Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

داستان عشق محبت 🔥❣️
از قلم مریم عمران ✍️
قسط نمبر#17
شاہجاں بیگم ندا بیگم کی بات سن کے جہاں خوش تھی وہاں شاکڈ بھی۔۔۔صبح سے ہی انہوں نے صنم اور عترت کو گھر کی صاف صفائی میں ماسیو ں کیساتھ لگا رکھا تھا۔
ابھی تک یہ بات عترت کے زیر علم میں نہیں تھی کے ندا بیگم اپنی بہن کی فیملی کیساتھ منگنی کی چھوٹی سی رسم کرنے آرہی ہیں کیونکہ صنم دائ جان شاہجاں بیگم سب نے ہی بلاج کے حق میں فیصلہ دیا مگر جسکا فیصلہ جاننا زیادہ ضروری تھا وہ ابھی تک انجان تھی۔
شاہجاں بیگم کو اپنی بیٹی پہ پورا بھروسہ تھا کے وہ انکا فیصلہ سر خم کرکے مانے گی۔۔
پھر بھی انہوں نے ابھی تک عترت کو ندا بیگم کے آنے کے مقصد سے انجان رکھا۔۔
مگر اماں اچانک ہو تو زیادہ اچھا ہے۔۔
دائ جان صبح سے کئ بار شاہجاں بیگم کو بول چکی تھی کے عترت کو ندا کے آنے مقصد بتا دو اسکا حق ہے پورا انکار اقرار کا۔۔۔
مگر اب بتادو شاہجاں اسے ۔دای جان کے بے حد اصرار پہ شاہجاں بیگم نے عترت کو بتانے کا فیصلہ کیا
شاہجاں بیگم نے ندا بیگم کے آنے سے دس منٹ پہلے عترت کو اپنے کمرے میں بلایا ۔۔
ایک۔نفیس سا خوبصورت سا پیچ کلر کا ڈریس اسے دے کر تیار ہونے کو کہا۔
مگر ماما اتنا ہیوی ۔۔۔
ڈریس کس لیے میرے پاس اپنے کیجیول سوٹ ہیں اس میں سے پہن لونگی۔۔
عترت ندا آج یہاں خاص مقصد سے آرہی ہے
مطلب ماما۔۔؟
عترت کی چھٹی حس نے جیسے اسے کچھ انہونی ہونے کا اشارہ کیا۔۔
وہ اپنے بیٹے بلاج کیلیے تمہارا رشتہ پکا کرنے آرہی ہے منگنی کی صورت میں۔۔
عترت کو لگا اسنے کچھ غلط سنا اسنے وہی رکھی کرسی کو تھاما اور ایک بار اور شاہجاں بیگم سے پوچھا۔۔
ندا آنٹی اپنے بیٹے بلاج کیلیے میرارشتہ لینے آرہی ہیں؟؟
ہاں بیٹا تمہیں کوئ اعتراض تو نہیں میں نے تمہاری مرضی جانے بغیر ہاں کردی۔۔
ماما مجھے آپکا ہر فیصلہ منظور ہے اپنی زندگی کے متعلق مگر کیا ندا آنٹی نے اپنے بیٹے کی مرضی پوچھی؟
ہاں میری جان ندا آنٹی نے بلاج کی رضامندی جان کے ہی مجھے کال کری ہے۔۔
مجھے فخر ہے عترت بیٹا کے تم نے میرا مان رکھ لیا اب جلدی سے تیار ہوجاو وہ۔لوگ آنے والے ہیں۔۔
عترت نے کسی بے جان وجود کی طرح اپنا جوڑا اٹھایا جو اسے اپنے کفن سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔
جیسے تیسے وہ کمرے میں پہنچی ٹپ ٹپ اسکی آنکھوں سے آنسوؤں بہنے لگے ۔۔
بیشک آج بھی وہ بلاج سے محبت کرتی ہے مگر بلاج کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت کی آخری حد اس نے دیکھی ہے۔۔
عترت نے تیار ہونے سے پہلے عصر کی نماز پڑھی دعا مانگتے ہوئے وہ بلک پڑی۔۔
“یاالہ تو دلوں کے حال بہتر جانتا ہے تو جانتا ہے میں بے گناہ ہو یاللہ میرے حق میں اگر بلاج بہتر ہے تو میں تیری رضا میں راضی ہو میرے مالک مگر مجھے حوصلہ دینا کے میں اپنی ماں کے فیصلہ پہ ثابت قدم رہ سکو۔۔”
شاجہاں بیگم صنم اور دائ جان نے انکا بہترین استقبال کیا۔۔
سفیہ بیگم تو پہلے ہی شاہجاں بیگم کو جانتی تھی تو اجنبیت تو کوئ تھی نہیں بابر صاحب فہیم صاحب سب ہی کو شاجہاں بیگم کی فیملی اچھی لگی۔۔
اظہر صاحب کے متعلق سفیہ اور ندا بیگم پہلے ہی بابر صاحب کو بتا چکی تھی اسلیے انکے بارے میں کسی نے کوئ سوال نہیں کیا ۔
ہنزہ صنم بازل کی بھی اچھی انڈسٹینگ ہوگئ تھی۔۔
ایک بلاج تھا جو بظاہر سب کو دیکھانے کیلیے خوش تھا مگر اسکے اندر جو لاوا پک رہا تھا وہ صرف عترت پہ ہی پھٹنا تھا۔۔
ہنزہ اور بازل عترت سے ملنے چلے گئے۔۔
