کی بات بلاج نے جان بوجھ کے ادھوری چھوڑی ۔
بلاج کی بات پہ عترت نے آنکھیں کھول کے بلاج کے دیکھا اسکی آنکھوں میں انسو جمع ہونے لگے اسکا دل چاہا بلاج کا گریبان پکڑ کے چیخ چیخ کے کہے میں بے گناہ ہو زین سے میرا کوئ تعلق نہیں مگر عترت نے اپنے آنسو واپس دھکیلے اور کہا۔۔
اگر زین میرا وہہہہہ ہے عترت نے بھی آگے جی بات جاں بوجھ کے ادھوری چھوڑی۔۔۔
تو پھر چھوڑدے مجھے ابھی اس کے لیے دے دیں طلاق جانتے بوجھتے کیوں اپنے گلے میں بیوفا عورت کا طوق ڈال رہے ہیں۔۔
بلاج کو عترت سے ایسے جواب کی بلکل توقع نہیں تھی اس نے ایک دم گاڑی کو غصہ میں زور سے ٹرن کیا عترت کا سر اس سے پہلے ڈش بورڈ سے ٹکراتا عترت نے خود کو سنبھال لیا۔۔
عترت نے دل ہی دل میں خود کو داد دی۔۔۔

#

گاڑی گھر کے آگے روکی تو بازل اور اسکے دوستوں نے تھوڑی آتش بازی کی۔۔
بلاج گاڑی سے اتر کے اندر جانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر ایسا کرنے سے پہلے ہی۔ہنرہ تیزی سے اس تک ائ۔۔
بلاج بھائ بھابھی کو تو اپنے ساتھ لے ہم نے آپ دونوں کی ویڈیو بنانی ہے۔۔۔
اب بلاج ہنزہ کی بات نہیں ٹال سکتا تھا اس لیے مجبوری کے طور پہ اس نے عترت کی طرف کا گیٹ کھول کے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔بلاج
عترت نے بھی اسکی طرف دیکھ کے طنزیہ مسکراہٹ کیساتھ اسکی طرف ہاتھ آگے کیا۔۔
عترت کی باتوں سے عترت روکڈ اور بلاج شاکڈ ہوچکا تھا۔۔
عترت کا ہاتھ بلاج نے اپنے ہاتھ میں ہاتھ سمجھ کے نہیں گردن سمجھ کے دبایا تھا ایسا عترت کو لگا۔۔
عترت کا ہاتھ بلاج نے اتنی سختی سے دبایا تھا کے عترت نے اسکی تکلیف سے اپنے لبوں سے نکلنے والی چیخ بہت مشکل سے روکی تھی۔۔۔
بلاج عترت کو ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوا تو ندا بیگم نے ان دونوں کی خوب بلائے لی۔۔۔
سفیہ بیگم ہاجرہ بیگم دونوں نے اسکا استقبال اچھے سے کیا
بابر اور فہیم صاحب نے بھی اسے منہ دیکھائے دی جو اس نے بہت جھجک سے لی۔۔۔
بلاج ایک ضروری کال سننے چلا گیا ۔
ہیر نے سب سے پہلے عترت کو کھانا ۔کھلایا کیونکہ اسے اندازہ ہوگیا تھا کے بھابھی نے کھانا نہیں کھایا ۔
ہیر اور بازل عترت کے آگے پیچھے تھے دونوں نے اسے اپنے طرف سے گفٹ بھی دیے۔۔
کھانا کھانے کے بعد ہنزہ عترت کے پاس ہی تھی جب عترت نے کہا۔۔
ہنزہ ایک بات پوچھو اگر مائنڈ نہ کرو تو؟؟
ارے نہیں نہیں بھابھی آپکی بات میں کیوں مائنڈ کرونگی ایکلوتی بھابھی ہیں میرے پوچھے پوچھے ۔۔
تم اور بازل ایک دوسرے سے میرا مطلب ہے کے ۔۔۔
عترت خود بھی یہ بات بولنے سے جھجک رہی تھی مگر ہیر سمجھ چکی تھی اس لیے مسکراتے ہوئے بولی۔۔
اپکا اندازہ بلکل ٹھیک ہے بھابھی ۔
وہ پاگل اس پاگل کی جان یے۔۔۔
ہنزہ کے اعتراف پہ عترت بہت خوش ہوئے تھی اور اس نے ان دونوں کے حق میں دعا کی۔۔م
ہنزہ مجھے فریش ہونا ہے۔؟؟
اچھا آئے بھابھی آپکو لے چلو۔۔۔
ہیر عترت کو روم میں لے کر آئ اور چھوڑ کے جانے لگی جب عترت نے کہا۔۔
ہنزہ یہ میرا ڈوپٹہ ہٹانا زرا۔۔۔
ڈوپٹہ سے آزاد ہوکے عترت نے خود کو نتھ سے بھی آزاد کیا اور واش روم چلی گئ اور ہیر بھی چینج کرنے چلی گئ۔۔
عترت فریش ہوکے باہر آئ تو تھکن کے مارے بنا ڈوپٹہ اوڑھے دھرم سے بیڈ پہ گر گئ۔۔
اسی وقت ڈرسینگ روم کا دروازہ کھلا اور بلاج باہر آیا چینج کرکے۔۔
سامنے بیڈ پہ عترت کے لیٹا دیکھ بلاج نے ایک آئی برو آچکا کے اسے دیکھا۔۔