بازل اور ہنزہ دونوں کو ہی اپنی کیوٹ سے بھابھی بہت اچھی لگی۔۔
شاہجاں رسم شروع کرے؟؟
ندا بیگم کے بولنے پہ شاہجاں بیگم نے صنم کو اشارہ کیا عترت کو لانے کو ۔
بلاج کے سامنے جانے کا سنتے ہی عترت کا دل زور زور ڈھرکنے لگا اسنے صنم کا۔ہاتھ بہت زور سے تھاما تھا۔۔
عترت نے تہیہ کرلیا تھا کے نہ تو وہ بلاج کی طرف دیکھے گی اور نہ ہی اسکے کسی طنز کا جواب دے گی۔۔
عترت کو سامنے سے آتا دیکھ بلاج نے گھور کے اسے دیکھا۔۔کچھ بھی تھا تھی تو محبت نہ اسکی وہ بھی پہلی۔۔
صنم نے بلاج کے برابر میں اسے بٹھا دیا تو منگنی کی رسم شروع ہوئ۔۔
بلاج نے ندا بیگم سے رنگ لے کے عترت کے سامنے اپنا ہاتھ کیا ۔۔
عترت نے تھوڑی ہچکچاہٹ سے بلاج کے ہاتھ میں ہاتھ دیا بلاج نے جیسی ہی عترت کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اسکی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوئ عترت کا حال بھی کچھ ایسا تھا ۔۔
بلاج نے اسکے ہاتھ کی تیسری انگلی میں ڈائمنڈ کی رنگ پہنا دی۔۔
عترت کو شاہجاں بیگم نے رنگ دی جو اس نے بلاج کی تیسری انگلی میں بنا اسکا ہاتھ ٹچ کیے پہنا دی۔۔
بازل،صنم۔،ہنزہ تینوں نے ان دونوں کے اوپر گلاب کی پتیوں کی بارش کردی یہ ہنزہ کا پلین تھا۔۔
کچھ دیر کیلے ہی صحیح دونوں ایک ساتھ ہنسے تھے
ارے بھئ اب ان بچوں کو تھوڑا اکیلا چھوڑو تاکے یہ لوگ ایک دوسرے کو جان سکے۔۔
دائ جان کی بات سن کے پانی پیتے بلاج کو پھندا لگ گیا۔
ارے ارے بیٹا دیھان سے۔۔۔
شاہجاں بیگم کے کہنے پہ بلاج نے ہاں میں گردن ہلائ۔۔
عترت کے ہاتھوں میں موجود گلاب اور موتیوں کے کنگن پہ کئ بار بلاج کی نگاہیں بھٹکی تھی۔۔
بلاج بھائ مجھ سے تو آپ ملے نہیں ۔۔
صنم نے ایک دم بلاج کی سامنے آکے کہا۔۔
بلاج نے مسکرا کے کہا۔۔
آپ سے ملے بغیر ہمارا گزارا کہاں ہے آخر کار ایکلوتی سالی ہیں۔۔
یہ کہہ کے بلاج نے اپنے پوکٹ میں سے ایک مخمل کی ڈبیہ نکال کے صنم کو دی اور کہا۔۔
تمہارے بھائ کی طرف سے تمہارے لیے۔۔
صنم نے پہلے شاہجاں بیگم کو دیکھا انہوں نے ہاں میں گردن ہلائی تو صنم اس ڈبیہ کو تھام لیا۔۔
عترت نے گردن گھما کے اس دشمن جان کو دیکھا بھلے اس سے نفرت کرتا ہے مگر اس سے جڑے رشتہ کا احترام ہے اسے۔۔
بلاج بھائ اپنا موبائل دے ہم نے پکس لینی ہے ۔۔
بازل ہے کہنے پہ بلاج نے اسے موبائل دے دیا ۔
دل کھول کر صنم بازل۔ہنزہ نے پکس بنائ۔۔
صنم نے بلاج کو موبائل واپس کرتے ہوئے ہلکی سی سرگوشی کی ۔
بلاج بھائ اسمیں آپی کو نمبر سیو کردیا ہے میں نے۔۔
صنم کے کہنے پہ عترت جو ان دونوں کی سرگوشی سن چکی تھی اسکا دل چاہا گلہ دبا دے ۔۔صنم۔کو
سب ہی کھانا کھانے گئے تو وہ دونوں اکیلے رہ گئے جب بلاج نے اپنے طنز کے تیر چلانا شروع کرے۔۔
ہاتھ تو ایسے کپکپا رہے تھے تمہارے جیسے پہلی بار ہاتھ تھاما ہو تمہارا۔۔
اوہہ میں تو بھول گیا تمہیں تو کسی اور کی باہہوں کی عادت ہوگئ ہے ۔
منع کیوں نہیں کرا اس رشتہ سے۔؟
بلاج کے کہنے پہ عترت نے بلاج کو دیکھا۔۔
اس نے تہیہ کرلیا تھا کے بلاج کے کیسی طعنے کا جواب نہیں دے گی۔۔
مگر اسکا جواب دیناعترت نے ضروری سمجھا۔۔
اس سے پہلے عترت کچھ بولتی صنم نے اسے اور بلاج کو کھانے کیلئے آواز دے دی۔۔
عترت نے اٹھتے ہوئے بلاج سے کہا۔۔
میں تو منع نہیں کرپائ بقول آپکے ڈھیٹ اور بیوفا ہو۔۔
مگر آپ فرمابرداری کا ثبوت دیتے اپنی ماما کو منع کرکے..
عترت نے اسکے سارے طعنوں کا ایک جواب دے کے اسے لاجواب کردیا تھا۔۔
۔
جاری ہے
ا
See translation