مگر جب دروازہ کی آواز پہ عترت نے اسے دیکھا تو وہ اتنی اسپیڈ میں کھڑی ہو ئ جیسے اسے کرنٹ لگا ہو۔۔
مہندی سے لبریز ہاتھ دلہن کے روپ میں سجا اسکا سراپا۔۔
بنا ڈوپٹہ اسکے نشیب فراز بلاج کے ایمان کو ڈگمگا رہے تھے۔۔
بلاج بنا شرٹ کے تھا جیسے دیکھ کے عترت بہت نروس ہورہی تھی۔۔۔
عترت نے اپنا ڈوپٹہ اٹھاکے اوڑھا اور بنا بلاج کی طرف دیکھے تیزی سے دروازے سے نکلنے لگی جب بلاج نے اسکا ایک دم ہاتھ پکڑا۔۔
کہاں جارہی ہو ؟؟
آپکو اس مطلب اور میں نے کہا تھا ڈونٹ ٹچ میں عترت نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑواتے ہوئے غصہ میں کہا۔۔
بلاج نے غصہ میں اسے اپنی طرف کھینچا ایسا کرنے سے اسکے ڈوپٹہ وہی زمین پہ گرگیا اور وہ سیدھا بلاج کے چوڑے سینے سے آکے لگی۔۔
بلاج نے فورا اسے اسکی گردن سے پکڑا اور اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں صرف خوف تھا ۔
عترت مسلسل بلاج کے سینے پہ ہاتھ رکھ اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کررہی تھی ۔۔
تمہیں ہر جگہ ٹچ کرنے کا لائنسسس ہے اب میرے پاس اسلیے یہ ڈونٹ ٹچ می کے بجائے ںزرا ٹچ می ٹچ می والا راگ الاپو۔۔۔
عترت نے غصہ میں اسے خود سے دور کیا اور کہا۔۔
جاہل بیہودہ انسان۔۔۔
اور یہاں عترت ہ بیچاری سےا یک بار پھر غلطی ہوگئ۔۔
بلاج نے پھر اسے پکڑا اور دوبارہ اسکی گدی پہ ہاتھ رکھ اسے خود سے قریب کرکے کہا۔۔
کیا کہاں تم نے؟؟
وہی جو سنا اپنے۔۔
عترت کے کہنے پہ بلاج نے اسکی گردن چھوڑ کے اسکو بیڈ پہ دھکا دیا اس سے پہلے عترت کچھ سمجھتی بلاج اس پہ جھک کے اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں قید کرکے اسکے لبوں کو نشانہ بنا چکا تھا۔۔۔
عترت کی آنکھیں پوری کھل گئ۔۔۔۔
مگر بلاج نے یہاں بس نہیں کی بلکہ اسکے ہاتھوں کو اور سختی سے دبا کے اسکی ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں میں پھنسا کے وہ اب عترت کے لب کو آزاد کرچکا تھا اس سے پہلے عترت شور مچاتی بلاج نے کہا۔۔
مچاؤ شور بلاؤ سب کو اور دیکھاو کے بیوی کو ٹچ کیسے کرتے ہیں خاص کر جب جب بیوی شوہر کو بیہودہ کہے۔۔۔
آپ ہیں بیہودہ جاہل بدتمیز ۔مینرز نہیں آپ میں بلکل یہ بولتے ہوئے عترت کے آنکھیں بھیگی تھی۔۔
عترت میں کہہ رہا ہو زبان سنبھالو اپنی ۔۔
عترت اس وقت پوری کی پوری بلاج کے رحم کرم پہ تھی مگر پھر بھی وہ شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے سے باز نہیں آرہی تھی۔
ہٹے میرے اوپر سے شرم آنی چاہیے آپکو پڑھ لکھ کے بھی آپ جاہل۔۔
آگے کی بات بیچاری عترت بول نہیں پائ بلاج پھر اسکا منہ اپنے لبوں سے بند کرچکا تھا۔۔
بلاج کے حدیں اب لبوں سے بڑھ کر گردن تک اچکی تھی عترت اس وقت بے بسی کی تصویر بنی ہوئ تھی کہی سے بھی وہ خود کو بلاج سے چھڑوا نہیں پارہی تھی۔۔
بلاج نے اسکی گردن پہ سرخ نشان چھوڑا تھا جیسے دیتے وقت بلاج کے انداز میں اتنی شدت تھی کے عترت کے آنسوؤں نکلنے لگے ۔
بلاج نے جب اسکی گردن کو آزاد کیا تو عترت کی آنکھیں بند تھی مگر اسکی آنکھوں سے آنسوؤں جاری تھے۔۔
بلاج نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسکے جسم۔کو آزاد کردیا۔۔
کھڑا ہوکر بلاج نے کہا۔۔
آئندہ میرے ساتھ تمیز سے بات کرنا ورنہ اس زیادہ دردناک انجام کیلے تیار رہنا۔۔۔
بلاج کی وارننگ پہ عترت خاموش رہی ۔۔
بلاج اسے اسی وقت بنا کسی سے ملائے اسکے گھر چھوڑ ایا۔۔
جاری ہے ۔